الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4645. 21- باب قوله: أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بیان میں کہ: ”کیا تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو؟ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟“
حدیث نمبر: 11900
11900- عن أسامة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يؤتى بالرجل يوم القيامة، فيلقى في النار، فتندلق أقتاب بطنه، فيدور بها كما يدور الحمار بالرحى، فيجتمع إليه أهل النار فيقولون: يا فلان، ما لك؟ ألم تكن تأمر بالمعروف وتنهى عن المنكر؟ فيقول: بلى، قد كنت آمر بالمعروف ولا آتيه، وأنهى عن المنكر وآتيه.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في بدءالخلق (3267)، ومسلم في الزهد (2989) كلاهما من طريق الأعمش، عن أبي وائل شقيق، عن أسامة بن زيد فذكره.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
حدیث نمبر: 11901
11901- عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مررت ليلة أسري بي على قوم تقرض شفاههم بمقاريض من نار، قال: قلت: من هولاء؟ قالوا: خطباء من أهل الدنيا ممن كانوا يأمرون الناس بالبر، وينسون أنفسهم، وهو يتلون الكتاب أفلا يعقلون
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه أبو يعلى (4069)، والبيهقي في الشعب (4965)، كلاهما من طريق معتمر بن سليمان- وأبونعيم في الحلية (8/172) من طريق ابن المبارك- كلاهما عن سليمان التيمي، عن أنس فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
4646. 22- باب قوله: وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (57)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ: ”اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا (اور یہ حکم دیا کہ) ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں، اور انہوں نے (نافرمانی کر کے) ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 11902
11902- عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الكمأة من المن الذي أنزل الله على بني إسرائيل، وماؤها شفاء للعين.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4478)، ومسلم في الأشربة (2049: 160) كلاهما من حديث سفيان، عن عبدالملك بن عمير قال: سمعت عمرو بن حريث يقول: سمعت سعيد بن زيد يقول: فذكره.واللفظ لمسلم.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
4647. 23- باب قوله: وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ (58)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے بیان میں کہ: ”اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہو جاؤ، پھر اس میں جہاں سے چاہو جی بھر کر اور بافراغت کھاؤ، اور (بستی کے) دروازے میں سجدہ ریز ہو کر داخل ہونا اور کہنا کہ ’حِطَّۃٌ‘ (یعنی اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے)، ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو (اپنے فضل سے) مزید عطا فرمائیں گے۔“
حدیث نمبر: Q11903
قوله: وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ القرية هي الأرض المقدسة أي بيت المقدس كما جاء في سورة المائدة: يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (21) قَالُوا يَا مُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22) قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (23) قَالُوا يَا مُوسَى إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَدًا مَا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ (24) [المائدة: ٢١ - ٢٤]
وقوله: سُجَّدًا: أي خاضعا وراكعا لتعذر حمله على حقيقته.
وقوله: وَقُولُوا حِطَّةٌ: أي مغفرة، روي ذلك عن ابن عباس.
أخرجه الحاكم (2/262) وقال:"صحيح على شرط الشيخين".
وقوله: سُجَّدًا: أي خاضعا وراكعا لتعذر حمله على حقيقته.
وقوله: وَقُولُوا حِطَّةٌ: أي مغفرة، روي ذلك عن ابن عباس.
أخرجه الحاكم (2/262) وقال:"صحيح على شرط الشيخين".
حدیث نمبر: 11903
11903- عن أبي هريرة قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قيل لبني إسرائيل: وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ فبدلوا، فدخلوا يزحفون على أستاههم، وقالوا: حبة في شعرة
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4641) ومسلم في التفسير (3015) كلاهما من حديث عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة فذكره.»
الحكم على الحديث: متفق عليه
حدیث نمبر: 11904
11904- عن أبي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم: قال الله لبني إسرائيل: وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه أبو داود (4006) عن أحمد بن صالح وسليمان بن داود، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري قال: فذكر هكذا.»
الحكم على الحديث: صحيح
4648. 24- باب قوله: وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نَصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (61)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق ہے کہ: ”اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ! ہم ہرگز ایک ہی قسم کے کھانے پر صبر نہیں کریں گے، لہٰذا آپ اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے زمین کی اگائی ہوئی چیزوں میں سے ساگ، ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز پیدا کرے، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تم اس چیز کو لینا چاہتے ہو جو ادنیٰ ہے اس کے بدلے میں جو بہتر ہے؟ کسی شہر میں جا اترو، وہاں تمہیں وہ سب کچھ مل جائے گا جو تم نے طلب کیا ہے، اور ان پر ذلت و محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوئے، یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کر دیتے تھے، یہ سب ان کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنے کا انجام تھا۔“
حدیث نمبر: A341
قوله عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ: أي على المنّ والسلوى، وهما وإنْ كانَ اثنين، ولكن لا يتبدّل ولا يتغيّر كل يوم فهو كطعامٍ واحدٍ.
قوله: مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا البقل والقثّاء والعدس والبصل كلها معروفة.
واختلف في قوله: وَفُومِهَا فقيل: هو الثوم، وكان في قراءة ابن مسعود: (وثُومها) بالثاء، وكذلك فسّره غيرُ واحدٍ من السلف. وقيل: هو الحنطة. قال ابن عباس: وَفُومِهَا قال:"الفُوم الحنطة بلسان بني هاشم".
والذي يظهر أن هذا هو الصواب، لأنهم قد يحتاجون إليه لصُنْعِ الطعام، فإنّ طلب البقول يستلزم طلب الحنطة، لأنّ البقولَ وحدَها لا يُصنع منها الطعامُ.
وأما الثوم –بالثاء- فهو يندرِجُ تحتَ البصل، لأنهما من فصيلٍ واحدٍ.
وقوله: اهْبِطُوا مِصْرًا أي مصرًا من الأمصار مثل أمصار فلسطين، ولكن في قراءة أُبَيّ بن كعب وابن مسعود: اهبطوا مصرَ من غير صرفٍ، والمراد منه مصر فرعون.
ولمّا لم يدخلوا مصرًا من الأمصار، ولا مصرَ فرعون فلم يُستجابوا في طلبهم، بل وبَّخَهم سبحانه وتعالى فقال: أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ
قوله: مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا البقل والقثّاء والعدس والبصل كلها معروفة.
واختلف في قوله: وَفُومِهَا فقيل: هو الثوم، وكان في قراءة ابن مسعود: (وثُومها) بالثاء، وكذلك فسّره غيرُ واحدٍ من السلف. وقيل: هو الحنطة. قال ابن عباس: وَفُومِهَا قال:"الفُوم الحنطة بلسان بني هاشم".
والذي يظهر أن هذا هو الصواب، لأنهم قد يحتاجون إليه لصُنْعِ الطعام، فإنّ طلب البقول يستلزم طلب الحنطة، لأنّ البقولَ وحدَها لا يُصنع منها الطعامُ.
وأما الثوم –بالثاء- فهو يندرِجُ تحتَ البصل، لأنهما من فصيلٍ واحدٍ.
وقوله: اهْبِطُوا مِصْرًا أي مصرًا من الأمصار مثل أمصار فلسطين، ولكن في قراءة أُبَيّ بن كعب وابن مسعود: اهبطوا مصرَ من غير صرفٍ، والمراد منه مصر فرعون.
ولمّا لم يدخلوا مصرًا من الأمصار، ولا مصرَ فرعون فلم يُستجابوا في طلبهم، بل وبَّخَهم سبحانه وتعالى فقال: أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ
4649. 25- باب قوله: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا أَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (67) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا فَارِضٌ وَلَا بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ فَافْعَلُوا مَا تُؤْمَرُونَ (68) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ (69) قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ (70) قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَا شِيَةَ فِيهَا قَالُوا الْآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُونَ (71) وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللَّهُ مُخْرِجٌ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ (72) فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (73)
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: ”اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کا نشانہ بناتے ہیں؟ موسیٰ نے جواب دیا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نادانوں میں شامل ہو جاؤں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے ہمارے لیے التجا کیجیے کہ وہ ہمارے لیے واضح فرما دے کہ وہ گائے کیسی ہو؟ موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جو نہ تو بوڑھی ہو اور نہ ہی بالکل کم عمر بچھیا، بلکہ ان دونوں کے مابین اوسط عمر کی ہو، پس اب تم وہی کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب سے ہمارے لیے عرض کیجیے کہ وہ ہمارے لیے بیان فرما دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ایسی گائے ہو جس کی رنگت نہایت شوخ ہو اور دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھلی لگتی ہو۔ انہوں نے پھر کہا کہ آپ اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں صاف صاف بتا دے کہ وہ کیسی ہو؟ کیونکہ ایسی گائیں ہم پر مشتبہ ہو گئی ہیں اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت پا لیں گے۔ موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو جو نہ تو محنت مشقت کی عادی ہو کہ زمین جوتتی ہو اور نہ ہی کھیتی کو پانی دیتی ہو، وہ ہر عیب سے پاک اور صحیح سالم ہو جس میں کسی دوسرے رنگ کا کوئی نشان نہ ہو، وہ بول اٹھے کہ اب آپ نے اصل حقیقت واضح کی ہے، پھر انہوں نے اسے ذبح کر دیا حالانکہ وہ (اپنی حجت بازیوں کی بنا پر) ایسا کرتے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا پھر اس کے متعلق ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے تھے، اور اللہ اس بات کو ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔ پس ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کے جسم) کو اس (ذبح شدہ گائے) کے ایک حصے سے مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ فرماتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و دانش سے کام لو۔“
حدیث نمبر: A342
في هذه الآيات إشارة واضحة إلى قصة وقعت في بني إسرائيل في عهد موسى عليه السلام، وقد روي عن بعض الصحابة والتابعين ما سمعوا من اليهود، ومن أصحها إسنادا ما روي عن عبيدة بن عمرو السلماني المخضرم المتوفى سنة (70هـ) قال: كان رجل في بني إسرائيل عقيم لا يولد له، وكان له مال كثير، وكان ابن أخيه وارثه، فقتله ثم احتمله ليلاً فوضعه على باب رجل منهم، ثم أصبح يدعيه عليهم، حتى تسلحوا وركب بعضهم إلى بعض، فقال ذوو الرأي والنُّهى: علام يقتل بعضكم بعضا، وهذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فيكم؟ فأتوا موسى فذكروا ذلك له فقال: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً فقالوا: أتتخذونا هزوا؟ قال: أعوذ بالله أن أكون من الجاهلين.قال: فلو لم يعترضوا البقرة، لأجزت عنهم أدنى بقرة، ولكنهم شدّدوا فشدّد عليهم حتى انتهوا إلى البقرة التي أمروا بذبحها فوجدوها عند رجل ليس له بقرة غيرها، فقال: والله لا أنقصها من ملء جلدها ذهباً، فأخذوها بملء جلدها ذهباً فذبحوها فضربوه ببعضها فقام، فقالوا: من قتلك؟ فقال: هذا، لابن أخيه، ثم مال ميتاً، فلم يعط من ماله شيء، ولم يورث قاتل بعده.
4650. 26- باب قوله: ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (74)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے بیان میں کہ: ”پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، سو وہ پتھروں کی مانند ہیں یا سختی میں ان سے بھی بڑھے ہوئے، اور یقیناً پتھروں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، اور بے شک ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی برآمد ہونے لگتا ہے، اور یقیناً ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور اللہ تمہارے ان کاموں سے قطعاً بے خبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔“
حدیث نمبر: 11905
11905- عن حذيفة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تعرض الفتن على القلوب كالحصير عوداً عوداً، فأي قلب أشربها نكت فيه نكتة سوداء، وأي قلب أنكرها نكت فيه نكتة بيضاء، حتى تصير على قلبين، على أبيض مثل الصفا، فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض، والآخر أسود مربادا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ولا ينكر منكرا، إلا ما أشرب من هواه.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الإيمان (144) عن محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا أبو خالد – يعني سليمان بن حيان – عن سعد بن طارق، عن ربعي، عن حذيفة، قال: فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 11906
11906- عن النعمان بن بشير قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الحلال بيّنٌ، وإن الحرام بيّنٌ، وبينهما مشتبهاتٌ لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام، كالراعي يرعى حول الحمى، يوشك أن يرتع فيه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة، إذا صلحت صلح الجسدُ كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في الإيمان (52) ومسلم في المساقاة (1599) كلاهما من طريق زكريا، عن عامر الشعبي، قال: سمعت النعمان بن بشير، يقول: فذكره، واللفظ لمسلم ولفظ البخاري نحوه.»
الحكم على الحديث: متفق عليه