سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
146. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ وَعِنْدَهُ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، أَوْ أُخْتَانِ
باب: اس شخص کے بارے میں بیان جس نے اسلام قبول کیا اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں یا دو بہنیں ہوں۔
ترقیم دار السلفیہ: 1865 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3042
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا الْكَلْبِيُّ ، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْذَلِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَسْلَمْتُ وَأَسْلَمْنَ مَعِي، هَاجَرْتُ وَهَاجَرْنَ مَعِي، قَالَ:" فَاخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا" ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِلَّتِي أُرِيدُ إِمْسَاكَهَا: أَقْبِلِي، وَلِلَّتِي أُرِيدُ فِرَاقَهَا: أَدْبِرِي، فَتَقُولُ: أَنْشُدُكَ الرَّحِمَ، أَنْشُدُكَ الْوَلَدَ. قَالَ الْكَلْبِيُّ: وَثنا أَبُو صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ..
الحارث بن قیس نے کہا: ”میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں مسلمان ہوا اور میرے ساتھ سب نے ہجرت بھی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کو اختیار کرو۔“ میں جسے رکھنا چاہتا اسے کہتا: ”آؤ۔“ اور جسے چھوڑنا چاہتا اسے کہتا: ”پیچھے ہٹو۔“ وہ کہتیں: ”میں تمہیں رحم اور اولاد کا واسطہ دیتی ہوں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث: «منكر السند ضعيف جدًا، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1865، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5257»
وضاحت: وضاحت: سند میں کلبی کی وجہ سے روایت شدید ضعیف بلکہ مردود ہے۔ حمیدة بھی مجہول ہے۔ روایت میں واقعاتی تفصیل ہے جو دیگر صحیح روایات سے موافق نہیں، جیسے "اقبلی" و "ادبری" کہنا۔
الحكم على الحديث:
منكر السند ضعيف جدًا
ترقیم دار السلفیہ: 1866 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3043
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ قَالَ:" يَخْتَارُ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا" .
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: ”چار عورتوں کو اختیار کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1866، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12621، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17468، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5261»
ترقیم دار السلفیہ: 1867 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3044
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" يَخْتَارُ الأَرْبَعَةَ الأُوَلَ، وَيُفَارِقُ الأَوَاخِرَ ".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پہلی چار کو رکھے اور باقی کو چھوڑ دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1867، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12622، 12628»
ترقیم دار السلفیہ: 1868 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3045
نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ،" فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا" .
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک شخص مسلمان ہوا، اس کے پاس دس عورتیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے چار کو اختیار کرو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 2179، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4156، 4157، 4158، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2795، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1128، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1953، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1868، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3684، 3685،وأحمد فى «مسنده» برقم: 4699، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17467، 37439، وأبو داود فى "المراسيل"، 234»
قال أبو زرعة الرازي: مرسل أصح، علل الحديث: (3 / 706)
قال أبو زرعة الرازي: مرسل أصح، علل الحديث: (3 / 706)
الحكم على الحديث:
مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 1869 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3046
نا نا هُشَيْمٌ، أنا عَوْفٌ، قَالَ: نا شَيْخٌ فِي مَجْلِسِ الأَشْيَاخِ أَنَّ رَجُلا مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ جَمَعَ بَيْنَ أُخْتَيْنِ، ثُمَّ أَسْلَمَ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" اخْتَرْ إِحْدَاهُمَا" ، قَالَ عَوْفٌ: فَذَكَرْتُ لِنَاسٍ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَعَرَفُوا الرَّجُلَ، وَقَالُوا: هَذَاكَ هَنَّامٌ الْبَكْرِيُّ رَجُلٌ مِنَّا، وَإِنَّ فِيهِ جَفَاءً، وَكَانَ يَقُولُ لِلَّتِي فَارَقَ: أَمَا إِنَّكِ امْرَأَتِي، وَلَكِنْ غَلَبَنِي عَلَيْكِ عُمَرُ.
ایک شخص بکر بن وائل سے تھا جس نے دو بہنوں کو جمع کر رکھا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان میں سے ایک کو اختیار کرو۔“ اس کا نام ہنام بکری بتایا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3046]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1869، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17464»
وضاحت: وضاحت: شیخٌ فی مجلس الأشياخ – مجہول۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 1870 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3047
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، وَأنا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " كُلُّ يَمِينٍ مَنَعَتْ جِمَاعًا فَهِيَ إِيلاءٌ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہر وہ قسم جو ازدواجی تعلق سے روکے، وہ ایلاء شمار ہو گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1870، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11612، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18960»
147. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِيلَاءِ
باب: ایلاء (بیوی سے جماع نہ کرنے کی قسم کھانا) کے بارے میں وارد احادیث
ترقیم دار السلفیہ: 1871 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3048
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَشْعَثُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ أَيْضًا.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہر قسم جو مجامعت سے روکے ایلاء ہے۔“ حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1871، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11612، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18959»
ترقیم دار السلفیہ: 1872 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3049
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ رَفَعَ امْرَأَتَهُ إِلَى قَوْمٍ فَظَاءَرَتْ لَهُمْ فَاسْتَحْلَفُوا زَوْجَهَا، فَقَالُوا: امْرَأَتُكَ طَالِقٌ إِنْ وَطِئْتَهَا حَتَّى تَفْطِمَ صَبِيَّنَا، أَفَلَيْسَ إِنْ تَرَكَهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ بَانَتْ بِالإِيلاءِ، وَإِنْ قَرَبَهَا قَبْلَ أَنْ تَفْطِمَ الصَّبِيَّ فَهِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا؟ قَالَ:" نَعَمْ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر شوہر کو کہا جائے کہ جب تک بچے کو دودھ نہ چھڑاؤ بیوی سے قربت نہ کرو، اگر چار مہینے چھوڑ دے تو ایلاء کے ذریعے جدائی ہو گی، اگر پہلے قربت کرے تو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3049]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1872، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11633»
ترقیم دار السلفیہ: 1873 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3050
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سُمِعَ يَقُولَ ذَلِكَ.
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے بھی یہی مسئلہ بیان کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 1874 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3051
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الأَسَدِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَخِيهِ، وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَ أَخِيهِ، فَقَالَ: هِيَ طَالِقٌ إِنْ قَرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ:" إِنَّمَا أَرَدْتَ لَكَ وَلابْنِ أَخِيكَ فَلا إِيلاءَ عَلَيْكَ، إِنَّمَا الإِيلاءُ مَا كَانَ فِي الْغَضَبِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: بھائی کی بیوی سے نکاح کیا جبکہ وہ اس کے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”تم پر کوئی ایلاء نہیں، ایلاء تو صرف غضب کے وقت ہوتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3051]
تخریج الحدیث: «حسنٌ لذاته، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1874، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15339، 15340، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11632، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18947، 18948»
وضاحت: وضاحت: أبو عطية الأسدي کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت نہیں ملتی، اس لیے یہ اثر مرسل تابعی ہے، البتہ مرسل اثرِ صحابی فقہی استدلال میں معتبر ہوتا ہے، خاص طور پر جب مضمون میں نکارت یا شذوذ نہ ہو، اور تائید دیگر مصادر سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی:
اصل نیت کا اعتبار کیا:
اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فتوٰی:
اصل نیت کا اعتبار کیا:
اگر شوہر نے بیوی سے اصلاحی مقصد سے علیحدگی اختیار کی (مثلاً: بچہ دودھ چھوڑ دے)،تو یہ إيلاء شمار نہیں ہو گا۔
ایلاء وہ ہے جو جھگڑے، غضب، یا عداوت کے جذبے سے ہو۔
الحكم على الحديث:
حسنٌ لذاته