سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
باب: بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
حدیث نمبر: 3471
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ , فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3471]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2210)، (تحفة الأشراف: 16987)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5725)، وبدء الخلق 10 (3263)، سنن الترمذی/الطب 25 (2074)، مسند احمد (6/50) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خود حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہاں وہ بخار مراد ہے جو گرمی سے ہو، کیونکہ پانی سے وہی ٹھنڈا ہو گا،اور جو بخار سردی سے ہو گا اس میں تو آگ سے گرم کرنا مفید ہو گا، اور بخار جہنم کی آگ سے ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ گرمی اور سردی دونوں جہنم کی سانس سے ہوتی ہیں، گرمی تو اس حصہ جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہیں جو گرم انگار ہے، اور سردی اس حصے کی بھاپ سے ہے جو زمہریر ہے، اور بخار ہمیشہ یا گرمی کی وجہ سے ہوتا ہے یا سردی سے پس یہ کہنا بالکل صحیح ہوا کہ بخار جہنم کی بھاپ سے ہے کیونکہ سبب کا ایک سبب ہوتا ہے، اور علت کی علت خود علت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3472
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ , فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3472]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے (ایک قسم) ہے، لہٰذا اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2209)، (تحفة الأشراف: 7954)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5723)، بدء الخلق 10 (3264)، موطا امام مالک/العین 6 (16) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3473
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ" , فَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ , فَقَالَ:" اكْشِفِ الْبَاسَ , رَبَّ النَّاسِ , إِلَهَ النَّاسِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بخار جہنم کی بھاپ ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے (وہ بیمار تھا) اور یوں دعا فرمائی: «اكشف الباس رب الناس إله الناس» ”لوگوں کے رب، لوگوں کے معبود! (اے اللہ) تو اس بیماری کو دور فرما“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3473]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا: ”بخار جہنم کی بھاپ سے ہے، لہٰذا اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمار کے ایک بیٹے کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: «اِكْشِفِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، اِلٰهَ النَّاسِ» ”تکلیف دور کر دے، اے لوگوں کے مالک! اے لوگوں کے معبود!“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ بدء الخلق 10 (3262)، صحیح مسلم/السلام 26 (2212)، سنن الترمذی/الطب 25 (2073)، (تحفة الأشراف: 3562)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 4/141)، سنن الدارمی/الرقاق 55 (2811) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3474
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ , فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا , وَتَقُولُ: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ" , وَقَالَ" إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”یہ جہنم کی بھاپ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3474]
حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کسی بخار والی عورت کو ان کے پاس لایا جاتا تو وہ پانی طلب فرماتیں اور اسے اس (مریض عورت) کے گریبان میں ڈال دیتیں، اور فرماتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے پانی کے ذریعے سے ٹھنڈا کرو“ اور فرمایا ہے: ”یہ بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے-“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 28 (5724)، صحیح مسلم/السلام 26 (2211)، سنن الترمذی/الطب 25 (2074)، (تحفة الأشراف: 15744) وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 6 (15)، مسند احمد (6/346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3475
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ , فَنَحُّوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3475]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی ایک دھونکنی ہے۔ اسے ٹھنڈے پانی کے ذریعے سے دور ہٹاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12261، ومصباح الزجاجة: 1210) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن