🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. قَوْلُهُ تَعَالَى: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لا يَقُومُونَ إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لا يَقُومُونَ إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 451 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 451
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: " لَمَّا نَزَلَتِ الآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورہ البقرہ کے آخر میں سود کے بارے میں آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور شراب کی تجارت سے منع فرما دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 459، 2084، 2226، 4540، 4541، 4542، 4543، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1580، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4943، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4679، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6216، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3490، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3382، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24830، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22037، 22038»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح على شرط الشيخين وقد أخرجاه كما سيأتي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 452 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 452
نَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: نَا مُغِيرَةُ , قَالَ: حَدَّثَنِي الشعبي , عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ، فَيَقُولُ: أَثَمَّ فُلانٌ، إِنْ كُنْتَ مُوسِرًا فَأَدِّهْ، وَإِنْ كُنْتَ مُعْسِرًا فَإِلَى مَيْسَرَةٍ. فَقُلْتُ ذَلِكَ لإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ:" إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الرِّبَا" .
ربیع بن خثیم رحمہ اللہ کا کسی شخص پر قرض تھا، تو وہ کہا کرتے: ”فلاں شخص گناہگار ہے، اگر تو صاحبِ استطاعت ہے تو قرض ادا کر، اور اگر تنگدست ہے تو آسانی کے وقت تک مؤخر کر۔“ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے کہی تو انہوں نے فرمایا: ”یہ مہلت دینا سود کے بارے میں ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 453 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 453
نَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: نَا يُونُسُ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي حَقٍّ كَانَ لأَحَدِهِمَا قَبْلَ الآخَرِ، فَقَضَى عَلَيْهِ شُرَيْحٌ، وَأَمَرَ بِحَبْسِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: إِنَّهُ مُعْسِرٌ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ سورة البقرة آية 280، قَالَ:" ذَلِكَ فِي الرِّبَا، وَاللَّهُ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا سورة النساء آية 58" .
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک معاملے میں شریح قاضی رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ لے کر گئے، ان میں سے ایک کا دوسرے پر حق تھا۔ شریح نے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا اور دوسرے شخص کو قید کرنے کا حکم دیا۔ وہاں موجود ایک شخص نے کہا: ”یہ تو تنگدست ہے، اور اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ﴾ ’اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے مہلت دو یہاں تک کہ آسانی حاصل ہو‘۔“ شریح رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”یہ آیت سود کے معاملے میں ہے، اور اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ ’بےشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالے کرو‘۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 453]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 453، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 15309، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 21318»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 454 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 454
نَا نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ سورة البقرة آية 280، قَالَ:" ذَلِكَ فِي الرِّبَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ﴾ ”اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے مہلت دو یہاں تک کہ آسانی حاصل ہو“ کے بارے میں فرمایا: ”یہ آیت سود کے معاملے میں نازل ہوئی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد كما في ترجمته في الحديث [١٨]
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 455 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 455
نا نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , أَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ سورة البقرة آية 282 , فَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى، لا تَجُوزُ" .
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا اور بچوں کی گواہی کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے جواب میں لکھا: ”اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ یعنی ’ان میں سے جن کی گواہی تم پسند کرو‘، بچے ان میں سے نہیں جن کی گواہی کو ہم معتبر سمجھیں، اس لیے ان کی گواہی جائز نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 3149، 7142، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3337، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 455، 1717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20676، 20677، 20678، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2196، وأخرجه عبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 15494، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 18236، 21212، 21433، 21440، 31505»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 456 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 456
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: " وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة البقرة آية 282، قَالَ: مِنَ الأَحْرَارِ" .
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”اس سے مراد آزاد مرد ہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 456، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20674، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 20661»

الحكم على الحديث:
سنده حسن، وهو صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 457 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 457
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا ، عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الأَمَةِ، فَقَالَ: " لَيْسَ بِشَيْءٍ"، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ سورة المجادلة آية 3، أَفَلَسْنَ مِنَ النِّسَاءِ؟، فَقَالَ:" وَاللَّهُ يَقُولُ: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ سورة البقرة آية 282، أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ؟" .
مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو کیا حکم ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ ظہار کچھ بھی نہیں۔“ پوچھا گیا: ”کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ ’اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں‘، تو کیا وہ لونڈیاں عورتوں میں شامل نہیں؟“ اس پر مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے یہ بھی فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ’اور اپنے لوگوں میں سے دو مرد گواہ بنا لو‘، تو کیا غلاموں کی گواہی جائز ہے؟“ یعنی جیسے گواہی کے معاملے میں مردوں کی قید لگائی گئی اور غلام اس میں شامل نہیں، اسی طرح ”بیویوں“ کے حکم میں بھی آزاد عورتیں مراد ہیں، لونڈیاں نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 457، 1853، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20675»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح، وله طريق آخر صحيح عن مجاهد، وهو الحديث السابق.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 458 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 458
نَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ قَوْلِهِ: وَلا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا سورة البقرة آية 282، قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا، أَوْ بَعْدَ مَا اسْتُشْهِدُوا؟، قَالَ:" لا، بَلْ بَعْدَ مَا شَهِدُوا" .
محمد بن ثابت العبدی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا، اور میں وہاں موجود تھا۔ اس نے دریافت کیا: اللہ عزوجل کے فرمان ﴿وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا﴾ ”اور گواہ انکار نہ کریں جب بلائے جائیں“ کا مطلب کیا ہے؟ کیا یہ اس سے پہلے کا حکم ہے کہ انہیں گواہی کے لیے بلایا جائے، یا جب وہ پہلے ہی گواہی دے چکے ہوں؟ عطاء رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”نہیں، بلکہ جب وہ گواہی دے چکے ہوں، اس کے بعد انکار نہیں کرنا چاہیے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 458، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 22815»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لضعف محمد بن ثابت.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 459 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 459
نَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً , يَقُولُ: " فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ" .
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ اقامتِ شہادت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب گواہ گواہی دے چکے ہوں، تو اس کے بعد انہیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لضعف أبي عامر من قبل حفظه، وهو حسن لغيره كما سيأتي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 460 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 460
نَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: نَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ , قَالَ: " فِي إِقَامَةِ الشَّهَادَةِ" .
عکرمہ رحمہ اللہ اقامتِ شہادت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب گواہ گواہی دے چکے ہوں، تو اس کے بعد انہیں انکار نہیں کرنا چاہیے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 460]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث:
سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں