🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
194. باب الأذكار - ذكر أسامي الله جل وعلا اللاتي يدخل محصيها الجنة
اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کے ان اسماء کا ذکر جن کا شمار کرنے والا جنت میں داخل ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلا وَاحِدَةً، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں یعنی ایک کم 100، جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2736، 6410، 7392، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2677، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1071، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 807، 808، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 41، 42، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7612، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3506، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3860، 3861، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11572، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7618، 7738» «رقم طبعة با وزير 804»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، يوسف بن حماد من رجال مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين. عبد الأعلى: هو ابن عبد الأعلى السامي، وهشام: هو ابن حسان، ومحمد: هو ابن سيرين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
195. باب الأذكار - ذكر تفصيل الأسامي التي يدخل الله محصيها الجنة
اذکار کا بیان - ان اسماء کی تفصیل کا ذکر جن کا شمار کرنے والا اللہ جنت میں داخل کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن عبيد بن فياض بدمشق واللفظ للحسن، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلا وَاحِدًا، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ. هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، الْوَهَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَكَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَلِيمُ، الْعَظِيمُ، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْحَفِيظُ، الْمُقِيتُ، الْحَسِيبُ، الْجَلِيلُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْمُجِيبُ، الْبَاعِثُ، الشَّهِيدُ، الْحَقُّ، الْوَكِيلُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْمُحْصِي، الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الأَحَدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الأَوَّلُ، الآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْمُتَعَالِ، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، مَالِكُ الْمُلْكِ، ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، الْمُقْسِطُ، الْمَانِعُ، الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي، الْجَامِعُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، النُّورُ، الْهَادِي، الْبَدِيعُ، الْبَاقِي، الْوَارِثُ، الرَّشِيدُ، الصَّبُورُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو، اللہ تعالیٰ «وِتْرٌ» ”وتر“ ہے اور «الْوِتْرَ» ”وتر“ کو پسند کرتا ہے، جو شخص انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمان ہے، رحم کرنے والا ہے، بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی عطا کرنے والا ہے، امن دینے والا ہے، نگرانی کرنے والا ہے، غالب ہے، زبردست ہے، کبریائی والا ہے، پیدا کرنے والا ہے، بنانے والا ہے، شکل و صورت عطا کرنے والا ہے، مغفرت کرنے والا ہے، قہر والا ہے، عطیہ دینے والا ہے، رزق عطا کرنے والا ہے، کھولنے والا ہے، علم رکھنے والا ہے، تنگی کرنے والا ہے، کشادگی دینے والا ہے، پست کرنے والا ہے، بلند کرنے والا ہے، عزت دینے والا ہے، ذلت دینے والا ہے، سماعت والا ہے، بصیرت والا ہے، فیصلہ دینے والا ہے، عدل کرنے والا ہے، مہربان ہے، خبر رکھنے والا ہے، بردبار ہے، عظیم ہے، مغفرت کرنے والا ہے، شکر کرنے والا ہے، بلند ہے، بڑا ہے، حفاظت کرنے والا ہے، نگرانی کرنے والا ہے، حساب رکھنے والا ہے، عظمت والا ہے، معزز ہے، نگران ہے، وسعت والا ہے، حکمت والا ہے، مہربان ہے، بزرگی والا ہے، دعا قبول کرنے والا ہے، زندہ کرنے والا ہے، گواہ ہے، حق ہے، وکیل ہے، طاقت ور ہے، متین ہے، نگران ہے، لائقِ حمد ہے، شمار کرنے والا ہے، آغاز کرنے والا ہے، دوبارہ پیدا کرنے والا ہے، زندگی دینے والا ہے، موت دینے والا ہے، زندہ ہے، قیوم ہے، پالنے والا ہے، بزرگی والا ہے، ایک ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، قدرت والا ہے، اقتدار والا ہے، آگے کرنے والا ہے، پیچھے کرنے والا ہے، پہلا ہے، آخر ہے، ظاہر ہے، باطن ہے، بلند و برتر ہے، مہربان ہے، توبہ قبول کرنے والا ہے، انتقام لینے والا ہے، معاف کرنے والا ہے، مہربان ہے، بادشاہ ہے، جلال و اکرام والا ہے، انصاف کرنے والا ہے، روکنے والا ہے، بے نیاز ہے، غنی ہے، جمع کرنے والا ہے، نقصان پہنچانے والا ہے، نفع دینے والا ہے، نور ہے، ہدایت دینے والا، (کسی سابقہ شان کے بغیر) پیدا کرنے والا ہے، باقی ہے، وارث ہے، ہدایت دینے والا ہے، صبر عطا کرنے والا (برداشت کرنے والا) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2736، 6410، 7392، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2677، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1071، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 807، 808، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 41، 42، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7612، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3506، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3860، 3861، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11572، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7618، 7738» «رقم طبعة با وزير 805»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون سرد الأسماء - «المشكاة» (2288 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات، صفوان بن صالح والوليد بن مسلم: كلاهما صرح بالتحديث إلا انه أعل بالاضطراب، واحتمال ان يكون التعيين مدرجا من بعض الرواة، وبالوقف.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
196. باب الأذكار - ذكر البيان بأن ذكر العبد ربه جل وعلا بينه وبين نفسه أفضل من ذكره بحيث يسمع صوته
اذکار کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ بندے کا اپنے رب جل وعلا کا ذکر اپنے اور اپنی ذات کے درمیان اس ذکر سے افضل ہے جس میں اس کی آواز سنائی دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ، أَوِ الْعَيْشِ، مَا يَكْفِي" . الشَّكُّ مِنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سب سے بہترین ذکر وہ ہے جو پست آواز میں ہو، اور سب سے بہترین رزق (ضروریاتِ زندگی، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: بہتر زندگی) وہ ہے جو کفایت کر جائے۔“ یہاں روایت کے الفاظ میں شک ابن وہب نامی راوی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 809، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1495، 1496» «رقم طبعة با وزير 806»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (3/ 9)، «الصحيحة» تحت (1834). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمن بن أبى لبيبه، ضعفه ابن معين والدراقطني، ثم هو لم يدرك سعدا فيما قاله أبو حاتم، وأبو زرعة كما فى «المراسل» ص 184
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
197. باب الأذكار - ذكر الخبر الدال على أن ذكر العبد ربه جل وعلا في نفسه أفضل من ذكره بحيث يسمع الناس
اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بندے کا اپنے رب جل وعلا کا ذکر اپنے اندر کرنا اس ذکر سے افضل ہے جسے لوگ سنتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ اذْكُرْنِي فِي نَفْسِكَ، أَذْكُرْكَ فِي نَفْسِي، اذْكُرْنِي فِي مَلأٍ مِنَ النَّاسِ، أَذْكُرْكَ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! تم اپنے دل میں مجھے یاد کرو، میں اپنے دل میں تمہیں یاد کروں گا، تم لوگوں کی محفل میں مجھے یاد کرو، میں ان سے بہتر گروہ میں تمہیں یاد کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7405، 7505، 7537، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 328، 376، 639، 810، 811، 812، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7720، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7683، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2388، 3603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3822، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7540» «رقم طبعة با وزير 807»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (5/ 2011): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
198. باب الأذكار - ذكر الله جل وعلا في ملكوته من ذكره في نفسه من عباده
اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کا اپنی بادشاہت میں اس بندے کے ذکر کا ذکر جو اسے اپنے اندر یاد کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْلَى مِنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِ، إِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، وَهَذِهِ أَلْفَاظٌ خَرَجَتْ مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ عَلَى حَسَبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ مِمَّا بَيْنَهُمْ. وَمَنْ ذَكَرَ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي نَفْسِهِ بِنُطْقٍ أَوْ عَمَلٍ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ، ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي مَلَكُوتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ لَهُ تَفَضُّلا وَجُودًا، وَمَنْ ذَكَرَ رَبَّهُ فِي مَلأٍ مِنْ عِبَادِهِ، ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي مَلائِكَتِهِ الْمُقَرَّبِينَ بِالْمَغْفِرَةِ لَهُ، وَقَبُولِ مَا أَتَى عَبْدُهُ مِنْ ذِكْرِهِ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى الْبَارِي جَلَّ وَعَلا بِقَدْرِ شِبْرٍ مِنَ الطَّاعَاتِ، كَانَ وُجُودُ الرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ مِنَ الرَّبِّ مِنْهُ لَهُ أَقْرَبَ بِذِرَاعٍ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى مَوْلاهُ جَلَّ وَعَلا بِقَدْرِ ذِرَاعٍ مِنَ الطَّاعَاتِ كَانَتِ الْمَغْفِرَةُ مِنْهُ لَهُ أَقْرَبَ بِبَاعٍ، وَمَنْ أَتَى فِي أَنْوَاعِ الطَّاعَاتِ بِالسُّرْعَةِ كَالْمَشْيِ، أَتَتْهُ أَنْوَاعُ الْوَسَائِلِ وَوُجُودُ الرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِالسُّرْعَةِ كَالْهَرْوَلَةِ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ وہ جب جہاں مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں؛ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس سے بھی بہترین گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے، تو میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں؛ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے، تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے کہ مخلوق کی صفات میں سے کوئی چیز اس کی طرف منسوب کی جائے، کیونکہ کوئی بھی چیز اس کی مثل نہیں ہے۔ یہ الفاظ (جو اس روایت میں استعمال ہوئے ہیں) یہ اس عام محاورے کے مطابق ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہے۔ جو شخص تنہائی میں زبان کے ذریعے یا عمل کے ذریعے اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت، اپنی ملکوت میں مغفرت کے ہمراہ اس کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر اس کے بندوں کی موجودگی میں کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے اس شخص کا ذکر مغفرت کے ہمراہ کرتا ہے۔ اس نے اپنے بندے کے ذکر کو قبول کر لیا ہے (اس کے ہمراہ بندے کا ذکر کرتا ہے) اور جو شخص ایک بالشت جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ پروردگار کے قریب ہو، تو پروردگار کی طرف سے مہربانی اور رحمت ایک ذراع (درمیانی بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک) جتنا اس کے قریب ہوتی ہے۔ جو شخص ایک ذراع جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ (اپنے) خالق کے قریب ہوتا ہے، تو اس (پروردگار) کی طرف سے مغفرت ایک باع (دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ) سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے؛ جو شخص مختلف طرح کی نیکیاں پیدل چلنے جتنی سرعت کے ساتھ کرتا ہے، تو وسائل، مہربانی اور رحمت کے وجود اور مغفرت اتنی تیزی سے اس کی طرف آتے ہیں جس طرح دوڑنا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7405، 7505، 7537، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 328، 376، 639، 810، 811، 812، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7720، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7683، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2388، 3603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3822، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7540» «رقم طبعة با وزير 808»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر العلو» (ص 95/ 19)، «الصحيحة» (5/ 2011): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن الصباح - وهو الجرجرائي - فقد روى له أبو داود وابن ماجة، وهو صدوق.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
199. باب الأذكار - ذكر الإخبار بأن ذكر العبد جل وعلا في نفسه يذكره الله عز وجل به بالمغفرة في ملكوته
اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ بندے کا اپنے رب جل وعلا کا اپنے اندر ذکر کرنا اللہ عز وجل کو اس کی مغفرت کے ساتھ اپنی بادشاہت میں یاد دلاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 812
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَطْيَبُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلا:" إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي" يُرِيدُ بِهِ إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ بِالدَّوَامِ عَلَى الْمَعْرِفَةِ الَّتِي وَهَبْتُهَا لَهُ، وَجَعَلْتُهُ أَهْلا لَهَا، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، يُرِيدُ بِهِ فِي مَلَكُوتِي بِقَبُولِ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ مِنْهُ مَعَ غُفْرَانِ مَا تَقَدَّمَهُ مِنَ الذُّنُوبِ. ثُمَّ قَالَ:" وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ" يُرِيدُ بِهِ: وَإِنْ ذَكَرَنِي بِلِسَانِهِ، يُرِيدُ بِهِ الإِقْرَارَ الَّذِي هُوَ عَلامَةُ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ فِي مَلأٍ مِنَ النَّاسِ لِيَعْلَمُوا إِسْلامَهُ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُ، يُرِيدُ بِهِ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْجَنَّةِ، بِمَا أَتَى مِنَ الإِحْسَانِ فِي الدُّنْيَا الَّذِي هُوَ الإِيمَانُ إِلَى أَنِ اسْتَوْجَبَ بِهِ التَّمَكُّنَ مِنَ الْجِنَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں، جب وہ مجھے پکارتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں، اگر وہ دل میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں بھی دل میں اسے یاد کرتا ہوں، اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں بھی اس سے بہتر اور پاکیزہ گروہ میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ”اگر وہ اپنے نفس میں (یعنی دل میں یا تنہائی میں) میرا ذکر کرتا ہے، تو میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں“، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ اپنے من میں اس معرفت کی وجہ سے باقاعدگی سے میرا ذکر کرتا ہے، جو (معرفت) میں نے اسے ہبہ کی ہے اور میں نے اسے اس کا اہل بنایا ہے، تو پھر میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے: میں اپنے ملکوت میں اس کی طرف سے اس معرفت کو قبول کرتا ہوں، اور اس کے ہمراہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں۔ پھر اس نے یہ فرمایا: ”اگر وہ لوگوں میں میرا ذکر کرے“، اس سے مراد یہ ہے: اگر وہ اپنی زبان کے ہمراہ میرا ذکر کرے گا، اس سے مراد وہ اقرار ہے، جو لوگوں کی موجودگی میں اس معرفت کی علامت ہو گا تاکہ انہیں اس کے اسلام کا پتہ چل جائے۔ تو میں اس سے بہتر گروہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اس سے مراد یہ ہے میں اس کا ذکر ایسے گروہ میں کرتا ہوں، جو اس سے بہتر ہے، جس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہوں گے جو جنت میں ہوں گے، اس (شخص کے ذکر کی صورت یہ ہو گی) اس نے دنیا میں بھلائی کی ہو گی جو ایمان ہے، یہاں تک کہ اس (ایمان) کی وجہ سے وہ جنت میں رہنے کا مستحق ہو جائے گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7405، 7505، 7537، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 328، 376، 639، 810، 811، 812، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7720، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7683، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2388، 3603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3822، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7540» «رقم طبعة با وزير 809»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2942). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
200. باب الأذكار - ذكر مباهاة الله جل وعلا ملائكته بذاكره إذا قرن مع الذكر التفكر
اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کے اپنے فرشتوں کے سامنے اس شخص پر فخر کرنے کا ذکر جو اسے ذکر کے ساتھ تفکر کے ساتھ یاد کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 813
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُمْ؟ قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ، قَالَ: آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلا ذَلِكَ؟ قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلا ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" مَا يُجْلِسُكُمْ؟" قَالُوا: جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلإِسْلامِ، وَمَنَّ عَلَيْنَا بِهِ، قَالَ:" آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلا ذَلِكَ؟" قَالُوا: وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلا ذَلِكَ، قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ، وَلَكِنْ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلائِكَةَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما مسجد میں ایک حلقے کے پاس تشریف لائے اور دریافت کیا: ”تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟“ لوگوں نے بتایا: ”ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کر رہے ہیں۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اللہ کی قسم! کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہم لوگ صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ایک حلقے کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے اور اس نے جو اسلام کی ہدایت دی ہے اور ہم پر یہ احسان کیا ہے، اس بات پر اس کی حمد بیان کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! کیا تم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہوئے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! ہم صرف اسی مقصد کے لیے بیٹھے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم پر کوئی الزام عائد کرنے کے لیے تم سے قسم نہیں لی ہے، بلکہ جبرائیل میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2701، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 813، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5441، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17110، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7387، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30083، والطبراني فى(الكبير) برقم: 701، 788، 854» «رقم طبعة با وزير 810»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 72). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير الدورقي والسعدي، فمن رجال مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
201. باب الأذكار - ذكر الاستحباب للمرء دوام ذكر الله جل وعلا في الأوقات والأسباب
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر سبب میں اللہ جل وعلا کا ذکر جاری رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 814
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ الْكِنْدِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيَّانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ. قَالَ: " لا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کسی ایسی چیز کے بارے میں مجھے بتائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 814، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1828، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2329، 3375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6622، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17956» «رقم طبعة با وزير 811»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 227). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، معاوية بن صالح: صدوق له أوهام، أخرج له مسلم، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات، ويزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد ابن عبد الله بن موهب الرملي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
202. باب الأذكار - ذكر رجاء سرعة المغفرة لذاكر الله إذا تحركت به شفتاه
اذکار کا بیان - اس امید کا ذکر کہ اللہ کا ذکر کرنے والے کو اس کے ہونٹ ہلنے پر جلد مغفرت ملے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 815
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُوصَا أَبُو الْحَسَنِ ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ الْحَسْحَاسِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ" .
کریمہ بنت حسحاس بیان کرتی ہیں: میں نے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کے گھر میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے لیے حرکت کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 815، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11124، 11131، 11132، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6621» «رقم طبعة با وزير 812»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق الرغيب» (2/ 227). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط أيوب بن سويد هو الرملي، أحاديثه من غير رواية ابنه أكثرها مستقيمة وهذا منها، وقد توبع عليه،: وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
203. باب الأذكار - ذكر ما يكرم الله جل وعلا به في القيامة من ذكره في دار الدنيا
اذکار کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا قیامت کے دن اس شخص کو عزت دے گا جو دنیا کی دار میں اس کا ذکر کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 816
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ"، فَقِيلَ: مَنْ أَهْلُ الْكَرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَهْلُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْمَسَاجِدِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آج کے دن اہل دولت جان لیں گے کہ کون معزز ہیں“، تو دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! کون معزز ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں منعقد کی جانے والی محفلِ ذکر کے افراد معزز ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 816، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11831، 11901، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1046، 1403» «رقم طبعة با وزير 813»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (2/ 233). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف دراج أبو السمح حديثه عن أبي الهيثم عن أبي سعيد فيه ضعف فيما نقله ابن عدي عن الإمام أحمد، وأبو طاهر هو أحمد بن عمرو بن السرْح المصري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں