سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
28. بَابُ الْإِقْرَارِ وَالْإِنْكَارِ
اقرار اور انکار کے احکام
ترقیم دار السلفیہ: 314 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1491
نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ فِي ثَلاثَةٍ وَرِثُوا ثَلاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ، فَأَقَرَّ أَحَدُهُمْ بِمِائَةٍ دَيْنٍ , قَالَ: يُعْطِي ثُلُثَ الْمِائَةِ , ثُمَّ قَالَ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ يُورَثُ مِيرَاثٌ حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَ الْمِائَةَ" .
عامر الشعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تین افراد نے تین سو درہم وراثت میں حاصل کئے، ان میں سے ایک نے ایک سو درہم قرض کا اقرار کیا، تو حکم دیا گیا کہ ایک تہائی دے دے، پھر فرمایا: ”یہ غلط ہے، میراث اس وقت تقسیم ہو گی جب قرض ادا ہو چکے ہوں، اس لئے پورا قرض ادا کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3112، 3266، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 314، 315، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31649، 31651، 31652، 31653»
ترقیم دار السلفیہ: 315 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1492
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: " إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ الْوَارِثُ بِدَيْنٍ فَعَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ فِي نَصِيبِهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ: يُخْرَجُ مِنْ نَصِيبِهِ كُلَّهُ" .
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کوئی وارث قرض کا اقرار کرے تو اپنی حصے کے بقدر قرض دے۔“ پھر فرمایا: ”اس کا سارا حصہ قرض میں جائے گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3112، 3266، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 314، 315، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31649، 31651، 31652، 31653»
ترقیم دار السلفیہ: 316 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1493
نا هُشَيْمٌ قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ مَاتَ فَادَّعَى رَجُلٌ قِبَلَهُ دَيْنًا وَأَقَرَّ بِذَلِكَ بَعْضُ الْوَرَثَةِ , فَإِنْ أَقَرَّ مِنْهُمْ وَاحِدٌ فَعَلَيْهِ بِحِصَّتِهِ فِي نَصِيبِهِ , وَإِنْ أَقَرَّ رَجُلانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ جَازَ عَلَى جَمِيعِهِمْ" .
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر ایک میت پر کسی نے قرض کا دعویٰ کیا اور بعض ورثاء نے اس کا اقرار کیا تو جس نے اقرار کیا اس پر اپنی حصے کے بقدر قرض لازم ہے، اگر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اقرار کریں تو سب پر لازم ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3114، 3265، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 316، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19143، 19144، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31650، 31655، 31658»
ترقیم دار السلفیہ: 317 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1494
نا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ فِي رَجُلٍ ادَّعَى عَلَى مَيِّتٍ أَلْفَ دِرْهَمٍ تَرَكَ الْمَيِّتُ ابْنَيْنِ لَهُ، وَتَرَكَ أَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَأَقَرَّ أَحَدُهُمَا وَأَبَى الآخَرُ , قَالَ:" يُعْطِي الَّذِي أَقَرَّ خَمْسَ مِائَةَ دِرْهَمٍ" .
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے میت پر ایک ہزار درہم قرض کا دعویٰ کیا اور میت نے دو بیٹے چھوڑے اور دو ہزار درہم مال چھوڑا، اور ان میں سے ایک نے اقرار کیا اور دوسرے نے انکار کیا تو جس نے اقرار کیا اس پر پانچ سو درہم واجب ہوں گے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 317، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31648»
ترقیم دار السلفیہ: 318 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1495
نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِذَا ادَّعَى بَعْضُ الْوَرَثَةِ أَخًا أَوْ أُخْتًا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ حَتَّى يُقِرُّوا جَمِيعًا" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بعض ورثاء کسی بھائی یا بہن کا دعویٰ کریں تو جب تک سب اقرار نہ کریں وہ وارث نہیں ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 318، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32151»
ترقیم دار السلفیہ: 319 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1496
نا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ , قَالَ: " مَنْ أَقَرَّ لِوَارِثٍ بِدَيْنٍ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَجُزْ" .
شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی موت کے وقت کسی وارث کے لئے قرض کا اقرار کرے تو یہ اقرار معتبر نہیں ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3300، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 319، 320، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11577، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21138، 21142»
ترقیم دار السلفیہ: 320 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1497
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ " أَنَّهُ كَانَ لا يُجِيزُ إِقْرَارَ الرَّجُلِ عِنْدَ مَوْتِهِ بِدَيْنٍ لِوَارِثٍ" .
شریح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ کسی وارث کے لئے موت کے وقت قرض کے اقرار کو قبول نہیں کرتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3300، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 319، 320، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11577، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21138، 21142»
ترقیم دار السلفیہ: 321 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1498
نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " إِذَا شَهِدَ شَاهِدَانِ أَوْ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِنَ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ عَلَى الْمَيِّتِ جَازَ عَلَى جَمِيعِ الْوَرَثَةِ" .
الشعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب میت پر دو گواہ یا ایک مرد اور دو عورتیں ورثاء میں سے قرض کی گواہی دیں تو یہ گواہی سب ورثاء پر لازم ہو گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث: «نفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 322 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1499
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ , قَالَ: قَالَ حَمَّادُ... إِبْرَاهِيمُ , فَقَالَ: " إِذَا شَهِدَ بَعْضُ الْوَرَثَةِ بِدَيْنٍ عَلَى الْمَيِّتِ فَفِي أَنْصِبَائِهِمْ، أَوْ يُتْبِعَانِ بِهِ سَائِرَ الْوَرَثَةِ" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر بعض ورثاء میت پر قرض کی گواہی دیں تو اپنی اپنی حصے میں ادا کریں یا دوسرے ورثاء پر بھی الزام لگائیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 3115، 3265، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 322، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19143، 19144، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31654، 31656»
ترقیم دار السلفیہ: 323 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1500
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَقَرَّ الرَّجُلُ لامْرَأَةٍ بِصَدَاقِهَا عِنْدَ مَوْتِهِ جَازَ لَهَا صَدَاقُ مِثْلِهَا" .
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنی بیوی کے حق مہر کا اپنی موت کے وقت اقرار کیا تو اسے عورت کے مثل حق مہر کے مطابق دینا لازم ہوگا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ وِلَايَةِ الْعَصَبَةِ/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث: «نفرد به المصنف من هذا الطريق»