صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
136. باب قراءة القرآن - ذكر الزجر عن العتب على من قرأ بحرف من الأحرف السبعة
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ اس پر عتاب کیا جائے جو سات حروف میں سے کسی ایک حرف پر پڑھے
حدیث نمبر: 747
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالأَهْوَازِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الرَّحْمَنِ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ عَشِيَّةً، فَجَلَسَ إِلَيَّ رَهْطٌ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ: اقْرَأْ عَلَيَّ. فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ أَحْرُفًا لا أَقْرَؤُهَا، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ؟ فَقَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَانْطَلَقْنَا حَتَّى وَقَفْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اخْتَلَفْنَا فِي قِرَاءَتِنَا. فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ تَغَيُّرٌ، وَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ حِينَ ذَكَرْتُ الاخْتِلافَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ قَبْلَكُمْ بِالاخْتِلافِ"، فَأَمَرَ عَلِيًّا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عُلِّمَ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمُ الاخْتِلافُ ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَقْرَأُ حَرْفًا لا يَقْرَأُ صَاحِبُهُ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ رحمٰن پڑھنا سکھائی، ایک دن میں شام کے وقت مسجد میں آیا، تو کچھ لوگ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے، میں نے ان میں سے ایک شخص سے کہا: تم میرے سامنے تلاوت کرو، تو اس نے کچھ الفاظ ایسے طریقے سے تلاوت کیے جنہیں میں نے نہیں پڑھا تھا۔ میں نے دریافت کیا: تمہیں کس نے یہ تلاوت سکھائی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلاوت سکھائی ہے، پھر ہم لوگ روانہ ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے عرض کی: ہمارا قرأت کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک یہ سن کر متغیر ہو گیا، جب میں نے اختلاف کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہت افسوس ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرے جس طرح اسے تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم لوگ وہاں سے آ گئے، ہم میں سے ہر شخص اسی طریقے کے مطابق تلاوت کرتا تھا (جو اس نے سیکھا تھا) اس کا ساتھی اس کے طریقے کے مطابق تلاوت نہیں کرتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 747]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2410، 3476، 5062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 746، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2903، 2904، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8040، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 35، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3801» «رقم طبعة با وزير 744»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (1522). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن. معمر بن سهل ترجمه ابن حبان في «ثقاته» 9/ 196، فقال: شيخ متقن يغرب، وعامر بن مدرك ذكره ابن حبان في «ثقاته» 8/ 501، وقال: ربما أخطأ، وروى عنه غير واحد، وباقي رجاله ثقات.
137. باب قراءة القرآن - ذكر الإباحة للمرء أن يرجع في قراءته إذا صحت نيته فيه
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی قرأت میں رجوع کرے اگر اس کی نیت اس میں صحیح ہو
حدیث نمبر: 748
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ ، يَقُولُ:" قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِي قِرَاءَتِهِ" ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَوْلا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ، لَحَكَيْتُ قِرَاءَتَهُ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تلاوت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تلاوت کے دوران ترجیع کی۔ معاویہ نامی راوی یہ بات بیان کرتے ہیں: ”اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ میرے اردگرد اکٹھے ہو جائیں گے، تو میں اس طریقے سے تلاوت کر کے دکھاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 748]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4281، 4835، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 794، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 748، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1467،وأحمد فى (مسنده) برقم: 17063» «رقم طبعة با وزير 745»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1319): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، نوح بن حبيب روى له أبو داود والنسائي، وهو ثقة، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
138. باب قراءة القرآن - ذكر إباحة تحسين المرء صوته بالقرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی آواز کو قرآن کے ساتھ خوبصورت بنائے
حدیث نمبر: 749
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْعَابِدُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنْ أَلْفَاظِ الأَضْدَادِ، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ"، لا: زَيِّنُوا أَصْوَاتَكُمْ بِالْقُرْآنِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ» ”قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ الفاظ ہیں، جنہیں ہو کر متضاد مفہوم مراد لیا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد یہ ہے: ”تم قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو“، یہ نہیں کہ ”تم قرآن کے ذریعے اپنی آوازوں کو آراستہ کرو“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 749]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 346، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1551، 1552، 1556، 1557، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 749، 850، 2157، 2161، 5096، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1851، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 543، 664، 1468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1957، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 997، 1342، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18788» «رقم طبعة با وزير 746»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1320). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، عبد الرحمن بن عوسجة روى له أصحاب السنن، وهو ثقة، وباقي السند من رجال الشيخين غير محمد بن عثمان العجلي، فمن رجال البخاري.
139. باب قراءة القرآن - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر عبد الرحمن بن عوسجہ نے براء سے منفرد طور پر روایت کی
حدیث نمبر: 750
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قرآن کو اپنی آوازوں کے ذریعے آراستہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 750]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 750، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2467، والبزار فى (مسنده) برقم: 1035» «رقم طبعة با وزير 747»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. سهل: ثقة من رجال، ومن فوق البخاري على شرطهما.
140. باب قراءة القرآن - ذكر إباحة تحزين الصوت بالقرآن إذ الله أذن في ذلك
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اجازت کہ قرآن کے ساتھ آواز کو حزین کیا جائے کیونکہ اللہ نے اس کی اجازت دی
حدیث نمبر: 751
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبَجٍ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ثُمَّ سَمِعْتُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ" يُرِيدُ يَتَحَزَّنُ بِهِ، وَلَيْسَ هَذَا مِنَ الْغُنْيَةِ، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ مِنَ الْغُنْيَةِ، لَقَالَ: يَتَغانَى بِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: يَتَغَنَّى بِهِ، وَلَيْسَ التَّحَزُّنُ بِالْقُرْآنِ نَقَاءَ الْجِرْمِ، وَطِيبَ الصَّوْتِ، وَطَاعَةَ اللَّهَوَاتِ بِأَنْوَاعِ النَّغَمِ بِوِفَاقِ الْوِقَاعِ، وَلَكِنَّ التَّحَزُّنَ بِالْقُرْآنِ هُوَ أَنْ يُقَارِنَهُ شَيْئَانِ: الأَسَفُ وَالتَّلَهُّفُ: الأَسَفُ عَلَى مَا وَقَعَ مِنَ التَّقْصِيرِ، وَالتَّلَهُّفُ عَلَى مَا يُؤْمَلُ مِنَ التَّوْقِيرِ، فَإِذَا تَأَلَّمَ الْقَلْبُ وَتَوَجَّعَ، وَتَحَزَّنَ الصَّوْتُ وَرَجَّعَ، بَدَرَ الْجَفْنَ بِالدِّمُوعِ، وَالْقَلْبَ بِاللُّمُوعِ، فَحِينَئِذٍ يَسْتَلِذُّ الْمُتَهَجِّدُ بِالْمُنَاجَاةِ، وَيَفِرُّ مِنَ الْخَلْقِ إِلَى وَكْرِ الْخَلَوَاتِ، رَجَاءَ غُفْرَانِ السَّالِفِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَالتَّجَاوُزِ عَنِ الْجِنَايَاتِ وَالْعُيُوبِ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ التَّوْفِيقَ لَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے وہ اس نبی کو سنتا ہے، جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وہ قرآن کو خوش الحانی سے پڑھے“ اس سے مراد اس کو دردمندی سے پڑھنا ہے۔ اگر یہ «الْغُنْيَةِ» (یعنی خوش الحانی) سے ماخوذ ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے: «يَتَغَانٰی بِهٖ»، یہ نہ کہتے: «يَتَغَنّٰى بِهٖ» ۔ قرآن کو دردمند انداز میں پڑھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حلق پر بوجھ لادا جائے یا آواز کو سنوارا جائے یا نغمگی کی پیروی کرتے ہوئے (آواز میں اتار چڑھاؤ پیدا کیا جائے)، قرآن کو دردمندانہ انداز میں پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ تلاوت کے ہمراہ دو چیزیں ہوں: افسوس کا اظہار کرنا اور غمگین ہونا، یعنی آدمی سے جو غلطیاں سرزد ہوئی تھیں ان پر افسوس کا اظہار کرنا اور جس توقیر کی خواہش ہو اس پر غمگین ہونا۔ جب دل الم اور تکلیف کو محسوس کرے، تو آواز غمگین ہو جائے اور وہ ترجیع کرے، آنکھیں آنسو بہائیں اور دل روشن ہو، تو اس صورت میں مناجات کے ہمراہ تہجد پڑھنے والے کو لذت محسوس ہو گی اور وہ شخص مخلوق سے فرار ہو کر خلوت کے گھونسلے (یعنی اس کی پناہ) میں آ جائے، اس بات کی امید رکھتے ہوئے کہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے اور اس کے جرائم اور عیوب سے درگزر کیا جائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق مانگتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 751]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5023، 5024، 7482، 7544، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 751، 752، 7196، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1473، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7785، والحميدي فى (مسنده) برقم: 979» «رقم طبعة با وزير 748»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1324): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، حامد بن يحيى: ثقة روى له أبو داود، ومن فوقه من رجال الشيخين.
141. باب قراءة القرآن - ذكر استماع الله إلى المتحزن بصوته بالقرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ اس شخص کی طرف سنتا ہے جو اپنی آواز کو قرآن کے ساتھ حزین کرتا ہے
حدیث نمبر: 752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَأَذَنِهِ لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" مَا أَذِنَ اللَّهُ"، يُرِيدُ: مَا اسْتَمَعَ اللَّهُ لِشَيْءٍ،" كَأَذَنِهِ": كَاسْتِمَاعِهِ" لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ"، يُرِيدُ: يَتَحَزَّنُ بِالْقِرَاءَةِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا نَعْتَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا، جتنی توجہ سے قرآن کی خوش الحانی سے کی جانے والی تلاوت کو سنتا ہے، جو بلند آواز میں کی جاتی ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان «مَا أَذِنَ اللَّهُ» سے مراد یہ ہے یعنی ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا“، «كَأَذَنِهِ» یعنی ”جس طرح وہ سنتا ہے“ اس شخص کو جو خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے، جو بلند آواز میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ دردمندانہ انداز میں قرأت کرے جو اس کے مطابق ہو، جس کی صفت کو ہم نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5023، 5024، 7482، 7544، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 751، 752، 7196، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1473، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7785، والحميدي فى (مسنده) برقم: 979» «رقم طبعة با وزير 749»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، محمد بن عمرو صدوق حسن الحديث.
142. باب قراءة القرآن - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبري أبي هريرة اللذين ذكرناهما
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے تأول کردہ ابو ہریرہ کی دو خبروں کی صحت کی دلیل ہے
حدیث نمبر: 753
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ التَّحَزُّنَ الَّذِي أَذِنَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا فِيهِ بِالْقُرْآنِ، وَاسْتَمَعَ إِلَيْهِ هُوَ التَّحَزُّنُ بِالصَّوْتِ مَعَ بِدَايَتِهِ وَنِهَايَتِهِ، لأَنَّ بَدَاءَتَهُ هُوَ الْعَزْمُ الصَّحِيحُ عَلَى الانْقِلاعِ عَنِ الْمَزْجُورَاتِ، وَنِهَايَتُهُ وُفُورُ التَّشْمِيرِ فِي أَنْوَاعِ الْعِبَادَاتِ، فَإِذَا اشْتَمَلَ التَّحَزُّنُ عَلَى الْبِدَايَةِ الَّتِي وَصَفْتُهَا، وَالنِّهَايَةُ الَّتِي ذَكَرْتُهَا، صَارَ الْمُتَحَزِّنُ بِالْقُرْآنِ كَأَنَّهُ قَذَفَ بِنَفْسِهِ فِي مِقْلاعِ الْقُرْبَةِ إِلَى مَوْلاهُ، وَلَمْ يَتَعَلَّقْ بِشَيْءٍ دُونَهُ.
مطرف بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، گریہ و زاری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے سے یوں آواز آ رہی تھی جیسے ہنڈیا ابلتی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ جس دردمندانہ تلاوت کو اللہ تعالیٰ سنتا ہے اور پوری توجہ سے سنتا ہے، وہ ایسا درد ہے جو آواز میں آغاز اور اختتام کے ہمراہ ہو؛ کیونکہ آغاز یہ ہوتا ہے کہ اس بات کا پختہ ارادہ کیا جائے کہ ممنوعہ چیزوں سے لاتعلقی اختیار کی جائے گی اور انجام یہ ہے کہ مختلف نوعیت کی عبادات میں بھرپور کوشش کی جائے گی، تو جب وہ درد آغاز میں اس کے مطابق ہو جو ہم نے بیان کیا ہے اور اختتام اس کے مطابق ہو جو میں نے ذکر کیا ہے، تو قرآن کے ہمراہ دردمند ہونے والا شخص گویا اپنے آپ کو اپنے پروردگار کے قرب میں ڈال دیتا ہے اور وہ اس کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 753]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 900، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 665، 753، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 904، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3408، 3409، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16570» «رقم طبعة با وزير 750»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (840). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وقد تقدم برقم (665).
143. باب قراءة القرآن - ذكر استماع الله إلى من ذكرنا نعته أشد من استماع صاحب القينة إلى قينته
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ اس شخص کی طرف زیادہ سنتا ہے جس کی ہم نے نعت بیان کی، اس سے زیادہ جو صاحب قینہ اپنی قینہ کی طرف سنتا ہے
حدیث نمبر: 754
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنَا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ" .
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جتنے شوق کے ساتھ کوئی شخص کسی کنیز کا گانا سنتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ پسندیدگی کے ساتھ اچھی آواز والے شخص کی قرآن کی تلاوت کو سنتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 754]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 754، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2107، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1340، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 130، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 21113، 21114، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24580، 24589، والطبراني فى(الكبير) برقم: 772» «رقم طبعة با وزير 751»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (2951). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط ميسرة مولى فضالة، دمشقي، روى عن مولاه وأبي الدرداء، وأورده أبو زرعة الدمشقي في الطبقة العليا التي تلي الصحابة، وذكره المؤلف في «الثقات»، وباقي رجاله ثقات.
144. باب قراءة القرآن - ذكر ما يقرأ به القرآن في هذه الأمة
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اس امت میں قرآن کس طرح پڑھا جاتا ہے
حدیث نمبر: 755
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلانِيُّ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَكُونُ خَلْفٌ بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلاةَ، وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ، فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا، ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلاثَةٌ: مُؤْمِنٌ، وَمُنَافِقٌ، وَفَاجِرٌ" . قَالَ بَشِيرٌ: فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ: مَا هَؤُلاءِ الثَّلاثَةُ؟ قَالَ: الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ساٹھ سال کے بعد ایسے لوگ آ جائیں گے، جو نماز کو ضائع کریں گے، خواہشات کی پیروی کریں گے، وہ عنقریب جہنم میں جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ لوگ آ جائیں گے، جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ قرآن کو تین طرح کے لوگ پڑھتے ہیں: مومن، منافق اور فاجر۔“ بشیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے ولید سے دریافت کیا: یہ تین لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: منافق سے مراد وہ شخص ہے، جو قرآن کا انکار کرتا ہو، فاجر سے مراد وہ شخص ہے، جو اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو اور مومن سے مراد وہ شخص ہے، جو اس پر ایمان رکھتا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 755]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 755، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3436، 8739، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11515، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9330» «رقم طبعة با وزير 752»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3034). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط الوليد بن قيس التجيبي، روى عنه غير واحد، ووثقه المؤلف والعجلي، وباقي رجاله ثقات.
145. باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عن اقتصار المرء على قراءة القرآن كله في كل سبع
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا ہر سات دن میں قرآن مکمل پڑھنے پر اقتصار کرنا
حدیث نمبر: 756
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُ بِهِ فِي لَيْلَةٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اقْرَأْهُ فِي كُلِّ شَهْرٍ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، فَقَالَ:" اقْرَأْهُ فِي كُلِّ عِشْرِينَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي عَشْرٍ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، قَالَ:" اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي، فَأَبَى .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے قرآن کو جمع کیا اور ایک ہی رات میں اس کی تلاوت کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم مہینے میں پورے قرآن کی تلاوت کیا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بیس دن میں پورے قرآن کی تلاوت کر لیا کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دس دن میں اس کی تلاوت کر لیا کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سات دن میں اس کی تلاوت کر لیا کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے موقع دیجیے کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ حاصل کر لوں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 756]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1131، 1153، 1974، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1159،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 197، 1145، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 11، 352، 756، 757، 758، 2590، 3571، 3581، 3638، 3640، 3658، 3660، 6226، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1629،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1388، 1389، والترمذي فى (جامعه) برقم: 770، 2946، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1346، 1347، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6588» «رقم طبعة با وزير 753»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (255): ق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط ابن جريج مدلس، وقد عنعن، ولكن صرح في الرواية الآتية بالسماع، فانتفت شبهة تدليسه، ويحيى بن حكيم بن صفوان ذكرد المؤلف في «الثقات» 5/ 522 وترجمه ابن أبي حاتم 9/ 134 فلم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا.