صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
155. باب قراءة القرآن - ذكر تفضل الله جل وعلا على الماهر بالقرآن بكونه مع السفرة وعلى من يصعب عليه قراءته بتضعيف الأجر له
قرآن کی تلاوت کا بیان - اللہ جل وعلا کے فضل کا ذکر کہ قرآن میں ماہر کے لیے وہ سفیروں کے ساتھ ہوتا ہے اور جسے قراءت میں دشواری ہو اس کے لیے اجر دوگنا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 767
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ، مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور مہارت کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہے، تو وہ معزز نیک (فرشتوں) کے ساتھ ہوگا اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے مشکل کا سامنا کرتا ہے اس کے لیے دو گنا اجر ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4937، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 798، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 767، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7991، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1454، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2904، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3411، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3779، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 14، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24848» «رقم طبعة با وزير 764»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1307): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
156. باب قراءة القرآن - ذكر حفوف الملائكة بالقوم الذين يتلون كتاب الله ويتدارسونه فيما بينهم مع البيان بأن الرحمة تشملهم في ذلك الوقت
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ فرشتے ان لوگوں کے گرد گھیرا بناتے ہیں جو اللہ کی کتاب پڑھتے اور آپس میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں، اور اس وقت رحمت انہیں گھیر لیتی ہے
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ أَبُو عَمْرٍو بِنَسَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ فِي مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ. وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب بھی کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کا درس دیتے ہیں، تو ان لوگوں پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود (فرشتوں کے سامنے) ان لوگوں کا ذکر کرتا ہے، اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 768، 855، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11931، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1455، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3378، 3378 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3791، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9903» «رقم طبعة با وزير 765»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1308): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، محاضر بن المورع روى له البخاري تعليقاً ومسلم حديثا واحدا متابعة، وهو صدوق، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير حمد بن زنجويه، فقد روى له أبو داود والنسائي، وهو ثقة.
157. باب قراءة القرآن - ذكر إثبات نزول السكينة عند قراءة المرء القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے قرآن پڑھنے پر سکینت نازل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 769
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلا كَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْكَهْفِ وَدَابَّتُهُ مُوثَقَةٌ، فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ، تَرَى مِثْلَ الضَّبَابَةِ أَوِ الْغَمَامَةِ قَدْ غَشِيَتْهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " اقْرَأْ يَا فُلانُ، تِلْكَ السَّكِينَةُ أُنْزِلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ، أَوْ لِلْقُرْآنِ" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سورہ کہف کی تلاوت کر رہا تھا اور اس کا جانور بندھا ہوا تھا، اس جانور نے اچھلنا شروع کر دیا، اس شخص نے ایک بادل دیکھا جس نے اسے ڈھانپ لیا تھا، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تم تلاوت کرتے رہتے، یہ سکینت تھی جو قرآن کے پاس (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) قرآن کی وجہ سے نازل ہو رہی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 769]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3614، 4839، 5011، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 795، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 769، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2885، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18766» «رقم طبعة با وزير 766»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (3058): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
158. باب قراءة القرآن - ذكر مثل المؤمن والفاجر إذا قرآ القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - مومن اور فاجر کی مثال کا ذکر جب وہ قرآن پڑھتے ہیں
حدیث نمبر: 770
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ، وَلا رِيحَ لَهَا" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال «الأُتْرُجَّةِ» ”ناشپاتی“ کی طرح ہے، جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی پاکیزہ ہوتی ہے، اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال کھجور کی طرح ہے، جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، اور وہ فاجر (یعنی منافق یا کافر) شخص جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس کی مثال «الرَّيْحَانَةِ» ”ریحانہ“ کی مانند ہے، جس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور وہ فاجر (یعنی کافر یا منافق) شخص جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال «الْحَنْظَلَةِ» ”حنظلہ“ کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 770]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5020، 5059، 5427، 7560، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 121، 770، 771، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5053، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2865، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3406، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 214، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19858» «رقم طبعة با وزير 767»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «نقد الكتاني» (ص 43)، «الصحيحة» (3214): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
159. باب قراءة القرآن - ذكر الإخبار عن وصف المؤمن والفاجر إذا قرآ القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ مومن اور فاجر کی حالت جب وہ قرآن پڑھتے ہیں
حدیث نمبر: 771
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، مَثَلُ الأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ، أَوِ الْفَاجِرِ، الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ، أَوِ الْفَاجِرِ، الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ وَلا رِيحَ لَهَا" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ مومن جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کی مثال «الأُتْرُجَّةِ» (سنگترے یا چکوترے) کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی میٹھا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے، اور وہ مومن جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا، اس کی مثال «التَّمْرَةِ» (کھجور) کی مانند ہے، جس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی، اور وہ منافق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: فاجر شخص) جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے، اس کی مثال «الرَّيْحَانَةِ» (ریحانہ) کی طرح ہے، جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے، لیکن اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور وہ منافق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: فاجر شخص) جو قرآن کی تلاوت نہیں کرتا ہے، اس کی مثال «الْحَنْظَلَةِ» (حنظلہ) کی مانند ہے، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5020، 5059، 5427، 7560، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 797، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 121، 770، 771، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5053، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2865، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3406، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 214، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19858» «رقم طبعة با وزير 768»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
160. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن القرآن يرتفع به أقوام ويتضع به آخرون على حسب نياتهم في قراءتهم
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قرآن بعض اقوام کو بلند کرتا ہے اور بعض کو ان کی نیتوں کے مطابق پست کرتا ہے
حدیث نمبر: 772
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، تَلَقَّى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَى عُسْفَانَ، وَكَانَ نَافِعٌ عَامِلا لِعُمَرَ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ يَعْنِي أَهْلَ مَكَّةَ، قَالَ: ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي، قَالَ عُمَرُ : اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟! فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَرْفَعُ بِهَذَا الْقُرْآنِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ" .
ابوطفیل بیان کرتے ہیں: نافع بن عبدالحارث کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ”عسفان“ کے مقام پر ہوئی، نافع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مکہ مکرمہ کے گورنر تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”تم نے اپنے پیچھے کس کو مکہ میں اپنا نائب مقرر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ابن ابزی کو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”ابن ابزی کون ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ایک آزاد کردہ غلام ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ان لوگوں پر اپنا ایک آزاد کردہ غلام نائب بنا دیا ہے؟“ تو نافع نے ان سے گزارش کی کہ وہ اللہ کی کتاب کا عالم ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس قرآن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو سربلندی عطا فرمائے گا اور کچھ دوسرے لوگوں کو پستی عطا کرے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 772]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 817، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 772، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3408، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 218، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5205، وأحمد فى (مسنده) برقم: 237» «رقم طبعة با وزير 769»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2239)، «تخريج المختارة»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري - هو محمد بن المتوكل وإن كان في حفظ شيء - متابع، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير نافع، فمن رجال مسلم.
161. باب قراءة القرآن - ذكر ما أمر غير عبد الله بن عمرو بقراءته ابتداء
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عبد اللہ بن عمرو کو ابتدائی طور پر کیا پڑھنے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 773
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ:" اقْرَأْ ثَلاثًا مِنْ ذَوَاتِ الر"، قَالَ الرَّجُلُ: كَبُرَ سِنِّي، وَثَقُلَ لِسَانِي، وَغَلُظَ قَلْبِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ثَلاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم"، فَقَالَ الرَّجُلُ: مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَكِنْ أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ سورة الزلزلة آية 1 حَتَّى بَلَغَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7 قَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُبَالِي أَنْ لا أَزِيدَ عَلَيْهَا حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ، وَلَكِنْ أَخْبِرْنِي بِمَا عَلَيَّ مِنَ الْعَمَلِ أَعْمَلْ مَا أَطَقْتُ الْعَمَلَ، قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخُمْسُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَأَدِّ زَكَاةَ مَالِكَ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے قرآن پڑھنا سکھائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «الرَّ» سے شروع ہونے والی تین سورتوں کی تلاوت سیکھ لو۔“ اس شخص نے عرض کی: میری عمر زیادہ ہو گئی ہے، زبان وزنی ہو گئی ہے اور دل سخت ہو گیا ہے (یعنی حافظہ کمزور ہے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم «حمٓ» سے شروع ہونے والی تین سورتیں سیکھ لو۔“ اس شخص نے اس کی مانند کلمات کہے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایک جامع سورۃ پڑھنا سکھا دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورہ زلزال پڑھنا سکھا دی، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] پر پہنچے جس کا ترجمہ ہے: ”جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔“ اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں اس بات کی پروا نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ مزید بھی کچھ سیکھوں، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤں۔ آپ مجھے یہ بتا دیجیے مجھ پر کون سا عمل کرنا لازم ہے میں وہ عمل کروں گا جس کی میں طاقت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ نمازیں پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 773]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 773، 5914، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3986، 7624، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4377، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4439، 7973، 10484، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1399، 2789، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6686» «رقم طبعة با وزير 770»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «ضعيف أبي داود» (247).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، عيسى بن هلال الصدفي، روى عنه غير واحد وذكره المؤلف في الثقات، وأورده الفسوي في تاريخه 2/ 515 - 516 في ثقات التابعين من أهل مصر، وباقي رجاله ثقات من رجال الصحيح.
162. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن فاتحة الكتاب من أفضل القرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ فاتحہ الکتاب قرآن کی افضل سورتوں میں سے ہے
حدیث نمبر: 774
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ آدَمَ غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَزَلَ، فَمَشَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى جَانِبِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ؟"، قَالَ: فَتَلا عَلَيْهِ" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ"، أَرَادَ بِهِ: بِأَفْضَلِ الْقُرْآنِ لَكَ، لا أَنَّ بَعْضَ الْقُرْآنِ يَكُونُ أَفْضَلَ مِنْ بَعْضٍ، لأَنَّ كَلامَ اللَّهِ يَسْتَحِيلُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ تَفَاوُتُ التَّفَاضُلِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، آپ سواری سے نیچے اترے، آپ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب آپ کے پیچھے کی طرف گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل حصے کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ تلاوت کی: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا میں تمہیں قرآن کے افضل کے بارے میں نہ بتاؤں“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے: (جسے پڑھنا) تمہارے لیے افضل ہے، ایسا نہیں ہے کہ قرآن کا ایک حصہ دوسرے سے افضل ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں یہ بات ناممکن ہے کہ اس میں ”تفاضل“ ہو (یعنی کسی ایک حصے کو دوسرے پر فضیلت ہو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 774]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 774، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2063، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7957، 10491» «رقم طبعة با وزير 771»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 216 - 217).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أحمد بن آدم ذكرد المؤلف في «الثقات» 8/ 30 فقال: أحمد بن آدم الجرجاني، كنيه أبو عبد الله يعرف بغندر يروي، عن أبي عاصم، ويزيد بن هارون، والبصريين، مات سنة خمس ومئتين أو قبلها أو بعدها بقليل، وقال السهمي في «تاريخ جرجان» ص 69: أحمد بن آدم غندر أبو جعفر الخلنجي صاحب حديث مكثر ثقة وباقي رجاله ثقات.
163. باب قراءة القرآن - ذكر البيان بأن فاتحة الكتاب مقسومة بين القارئ وبين ربه
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ فاتحہ الکتاب قاری اور اس کے رب کے درمیان تقسیم کی گئی ہے
حدیث نمبر: 775
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ ، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: مَا فِي التَّوْرَاةِ، وَلا فِي الإِنْجِيلِ، مِثْلُ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ" مَا فِي التَّوْرَاةِ، وَلا فِي الإِنْجِيلِ، مِثْلُ أُمِّ الْقُرْآنِ"، أَنَّ اللَّهَ لا يُعْطِي لِقَارِئِ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ مِنَ الثَّوَابِ مَا يُعْطِي لِقَارِئِ أُمِّ الْقُرْآنِ، إِذِ اللَّهُ بِفَضْلِهِ فَضَّلَ هَذِهِ الأُمَّةَ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ الأُمَمِ، وَأَعْطَاهَا الْفَضْلَ عَلَى قِرَاءَةِ كَلامِ اللَّهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى غَيْرَهَا مِنَ الْفَضْلِ عَلَى قِرَاءَةِ كَلامِهِ، وَهُوَ فَضْلٌ مِنْهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ، وَعَدْلٌ مِنْهُ عَلَى غَيْرِهَا.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تورات میں اور انجیل میں «أُمُّ الْقُرْآنِ» ”ام القرآن“ (یعنی سورہ فاتحہ کی) مانند اور کوئی سورت نہیں ہے، یہی «السَّبْعُ الْمَثَانِي» ”سبع مثانی“ ہے، یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہوئی ہیں اور میرا بندہ جو مانگتا ہے وہ اسے ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ ”تورات اور انجیل میں ام القرآن (یعنی سورہ فاتحہ) کی مانند کوئی چیز نہیں ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات اور انجیل کی تلاوت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا نہیں کرتا جتنا سورہ فاتحہ کی تلاوت کرنے والے کو عطا کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے تحت اس امت کو باقی تمام امتوں پر فضیلت عطا کی ہے اور اس (امت کو) اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے پر اس سے زیادہ فضیلت عطا کی ہے جو دوسری (امتوں کو ان پر نازل ہونے والے) اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت پر عطا کی تھی اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور دوسری امتوں کے لیے یہ اس کا عدل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 775]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 500، 501، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 775، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2055، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 913، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3125، 3125 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3415» «رقم طبعة با وزير 772»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 216).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو أسامة: هو حماد بن أسامة بن زيد القرشي الكوفي.
164. باب قراءة القرآن - ذكر كيفية قسمة فاتحة الكتاب بين العبد وبين ربه
قرآن کی تلاوت کا بیان - فاتحہ الکتاب کی تقسیم کا طریقہ بندے اور اس کے رب کے درمیان بیان کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 776
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَوْدُودٍ أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" قَالَ:، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، ثُمَّ قَالَ: يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قُسِمَتِ الصَّلاةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عِبَادِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَنِصْفُهَا لِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، إِذَا قَالَ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، قَالَ اللَّهُ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 يَقُولُ اللَّهُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، يَقُولُ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، وَمَا بَقِيَ فَلِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7. فَهَذَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْمُغِيرَةِ: عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ الْخَوْلانِيُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرتا ہے اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا، تو وہ نماز ناقص ہوتی ہے، وہ ناقص ہوتی ہے، وہ مکمل نہیں ہوتی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرے بازو پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے فارسی! تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز (یعنی سورۃ فاتحہ کی تلاوت کو) اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا ہے، اس کا نصف حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور نصف حصہ میرے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا، جب بندہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ» ﴿سورة الفاتحة: 2﴾ ”سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی، جب بندہ «الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿سورة الفاتحة: 3﴾ ”نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، جب بندہ «مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ» ﴿سورة الفاتحة: 4﴾ ”بدلے کے دن کا مالک“ پڑھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ (یہ بعد والی آیت) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے وہ کہتا ہے: «إِیَّاكَ نَعْبُدُ وَإِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ» ﴿سورة الفاتحة: 5﴾ ”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں“ اور اس کے بعد والا باقی حصہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا وہ یہ پڑھتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ» ﴿سورة الفاتحة: 6-7﴾ ”تو صراط مستقیم کی طرف ہمیں ہدایت دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر تو نے اپنا انعام کیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر غضب نازل کیا گیا اور جو گمراہ ہوئے“ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)، تو یہ چیز میرے بندے کو ملے گی اور میرے بندے نے جو مانگا ہے وہ اسے ملے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابومغیرہ نامی راوی کا نام عبدالقدوس بن حجاج خولانی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 776]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 395، ومالك فى (الموطأ) برقم: 278، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 489، 490، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 776، 1784، 1788، 1789، 1794، 1795، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 875، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 908، وأبو داود فى (سننه) برقم: 821، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2953، 2953 م 1، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 838، 3784، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 168، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1189، 1209، 1224، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7411»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة» (ص 97): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن ثوبان: واسمه عبد الرحمن بن ثابت العنسي الدمشقي - فيه ضعف خفيف - فهو ممن يكتب حديثه للمتابعة، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.