سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: بَسْطِ الْحَائِضِ الْخُمْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ
باب: حائضہ کے مسجد میں چٹائی بچھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِ إِحْدَانَا فَيَتْلُو الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ، وَتَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ فَتَبْسُطُهَا وَهِيَ حَائِضٌ".
المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کی گود میں اپنا سر رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتے وہ حائضہ ہوتی، اور ہم میں سے کوئی آپ کی چٹائی لے کر مسجد جاتی، اور اس کو بچھا دیتی ۱؎ وہ حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 385]
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک ہم میں سے کسی کی گود میں رکھ کر قرآن مجید تلاوت فرماتے تھے، حالانکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اسی طرح ہم میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چٹائی لے جا کر مسجد میں بچھاتی تھی، حالانکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 274 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بغیر مسجد میں داخل ہوئے اور یہ ممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن