سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : تفسير العتيرة
باب: عتیرہ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4235
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ. وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْخَيْرِ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَرَعٌ , تَغْذُوهُ غَنَمُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ".
بنی ہذیل کے ایک شخص نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے روکا تھا تاکہ وہ تم سب تک پہنچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور اٹھا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ۔ سن لو، یہ دن کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کی یاد (شکر ادا کرنے) کے ہیں۔ ایک شخص نے کہا: ہم لوگ رجب کے مہینہ میں زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ“۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر چرنے والی بکری میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہو جائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4235]
حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا تاکہ سب لوگ کھا سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے صورت حال بہتر فرما دی ہے، اب کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کر کے بھی رکھ لو، یہ (عید کے) دن کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے دوران میں جانور ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کرو، جس مہینے میں بھی ممکن ہو، اور خالص اللہ تعالیٰ کے لیے نیکی کرو اور (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ۔“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت میں (پہلا بچہ) ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسے) چرنے والی بکریوں میں رکھ کر پالے پوسے حتیٰ کہ جب وہ جوان ہو جائے تو اسے ذبح کرے، پھر اس کا گوشت مسافروں وغیرہ پر صدقہ کر دے، یہ طریقہ (جاہلیت کی رسم سے) بدرجہا بہتر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 10(2813)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (3160)، (تحفة الأشراف: 11585) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2034
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَامْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ (پینے) سے منع کیا تھا، تو سارے برتنوں میں پیو (مگر) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 2034]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب تمہیں قبروں کی زیارت کرنے (قبرستان میں جانے) کی اجازت ہے۔ (اسی طرح) میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم رکھ سکتے ہو، جب تک تمہارا دل چاہے۔ (اسی طرح) میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ بنانے سے روکا تھا، اب تم ہر قسم کے برتن میں نبیذ بنا سکتے ہو، البتہ نشے والا نبیذ نہ پینا۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، والأضاحي 5 (1977)، والأشربة 6 (977) (مقتصرا علی الشق الثالث)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3698)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 6 (1870)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، (تحفة الأشراف: 2001)، مسند احمد 5/350، 355، 356، 357، 361، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4434، 5654، 5657 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قبروں کی زیارت کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی تاکہ یہ چیز قبر پرستی اور مردوں سے مدد مانگنے اور فریاد کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے پھر جب توحید کی تعلیم دلوں میں بیٹھ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2035
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ إِلَّا ثَلَاثًا فَكُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَذَكَرْتُ لَكُمْ أَنْ لَا تَنْتَبِذُوا فِي الظُّرُوفِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ انْتَبِذُوا فِيمَا رَأَيْتُمْ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا".
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (موجود) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا (تو اب تم) کھاؤ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی، تار کول ملے ہوئے، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ، (مگر اب) جس میں مناسب سمجھو بناؤ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا (تو اب) جو بھی زیارت کرنا چاہے کرے، البتہ تم زبان سے بری بات نہ کہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 2035]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسی مجلس میں تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا لیکن اب تم کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤ اور جب تک چاہو، رکھو۔ (اسی طرح) میں نے تمہیں کہا تھا کہ ان برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ، یعنی کدو کا برتن، تارکول ملا ہوا برتن، کھجور کی جڑ کا برتن اور مسام بند مٹکا، لیکن اب جس برتن میں چاہو نبیذ بناؤ، البتہ ہر نشے والی چیز سے بچو۔ (اسی طرح) میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا لیکن اب جو قبر کی زیارت کے لیے جانا چاہے، جائے مگر (وہاں جاکر) کوئی غلط بات نہ کہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 2035]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2002) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4380
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ، وَلَا مُدَابَرَةٍ، وَلَا شَرْقَاءَ، وَلَا خَرْقَاءَ، وَلَا عَوْرَاءَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سامنے سے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے، اور کان چرے ہوئے اور کان پھٹے ہوئے اور کانے جانوروں کی قربانی نہ کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4380]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا جانور قربانی میں ذبح نہ کیا جائے جس کا کان آگے یا پیچھے سے کٹا ہوا ہو یا چرا ہوا ہو، یا اس میں سوراخ ہو یا وہ آنکھ سے کانا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4377 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2804) ترمذي (1498) ابن ماجه (3142) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
حدیث نمبر: 4428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4428]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1970)، (تحفة الأشراف: 6946)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5574)، سنن الترمذی/الأضاحی 13 (1509)، مسند احمد (2/9، 16، 34، 81، 135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ پابندی شروع شروع میں تھی، پھر گوشت رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ اگلے باب میں ہے، یہ حالات و ظروف کے لحاظ سے ہے، اگر لوگوں کو گوشت کی زیادہ حاجت ہے تو ذخیرہ اندوزی صحیح نہیں، بصورت دیگر صحیح ہے۔ (دیکھئیے حدیث نمبر ۴۴۳۴)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4429
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ غُنْدَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فِي يَوْمِ عِيدٍ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ صَلَّى بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْهَى أَنْ يُمْسِكَ أَحَدٌ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابو عبید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو عید کے دن دیکھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور بلا اذان اور بلا اقامت پڑھی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی تین دن سے زیادہ اپنی قربانی میں سے کوئی چیز روکے رکھے، (یعنی اسے چاہیئے کہ بانٹ دے)۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4429]
حضرت ابوعبید سے روایت ہے کہ میں نے عید کے دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید پڑھی، آپ نے خطبے سے پہلے نماز عید پڑھائی، اذان ہوئی نہ اقامت، پھر فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحی 16 (5573)، صحیح مسلم/الضحایا 5 (1969)، مسند احمد (3/317، 378، 388) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4430
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں منع فرمایا ہے کہ تم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4430]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تمہیں تین دن سے زائد اپنی قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ:" كُلُوا، وَتَزَوَّدُوا، وَادَّخِرُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایا: ”کھاؤ، توشہ (زاد سفر) بناؤ اور ذخیرہ کر کے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4431]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کھاؤ، سفر میں بھی ساتھ لے جاؤ اور ذخیرہ بھی کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1972)، (تحفة الأشراف: 2936)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 124 (1719)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (6)، مسند احمد (3/325، 344) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4433
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَكَانَ أَخَا أَبِي سَعِيدٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَقَدَّمُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ قَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِيهِ أَمْرٌ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، وَنَدَّخِرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے روکا ہے، پھر قتادہ رضی اللہ عنہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی اور بدری صحابی تھے، ابوسعید نے قتادہ کو (گوشت) پیش کیا، تو وہ بولے: کیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا نہیں ہے؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں ایک نیا حکم آیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تین دن سے زیادہ اسے کھانے سے روکا تھا، پھر ہمیں اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4433]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے“۔ حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ آئے جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی (مادری) بھائی اور بدری صحابی تھے۔ گھر والوں نے انہیں گوشت پیش کیا تو وہ فرمانے لگے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا؟ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی بابت نیا فرمان جاری ہو چکا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ”تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا“، پھر اجازت فرما دی کہ ہم ”کھا بھی سکتے ہیں اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (شاذ) (اس سے پہلے والی حدیث جو صحیح بخاری میں بھی ہے) میں کھانے سے رکنے سے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے قتادہ رضی الله عنہ ہیں اور اس حدیث میں کھانے سے رکنے والے قتادہ ہیں اور اجازت کی روایت کرنے والے ابوسعید خدری رضی الله عنہ ہیں، جو صحیح بخاری میں ہے وہی زیادہ صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4434
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا مِنْهَا، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا". وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ: وَأَمْسِكُوا.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت کرنے سے، اب ان کی زیارت کرو، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔ محمد بن معدان کی روایت میں «امسکوا» ”روک کر رکھنے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4434]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین باتوں سے روکا تھا: (ایک تو میں نے تمہیں) قبروں پر جانے سے (روکا تھا)۔ اب جایا کرو لیکن قبروں پر جانا تمہاری نیکی میں اضافے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ (دوسرا) میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، اب کھاؤ جب تک چاہو اور رکھو جب تک چاہو۔ اور (تیسرا) میں نے تمہیں چند برتنوں میں (پانی یا نبیذ) پینے سے روکا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو لیکن کوئی نشے والی چیز نہ پینا۔“ محمد (ابن معدان) نے «وَأَمْسِكُوا» کے الفاظ بیان کیے۔ (مطلب یہ کہ یہ الفاظ استاد عمرو بن منصور نے بیان کیے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2034 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4435
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ مَا بَدَا لَكُمْ، وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے، مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے اور قبروں کی زیارت کرنے سے روکا تھا۔ لیکن اب تم جب تک چاہو قربانی کا گوشت کھاؤ اور سفر کے لیے توشہ بناؤ اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے (تو کرے) اس لیے کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے اور ہر مشروب پیو لیکن نشہ لانے والی چیز سے بچو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4435]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، اور مشکیزے کے علاوہ کسی برتن میں نبیذ بنانے سے بھی روکا تھا۔ اسی طرح قبروں پر جانے سے بھی منع کیا تھا۔ اب تم جب تک چاہو، قربانی کا گوشت کھا سکتے ہو۔ سفر میں ساتھ بھی لے جا سکتے ہو اور ذخیرہ بھی کر سکتے ہو۔ اور جو شخص چاہے، قبروں پر جا سکتا ہے کیونکہ وہ آخرت یاد دلاتی ہیں۔ اسی طرح اب تم ہر برتن میں نبیذ بنا کر پی سکتے ہو لیکن ہر نشے والی چیز سے بچو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1976)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5654) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابواسحاق‘‘ مدلس اور مختلط ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویف پا کر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4436
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَفَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُوا، وَادَّخِرُوا ثَلَاثًا"، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ، يَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ"؟، قَالَ: الَّذِي نَهَيْتَ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَيْتُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ كُلُوا، وَادَّخِرُوا، وَتَصَدَّقُوا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اعرابیوں (دیہاتیوں) کی ایک جماعت عید الاضحی کے دن مدینے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ اور تین دن تک ذخیرہ کر کے رکھو“، اس کے بعد لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانی سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی اٹھا کر رکھ لیتے اور ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”تو اب کیا ہوا؟“ وہ بولا: جو آپ نے قربانی کے گوشت جمع کر کے رکھنے سے روک دیا، آپ نے فرمایا: ”میں نے تو صرف اس جماعت کی وجہ سے روکا تھا جو مدینے آئی تھی، کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4436]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اعرابیوں کا ایک قافلہ مدینہ منورہ آیا، ادھر قربانیوں کا وقت آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قربانیوں کا گوشت) تین دن رکھ کر کھا سکتے ہو (زائد نہیں)۔“ (اس کے بعد آئندہ سال) لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی پگھلا لیا کرتے تھے اور چمڑوں سے مشکیزے بنا لیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا مطلب؟“ لوگوں نے کہا: آپ نے جو قربانی کا گوشت وغیرہ رکھنے سے روک دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تو اس قافلے کی وجہ سے روکا تھا جو (دیہات سے) آیا تھا۔ اب تم کھاؤ، جمع بھی رکھو اور صدقہ بھی کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأضاحی 5 (1971)، سنن ابی داود/الضحایا 10 (2812)، (تحفة الأشراف: 17901)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (7)، مسند احمد (6/51)، سنن الدارمی/الأضاحی6 (2002) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4439
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِمْسَاكِ الْأُضْحِيَّةِ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ثُمَّ قَالَ: كُلُوا، وَأَطْعِمُوا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت اٹھا کر رکھنے سے منع فرمایا پھر فرمایا: ”کھاؤ اور لوگوں کو کھلاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4439]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرما دیا تھا، پھر آپ نے فرمایا: ”(جب تک چاہو) کھاؤ اور (فقراء و مساکین کو بھی) کھلاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4295)، مسند احمد (3/57) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5654
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم اسے رکھ چھوڑو اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے کرے، اس لیے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور پیو (ہر چیز) البتہ نشہ لانے والی چیز سے بچو۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 5654]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں (تین دن سے زائد) قربانیوں کے گوشت (کھانے) سے منع فرمایا تھا۔ اب (تمہیں اجازت ہے) سفر میں ساتھ لے کر جاؤ یا محفوظ کر کے رکھو۔ اسی طرح جو شخص قبروں کی زیارت کو جانا چاہے، وہ جا سکتا ہے کیونکہ وہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔ اسی طرح (جس برتن کی نبیذ چاہو) پیو لیکن ہر نشہ آور مشروب سے بچو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 5654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4435 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5655
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ , فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کرو، میں نے تین دن سے زیادہ تک قربانی کے گوشت (جمع کرنے) سے منع کیا تھا، لیکن اب جب تک تمہارا جی چاہے رکھ چھوڑو، میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ (برتنوں) کی نبیذ سے منع کیا تھا، لیکن اب تم تمام قسم کے برتنوں میں پیو البتہ نشہ لانے والی چیز مت پیو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 5655]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب تم زیارت کو جا سکتے ہو۔ میں نے تمھیں مشکیزوں کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ بنانے سے روکا تھا، اب تم سب برتنوں میں (نبیذ بنا کر) پی سکتے ہو لیکن نشہ آور مشروب نہ پینا۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 5655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2043 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5656
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مِنْهَا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت سے تو اب تم (قبروں کی زیارت) کرو، اس کی زیارت سے تمہاری بہتری ہو گی، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم جب تک چاہو اس میں سے کھاؤ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں کے مشروب سے روکا تھا، لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پیو اور کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 5656]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت سے، اب تم زیارت کیا کرو کیونکہ امید ہے کہ قبروں کی زیارت تمہاری نیکی میں اضافے کا باعث ہوگی (یا لیکن قبروں کی زیارت سے تمہاری نیکی میں اضافہ ہونا چاہیے)۔ میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت (کھانے) سے روکا تھا، اب جب تک چاہو کھاؤ۔ اور میں نے تمہیں چند برتنوں میں نبیذ وغیرہ بنانے سے روکا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، بناؤ اور پیو لیکن نشہ آور مشروب نہ پیو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 5656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2034 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن