🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ إِذَا صَلَّى عَلَيْهِ
باب: جنازہ پڑھاتے ہوئے امام میت کے مقابل کہاں کھڑا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3194
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ، قَالُوا: جَنَازَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَتَبِعْتُهَا، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ عَلَيْهِ كِسَاءٌ رَقِيقٌ عَلَى بُرَيْذِينَتِهِ، وَعَلَى رَأْسِهِ خِرْقَةٌ تَقِيهِ مِنَ الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا الدِّهْقَانُ؟ قَالُوا: هَذَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ، قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَأَنَا خَلْفَهُ، لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، لَمْ يُطِلْ، وَلَمْ يُسْرِعْ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ، فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي عَلَى الْجَنَازَةِ كَصَلَاتِكَ: يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ، وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَهُ حُنَيْنًا، فَخَرَجَ الْمُشْرِكُونَ، فَحَمَلُوا عَلَيْنَا حَتَّى رَأَيْنَا خَيْلَنَا وَرَاءَ ظُهُورِنَا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يَحْمِلُ عَلَيْنَا، فَيَدُقُّنَا، وَيَحْطِمُنَا، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، وَجَعَلَ يُجَاءُ بِهِمْ، فَيُبَايِعُونَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَلَيَّ نَذْرًا، إِنْ جَاءَ اللَّهُ بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ مُنْذُ الْيَوْمَ يَحْطِمُنَا، لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهُ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِيءَ بِالرَّجُلِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَايِعُهُ، لِيَفِيَ الْآخَرُ بِنَذْرِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَتَصَدَّى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَأْمُرَهُ بِقَتْلِهِ، وَجَعَلَ يَهَابُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتُلَهُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا، بَايَعَهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَذْرِي، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُمْسِكْ عَنْهُ مُنْذُ الْيَوْمَ، إِلَّا لِتُوفِيَ بِنَذْرِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ، قَالَ أَبُو غَالِبٍ: فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ، فَكَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، نَسَخَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ: الْوَفَاءَ بِالنَّذْرِ فِي قَتْلِهِ، بِقَوْلِهِ: إِنِّي قَدْ تُبْتُ.
نافع ابوغالب کہتے ہیں کہ میں سکۃ المربد (ایک جگہ کا نام ہے) میں تھا اتنے میں ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے، لوگوں نے بتایا کہ یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے، یہ سن کر میں بھی جنازہ کے ساتھ ہو لیا، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ باریک شال اوڑھے ہوئے چھوٹی گھوڑی پر سوار ہے، دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ایک کپڑے کا ٹکڑا ڈالے ہوئے ہے، میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ چودھری صاحب کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ ہیں، پھر جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، چار تکبیریں کہیں (اور تکبیریں کہنے میں) نہ بہت دیر لگائی اور نہ بہت جلدی کی، پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: ابوحمزہ! (انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ انصاری عورت کا بھی جنازہ ہے (اس کی بھی نماز پڑھا دیجئیے) یہ کہہ کر اسے قریب لائے، وہ ایک سبز تابوت میں تھی، وہ اس کے کولہے کے سامنے کھڑے ہوئے، اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی نماز مرد کی پڑھی تھی، پھر اس کے بعد بیٹھے، تو علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جنازے کی نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح آپ نے پڑھی ہے؟ چار تکبیریں کہتے تھے، مرد کے سر کے سامنے اور عورت کے کولھے کے سامنے کھڑے ہوتے تھے، انہوں نے کہا: ہاں۔ علاء بن زیاد نے (پھر) کہا: ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں جنگ حنین ۲؎ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، مشرکین نکلے انہوں نے ہم پر حملہ کیا یہاں تک کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا ۳؎ اور قوم (کافروں) میں ایک حملہ آور شخص تھا جو ہمیں مار کاٹ رہا تھا (پھر جنگ کا رخ پلٹا) اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی اور انہیں (اسلام کی چوکھٹ پر) لانا شروع کر دیا، وہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ اس شخص کو لایا جو اس دن ہمیں مار کاٹ رہا تھا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہے، پھر وہ (قیدی) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! میں نے اللہ سے توبہ کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کرنے میں توقف کیا تاکہ دوسرا بندہ (یعنی نذر ماننے والا صحابی) اپنی نذر پوری کر لے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیعت لینے سے پہلے ہی اس کی گردن اڑا دے) لیکن وہ شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا کہ آپ اسے اس کے قتل کا حکم فرمائیں اور ڈر رہا تھا کہ ایسا نہ ہو میں اسے قتل کر ڈالوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفا ہوں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ کچھ نہیں کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت کر لی، تب اس صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نذر تو رہ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جو اب تک رکا رہا اور اس سے بیعت نہیں کی تھی تو اسی وجہ سے کہ اس دوران تم اپنی نذر پوری کر لو، اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمیں اس کا اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ رمز سے اشارہ کرے۔ ابوغالب کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عورت کے کولہے کے سامنے کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھا کہ (وہ وہاں کیوں کھڑے ہوئے) تو لوگوں نے بتایا کہ پہلے تابوت نہ ہوتا تھا تو امام عورت کے کولہے کے پاس کھڑا ہوتا تھا تاکہ مقتدیوں سے اس کی نعش چھپی رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله» سے اس کے قتل کی نذر پوری کرنے کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ اس نے آ کر یہ کہا تھا کہ میں نے توبہ کر لی ہے، اور اسلام لے آیا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3194]
سیدنا نافع ابو غالب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں (بصرہ میں) مربد محلہ کی ایک گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے۔ لوگوں نے کہا: یہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ہے تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا۔ میں نے ایک آدمی دیکھا جو ایک باریک سی اونی چادر اوڑھے ہوئے اپنے چھوٹے سے گھوڑے پر سوار تھا، دھوپ سے بچاؤ کے لیے اس نے اپنے سر پر کپڑا رکھا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ محترم بزرگ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ (صحابیِ رسول) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ جب میت کو رکھا گیا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اس کا جنازہ پڑھایا، میں ان کے پیچھے تھا میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ تھی۔ آپ اس میت کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے اور چار تکبیریں کہیں۔ آپ نے نماز میں طوالت کی، نہ جلدی۔ پھر بیٹھنے لگے تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) یہ ایک انصاری خاتون (کا جنازہ) ہے اور وہ اسے قریب لائے اور میت کے اوپر سبز رنگ کا پردہ تھا۔ (تابوت یعنی رکاوٹ جو عورت کی نعش پر رکھی جاتی ہے) تو آپ اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے اور جنازہ پڑھایا جیسے کہ مرد کا پڑھایا تھا پھر آپ بیٹھ گئے۔ تو علاء بن زیاد نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی جنازہ پڑھایا کرتے تھے جیسے کہ آپ نے پڑھایا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے لیے اس کے سر کے سامنے اور عورت کے لیے اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر اس نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں بھی شریک رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا کہ مشرکین نکلے اور ہم پر حملہ کر دیا حتیٰ کہ ہم نے اپنے گھوڑوں کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے دیکھا (ہم پسپا ہو گئے) اور ان مشرکین میں ایک آدمی تھا جو ہمیں کچلے جا رہا تھا اور اس نے ہمیں توڑ کے رکھ دیا تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اور پھر ان لوگوں کو لایا گیا اور وہ اسلام پر بیعت کرنے لگے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا تھا: مجھ پر یہ نذر ہے کہ اگر اللہ اس آدمی کو لے آیا جو آج ہمیں کچلتا رہا ہے تو میں بالضرور اس کی گردن اڑاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (یہ سن کر) خاموش رہے اور اس آدمی کو لایا گیا۔ جب اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہے اور اس سے بیعت نہیں لی تاکہ وہ صحابی اپنی نذر پوری کر لے۔ راوی کہتا ہے: اور وہ صحابی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس شخص کو قتل کر دینے کا حکم ارشاد فرمائیں جبکہ وہ اپنے طور پر اس کو قتل کر دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہیبت محسوس کر رہا تھا۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحابی کچھ نہیں کر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے لی۔ پھر اس صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری نذر (کا کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اسی لیے رکا رہا کہ تو اپنی نذر پوری کر لے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو لائق نہیں کہ آنکھ سے اشارہ کرے۔ ابو غالب کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے متعلق دریافت کیا جو وہ عورت کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔ تو لوگوں نے کہا کہ (پہلے) یہ اس لیے ہوتا تھا کہ میت پر تابوت نہیں رکھا جاتا تھا تو امام عورت کی کمر کے مقابل کھڑا ہو جاتا تھا تاکہ اس کے لیے قوم سے پردہ بن جائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ مجھے لوگوں کے ساتھ قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کہہ دیں۔ اس حدیث کی روشنی میں منسوخ ہے جس میں کہ قتل کی نذر پوری کر دینے کا بیان آیا ہے، حالانکہ اس شخص نے کہہ دیا تھا کہ میں توبہ کرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 45 (1034)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 21 (1494)، (تحفة الأشراف: 1621)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 151، 204) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مگر قال ابو غالب سے اخیر تک کا جملہ صحیح نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: جنہوں نے دس برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، ۹۲ ہجری یا ۹۳ ہجری میں انتقال ہوا۔
۲؎: غزوہ حنین ۹ ہجری میں ہوا، حنین ایک جگہ کا نام ہے جو طائف کے نواح میں واقع ہے۔
۳؎: یعنی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله فحدثوني أنه إنما فإنه مجرد رأي عن مجهولين
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1679)
أخرجه الترمذي (1034 وسنده حسن) وابن ماجه (1034 وسنده حسن) وقول نافع أبي غالب: ’’فسألت عن صنيع أنس … إلخ‘‘ ضعيف لجھالة المحدثين له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3195
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں مر گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3195]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ایک عورت کا جنازہ پڑھا جو کہ ایامِ نفاس میں فوت ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے درمیان کے مقابل کھڑے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 29 (332)، والجنائز 62 (1331)، 63 (1332)، صحیح مسلم/الجنائز 27 (964)، سنن الترمذی/الجنائز 45 (1035)، سنن النسائی/الحیض والاستحاضة 25 (393)، الجنائز 73 (1978)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 21 (1493)، (تحفة الأشراف: 4625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 19) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1331) صحيح مسلم (964)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں