صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
127. باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عما أبيح لهذه الأمة في قراءة القرآن على الأحرف السبعة
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اس امت کے لیے سات حروف پر قرآن پڑھنا جائز کیا گیا
حدیث نمبر: 737
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ آيَةً وَقَرَأْتُهَا عَلَى غَيْرِ قِرَاءَتِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ الرَّجُلُ: أَقْرَأْتَنِي كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ أَتَيَانِي، فَجَلَسَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ يَمِينِي، وَمِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ يَسَارِي، فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ، اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ. فَقَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ. فَقُلْتُ: زِدْنِي. فَقَالَ: اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ. فَقَالَ مِيكَائِيلُ: اسْتَزِدْهُ. حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ. وَقَالَ: اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، كُلٌّ شَافٍ كَافٍ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک آیت تلاوت کی۔ میں نے وہ آیت اس سے مختلف طور پر تلاوت کی ہوئی تھی۔ میں نے اس سے دریافت کیا: تمہیں یہ آیت پڑھنی کس نے سکھائی ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنی سکھائی ہے۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے فلاں، فلاں آیت پڑھنی سکھائی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ اس شخص نے عرض کی: آپ نے مجھے فلاں، فلاں آیت پڑھنی سکھائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! جبرائیل اور میکائیل میرے پاس آئے تھے۔ جبرائیل میرے دائیں طرف بیٹھ گئے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھ گئے، تو جبرائیل نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایک حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت کیجئے۔ میکائیل نے کہا: آپ مزید کے لیے کہیں، تو میں نے کہا: ”مزید طریقہ بتائیں“، تو جبرائیل نے کہا: آپ دو حرف کے مطابق اس کی تلاوت کیجئے، تو میکائیل نے کہا: آپ مزید کے لیے کہیں، یہاں تک کہ سات حروف تک بات پہنچ گئی، تو جبرائیل نے کہا: آپ سات حروف تک میں اس کی تلاوت کیجئے۔ ان میں سے ہر ایک «شَافٍ كَافٍ» ”شافی اور کافی“ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 820، 821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 737، 738، 740، 742، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1477، 1478، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21478» «رقم طبعة با وزير 734»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1327)، «الصحيحة» (843). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب بن شداد النسائي.
128. باب قراءة القرآن - ذكر الخبر الدال على أن من قرأ القرآن على حرف من الأحرف السبعة كان مصيبا
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی سات حروف میں سے کسی ایک حرف پر قرآن پڑھے وہ درست ہے
حدیث نمبر: 738
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِأَضَاةِ بَنِي غِفَارَ، فَقَالَ:" يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ. فَقَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَلِكَ. فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى ثَلاثَةِ أَحْرُفٍ. قَالَ: أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، أَوْ مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ، سَلْ لَهُمُ التَّخْفِيفَ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يُطِيقُوا ذَاكَ. قَالَ: فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ. فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنَّ تَقْرَأَ هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْهَا فَهُوَ كَمَا قَرَأَ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اضاۃ بنو غفار کے علاقے (یہ مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ ہے) میں تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک طریقے کے مطابق قرآن کی تلاوت سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے «مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”اس کی معافی اور اس کی مغفرت“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) «مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ» ”اس کی معونت اور اس کی معافات“ کا سوال کرتا ہوں، تم اللہ تعالیٰ سے ان لوگوں کے لیے تخفیف کا سوال کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔“ جبرائیل واپس چلے گئے پھر وہ واپس آئے، تو انہوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے «مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”اس کی معافات اور مغفرت“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) «مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ» ”اس کی معونت اور معافات“ کا سوال کرتا ہوں، تم ان لوگوں کے لیے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔“ جبرائیل واپس چلے گئے، پھر وہ واپس آئے اور بولے: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ قرآن تین حروف میں پڑھنا سکھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ سے «مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ» ”اس کی معافات اور اس کی مغفرت“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) «مَعُونَتَهُ وَمُعَافَاتَهُ» ”اس کی معونت اور معافات“ کا سوال کرتا ہوں، تم ان کے لیے تخفیف کی درخواست کرو، کیونکہ وہ لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔“ جبرائیل واپس چلے گئے پھر وہ واپس آئے اور بولے: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اس قرآن کو سات حروف میں پڑھ سکتے ہیں، جو شخص ان میں سے کسی بھی ایک طریقے سے پڑھے گا، تو وہ ٹھیک پڑھے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 820، 821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 737، 738، 740، 742، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1477، 1478، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21478» «رقم طبعة با وزير 735»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1328): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط جعفر بن مهران: ذكره ابن حبان في «الثقات» وروى عنه جماعة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
129. باب قراءة القرآن - ذكر العلة التي من أجلها سأل النبي صلى الله عليه وسلم ربه معافاته ومغفرته
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے معافی اور مغفرت مانگی
حدیث نمبر: 739
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمَيَّةٍ، مِنْهُمُ الْغُلامُ، وَالْجَارِيَةُ، وَالْعَجُوزُ، وَالشَّيْخُ الْفَانِي"، قَالَ: مُرْهُمْ فَلْيَقْرَؤُوا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مجھے ایک امی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی ہیں، بوڑھی عورتیں اور بوڑھے مرد بھی ہیں،“ تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ انہیں ہدایت کیجئے کہ وہ سات حروف میں سے کسی ایک طریقے کے مطابق تلاوت کر سکتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 739]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 739، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2944، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21595، 21596، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 545، والبزار فى (مسنده) برقم: 2909، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30752» «رقم طبعة با وزير 736»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1328). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عاصم -وهو ابن أبي النجود- فقد روى له البخاري مقروناً ومسلم متابعة، وهو صدوق حسن الحديث.
130. باب قراءة القرآن - ذكر تفضل الله جل وعلا على صفيه صلى الله عليه وسلم بكل مسألة سأل بها التخفيف عن أمته في قراءة القرآن بدعوة مستجابة
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر اس سوال میں فضل کیا جو انہوں نے اپنی امت کے لیے قرآن کی قرأت میں تخفیف کے لیے مانگا، مستجاب دعا کے ساتھ
حدیث نمبر: 740
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ دَخَلا جَمِيعًا، عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَاءَةً أَنْكَرْتُهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَرَأَ الآخَرُ قِرَاءَةً سِوَى قِرَاءَةِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَآ"، فَقَرَآ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتُمَا، أَوْ، قَالَ: أَصَبْتُمَا"، قَالَ: فَلَمَّا، قَالَ لَهُمَا الَّذِي قَالَ، كَبُرَ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غَشِيَنِي، ضَرَبَ فِي صَدْرِي، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَبِّي فَرَقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُبَيّ، إِنَّ رَبِّي أَرْسَلَ إِلَيَّ: أَنِ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ: أَنْ هَوِّنْ عَلَى أُمَّتِي مَرَّتَيْنِ، فَرَدَّ عَلَيَّ: أَنِ اقْرَأْهُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، وَلَكَ بِكُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُهَا مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأُمَّتِي، ثُمَّ أَخَّرْتُ الثَّانِيَةَ إِلَى يَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ فِيهِ الْخَلْقُ حَتَّى أَبَرَّهُمْ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص اندر آیا، اس نے قرأت کرنا شروع کی۔ مجھے اس کی قرأت نامانوس لگی، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اپنے اس ساتھی سے کچھ مختلف قرأت کی، پھر اس نے نماز مکمل کر لی، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے اس طریقے کے مطابق قرأت کی ہے جو مجھے نامانوس لگی ہے، پھر دوسرے شخص نے اپنے ساتھی سے مختلف طریقے سے قرأت کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم لوگ تلاوت کرو۔“ انہوں نے تلاوت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں نے اچھی تلاوت کی ہے۔“ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) ”ٹھیک تلاوت کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ بات کہی، تو مجھے یہ بات بہت گراں گزری۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز ملاحظہ کی جو میرے ذہن میں آئی ہے، تو آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا، تو مجھے یوں لگا جیسے میں اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابی! بیشک میرے پروردگار نے مجھے پیغام بھجوایا ہے کہ تم ایک حرف کے مطابق قرآن کی تلاوت کرو، تو میں نے دو مرتبہ اس کی بارگاہ میں یہ درخواست کی کہ وہ میری امت کو آسانی فراہم کرے، تو اس نے مجھے یہ حکم دیا کہ تم سات حروف کے مطابق اس کی تلاوت کر سکتے ہو اور تم نے ہر مرتبہ جو دوبارہ کرنے کی درخواست کی ہے، اس کے عوض میں، میں تمہیں قیامت کے دن سوال کرنے (یعنی شفاعت کرنے کا مرتبہ) عطا کرتا ہوں۔ میں نے درخواست کی: اے میرے پروردگار! تو میری امت کی مغفرت کر دے، پھر میں نے دوسری دعا کو اس دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے جس دن مخلوق کو اس کی ضرورت ہو گی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بھی اس کی ضرورت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 740]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 820، 821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 737، 738، 740، 742، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1477، 1478، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21478» «رقم طبعة با وزير 737»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1328): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو خيثمة: هو زهير بن حرب، ومحمد بن عُبيد: هو الطنافسي.
