🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الشعراء
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
طسم
طسم۔
2
تلك آيات الكتاب المبين
یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
ابن کثیر ↑
3
لعلك باخع نفسك ألا يكونوا مؤمنين
شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔
ابن کثیر ↑
4
إن نشأ ننزل عليهم من السماء آية فظلت أعناقهم لها خاضعين
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، پھر اس کے سامنے ان کی گردنیں نیچی ہو جائیں۔
ابن کثیر ↑
5
وما يأتيهم من ذكر من الرحمن محدث إلا كانوا عنه معرضين
اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
6
فقد كذبوا فسيأتيهم أنباء ما كانوا به يستهزئون
پس بے شک وہ جھٹلا چکے، سو ان کے پاس جلد ہی اس چیز کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
7
أولم يروا إلى الأرض كم أنبتنا فيها من كل زوج كريم
اور کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی چیزیں ہر عمدہ قسم میں سے اگائی ہیں۔
ابن کثیر ↑
8
إن في ذلك لآية وما كان أكثرهم مؤمنين
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
ابن کثیر ↑
9
وإن ربك لهو العزيز الرحيم
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
ابن کثیر ↑
10
وإذ نادى ربك موسى أن ائت القوم الظالمين
اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو آواز دی کہ ان ظالم لوگوں کے پاس جا۔
11
قوم فرعون ألا يتقون
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں۔
ابن کثیر ↑
12
قال رب إني أخاف أن يكذبون
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔
ابن کثیر ↑
13
ويضيق صدري ولا ينطلق لساني فأرسل إلى هارون
اور میرا سینہ تنگ پڑتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی، سو تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔
ابن کثیر ↑
14
ولهم علي ذنب فأخاف أن يقتلون
اور ان کا میرے ذمے ایک گناہ ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
ابن کثیر ↑
15
قال كلا فاذهبا بآياتنا إنا معكم مستمعون
فرمایا ہر گز ایسے نہ ہوگا، سو تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، بے شک ہم تمھارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
16
فأتيا فرعون فقولا إنا رسول رب العالمين
تو تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ بلا شبہ ہم رب العالمین کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
17
أن أرسل معنا بني إسرائيل
یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔
ابن کثیر ↑
18
قال ألم نربك فينا وليدا ولبثت فينا من عمرك سنين
اس نے کہا کیا ہم نے تجھے اپنے اندر اس حال میں نہیں پالا کہ تو بچہ تھا اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال رہا۔
ابن کثیر ↑
19
وفعلت فعلتك التي فعلت وأنت من الكافرين
اور تو نے اپنا وہ کام کیا، جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
20
قال فعلتها إذا وأنا من الضالين
کہا میں نے اس وقت وہ کام اس حال میں کیا کہ میں خطاکاروں سے تھا۔
ابن کثیر ↑
21
ففررت منكم لما خفتكم فوهب لي ربي حكما وجعلني من المرسلين
پھر میں تم سے بھاگ گیا جب میں تم سے ڈرا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنا دیا۔
ابن کثیر ↑
22
وتلك نعمة تمنها علي أن عبدت بني إسرائيل
اور یہ کوئی احسان ہے جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔
ابن کثیر ↑
23
قال فرعون وما رب العالمين
فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے؟
ابن کثیر ↑
24
قال رب السماوات والأرض وما بينهما إن كنتم موقنين
کہا جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوںکے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
ابن کثیر ↑
25
قال لمن حوله ألا تستمعون
اس نے ان لوگوں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، کیا تم غور سے نہیں سنتے؟
ابن کثیر ↑
26
قال ربكم ورب آبائكم الأولين
کہا جو تمھارا رب اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔
ابن کثیر ↑
27
قال إن رسولكم الذي أرسل إليكم لمجنون
کہا یقینا تمھارا یہ پیغمبر، جو تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔
ابن کثیر ↑
28
قال رب المشرق والمغرب وما بينهما إن كنتم تعقلون
اس نے کہا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم سمجھتے ہو۔
ابن کثیر ↑
29
قال لئن اتخذت إلها غيري لأجعلنك من المسجونين
کہا یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔
30
قال أولو جئتك بشيء مبين
کہا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز لے آؤں؟
ابن کثیر ↑
31
قال فأت به إن كنت من الصادقين
اس نے کہا تو اسے لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
32
فألقى عصاه فإذا هي ثعبان مبين
پس موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ واضح اژدہا تھی۔
ابن کثیر ↑
33
ونزع يده فإذا هي بيضاء للناظرين
اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار) تھا۔
ابن کثیر ↑
34
قال للملإ حوله إن هذا لساحر عليم
اس نے ان سرداروں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، یقینا یہ تو ایک بہت ماہر فن جادو گر ہے۔
ابن کثیر ↑
35
يريد أن يخرجكم من أرضكم بسحره فماذا تأمرون
جو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ساتھ تمھیں تمھاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو؟
ابن کثیر ↑
36
قالوا أرجه وأخاه وابعث في المدائن حاشرين
انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔
ابن کثیر ↑
37
يأتوك بكل سحار عليم
کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔
ابن کثیر ↑
38
فجمع السحرة لميقات يوم معلوم
تو جادوگر ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت کے لیے جمع کر لیے گئے۔
39
وقيل للناس هل أنتم مجتمعون
اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہونے والے ہو؟
ابن کثیر ↑
40
لعلنا نتبع السحرة إن كانوا هم الغالبين
شاید ہم ان جادوگروں کے پیروکار بن جائیں، اگر وہی غالب رہیں۔
ابن کثیر ↑
41
فلما جاء السحرة قالوا لفرعون أئن لنا لأجرا إن كنا نحن الغالبين
پھر جب جادوگر آگئے تو انھوں نے فرعون سے کہا کیا واقعی ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہوگا، اگر ہم ہی غالب ہوئے؟
ابن کثیر ↑
42
قال نعم وإنكم إذا لمن المقربين
کہا ہاں اور یقینا تم اس وقت ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔
ابن کثیر ↑
43
قال لهم موسى ألقوا ما أنتم ملقون
موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
ابن کثیر ↑
44
فألقوا حبالهم وعصيهم وقالوا بعزة فرعون إنا لنحن الغالبون
تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور انھوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم! بے شک ہم، یقینا ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
45
فألقى موسى عصاه فإذا هي تلقف ما يأفكون
پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگل رہی تھی جو وہ جھوٹ بنا رہے تھے۔
ابن کثیر ↑
46
فألقي السحرة ساجدين
تو جادوگر نیچے گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے۔
ابن کثیر ↑
47
قالوا آمنا برب العالمين
انھوں نے کہا ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔
ابن کثیر ↑
48
رب موسى وهارون
موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔
ابن کثیر ↑
49
قال آمنتم له قبل أن آذن لكم إنه لكبيركم الذي علمكم السحر فلسوف تعلمون لأقطعن أيديكم وأرجلكم من خلاف ولأصلبنكم أجمعين
کہا تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ضرور تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو یقینا تم جلدی جان لوگے، میں ضرور ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔
50
قالوا لا ضير إنا إلى ربنا منقلبون
انھوں نے کہا کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