مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 38980 ترقیم الشثری: -- 40629
٤٠٦٢٩ - حدثنا بن آدم قال: حدثنا شريك عن سليمان بن المغيرة عن يزيد ابن ضبيعة العبسي عن علي انه قال يوم الجمل: لا (يتبع) (١) (مدبر) (٢) ولا يذفف على جريح (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تتبع).
(٢) في [ع]: (مدبرًا).
(٣) مجهول؛ لجهالة يزيد بن ضبيعة، أخرجه الحاكم ٢/ ١٥٥، والبيهقي ٨/ ١٨١، وانظر: ما تقدم برقم [٤٠٦٢٠].
یزید بن ضبیعہ عبسی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے جنگ جمل کے دن فرمایا کوئی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرے اور نہ ہی زخمی کو قتل کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40629، ترقيم محمد عوامة 38980)
ترقیم عوامۃ: 38981 ترقیم الشثری: -- 40630
٤٠٦٣٠ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (حدثنا) (١) جرير بن حازم عن ابي سلمة عن ابي نضرة عن رجل من بني ضبيعة قال: لما قدم طلحة والزبير نزلا في بني طاحية، فركبت فرسي فاتيتهما فدخلت عليهما المسجد، فقلت: إنكما رجلان من اصحاب رسول الله ﷺ: (اعهد إليكما فيه رسول الله ﷺ) (٢) ، ام راي (رايتماه) (٣) ؟ فاما طلحة فنكس راسه فلم يتكلم، واما الزبير فقال: حدثنا ان هاهنا دراهم كثيرة فجئنا ناخذ (منها) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في النسخ بياض بمقدار ثلاث كلمات، وتم ملؤه من مصادر التخريج.
(٣) في [أ، ب، هـ]: (رأيتما).
(٤) في [هـ]: (منهم).
(٥) مجهول؛ لإبهام الرجل الضبعي، أخرجه ابن جرير في التاريخ ٣/ ٢١.
ابو نضرہ بنو ضبیعہ کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ اور زبیر بنو طاحیہ مں ت تشریف فرما ہوئے تو میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور ان کے پاس آیا اور ان کے پاس مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے ان سے کہا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ہیں! کیا یہ کوئی رائے ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں پس حضرت طلحہ نے تو سر جھکا لیا اور کوئی بات نہیں کی اور زبیر نے کلام کیا اور رفرمایا کہ ہمیں اطلاع دی گئی ہے کہ یہاں کافی سارے دراہم ہیں ہم انہیں لینے کے لیے آئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40630]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40630، ترقيم محمد عوامة 38981)
ترقیم عوامۃ: 38982 ترقیم الشثری: -- 40631
٤٠٦٣١ - حدثنا يعلى بن عبيد عن إسماعيل بن ابي خالد عن عبد السلام رجل من بني حية قال: خلا علي بالزبير يوم الجمل فقال: انشدك بالله كيف سمعت رسول الله ﷺ يقول وانت (لاو) (١) يدي في سقيفة بني فلان:"لتقاتلنه ⦗٥١١⦘ وانت ظالم له، ثم لينصرن عليك"، قال: (قد) (٢) سمعت، لا جرم لا اقاتلك (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (لاوي).
(٢) في [ع]: (وقد).
(٣) مجهول؛ لجهالة عبد السلام، أخرجه إسحاق كما في المطالب (٤٤٠٤)، والعقيلي ٣/ ٦٥، وابن عساكر ١٨/ ٤٠٩، وابن الجوزي في العلل (١٤١٧).
عبدالسلام سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے دن حضرت زبیر سے علیحدگی میں ملے اور فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتاہوں بتاؤ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نیں ن سنا جبکہ تم فلاں قبیلے کے چھپر کے نیچے میرے ہاتھ پر جھکے کھڑے تھے تم اس سے قتال کرو گے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے پھر تم پر تمہارے خلاف مدد کی جائے گی حضرت زبیر نے فرمایا میں نے سنا ہے یقینا اور اب میں آپ سے قتال نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40631، ترقيم محمد عوامة 38982)
ترقیم عوامۃ: 38983 ترقیم الشثری: -- 40632
٤٠٦٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) شريك عن الاسود بن قيس قال: حدثني من راى الزبير يقعص الخيل بالرمح قعصا، (فثوب) (٢) به علي: (يا عبد الله) (٣) يا عبد الله، قال: (فاقبل) (٤) حتى (التقت) (٥) اعناق دوابهما، قال: فقال (له) (٦) علي: انشدك بالله، اتذكر يوم (اتانا) (٧) النبي ﷺ وانا اناجيك فقال:"اتناجيه، فوالله ليقاتلنك (يوما) (٨) وهو لك ظالم"، قال: فضرب الزبير وجه دابته فانصرف (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (فنده).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ع]: (فأقيل).
(٥) في [س]: (التفت).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (أتاني).
(٨) في [أ، ب]: (قومًا).
(٩) مجهول؛ لجهالة شيخ الأسود، وأخرجه الحاكم ٣/ ٤١٣، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤١٤، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٤٠٣).
اسود بن قیس کہتے ہیں کہ مجھے حضرت زبیر کو دیکھنے والے نے بتایا کہ حضرت زبیر نے گھوڑے کو زور سے نیزہ مارا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو پکارا اے اللہ کے بندے اے اللہ کے بندے پس حضرت زبیر تشریف لائے یہاں تک کہ دونوں حضرات کے جانوروں کے کان ایک دوسرے کے قریب ہوگئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا پس آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں آپ کو وہ دن یاد ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں آپ سے سرگوشی کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس سے سرگوشی کر رہے ہو۔ اللہ کی قسم یہ ایک دن تمہارے ساتھ قتال کرے گا اور یہ تم پر ظلم کرنے والا ہوگا پس حضرت زبیر نے اپنے گھوڑے کو ہانکا اور واپس چلے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40632]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40632، ترقيم محمد عوامة 38983)
ترقیم عوامۃ: 38984 ترقیم الشثری: -- 40633
٤٠٦٣٣ - حدثنا محمد بن الحسن قال: (حدثنا) (١) شريك عن إسحاق عن عبد الله بن محمد قال: مر علي على قتلى من اهل البصرة، فقال: اللهم اغفر لهم، ⦗٥١٢⦘ (ومعه) (٢) محمد بن ابي بكر وعمار بن ياسر، فقال احدهما للآخر: ما (تسمع) (٣) ما يقول؟ فقال له الآخر: اسكت لا (يزيدك) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (ومعهم).
(٣) في [هـ]: (نستمع)، وفي [ط]: (نسمع).
(٤) في [هـ]: (يزيديك).
(٥) لم يتبين من هو إسحاق وعبد اللَّه، ولعل الصواب ابن إسحاق، وعبد اللَّه بن محمد هو ابن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق المعروف بابن أبي عتيق، وهو لم يدرك عليًا ﵁.
عبداللہ بن محمد سے منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاہل بصرہ کے شہداء کے پاس سے گزرے اور دعا کی! اے اللہ ان کی مغفرت فرما، ان کے ساتھ محمد بن ابوبکر اور عمار بن یاسر بیع تھے پس ایک دوسرے سے کہا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیا کہتے ہوئے سن رہے ہیں؟ دوسرے نے فرمایا خاموش ہوجاؤ کہیں تمہاری وجہ سے اور اضافہ کردیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40633]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40633، ترقيم محمد عوامة 38984)
ترقیم عوامۃ: 38985 ترقیم الشثری: -- 40634
٤٠٦٣٤ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثني ابو بكر عن جحش بن زياد الضبي قال: سمعت الاحنف بن قيس يقول: لما ظهر علي على (اهل البصرة) (١) ارسل إلى عائشة: ارجعي إلى المدينة وإلى بيتك، قال: فابت، قال: فاعاد إليها الرسول: والله لترجعن او لابعثن إليك نسوة من بكر بن وائل (معهن) (٢) شفار حداد ياخذنك بها، فلما رات ذلك خرجت (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب]، وفي [ع]: (أهل الجمل).
(٢) في [هـ]: (دمهن).
(٣) حسن؛ جحش صدوق، روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في الثقات، وأبو بكر هو ابن عياش.
احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاہل بصرہ کے پاس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ مدینے اپنے گھر لوٹ جاؤ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پھر اپنے پیغام رساں کو بھیجا کہ اللہ کی قسم تم لوٹ جاؤ ورنہ میں تمہاری طرف بکر بن وائل کی ایسی عورتوں کو بھیجوں گا جس کے پاس تیز دھار والی چھریاں ہیں وہ تجھ پر ان سے حملہ کریں گی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ چلی گئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40634]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40634، ترقيم محمد عوامة 38985)
ترقیم عوامۃ: 38986 ترقیم الشثری: -- 40635
٤٠٦٣٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) يعقوب عن جعفر بن ابي المغيرة عن ابن (ابزى) (٢) قال: انتهى عبد الله بن بديل إلى عائشة وهي في الهودج يوم الجمل، فقال: يا ام المؤمنين! انشدك بالله، اتعلمين اني اتيتك يوم قتل عثمان فقلت: إن عثمان قد قتل فما تامريني؟ فقلت لي: الزم عليا، فوالله ما غير ولا بدل، فسكتت ثم (اعاد) (٣) عليها ثلاث مرات، (فسكتت) (٤) ، فقال: اعقروا الجمل، فعقروه، ⦗٥١٣⦘ قال: فنزلت انا واخوها محمد بن ابي بكر (فاحتملنا) (٥) الهودج، حتى وضعناه بين يدي علي، فامر به علي فادخل في منزل عبد الله بن (بديل) (٦) (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أبزا).
(٣) في [أ، ب]: (دعا)، وفي [س]: (عاد).
(٤) في [أ]: (فسكظيت).
(٥) في [هـ]: (واحتملنا).
(٦) في [أ، ب]: (وائل).
(٧) حسن؛ خالد صدوق، وانظر: فتح الباري ١٣/ ٥٧.
ابن ابزی سے منقول ہے کہ عبداللہ بن بدیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے وہ ھودج میں تھیں جنگ جمل کے دن پھر عرض کیا اے ام المومنین آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہو کہ میں آپ کے پاس اس دن حاضر ہوا تھا جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا تھا۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ حضرت عثمان شہید ہوگئے اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لازم پکڑو۔ اللہ کی قسم وہ بدلے نہیں پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں پھر یہی بات عبداللہ بن بدیل نے تین دفعہ دہرائی پس وہ خاموش رہیں۔ عبداللہ بن بدیل نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا حکم دیا تو اونٹنی کی کانچیں کاٹ دی گئیں پس میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابوبکر اترے اور ان کے ھودج کو اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ پھر ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے عبداللہ بن بدیل کے گھر میں داخل کردیا۔ جعفر بن ابو مغیرہ کہتے ہیں کہ میری پھوپھی عبداللہ بن بدیل کے ہاں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا مجھے اندر داخل کردو پس میں نے انہیں اندر داخل کردیا اور میں نے ان کو ایک سفلچی (ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن) اور جگ ان کے پاس رکھ دیا اور دروازہ بند کردیا۔ کہتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑوں میں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ اپنے سر کا علاج کر رہیں تھیں میں نہیں جانتی کہ ان کے سر میں کوئی زخم تھا یاتیر کا زخم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40635]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40635، ترقيم محمد عوامة 38986)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40636
٤٠٦٣٦ - قال جعفر بن (ابي) (١) المغيرة: وكانت عمتي عند عبد الله بن بديل، (فحدثتني) (٢) عمتي ان عائشة قالت: لها ادخليني، قالت: فادخلتها (لداخل) (٣) واتيتها بطست وإبريق واجفت عليها الباب، (قالت) (٤) : فاطلعت عليها من (خلل) (٥) الباب وهي تعالج شيئا في راسها ما ادري شجة او رمية (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٢) في [أ، ب]: (حدثتني).
(٣) في [جـ، ع]: (داخل)، وسقط من: [أ، س، هـ].
(٤) في [ع]: (قال).
(٥) في [س]: (خلال).
(٦) مجهول؛ لجهالة عمة جعفر.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40636، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 38987 ترقیم الشثری: -- 40637
٤٠٦٣٧ - حدثنا إسحاق بن سليمان قال: حدثنا ابو سنان عن عمرو بن مرة قال: جاء (سليمان) (١) بن صرد إلى علي بن ابي طالب بعدما فرغ من قتال يوم الجمل، وكانت له صحبة مع النبي ﵇، فقال له علي: خذلتنا وجلست عنا وفعلت على رؤوس الناس؟ فلقي سليمان الحسن بن علي فقال: ما لقيت من امير المؤمنين؟ قال: (قال) (٢) لي: كذا وكذا على رؤوس الناس، (فقال) (٣) : لا يهولنك هذا منه فإنه محارب، فلقد رايته يوم الجمل حين اخذت السيوف ⦗٥١٤⦘ (ماخذها) (٤) يقول: لوددت اني مت قبل هذا اليوم بعشرين سنة (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (سلمان).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٣) في [ع]: (قال).
(٤) في [س]: (يأخذها).
(٥) منقطع؛ عمرو بن مرة لا يروي عن علي، وانظر: ما تقدم برقم [٤٠٦١٦].
عمرو بن مرہ سے منقول ہے کہتے ہیں سلیمان بن صرد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جنگ جمل کے دن جنگ سے فراغت کے بعد آئے یہ صحابی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمیں رسوا کیا اور آپ ہم سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت سلیمان بن صرد حضرت حسن سے ملے اور ان سے کہا کیا آپ امیر المومنین سے نہیں ملے؟ انہوں نے مجھے اس طرح سے کہا ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا آپ ان کی اس بات سے خوفزدہ مت ہوں کہ وہ جنگ کرنے والے ہیں۔ میں نے جنگ جمل کے دن ان کو دیکھا جب میں نے اپنی تلوار کو اچھی طرح تھا ما کہ وہ فرما رہے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اس دن سے بیس سال قبل فوت ہوجاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40637]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40637، ترقيم محمد عوامة 38987)
ترقیم عوامۃ: 38988 ترقیم الشثری: -- 40638
٤٠٦٣٨ - حدثنا احمد بن عبد الله قال: حدثنا زائدة عن (عمر) (١) بن قيس عن زيد بن وهب قال: اقبل طلحة والزبير حتى نزلا البصرة (وطرحوا) (٢) سهل ابن حنيف، فبلغ ذلك (عليا) (٣) ، وعلي كان بعثه عليها، فاقبل حتى نزل بذي قار. فارسل عبد الله بن عباس إلى الكوفة فابطئوا عليه، ثم اتاهم عمار (فخرجوا) (٤) ، قال زيد: فكنت فيمن خرج معه، قال: (فكف) (٥) عن طلحة والزبير واصحابهما، ودعاهم حتى (بدؤوه) (٦) فقاتلهم بعد صلاة الظهر، فما غربت الشمس وحول الجمل عين (تطرف) (٧) ممن كان يذب عنه، فقال علي: لا تتموا جريحا (ولا) (٨) تقتلوا مدبرا، ومن اغلق بابه والقى سلاحه فهو آمن؛ فلم يكن قتالهم إلا تلك العشية وحدها. فجاءوا (بالغد) (٩) يكلمون عليا في الغنيمة (فقرا) (١٠) علي هذه الآية، فقال: ⦗٥١٥⦘ اما إن الله يقول: ﴿ (واعلموا) (١١) (انما) (١٢) غنمتم من شيء فان لله خمسه وللرسول﴾ [الانفال: ٤١] : (ايكم) (١٣) لعائشة؟ فقالوا: سبحان الله! امنا، فقال: احرام هي؟ قالوا: نعم، قال علي: فإنه يحرم من بناتها ما يحرم منها قال: افليس عليهن ان يعتددن من (القتلى) (١٤) اربعة اشهر وعشرا، قالوا: بلى، قال: افليس لهن الربع والثمن من ازواجهن، قالوا: بلى، قال: ثم قال: ما بال اليتامى لا ياخذون اموالهم، ثم قال: يا قنبر من عرف شيئا فلياخذه، قال زيد: فرد ما كان في العسكر وغيره. قال: وقال علي لطلحة والزبير: (الم) (١٥) تبايعاني؟ فقالا: (نطلب) (١٦) دم عثمان؛ فقال علي: ليس عندي دم عثمان (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (عمرو).
(٢) في [س]: بياض.
(٣) في [ع]: (علي)، وفي [هـ]: (علينا).
(٤) في [ع]: (فرجعوا).
(٥) في [ع]: (وكف).
(٦) في [س، ع]: (بدوه).
(٧) في [هـ]: (تطوق).
(٨) سقط من: [هـ].
(٩) في [ع]: (كالغد).
(١٠) في [هـ]: (فقول).
(١١) سقط من: [أ، ب].
(١٢) في [ع]: (وما).
(١٣) في [أ، ب]: (إنكم)، وفي [جـ]: (ألكم).
(١٤) في [ع]: (القتلا).
(١٥) في [ع]: (أو لم).
(١٦) في [ب]: (الطلب).
(١٧) صحيح؛ أخرجه الطحاوي ٣/ ٢١٢.
زید بن وہب سے منقول ہے طلحہ اور زبیر بصرہ تشریف لائے اور سہل بن حنیف کے سامنے معاملہ پیش کیا یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا تھا پس حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ذی قار مقام میں قیام فرمایا پھر عبداللہ بن عباس کو کوفہ بھیجا کوفہ والوں نے پس وپیش سے کام لیا پھر عمار کوفہ والوں کے پاس آئے پھر کوفہ والے نکل پڑے زیدکہتے ہیں کہ میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا جو حضرت عمار ساتھ نکلے تھے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلحہ و زبیر اور ان کے ساتھیوں سے ہاتھ روکے رکھا اور ان کو حق کی طرف بلاتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے خود ہی لڑائی کی ابتدا کی پس ان کے ساتھ نماز ظہر کے بعد قتا ل کیا سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ اونٹ کے گرد اونٹ کا دفاع کرتے ہوئے بہت سے لوگ ہلاک ہوگئے پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم زخمی کو قتل نہ کرو اور نہ ہی واپس بھاگنے والے کو قتل کرو اور جو اپنا دروازہ بند کرے اور اپنا ہتھیار پھینک دے اس کو امن ہے پس قتال نہیں ہوا مگر صرف اسی شام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی اگلی صبح کو آئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مال غنیمت سے مال غنیمت کا مطالبہ کرنے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول یہ آیت تھی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ { وَاعْلَمُوا أَنَمَّا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ وَلِلرَّسُولِ } تم میں سے کون ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے تو انہوں نے کہا سبحان اللہ وہ تو ہماری ماں ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا وہ حرام ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں! پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو ان سے (ام المومنین سے) حرام ہے وہ ان کی بیٹیوں سے بھی حرام ہے۔ پھر فرمایا کہ کیا ان کے مقتول شوہروں کی وجہ سے ان کی عدت چار ماہ دس دن نہیں؟ تو لوگوں نے جواب دیا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا کیا ان بیواؤں کے لیے ربع اور ثمن نہیں ان کے شوہروں کے اموال سے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں۔ تو پھر یتیموں کو کیوں حق نہیں کہ و ہ ان کے اموال نہ لیں۔ پھر فرمایا اے قنبر جو اپنی شئے پہچان لے وہ اپنی شئے اٹھا لے۔ پس جو لشکر کے پاس مدمقابل لوگوں کا سامان تھا لوٹا دیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر سے فرمایا کہ تم نے بیعت نہیں کی تھی میرے ہاتھ پر؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عثمان کا خون میرے سر تو نہیں عمروبن قیس کہتے ہیں کہ مجھے ابو قیس جو حضر موت سے تعلق رکھتے تھے کہاجب قنبر نے ندا لگائی کہ اپنی چیزوں کو پہچان کرلے لو تو ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا ہم دیگچی میں کچھ پکا رہے تھے۔ اس نے اس دیگچی کو اٹھا لیا ہم نے کہا اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس میں جو ہے پک جائے ابو قیس کہتے ہیں کہ اس نے دیگچی میں ٹانگ ماری اور اس کو پکڑ کر چلتا ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40638]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40638، ترقيم محمد عوامة 38988)