صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
373. باب الاستطابة - ذكر إباحة دنو المرء من البائل إذا لم يكن يحتشمه
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ پیشاب کرنے والے کے قریب جائے اگر وہ اس سے شرم نہ کرے
حدیث نمبر: 1427
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى صِرْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ وَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے، آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے قریب ہوا یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، میں نے آپ پر پانی انڈیلا تو آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1427]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 224، 225، 226، 2471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 273، وابن الجارود فى "المنتقى"، 39، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 52، 61، 63، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1424، 1425، 1427، 1428، 1429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 18، وأبو داود فى (سننه) برقم: 23، والترمذي فى (جامعه) برقم: 13، 13 م 1، 13 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 305، 306، 544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18437» «رقم طبعة با وزير 1424»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1422). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله رجال الشيخين غير مسدد أحمد، فمن رجال البخاري.
374. باب الاستطابة - ذكر البيان بأن حذيفة إنما دنا من المصطفى صلى الله عليه وسلم في تلك الحالة بأمره صلى الله عليه وسلم
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ حذیفہ اس حالت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اس کے حکم سے گئے
حدیث نمبر: 1428
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ، فَدَعَانِي، فَقَالَ: ادْنُ، فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفِيهِ" .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں ایک طرف ہٹنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”قریب ہو جاؤ“، میں قریب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1428]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 224، 225، 226، 2471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 273، وابن الجارود فى "المنتقى"، 39، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 52، 61، 63، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1424، 1425، 1427، 1428، 1429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 18، وأبو داود فى (سننه) برقم: 23، والترمذي فى (جامعه) برقم: 13، 13 م 1، 13 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 305، 306، 544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18437» «رقم طبعة با وزير 1425»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عبد الرحمن بن عمرو بن عبد الرحمن البجلي، قال المؤلف في «الثقات» 8/ 380: من أهل حران، كنيته أبو عثمان، يروي عن زهير بن معاوية، وموسى بن أعين، حدثنا عنه أبو عوانة، مات بحران سنة ست وثلاثين ومئتين. وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين.
375. باب الاستطابة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سليمان الأعمش
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر سلیمان اعمش نے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 1429
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: كَانَ أَبُو مُوسَى يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ، وَيَقُولُ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ، قَرَضَهُ بِالْمِقْرَاضِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ لا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، " فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، قَالَ: فَاسْتَتَرْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے معاملے میں نہایت سختی کیا کرتے تھے۔ وہ یہ کہا کرتے تھے: بنی اسرائیل میں سے اگر کسی شخص کی کھال پر پیشاب لگ جاتا تھا تو وہ قینچی کے ذریعے اسے کاٹ دیا کرتا تھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میری یہ خواہش تھی کہ تمہارے صاحب (یعنی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) اس معاملے میں اتنی سختی نہ کرتے، کیونکہ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے، میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے پیچھے کچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور آپ اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص کھڑا ہوتا ہے۔ آپ نے پیشاب کیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے آپ کے لئے پردہ کیا، تو آپ نے میری طرف اشارہ کیا۔ میں آگے آیا اور پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1429]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 224، 225، 226، 2471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 273، وابن الجارود فى "المنتقى"، 39، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 52، 61، 63، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1424، 1425، 1427، 1428، 1429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 18، وأبو داود فى (سننه) برقم: 23، والترمذي فى (جامعه) برقم: 13، 13 م 1، 13 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 305، 306، 544، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18437» «رقم طبعة با وزير 1426»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
376. باب الاستطابة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر حذيفة الذي ذكرناه
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ حذیفہ کی خبر کے مخالف ہے جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 1430
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَكَذِّبْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ قَدْ يُوهِمُ غَيْرَ الْمُتَبَحِّرِ فِي صِنَاعَةِ الْحَدِيثِ أَنَّهُ مُضَادٌّ لِخَبَرِ حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكرْنَاهُ، لَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ حُذَيْفَةَ رَأَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ قَائِمًا عِنْدَ سُبَاطَةِ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ، وَهِيَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ، وَقَدْ أَبَنَّا السَّبَبَ فِي فِعْلِهِ ذَلِكَ، وَعَائِشَةُ لَمْ تَكُنْ مَعَهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، إِنَّمَا كَانَتْ تَرَاهُ فِي الْبُيُوتِ يَبُولُ قَاعِدًا، فَحَكَتْ مَا رَأَتْ، وَأَخْبَرَ حُذَيْفَةُ بِمَا عَايَنَ، وَقَوْلُ عَائِشَةَ فَكَذِّبْهُ، أَرَادَتْ: فَخَطِّئْهُ، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الْخَطَأَ كَذِبًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے، تو تم اسے جھوٹا قرار دو کیونکہ میں نے آپ کو ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ یہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول اس روایت کی متضاد ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوار کے پاس کچرے کے ڈھیر کے پاس پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ مدینہ منورہ کے کنارے کی بات ہے اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا سبب بیان کر دیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں بیٹھ کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے وہ چیز بیان کی ہے جو انہوں نے دیکھی ہے، مگر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ بات بیان کی ہے جو انہوں نے دیکھی ہے، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ ”تم اسے جھوٹا قرار دو“ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ تم اسے غلط قرار دو کیونکہ بعض اوقات عرب غلطی کے لیے لفظ «كَذِب» استعمال کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1430]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1430، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 649، 664، 665، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 29، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 25، والترمذي فى (جامعه) برقم: 12، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 307، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 496، 497، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25685» «رقم طبعة با وزير 1427»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (201). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، شريك: هو ابن عبد الله القاضي - وإن كان سيء الحفظ - قد توبع، وباقي رجاله ثقات.
377. باب الاستطابة - ذكر الزجر عن الاستطابة بالروث والعظم
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ گوبر یا ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1431
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، أُعَلَمْكُمْ، إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلا يَسْتَنْجِ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ، وَكَانَ يَأْمُرُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنِ الرَّوْثَةِ وَالرِّمَّةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں تمہارے لیے باپ کی جگہ ہوں، میں تمہاری تعلیم و تربیت کرتا ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو اور کوئی شخص دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کرے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھروں کے ذریعے استنجا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1431]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 265، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 80، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1431، 1435، 1440، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 40، وأبو داود فى (سننه) برقم: 8، والدارمي فى (مسنده) برقم: 701، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 312، 313، والدارقطني فى (سننه) برقم: 152، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7485، 7527، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1018» «رقم طبعة با وزير 1428»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «تخريج المشكاة» (347)، «صحيح أبي داود» (6): م بعضه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل ابن عجلان، واسمه محمد.
378. باب الاستطابة - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن الاستنجاء بالعظم والروث
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر ہڈی اور گوبر سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ : هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ:" لا، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ، قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمْا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَقَالَ: " أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا، فَأَرَانَا نِيرَانَهُمْ، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، فَقَالَ:" لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ، وَلا بِالْبَعْرِ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ" .
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ تو علقمہ نے بتایا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کیا جنوں سے ملاقات کی رات آپ میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ تو انہوں نے بتایا: جی نہیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات موجود تھے، ہم نے آپ کو غیر موجود پایا، ہم نے گھاٹیوں اور نشیبی علاقوں میں آپ کو تلاش کیا، ہم نے یہ سوچا شاید آپ کو چپکے سے یا دھوکے کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہماری وہ رات ایسی تھی جیسے کسی قوم نے سب سے زیادہ بری رات بسر کی ہو۔ جب صبح کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی طرف سے تشریف لائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا، ہم نے آپ کو تلاش کیا آپ ہمیں نہیں ملے، تو ہم نے اس طرح رات بسر کی جس طرح کسی قوم نے انتہائی بری حالت میں بسر کی ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کی طرف سے ایک نمائندہ آیا تھا میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور آپ نے ہمیں ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کی درخواست کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا ذکر کر دیا جائے وہ تمہارے ہاتھوں میں جب آئے گی اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہو گا، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارا ہو گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم سے) فرمایا: ”تم لوگ ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1432]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 450، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 82، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1432، 6320، 6527، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 39، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 38، وأبو داود فى (سننه) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى (جامعه) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى (مسنده) برقم: 12، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 384، 385، والدارقطني فى (سننه) برقم: 149، 150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3858» «رقم طبعة با وزير 1429»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون قوله: «ذكر اسم الله عليه»، و «علف لدوابكم» - «الضعيفة» (1038)، «الإرواء» (1/ 85 / 46): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، ابن أبي زائدة:: هو يحيى بن زكريا بن أبي زائدة.
379. باب الاستطابة - ذكر الزجر عن مس الرجل ذكره بيمينه
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ آدمی اپنا ذکر دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے
حدیث نمبر: 1433
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَطَّانُ ، بِتِنِّيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”آدمی اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو چھوئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1433]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 1430»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (24). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أن أبا الزبير - واسمه: محمد بن مسلم بن تدرس - مدلس وقد عنعن، ويشهد له حديث أبي قتادة الآتي، ومحمد بن إشكاب: هو محمد بن الحسين بن إبراهيم العامري البغدادي الحافظ.
380. باب الاستطابة - ذكر البيان بأن هذا الفعل إنما زجر عنه عند مسح الرجل ذكره إذا بال
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ یہ ممانعت اس وقت ہے جب آدمی پیشاب کے بعد اپنا ذکر مسح کرے
حدیث نمبر: 1434
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلا يَمْسَحْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلا يَسْتَنْجِي بِيَمِينِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن ابوقتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص پیشاب کرے، تو اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنی شرم گاہ کو نہ چھوئے اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1434]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 153، 154، 5630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 68، 78، 79، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1434، 5228، 5328، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 24، وأبو داود فى (سننه) برقم: 31، والترمذي فى (جامعه) برقم: 15، 1889، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 310، 310 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19729» «رقم طبعة با وزير 1431»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيح» -أيضا-: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، عبد الرحمن بن إبراهيم: هو العثماني مولاهم الدمشقي الملقب بدُحَيْم، ثقه، حافظ، أخرج له البخاري، وباقي رجال السند على شرطهما.
381. باب الاستطابة - ذكر الزجر عن الاستنجاء باليمين لمن أراده
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا گیا جو اس کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 1435
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، وَاللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الاسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے“ سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 265، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 80، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1431، 1435، 1440، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 40، وأبو داود فى (سننه) برقم: 8، والدارمي فى (مسنده) برقم: 701، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 312، 313، والدارقطني فى (سننه) برقم: 152، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7485، 7527، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1018» «رقم طبعة با وزير 1432»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1428). تنبيه!! رقم (1428) = (1431) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وقد تقدم برقم (1431) من طريق وهيب، عن ابن عجلان، به، بأطول مما هنا.
382. باب الاستطابة - ذكر الأمر لمن أراد الاستجمار أن يجعله وترا
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو استجمار کرنا چاہے وہ اسے طاق بنائے
حدیث نمبر: 1436
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفِيانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ سَلَمْةَ بْنِ قَيْسٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ" .
سیدنا سلمہ بن قیس اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم وضو کرو، تو ناک میں بھی پانی ڈالا کرو اور جب تم (استنجا کرتے ہوئے) پتھر استعمال کرو، تو طاق تعداد میں کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1436]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1436، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 43، 89، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 44، 45، والترمذي فى (جامعه) برقم: 27، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 406، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19119» «رقم طبعة با وزير 1433»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1306). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح.