🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

95. الشَّامُ صَفْوَةُ اللَّهِ مِنْ بِلَادِهِ
ملکِ شام اللہ کی زمین میں اس کا پسندیدہ اور برگزیدہ خطہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8765
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى اللَّخْمي بتِنِّيسَ، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن يونس بن مَيسَرة بن حَلبَس، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"إني رأيتُ كأنَّ عمودَ الكتاب انتُزِعَ من تحتِ وسادتي، فأَتبعْتُه بَصَري، فإذا هو نورٌ ساطعٌ عُمِدَ به إلى الشام، ألا وإنَّ الإيمان إذا وَقَعَت الفتنُ بالشام" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8554 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا جیسے میرے تکیے کے نیچے سے کتاب کا عمود نکال لیا گیا، میری نگاہیں اس کے تعاقب میں گئیں، وہ ایک چمکتا ہوا نور تھا، جو کہ شام تک پھیل گیا، خبردار، جب فتنے واقع ہوں گے، اس وقت ایمان شام میں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8765]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8766
أخبرني محمد بن عبد الله بن قُرَيش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، أخبرني أبو عائذٍ عُفَير بن مَعْدان، أنه سمع سُليمَ بن عامر الكَلَاعي يحدِّث عن أبي أُمامة الباهلي، أنَّ النبي ﷺ قال:"الشامُ صَفْوةُ الله من بلادِه، يَسُوقُ إليها صَفْوةَ عبادِه مَن خرج من الشام إلى غيرِها فبسَخْطةٍ، ومَن دخلها من غيرها فبِرَحْمة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8555 - كلا وعفير هالك
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شام، اللہ کے ملکوں میں سے چنا ہوا ہے اور اس کی جانب اس کے چنے ہوئے بندے آئیں گے۔ جو شخص شام سے کسی اور ملک کی طرف نکل جائے گا، وہ اس پر ناراض ہو گا، اور جو شخص کسی اور ملک سے آ کر اس میں داخل ہو جائے گا، وہ اس کی رحمت میں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8766]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8767
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بكر، أخبرني سعيد بن عبد العزيز، عن مكحول، أنه حدَّثه عن أبي إدريس الخَوْلاني، عن عبد الله بن حَوَالَة قال: قال رسول الله ﷺ:"ستُجنَّدون أجنادًا: جُندًا بالشام، وجُندًا بالعراق وجُندًا باليمن"قلت: يا رسول الله، اختَرْ لي، قال:"عليكم بالشامِ، فمن أَبى فليَلحَقْ بيَمنِه، ويَسْقِ من غُدُرِهِ، فَإِنَّ الله ﷿ تَكفَّلَ لي بالشامِ وأهلِه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8556 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تمہارے لشکر تیار ہوں گے، ایک لشکر شام میں ہو گا، ایک عراق میں، اور ایک یمن میں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے لئے کیا منتخب فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شام کو اختیار کرنا، جو اس تک نہ پہنچ سکے وہ یمن والے لشکر میں شامل ہو جائے۔ اور اس کے کنوؤں کا پانی پیئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے شام اور اہل شام کا ذمہ لیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوامامہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ میرے اوپر تین مقامات پر نبوت نازل کی گئی، مکہ، مدینہ اور شام۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8767]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8768
أخبرني (1) أبو بكر بن قُريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عُفير بن مَعْدان، عن سُليم بن عامر الكَلَاعي، عن أبي أُمامة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أُنزِلَت عليَّ النبوةُ في ثلاثةِ أمكنةٍ: بمكةَ، والمدينةِ، والشام" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
8768 - سیدنا ابو امامہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھ پر نبوت (وحی) تین مقامات پر نازل کی گئی: مکہ، مدینہ اور شام میں"۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8768]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8769
أخبرني أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح، حدثني أَبي، حدثنا بكر (3) بن مُضَر، عن عَمرو بن الحارث، عن جَميل بن عبد الرحمن الحَذَّاء، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اللهمَّ لا يُدرِكْني زمانُ - أو لا أُدركُ زمانَ - قومٍ لا يَتبعُون العلمَ، ولا يَستَحْيون من الحليم، قلوبُهم قلوبُ الأعاجم، وألسنتُهم ألسنةُ العرب" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8557 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی اے اللہ تو مجھے وہ زمانہ نہ دکھانا جس میں علم کی طلب نہ ہو، لوگ حلیم شخص سے حیاء نہیں کریں گے، ان کے دل عجمی ہوں گے، ان کی زبانیں عرب کی زبانوں جیسی ہوں گی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8769]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8770
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا موسى بن عُلَيّ بن رَبَاح قال: سمعت أَبي يقول: خرجتُ حاجًّا، فقال لي سليمان (1) بن عِتْر قاضي أهل مصر: أَبلِغْ أبا هريرة منِّي السلامَ، وأعلِمْه أني قد استغفرتُ الغَداةَ له ولأُمِّه، فلَقِيتُه فأبلغتُه، قال: وأنا قد استغفرتُ له، ثم قال: كيف تركتم أمَّ خَنُّور (2) ؟ يعني مصرَ، قال: فذكرتُ له من رَفَاغَتِها وعَيشِها، قال: أمَا إنها أولُ الأرض خَرابًا ثم إرمينِيَة، قلت: سمعتَ ذلك من رسول الله ﷺ؟ قال: لا، ولكن حدَّثَني عبدُ الله بن عمرو بن العاص قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنها تكون هجرةٌ بعد هجرةٍ لخيارِ الأرض إلى مُهاجَرِ إبراهيمَ، ويبقى في الأرض شِرارُ أهلِها، تَلفِظُهم أرَضُوهم وتَقذَرُهم نفسُ الله، قال: فتَحشرُهم النارُ مع القِرَدةِ والخنازير". وسمعت رسول الله ﷺ يقول:"يخرجُ ناسٌ من قِبَل المشرِق يَقرؤُون القرآن لا يجاوزُ تَراقِيَهم، كلَّما قُطِعَ قَرْنٌ نَشَأَ قرنٌ، حتى يخرجَ في بقيّتِهم الدَّجَّالُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد اتَّفقا جميعًا بأحاديث موسى بن عُليِّ بن رَبَاح اللَّخْمي (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8558 - على شرط البخاري ومسلم
علی بن رباح فرماتے ہیں: میں حج کے لئے نکلا، مصر کے قاضی سلیمان بن عنز نے مجھے کہا: ابوہریرہ کو میرا سلام کہنا، اور ان کو بتانا کہ میں نے کل ان کے لئے اور ان کی والدہ کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی، میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کو سلیمان بن عنز کا سلام پہنچایا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں نے بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کی تھی۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم نے ام حنو یعنی مصر کو کیسا چھوڑا؟ میں نے ان کو وہاں کے حالات اور بودوباش کے بارے میں بتایا، آپ نے فرمایا: وہ زمین سب سے پہلے برباد ہو گی، اس کے بعد ارمینیہ برباد ہو گا، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ لیکن مجھے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ہجرت کے بعد پھر ایک ہجرت ہو گی، روئے زمین کے تمام نیک لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی جائے ہجرت کی جانب ہجرت کر جائیں گے، اور زمین پر سب خبیث لوگ رہ جائیں گے، ان کی زمینیں ان کو پھینک دیں گی، اللہ تعالیٰ ان سے نفرت کرے گا، اور آگ ان کا حشر بندروں اور خنزیروں کے ہمراہ کرے گی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مشرق کی جانب سے کچھ لوگ پیدا ہوں گے، وہ قرآن کریم کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ایک صدی ختم ہو گی، تو اگلی شروع ہو جائے گی، (اور یہ لوگ ہر زمانے میں رہیں گے) حتی کہ ان کی باقیات میں دجال نکلے گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں کیا۔ تاہم ان دونوں نے موسیٰ بن علی بن رباح اللخمی کی روایت نقل کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8770]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8771
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، عن سالم، أنه سمع أبا هريرة يقول: يوشكُ أن يكون أقصى مَسالحِ المسلمين بسَلَاح. وسَلَاح قريبٌ من خيبرَ (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریب ہے کہ مسلمانوں کی سب سے دور کی سرحد مقام سلاح میں ہو گی اور سلاح خیبر کے قریب واقع ایک جگہ کا نام ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8771]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8772
حدَّثَناهُ علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا محمد بن إسحاق الإمامُ وجعفر بن أحمد الشاماتي، قالا: حدثنا أبو عُبيد الله (1) أحمد بن عبد الرحمن بن وَهْب، حدثنا عمِّي قال: حدثني جَرِير بن حازم، عن عُبيد الله بن عُمر، عن نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يوشكُ المسلمون أن يُحصَروا بالمدينة، حتى يكونَ أبعدَ مَسالحهم سَلَاح" (2) . حديث ابن وهب عن جَرير صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ في كتابه ﵀ بأبي عبيد الله ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8560 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قریب ہے کہ لوگ مدینہ میں محصور کر دیئے جائیں، اور ان کی سب سے دور کی سرحد مقام سلاح میں ہو گی۔ ٭٭ ابن وہب نے جریر سے جو حدیث روایت کی ہے وہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں ابوعبداللہ کی روایت نقل کی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8772]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں