🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1243. فصل في صلاة السفر - ذكر البيان بأن الحاج له القصر في صلاته أيام حجه
فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ حاجی کو اس کے حج کے ایام میں اپنی نماز قصر کرنے کی اجازت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2756
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ الصَّلَوَاتِ رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ" .
سیدنا حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دو رکعات ادا کیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ زیادہ امن کی حالت میں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2756]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1083، 1656، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 696، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2756، 2757، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1965، والترمذي فى (جامعه) برقم: 882، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5463، 5464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19029» «رقم طبعة با وزير 2745»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1714): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1244. فصل في صلاة السفر - ذكر الخبر المدحض قول من أمر بإتمام الصلاة لمن أقام بمنى أيامه تلك في حجته
فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ منیٰ میں اپنے قیام کے ایام میں حاجی کو نماز مکمل کرنے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2757
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ صَلَّى بِنَا بِمِنًى، وَنَحْنُ أَوْفَرَ مَا كُنَّا رَكْعَتَيْنِ" .
سیدنا حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی (راوی کو شک ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں نماز پڑھائی، اس وقت ہماری تعداد زیادہ تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھائی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1083، 1656، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 696، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2756، 2757، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1965، والترمذي فى (جامعه) برقم: 882، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5463، 5464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19029» «رقم طبعة با وزير 2746»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1245. فصل في صلاة السفر - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الحاج عليه أن يتمم الصلاة بمنى أيام مقامه بها
فصل: سفر کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ حاجی پر منیٰ میں اپنے قیام کے ایام میں نماز مکمل کرنا لازم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2758
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلاةَ الْمُسَافِرِ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ خِلافَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا أَرْبَعًا" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں مسافر کی نماز کی طرح دو رکعات پڑھائی تھیں۔ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت کے ابتدائی حصے میں بھی دو رکعات پڑھائی تھیں، بعد میں وہ وہاں چار رکعات پڑھنے لگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1082، 1655، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 694، وابن الجارود فى "المنتقى"، 540، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2963، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2758، 3893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1449، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5410، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4621» «رقم طبعة با وزير 2747»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1712). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1246. باب سجود التلاوة - ذكر رجاء دخول الجنان لمن سجد لله في تلاوته
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اپنی تلاوت میں اللہ کے لیے سجدہ کرتا ہے اس کے لیے جنت میں داخلے کی امید ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2759
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، وَيَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ السُّجُودَ فَسَجَدَ، فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب ابن آدم آیتِ سجدہ تلاوت کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے، وہ یہ کہتا ہے: ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے سجدہ کر لیا تو اسے جنت مل جائے گی اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، میں نے انکار کیا تو مجھے جہنم ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2759]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 549، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2759، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1052، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 187، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3764، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9844، والبزار فى (مسنده) برقم: 9165» «رقم طبعة با وزير 2748»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج إصلاح المساجد» (69): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1247. باب سجود التلاوة - ذكر ما يستحب لمن سمع تلاوة القرآن أن يسجد عند سجود التلاوة
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو اس کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ قرآن کی تلاوت سنے تو سجدہ تلاوت کے وقت سجدہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2760
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَيَأْتِي عَلَى السَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ لِسُجُودِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جب آیت سجدہ پر پہنچتے تو سجدہ تلاوت کرتے تھے اور آپ کے ہمراہ ہم بھی سجدہ کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2760]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1075، 1076، 1079، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 557، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2760، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1412، 1413، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3763، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4760» «رقم طبعة با وزير 2749»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1272): ق بأتم. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1248. باب سجود التلاوة - ذكر ما يستحب للمرء السجود إذا قرأ " إذا السماء انشقت "
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ سورہ انشقاق پڑھے تو سجدہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2761
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّهُ قَرَأَ بِهِمْ: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 فَسَجَدَ فِيهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ الانشقاق تلاوت کی تو اس میں سجدہ تلاوت کیا، جب وہ یہ کر کے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بھی اس میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2761]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 766، 768، 1074، 1078، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 578، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 554، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2761، 2767، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 960، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1407، 1408، والترمذي فى (جامعه) برقم: 573، 574، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1058، 1059، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7261» «رقم طبعة با وزير 2750»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1269). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1249. باب سجود التلاوة - ذكر إباحة ترك السجود عند قراءة سورة والنجم
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ سورہ النجم پڑھنے پر سجدہ ترک کیا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2762
أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: " قَرَأْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سورہ نجم کی تلاوت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2762]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1072، 1073، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 577، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 566، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2762، 2769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 959، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1404، والترمذي فى (جامعه) برقم: 576، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1513، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3769، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1527، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21992» «رقم طبعة با وزير 2751»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1266): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1250. باب سجود التلاوة - ذكر ما يستحب للمرء إذا قرأ سورة النجم استعمال السجود لله جل وعلا
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ سورہ النجم پڑھے تو اللہ جل وعلا کے لیے سجدہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2763
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ ، وَعُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي النَّجْمِ، وَسَجَدَ مَعَهُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ تلاوت کیا، آپ کے ہمراہ مسلمانوں، مشرکین، جنات اور انسانوں نے بھی سجدہ تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1071، 4862، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2763، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3766، والترمذي فى (جامعه) برقم: 575، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3768، 3776، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1524، 1525، والبزار فى (مسنده) برقم: 5097» «رقم طبعة با وزير 2752»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «نصب الجانيق لنسف قصة الغرانيق» (ص 18 و 25 و 31): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1251. باب سجود التلاوة - ذكر الخبر الدال على أن عموم هذا الخبر أريد بعض العموم لا الكل
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس خبر کا عمومیت سے مراد بعض عمومیت ہے، نہ کہ کلی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2764
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلا سَجَدَ، إِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَوَضَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ"، وَقَالَ: يَكْفِينِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿سورة النجم﴾ کی تلاوت کی تو سجدہ تلاوت کیا، حاضرین میں سے ہر شخص نے سجدہ تلاوت کیا صرف ایک شخص نے نہیں کیا، اس نے مٹھی میں کنکریاں لیں اور اپنی پیشانی کے ساتھ لگا دیں اور بولا: ”میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اس شخص کو دیکھا، وہ کافر ہونے کے عالم میں قتل ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2764]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1067، 1070، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 576، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 553، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2764، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 958، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1406، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3773، 3775، 3834، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3757» «رقم طبعة با وزير 2753»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1267): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1252. باب سجود التلاوة - ذكر ما يستحب للمرء أن يسجد عند قراءته سورة ص
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ سورہ ص پڑھے تو سجدہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2765
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ص وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ، وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَنَشَّزَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَنَشَّزْتُمْ لِلسُّجُودِ"، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدُوا .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ﴿ص﴾ [سورة ص: 1] کی تلاوت کی، آپ اس وقت منبر پر موجود تھے، جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت کیا اور آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ جب اگلا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور جب سجدہ تلاوت کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک نبی کی توبہ کا واقعہ ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں تم لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2765]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1455، 1795، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2765، 2799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1056، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1410، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1519، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11920» «رقم طبعة با وزير 2754»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1271). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں