صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
107. باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر الإخبار بأن الشديد الذي غلب نفسه عند الشهوات والوساوس لا من غلب الناس بلسانه
فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ قوی وہ ہے جو شہوات اور وسوسوں کے وقت اپنے نفس پر غلبہ پائے، نہ کہ وہ جو اپنی زبان سے لوگوں پر غلبہ پائے
حدیث نمبر: 717
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الشَّدِيدُ مَنْ غَلَبَ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ مَنْ غَلَبَ نَفْسَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”طاقتور وہ نہیں ہوتا جو غالب آ جائے، طاقتور وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 717]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6114، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2609، 2609، 2609، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 717، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10154، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21147، 21188، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7339» «رقم طبعة با وزير 715»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (997): ق نحوه أتم منه. تنبيه!! ما بين المعقوفين [النَّاس] زيادة من «طبعة باوزير» - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. هَنَّاد من جاله، ومن فوقه على شرطهما. أبو الأحوص: هو سلام بن سليم.
108. باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الاحتراز من النار مجانبة الشهوات في الدنيا
فقر، زہد اور قناعت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ دنیا میں شہوات سے اجتناب کر کے جہنم سے بچے
حدیث نمبر: 718
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنم کو پسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 718]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 716، 718، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2559، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2885، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12754، 13878، 14246، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3275، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 1311، والبزار فى (مسنده) برقم: 6823، 6985» «رقم طبعة با وزير 716»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر رقم (714). تنبيه!! رقم (714) = (716) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو نصر التمار: هو عبد الملك بن عبد العزيز القشيري.
109. باب الفقر والزهد والقناعة - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
فقر، زہد اور قناعت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 719
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جہنم کو پسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 719]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2823، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 719، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7646، 9066، والبزار فى (مسنده) برقم: 3203» «رقم طبعة با وزير 717»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان. والأعرج: هو عبد الرحمن بن هرمز.
110. باب الورع والتوكل - ذكر الخبر الدال على أن للمرء استعمال التورع في أسبابه دون التعلق بالتأويل وإن كان له ذلك
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کو اپنے اسباب میں ورع کا استعمال کرنا چاہیے، تأویل پر انحصار کیے بغیر، اگرچہ اسے یہ اختیار ہو
حدیث نمبر: 720
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا، فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةَ ذَهَبٍ، فقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ أَرْضًا وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ ذَهَبًا، وَقَالَ الَّذِي بَاعَ الأَرْضَ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا، قَالَ: فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ: أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ فقَالَ أَحَدُهُمَا: غُلامٌ، وقَالَ الآخَرُ: جَارِيَةٌ، فقَالَ: أَنْكِحُوا الْغُلامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا، وَتَصَدَّقَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک زمین خریدی، اس نے جو زمین خریدی تھی اس زمین میں سونے کا ایک مٹکا پایا، تو اس نے اس شخص سے، جس سے زمین خریدی تھی، کہا: تم اپنا یہ سونا مجھ سے لے لو، میں نے تم سے زمین خریدی تھی، میں نے تم سے سونا نہیں خریدا تھا۔ جس شخص نے زمین فروخت کی تھی اس نے کہا: میں نے تمہیں زمین اور اس میں موجود ساری چیزیں فروخت کر دی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان دونوں نے ایک تیسرے شخص کو اپنا ثالث مقرر کیا، تو جس شخص کو ثالث مقرر کیا گیا تھا اس نے دریافت کیا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا بیٹا ہے، دوسرے نے کہا: میری بیٹی ہے۔ اس شخص نے کہا: تم اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ کر دو اور اس (دولت) کو اپنے اوپر بھی خرچ کرو اور صدقہ بھی کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 720]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3472، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1721، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 720، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2511، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8308، والبزار فى (مسنده) برقم: 9511» «رقم طبعة با وزير 718»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحاديث البيوع»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السري متابع، ومن فوقه من رجال الشيخين.
111. باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار عن وصف حالة من يتورع عن الشبهات في الدنيا
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ دنیا میں شہوات سے بچنے والے کی حالت کیسی ہوتی ہے
حدیث نمبر: 721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحَلالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيَّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ" وَرُبَّمَا قَالَ: مُتَشَابِهَةٌ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلا: إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمَهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا، قَالَ: مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ، وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ، يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں۔ بیشک اللہ کی چراگاہ ہی چراگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں، تو جو شخص چراگاہ کے ارد گرد جانور چرانے کی کوشش کرتا ہے، تو ہو سکتا ہے وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائیں (بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ استعمال کیے) جو شخص چراگاہ کے ارد گرد جانور چراتا ہے، تو آگے جا کر وہ چراگاہ کے اندر چرنے لگ پڑتے ہیں، تو جو شخص مشکوک چیزوں کے ساتھ ملاپ اختیار کرتا ہے وہ آگے چل کر اسے عبور بھی کر لیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 721]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 52، 2051، 6011، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1599، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 233، 297، 721، 5569، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4465، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3329، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1205، 1205 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2573، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3984، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18638» «رقم طبعة با وزير 719»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (20): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. ابن عون: هو عبد الله بن عون بن أرطبان، والشعبي: هو عامر بن شراحيل.
112. باب الورع والتوكل - ذكر الزجر عما يريب المرء من أسباب هذه الدنيا الفانية الزائلة
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس چیز سے متعلق ہو جو اس فانی اور زائل دنیا کے اسباب میں شک پیدا کرتی ہو
حدیث نمبر: 722
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ، قَالَ:، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لا يُرِيبُكَ"، قَالَ:" الْخَيْرُ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّرُّ رِيبَةٌ" . وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِي، فَأَخَذَهَا بِلُعَابِهَا حَتَّى أَعَادَهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ مِنْ هَذَا الصَّبِيِّ؟ فقَالَ: " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لا يَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ" . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: " اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنَا فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ" .
ابوحوراء سعدی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر یاد رکھی ہو، وہ کسی اور نے آپ کو نہ سنائی ہو، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ» ”تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس چیز کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہیں کرتی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: «فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ وَإِنَّ الشَّرَّ رِيبَةٌ» ”بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور برائی مشکوک ہوتی ہے۔“ (سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بتایا) ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقے کی کچھ کھجوریں پیش کی گئیں میں نے ان میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھجور کو پکڑا اس کا لعاب لیا اور واپس اس کھجور میں ڈال دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! اس بچے نے جو کھجور لی تھی اس کے حوالے سے آپ کو تو کوئی نقصان نہیں ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ» ”ہمارے، آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔“ (سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہما نے یہ بات بھی بتائی) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی ہدایت پر ثابت قدم رکھ! جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی عافیت عطا کر، جن کا تو نگران بنا ہے ان میں سے ہمارا بھی نگران بن، ہمیں تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ان میں ہمارے لیے برکت رکھ دے اور جو تو نے فیصلہ کیا ہے، اس کے شر سے ہمیں بچا لے۔ بیشک تو فیصلہ دیتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جا سکتا، جس کا تو نگران ہو، وہ رسوا نہیں ہو سکتا، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 300، 301، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1095، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 722، 945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2180، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم:، 1745، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1425، والترمذي فى (جامعه) برقم: 464، 2518، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1178،والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3189،وأحمد فى (مسنده) برقم: 1740، 1743» «رقم طبعة با وزير 720»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2074)، «المشكاة» (2773). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، مؤمل بن إسماعيل وإن كان سيِّئ الحفظ فقد تابعه غير واحد، وباقي رجاله ثقات. أبو الحوراء: هو ربيعة بن شيبان.
113. باب الورع والتوكل - ذكر الخبر الدال على أن على المرء أن لا يعتاض عن أسباب الآخرة بشيء من حطام هذه الدنيا الفانية الزائلة عند حدوث حالة به
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کو آخرت کے اسباب کے بدلے اس فانی دنیا کے حطام سے کچھ نہ لینا چاہیے جب کوئی حالت پیش آئے
حدیث نمبر: 723
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ، فقَالَ لَهُ:" ائْتِنَا"، فَأَتَاهُ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ حَاجَتَكَ"، قَالَ: نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا، وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ:" إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ، ضَلُّوا الطَّرِيقَ، فقَالَ: مَا هَذَا؟ فقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ: إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ، لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا، قَالَ: فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ؟ قَالَ: عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ، فقَالَ: دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ، قَالَتْ: حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي، قَالَ: وَمَا حُكْمُكِ؟ قَالَتْ: أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا، فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ، فَقَالَتْ: أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ، فَأَنْضَبُوهُ، فَقَالَتْ: احْتَفِرُوا، فَاحْتَفَرُوا، فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الأَرْضِ، وَإِذَا الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت افزائی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ”اسے ہمارے پاس لے کے آؤ۔“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”اپنی حاجت طلب کرو۔“ اس نے عرض کی: ایک اونٹنی چاہیے جس پہ ہم سوار ہو سکیں اور کچھ بکریاں چاہئیں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ لیا کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم لوگ اتنے عاجز ہو گئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کی مانند بھی نہیں ہو سکتے؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کا کیا معاملہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو وہ لوگ راستہ بھول گئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے؟ تو ان کے علما نے بتایا: سیدنا یوسف علیہ السلام کے انتقال کا وقت جب قریب آیا تھا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ جب ہم لوگ مصر سے نکلیں گے تو اپنے ساتھ ان کی میت بھی ساتھ لے کے جائیں گے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: ان کی قبر کی جگہ کو کون جانتا ہے؟ تو اس شخص نے بتایا: بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی عورت۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اس عورت کو بلوایا، وہ عورت آپ علیہ السلام کے پاس آئی تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: تم سیدنا یوسف علیہ السلام کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ اس عورت نے کہا: جب تک آپ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیں گے (میں ایسا نہیں کروں گی)۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: تمہارا معاوضہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوں، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اسے یہ بات کہیں، تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی کہ وہ جو مانگ رہی ہے وہ اسے دے دو، پھر وہ عورت ان لوگوں کو لے کر ایک جگہ پر آئی جہاں سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ عورت نے کہا: اس پانی کو بند کر دو، ان لوگوں نے پانی کو بند کر دیا۔ اس عورت نے کہا: اب اسے کھولو، ان لوگوں نے اسے کھولا تو وہاں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں نکل آئیں، جب وہ اس سرزمین کی طرف واپس آئے تو راستہ یوں تھا جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 723]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 723، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3544، 4110، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7254، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3452» «رقم طبعة با وزير 721»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (313). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط محمد بن يزيد الرفاعي وإن خرج له مسلم مختلف فيه، وقال في "التقريب": ليس بقوي، وقد توبع، ومن فوقه من رجال الصحيح. يونس بن عمرو: هو يونس بن أبي إسحاق السبيعي، وابن فضيل: هو محمد بن فضيل بن غزوان.
114. باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار بأن على المرء عند العدم النظر إلى ما ادخر له من الأجر دون التلهف على ما فاته من بغيته
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر عدم کے وقت واجب ہے کہ وہ اس اجر کی طرف دیکھے جو اس کے لیے ادھر رکھا گیا، نہ کہ اس پر بے تابی کرے جو اس کی خواہش سے فوت ہوا
حدیث نمبر: 724
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ، وَهُمْ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ، حَتَّى يَقُولَ الأَعْرَابُ: إِنَّ هَؤُلاءِ لَمَجَانِينَ، فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ، قَالَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ، لأَحْبَبْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَاقَةً وَحَاجَةً" ، قَالَ فَضَالَةُ: وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہوتے تھے، تو بعض لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے نماز کے دوران گر پڑا کرتے تھے، یہ اہل صفہ تھے، یہاں تک کہ دیہاتی یہ کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ پاگل ہیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم لوگوں کو یہ بات پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا کیا اجر و ثواب ہے، تو تم لوگ اس بات کو پسند کرو گے کہ تمہارے فاقہ اور بھوک میں اضافہ ہو جائے۔“ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2368، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24569، والبزار فى (مسنده) برقم: 3750، 3751، والطبراني فى(الكبير) برقم: 798، 799، 800» «رقم طبعة با وزير 722»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2169). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح غير أبي علي الجنبي- وهو عمرو بن مالك- فقد روى له أصحاب السُّنن، وهو ثقة. والمقرئ هو أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد.
115. باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الاتكال على تفضل الله جل وعلا في أسباب دنياه دون التأسف على ما فاته منها
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنی دنیا کے اسباب میں اللہ جل وعلا کے فضل پر بھروسہ کرے، نہ کہ اس پر افسوس کرے جو اس سے فوت ہوا
حدیث نمبر: 725
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى لا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ، سَحَّاءُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ، فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَالْيَدُ الأُخْرَى الْقَبْضُ، يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ أَخْبَارٌ أُطْلِقَتْ مِنْ هَذَا النَّوْعِ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ مُشَبِّهَةٌ، عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ يَخْطُرَ ذَلِكَ بِبَالِ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ وَلَكِنْ أَطْلَقَ هَذِهِ الأَخْبَارِ بِأَلْفَاظِ التَّمْثِيلِ لِصِفَاتِهِ عَلَى حَسْبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ فِيمَا بَيْنَهُمْ دُونَ تَكْيِيفِ صِفَاتِ اللَّهِ، جَلَّ رَبُّنَا عَنْ أَنْ يُشَبَّهَ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ، أَوْ يُكَيَّفَ بِشَيْءٍ مِنْ صِفَاتِهِ، إِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات اور دن میں مسلسل خرچ کرنا اس میں کوئی کمی نہیں کرتا، کیا تم نے یہ بات نوٹ نہیں کی کہ جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس دن سے خرچ کر رہا ہے اور اس چیز نے اس کے ہاتھ میں موجود چیز میں کوئی کمی نہیں کی ہے، جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ قبض کرنے والا ہے، وہ بلندی اور پستی عطا کرتا ہے اور اس کا عرش پانی پر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان روایات کو اس قسم میں مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ محدثین عظام مشبہہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، حالانکہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ محدثین میں سے کسی ایک کے ذہن میں بھی اس کے حوالے سے خیال آیا ہو۔ لیکن یہ روایات اللہ تعالیٰ کی صفات کے لیے مثالی الفاظ کے ہمراہ اسی طرح مطلق طور پر منقول ہیں، جو لوگوں کے آپس کے محاورے کے مطابق ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے، یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی کیفیت بیان کی جائے، کیونکہ ﴿اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے﴾ [سورة الشورى: 11] ۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4684، 5352، 7411، 7419، 7496، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 993، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 725، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7686، 11175، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3045، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 197، 2123، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7418» «رقم طبعة با وزير 723»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، ابن أبي السري متابع، ومن فوقه على شرطهما.
116. باب الورع والتوكل - ذكر الخبر الدال على إيجاب الجنة لمن توكل على الله تعالى في جميع أسبابه
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنے تمام اسباب میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اس کے لیے جنت واجب ہوتی ہے
حدیث نمبر: 726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الأَشْعَثِ ، بِسَمَرْقَنْدَ، وَيَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ ، بِبُخَارَى، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتْ أُمَّةٌ الْجَنَّةَ بِقَضِّها وَقَضِيضِهَا، كَانُوا لا يَكْتَوُونَ، وَلا يَسْتَرْقُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک امت ساری کی ساری اس وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی کہ وہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے، جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے اور اپنے پروردگار پر توکل رکھتے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 726، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8083» «رقم طبعة با وزير 724»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف جدا - «الضعيفة» (4613)، وفي الباب ما يغني عنه؛ فانظر الحديث (6052) عن ابن مسعود، و (6057) عن عمران. تنبيه!! رقم (6052) = (6084) من «طبعة المؤسسة». رقم (6057) = (6089) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عيسى بن حيان المدائني، قال الدارقطني والحاكم: متروك، وقال اللالكائي: ضعيف، وانفرد البرقاني بتوثيقه. انظر «الميزان» 3/ 678، و «اللسان» 5/ 333، و «تاريخ بغداد» 2/ 398.