حدیث نمبر: 741
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِي ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ"، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ لِي:" اقْرَأْ"، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ:" هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ہشام بن حکیم کو تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ سورۃ الفرقان اس سے مختلف طریقے سے پڑھ رہے تھے جس طریقے سے میں پڑھتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے یہ سورہ پڑھنی سکھائی تھی۔ پہلے میں ان پر حملہ کرنے لگا، لیکن پھر میں کچھ ٹھہر گیا، جب انہوں نے نماز مکمل کر لی، تو میں نے انہیں ان کی چادر سے پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان کی قرأت اس طریقے سے مختلف طور پر کرتے ہوئے سنا ہے، جو آپ نے مجھے پڑھنا سکھایا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم تلاوت کرو“ انہوں نے اسی طریقے کے مطابق قرأت کی جس طریقے سے میں نے انہیں سنا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم تلاوت کرو“ میں نے قرأت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے، بیشک یہ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے، اس میں سے جو تمہیں آسان لگے اس کے مطابق تلاوت کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 741]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2419، 4992، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 818، 818، ومالك فى (الموطأ) برقم: 689،وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 741، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 935، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1475، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4055، وأحمد فى (مسنده) برقم: 160» «رقم طبعة با وزير 738»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1325): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
131. باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار بأن الله أنزل القرآن على أحرف معلومة
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اللہ نے قرآن کو معلوم حروف پر نازل کیا
حدیث نمبر: 742
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 742]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 820، 821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 737، 738، 740، 742، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1477، 1478، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21478» «رقم طبعة با وزير 739»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1327). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم وأبو الوليد هو: هشام بن عبد الملك الطيالسي.
132. باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عن وصف بعض القصد في الخبر الذي ذكرناه
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ ہمارے بیان کردہ خبر میں بعض قصد کی صفت بیان کی گئی
حدیث نمبر: 743
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ". حَكِيمًا، عَلِيمًا، غَفُورًا، رَحِيمًا . قَوْلُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، أَدْرَجَهُ فِي الْخَبَرِ، وَالْخَبَرُ إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَقَطْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔“ (اس روایت کے یہ الفاظ) حکمت والا، علم والا، مغفرت کرنے والا، رحم کرنے والا۔ یہ محمد بن عمرو کے الفاظ ہیں، جو روایت کے متن میں درج کر لیے گئے ہیں۔ اصل روایت صرف سات حروف کے الفاظ تک ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 743]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 74، 743، 1464، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2900، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8039، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4603، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7624» «رقم طبعة با وزير 740»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر التعليق. * [مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو] قال الشيخ: ومن طريقه: ابن أبي شيبة في «المصنف» (10/ 516)، وأبو يعلى (1476)، وأحمد (2/ 332 و 440) والطبري في «التفسير» (ج 1 / رقم 8) وأبو يعلى (1479). وإسناده حسن للخلاف المعروف في محمد بن عمرو. وقول الِّمؤلف بِأنَّ قوله: «حَكِيمًا»، «عَلِيمًا» مدرج منه، فيه نظر عندي. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن محمد بن عمرو بن علقمة بن وقاص الليثي، روى له البخاري مقروناً ومسلم متابعة، وهو صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات من رجال الشيخين.
133. باب قراءة القرآن - ذكر خبر قد شنع به بعض المعطلة على أصحاب الحديث حيث حرموا التوفيق لإدراك معناه
قرآن کی تلاوت کا بیان - ذکر اس خبر کا جس پر بعض معطلہ نے اہلِ حدیث پر اعتراض کیا، حالانکہ وہ اس کے صحیح مفہوم کو سمجھنے کی توفیق سے محروم رہے
حدیث نمبر: 744
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَدْ قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ عُدَّ فِينَا ذُو شَأْنٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْلِ عَلَيْهِ: غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 23 فَيَكْتُبُ:" عَفُوًّا غَفُورًا"، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبْ"، وَيُمْلِي عَلَيْهِ: عَلِيمًا حَكِيمًا سورة النساء آية 11، فَيَكْتُبُ" سَمِيعًا بَصِيرًا"، فَيَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبْ أَيَّهُمَا شِئْتَ". قَالَ: فَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلامِ، فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كُنْتُ لأَكْتُبُ مَا شِئْتُ. فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ الأَرْضَ لَنْ تَقْبَلَهُ" ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: فَأَتَيْتُ تِلْكَ الأَرْضَ الَّتِي مَاتَ فِيهَا، وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الَّذِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ، فَوَجَدْتُهُ مَنْبُوذًا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذَا؟ فَقَالُوا: دَفَنَّاهُ فَلَمْ تَقْبَلْهُ الأَرْضُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کتابت کیا کرتا تھا، وہ ہمارے درمیان اہم حیثیت کا مالک تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے املا کروایا: «غَفُورًا رَحِيمًا» ”مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا“ تو اس نے لکھ دیا: «عَفُوًّا غَفُورًا» ”معاف کرنے والا مغفرت کرنے والا“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ لکھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے املا کروایا: «عَلِيمًا حَكِيمًا» ”علم والا حکمت والا“ تو اس نے لکھ دیا: «سَمِيعًا بَصِيرًا» ”سننے والا دیکھنے والا“، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں میں سے جو چاہو لکھ لو۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا۔ اس نے کہا: میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، کیونکہ میں جو چاہوں وہ لکھ سکتا ہوں، پھر وہ فوت ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین اسے قبول نہیں کرے گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس سرزمین پر آیا جہاں وہ شخص مرا تھا، تو مجھے پتا چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے، تو میں نے اسے قبر سے باہر پڑا ہوا پایا۔ میں نے دریافت کیا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ تو لوگوں نے بتایا: ہم نے اسے دفن کیا تھا، لیکن زمین نے اسے قبول نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 744]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3617، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2781، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 744، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12398» «رقم طبعة با وزير 741»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على صحيح الموارد» (1268/ 1521). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبد الأعلى، فمن رجال مسلم.
134. باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عن وصف البعض الآخر لقصد النعت في الخبر الذي ذكرناه
قرآن کی تلاوت کا بیان - ذکر اس خبر کا جس میں بعض دوسرے لوگوں کی صفت کو بیان کیا گیا ہے تاکہ اس خبر میں مذکور وصف کو واضح کیا جائے
حدیث نمبر: 745
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ الْكِتَابُ الأَوَّلُ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ، وَعَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ، عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ: زَاجِرٌ، وَآمِرٌ، وَحَلالٌ، وَحَرَامٌ، وَمُحْكَمٌ، وَمُتَشَابِهٌ، وَأَمْثَالٌ، فَأَحِلُّوا حَلالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَافْعَلُوا مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَانْتَهُوا عَمَّا نُهِيتُمْ عَنْهُ، وَاعْتَبِرُوا بِأَمْثَالِهِ، وَاعْمَلُوا بِمُحْكَمِهِ، وَآمِنُوا بِمُتَشَابِهِهِ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پہلے ایک کتاب ایک دروازے سے ایک حرف کے مطابق نازل ہوتی تھی، لیکن قرآن کو سات دروازوں سے سات حروف کے مطابق نازل کیا گیا (وہ یہ ہیں) تنبیہ کرنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال، تو تم لوگ اس کے حلال کو حلال قرار دو، اس کے حرام کو حرام قرار دو، جس چیز کا تمہیں اس میں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے تمہیں منع کیا گیا ہے اس سے باز آ جاؤ، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو، اس کے حکم پر عمل کرو، اس کے متشابہ پر ایمان لاؤ اور یہ کہو: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ [سورة آل عمران: 7] ”ہم اس پر ایمان لاتے ہیں، یہ سارے کا سارا ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 745]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 75، 745، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2038، 3162، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7930، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4338» «رقم طبعة با وزير 742»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف بزيادة: «زاجر ... » إلخ - «الصحيحة» (587). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجال ثقات، إلا أنه منقطع، أبو سلمة بن عبد الرحمن لم يدرك عبد اللَّه بن مسعود، قال الحافظ في «الفتح» 9/ 29: قال ابن عبد البر: هذا حديث لا يثبت، لأنه من رواية أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابن مسعود، ولم يلق ابن مسعود. ثم قال: وصححه ابن حبان والحاكم 1/ 553، وفي تصحيحه نظر، لانقطاعه بين أبي سلمة وابن مسعود. وقد أخرجه البيهقي من وجه آخر عن الزهري عن أبي سلمة مرسلاً، وقال: هذا مرسل جيد.
135. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن لا حرج على المرء أن يقرأ بما شاء من الأحرف السبعة
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر کوئی حرج نہیں کہ وہ سات حروف میں سے جس پر چاہے قرآن پڑھے
حدیث نمبر: 746
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا يَقْرَأُ آيَةً أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلافَ مَا قَرَأَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُنَاجِي عَلِيًّا، فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ وَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَقْرَءُوا كَمَا عُلِّمْتُمْ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھنا سکھائی تھی، لیکن وہ شخص اس کے برخلاف طریقے سے تلاوت کر رہا تھا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سرگوشی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی بات کر رہے تھے، میں نے اس بات کا تذکرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: ”بیشک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم اسی طریقے سے تلاوت کرو جس طرح تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 746]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 746، 747، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 615، 616، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 847، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 536، والبزار فى (مسنده) برقم: 449» «رقم طبعة با وزير 743»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (1522). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن عاصم -وهو ابن أبي النجود- روى له البخاري ومسلم متابعة، وهو صدوق حسن الحديث، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.