قرآن مجيد
سورة الشعراء
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
طسم۔
|
|
2 |
یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، پھر اس کے سامنے ان کی گردنیں نیچی ہو جائیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
پس بے شک وہ جھٹلا چکے، سو ان کے پاس جلد ہی اس چیز کی خبریں آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
اور کیا انھوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی چیزیں ہر عمدہ قسم میں سے اگائی ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
اور بے شک تیرا رب، یقینا وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
10 |
اور جب تیرے رب نے موسیٰ کو آواز دی کہ ان ظالم لوگوں کے پاس جا۔
|
|
11 |
فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
13 |
اور میرا سینہ تنگ پڑتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی، سو تو ہارون کی طرف پیغام بھیج۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
اور ان کا میرے ذمے ایک گناہ ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
فرمایا ہر گز ایسے نہ ہوگا، سو تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، بے شک ہم تمھارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
تو تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ بلا شبہ ہم رب العالمین کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
18 |
اس نے کہا کیا ہم نے تجھے اپنے اندر اس حال میں نہیں پالا کہ تو بچہ تھا اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال رہا۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور تو نے اپنا وہ کام کیا، جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
کہا میں نے اس وقت وہ کام اس حال میں کیا کہ میں خطاکاروں سے تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
پھر میں تم سے بھاگ گیا جب میں تم سے ڈرا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنا دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
اور یہ کوئی احسان ہے جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
24 |
کہا جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوںکے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
اس نے ان لوگوں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، کیا تم غور سے نہیں سنتے؟
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
کہا جو تمھارا رب اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
کہا یقینا تمھارا یہ پیغمبر، جو تمھاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
اس نے کہا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم سمجھتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
کہا یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔
|
|
30 |
کہا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز لے آؤں؟
|
ابن کثیر ↑
|
31 |
اس نے کہا تو اسے لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
پس موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ واضح اژدہا تھی۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
اور اپنا ہاتھ نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار) تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
اس نے ان سرداروں سے کہا جو اس کے ارد گرد تھے، یقینا یہ تو ایک بہت ماہر فن جادو گر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
35 |
جو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ساتھ تمھیں تمھاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
انھوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو مؤخر رکھ اور شہروں میں جمع کرنے والے بھیج دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
تو جادوگر ایک مقرر دن کے طے شدہ وقت کے لیے جمع کر لیے گئے۔
|
|
39 |
اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہونے والے ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
شاید ہم ان جادوگروں کے پیروکار بن جائیں، اگر وہی غالب رہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
پھر جب جادوگر آگئے تو انھوں نے فرعون سے کہا کیا واقعی ہمارے لیے ضرور کچھ صلہ ہوگا، اگر ہم ہی غالب ہوئے؟
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
کہا ہاں اور یقینا تم اس وقت ضرور مقرب لوگوں سے ہو گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
44 |
تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور انھوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم! بے شک ہم، یقینا ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگل رہی تھی جو وہ جھوٹ بنا رہے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
تو جادوگر نیچے گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
انھوں نے کہا ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
کہا تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ضرور تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو یقینا تم جلدی جان لوگے، میں ضرور ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔
|
|
50 |
انھوں نے کہا کوئی نقصان نہیں، بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|