سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: بَدْءُ الْحِيضِ وَهَلْ يُسَمَّى الْحِيضُ نِفَاسًا
باب: حیض کی شروعات کا بیان اور کیا حیض کو نفاس کہہ سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 349
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ؟ أَنَفِسْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎، اب تم وہ سارے کام کرو، جو حاجی کرتا ہے، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 349]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ”ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہم صرف حج ہی کی نیت رکھتے تھے۔ جب ہم سرف مقام میں پہنچے تو مجھے حیض شروع ہو گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھیں کیا ہوا؟ حیض شروع ہو گیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ تم وہی کرو جو حاجی کریں مگر طواف نہ کرنا۔““ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 291 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آدم زادیوں میں حواء بھی داخل ہیں اس لیے کہ آدم زاویوں سے عورتوں کی نوع مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح