صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1253. باب سجود التلاوة - ذكر العلة التي من أجلها سجد صلى الله عليه وسلم في ص
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ص میں سجدہ کیا
حدیث نمبر: 2766
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالأَشَجُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ الْعَبَّاسِ : سَجْدَةُ (ص) مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَهَا؟ قَالَ: فَتَلا عَلَيَّ: (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ سورة الأنعام آية 84 حَتَّى بَلَغَ إِلَى قَوْلِهِ: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 90) ، قَالَ:" كَانَ دَاوُدُ سَجَدَ فِيهَا، فَلِذَلِكَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ سورة ص میں سجدہ تلاوت موجود ہونے کا حکم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے؟ تو انہوں نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اس کی ذریت میں مسلمان داؤد سلیمان اور ایوب ہیں﴾ [سورة الأنعام: 84] ، یہ آیت انہوں نے یہاں تک تلاوت کی: ﴿یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا کی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو﴾ [سورة الأنعام: 90] ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: سیدنا داؤد علیہ السلام نے اس جگہ پر سجدہ کیا تھا، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی (اس آیت پر) سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2766]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1069، 3421، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 550، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2766، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1409، والترمذي فى (جامعه) برقم: 577، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 889، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2562، والحميدي فى (مسنده) برقم: 483» «رقم طبعة با وزير 2755»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1270)، «المشكاة» (2038). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
1254. باب سجود التلاوة - ذكر ما يستحب للمرء أن يسجد عند قراءته سورة اقرأ باسم ربك
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ سورہ اقرأ باسم ربک پڑھے تو سجدہ کرے
حدیث نمبر: 2767
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سورہ انشقاق اور سورہ علق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں سجدہ تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2767]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 766، 768، 1074، 1078، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 578، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 554، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2761، 2767، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 960، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1407، 1408، والترمذي فى (جامعه) برقم: 573، 574، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1058، 1059، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7261» «رقم طبعة با وزير 2756»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1268): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
1255. باب سجود التلاوة - ذكر ما يدعو المرء به في سجود التلاوة في صلاته
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی اپنی نماز میں سجدہ تلاوت کے وقت مانگتا ہے
حدیث نمبر: 2768
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ : يَا حَسَنُ، حَدَّثَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ، فَرَأَيْتُ كَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً، فَرَأَيْتُ الشَّجَرَةَ كَأَنَّهَا تَسْجُدُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا وَهِيَ سَاجِدَةٌ وَهِيَ تَقُولُ: " اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ الرَّجُلُ عَنْ كَلامِ الشَّجَرَةِ" .
حسن بن محمد کہتے ہیں، ابن جریج نے مجھ سے کہا: اے حسن! تمہارے دادا عبیداللہ بن ابی یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حدیث مجھے بیان کی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے گزشتہ رات خواب دیکھا ہے، گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہوں، میں نے دیکھا کہ میں نے آیتِ سجدہ تلاوت کی، پھر میں نے درخت کو دیکھا وہ بھی میرے سجدے کی طرح سجدہ کر رہا ہے، میں نے اسے سجدے کی حالت میں یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ» ”اے اللہ! تو اس کے عوض میں اپنی بارگاہ میں میرے لیے اجر لکھ لے اور اسے اپنی بارگاہ میں ذخیرے کے طور پر رکھ دے اور اس کی وجہ سے میرے گناہ کو ختم کر دے اور اسے میری طرف سے اسی طرح قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے سیدنا داؤد علیہ السلام سے قبول کیا تھا“۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیتِ سجدہ تلاوت کی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں وہی کلمات پڑھتے ہوئے سنا جو اس شخص نے درخت کے کلام کے حوالے سے بیان کیے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 562، 563، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2768، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 804، والترمذي فى (جامعه) برقم: 579، 3424، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1053، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3819، 3820، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11262» «رقم طبعة با وزير 2757»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2710). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
1256. باب سجود التلاوة - ذكر البيان بأن سجود المرء عند القراءة في المواضع المعلومة من كتاب الله ليس بفرض
قرآن کی تلاوت کے دوران سجدہ کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کا قرآن کی معلوم جگہوں پر تلاوت کے وقت سجدہ کرنا فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 2769
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۂ نجم کی تلاوت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1072، 1073، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 577، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 566، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2762، 2769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 959، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1404، والترمذي فى (جامعه) برقم: 576، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1513، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3769، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1527، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21992» «رقم طبعة با وزير 2758»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2751). تنبيه!! رقم (2751) = (2762) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
1257. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن أفضل الأيام يوم الجمعة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے
حدیث نمبر: 2770
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا وَهِيَ تَفْزَعُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِلا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ: الْجِنِّ، وَالإِنْسِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سورج کسی ایسے دن پر طلوع نہیں ہوتا اور غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ رہتا ہے صرف یہ دو گروہ جن اور انسان (خوف زدہ نہیں ہوتے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2770]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 929، 3211، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 850، وابن الجارود فى "المنتقى"، 315، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1727، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2770، 2774، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1092، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5941، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7378، 7379» «رقم طبعة با وزير 2759»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 249). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1258. باب صلاة الجمعة - ذكر الخصال التي إذا استعملها المرء في يوم الجمعة كان من أهل الجنة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس خصوصیات کا ذکر کہ اگر آدمی جمعہ کے دن ان کا استعمال کرے تو وہ جنتیوں میں سے ہوگا
حدیث نمبر: 2771
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ بَشِيرَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلانِيَّ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسٌ مَنْ عَمِلَهُنَّ فِي يَوْمٍ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ: مَنْ عَادَ مَرِيضًا، وَشَهِدَ جَنَازَةً، وَصَامَ يَوْمًا، وَرَاحَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأَعْتَقَ رَقَبَةً" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جو شخص ایک ہی دن میں ان پر عمل کر لے، تو اللہ تعالیٰ اسے اہل جنت میں لکھ لیتا ہے: جو شخص بیمار کی عیادت کرے، جنازے میں شریک ہو، ایک دن کا روزہ رکھے، جمعہ کے لیے جائے اور غلام کو آزاد کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2771، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1043، 1044، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية": 2471» «رقم طبعة با وزير 2760»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1023). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
1259. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن في الجمعة ساعة يستجاب فيها دعاء كل داعي
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے جس میں ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2772
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ، فَلَقِيتُ كَعْبَ الأَحْبَارِ، فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْهُ، أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلَّقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، مِنْ حِينِ تُصْبِحُ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلا الْجِنَّ وَالإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" ، قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ! فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ فَقُلْتُ: مِنَ الطُّورِ، فَقَالَ: لَوْ أَدْرَكْتُكَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيَّ مَا خَرَجْتَ إِلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا، وَإِلَى مَسْجِدِ إِيلِيَاءَ، أَوْ مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ" ، شَكَّ أَيُّهُمَا. قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الأَحْبَارِ، وَمَا حَدَّثَتْهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: وَذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: كَذَبَ كَعْبٌ، قُلْتُ: ثُمَّ قَرَأَ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ، ثُمّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا وَلا تَضِنَّنَ عَلَيَّ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي"، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لا يُصَلَّى فِيهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَلَسَ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ فَهُوَ فِي صَلاةٍ، حَتَّى يُصَلِّيَهَا" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَلَى، قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں کوہِ طور کی زیارت کے لیے روانہ ہوا تو میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی، میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا، انہوں نے مجھے تورات کے بارے میں کچھ باتیں بتائیں اور میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں بتایا، میں نے انہیں جو احادیث بیان کی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن دنوں پر سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، جمعہ کے دن سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انہیں زمین پر اتارا گیا، اسی دن ان کا انتقال ہوا، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن قیامت قائم ہو گی، ہر جانور جمعہ کے دن (گھبراہٹ کی وجہ سے) چیختا ہے اس وقت سے جب صبح (صادق) ہوتی ہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آئے (تو وہ چیخنا بند کر دیتا ہے)، وہ ایسا قیامت کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے، اس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں اگر مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا۔“ اس پر کعب الاحبار نے کہا: یہ خصوصیت پورے سال میں صرف کسی ایک دن میں ہوتی ہے؟ میں نے کہا: نہیں! بلکہ ہر جمعے میں ہوتی ہے، پھر کعب نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا: کوہ طور سے۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو (تمہیں بتاتا) تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مسجد بیت المقدس۔“
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، پھر میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا اور جمعہ کے دن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا: ہے، یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا: ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی، یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے، پھر عبداللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو۔“ تو اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ ”جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2772]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا بصرہ بن ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کہاں سے آ رہے ہو۔ میں نے کہا: کوہ طور سے۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں تمہارے اس کی طرف جانے سے پہلے تم سے مل لیتا تو (تمہیں بتاتا) تم اس کی طرف نہ جاؤ کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ مسجد الحرام اور میری یہ مسجد اور مسجد ایلیاء (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مسجد بیت المقدس۔“
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، پھر میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کعب الاحبار کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں ان کے سامنے ذکر کیا اور جمعہ کے دن کے بارے میں بھی انہیں بتایا تو میں نے ان سے کہا: کعب نے تو یہ کہا: ہے، یہ گھڑی سال میں صرف ایک دن ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کعب نے غلط کہا: ہے میں نے کہا: پھر انہوں نے تورات کی تلاوت کی تو یہ بات بیان کی، یہ گھڑی ہر جمعہ میں ہوتی ہے، تو عبداللہ بن سلام نے کہا: کعب نے یہ بات ٹھیک کہی ہے، پھر عبداللہ بن سلام نے فرمایا: میں یہ بات جانتا ہوں وہ کونسی گھڑی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ان سے کہا: آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں آپ اس حوالے سے میرے ساتھ بخل سے کام نہ لیجئے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس وقت میں جو مسلمان بندہ نماز ادا کر رہا ہو۔“ تو اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی۔ ”جو شخص بیٹھ کر نماز کا انتظار کر رہا ہو وہ نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر لے۔“ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 935، 5294، 6400، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 852، وابن الجارود فى "المنتقى"، 311، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2772، 2773، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1031، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 488، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1137، 1139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7272»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني (1) صحيح - «صحيح أبي داود» (962)، «أحكام الجنائز» (287). <br> (2) صحيح - «صحيح أبي داود» (962)، «أحكام الجنائز» (287). * [لاَ تُعْمَلُ] قال الشيخ: المشهور في أكثر الأحاديث: «لا تشد ... ». <br> (3) صحيح - «صحيح أبي داود» (962)، «أحكام الجنائز» (287). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط (1) إسناد صحيح على شرط الشيخين <br> (2) إسناد صحيح على شرط الشيخين <br> (3) إسناد صحيح على شرط الشيخين
1260. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يستجيب دعاء الداعي في الساعة التي في الجمعة إذا دعا في الخير دون الشر
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا جمعہ کے دن اس گھڑی میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے اگر وہ خیر کے لیے دعا کرے، نہ کہ شر کے لیے
حدیث نمبر: 2773
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو، تو وہ اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے جو مانگتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2773]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 935، 5294، 6400، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 852، وابن الجارود فى "المنتقى"، 311، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2772، 2773، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1031، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1046، والترمذي فى (جامعه) برقم: 488، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1137، 1139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7272» «رقم طبعة با وزير 2762»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
1261. باب صلاة الجمعة - ذكر تباين الناس في الأجر عند رواحهم إلى الجمعة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر کہ لوگوں کا جمعہ کی طرف جانے میں اجر کے لحاظ سے تفاوت ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2774
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ، يَكْتُبَانِ الأَوْلَ فَالأَوْلَ، فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً، فَإِذَا قَعَدَ الإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(جمعہ کے دن) مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے بیٹھ جاتے ہیں جو پہلے آنے والوں کے نام نوٹ کرتے ہیں، تو ان کی مثال یوں ہے: کسی شخص نے اونٹ کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے گائے کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے بکری کی قربانی کی پھر کسی ایک شخص نے پرندے کی قربانی کی پھر جیسے اس نے انڈا صدقہ کیا، پھر جب امام منبر پر (بیٹھ جاتا) ہے، تو صحیفے لپیٹ لیے جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2774]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 929، 3211، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 850، وابن الجارود فى "المنتقى"، 315، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1727، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2770، 2774، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1092، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5941، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7378، 7379» «رقم طبعة با وزير 2763»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 253). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله رجال الصحيح
1262. باب صلاة الجمعة - ذكر البيان بأن هذا الفضل إنما يكون لمن أتى الجمعة مغتسلا لها كغسل الجنابة
جمعہ کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ فضیلت اس کے لیے ہے جو جمعہ کے لیے جنابت کے غسل کی طرح غسل کر کے آئے
حدیث نمبر: 2775
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاحَ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ، حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ اسْمَ الرَّوَاحِ يَقَعُ عَلَى جَمِيعِ سَاعَاتِ النَّهَارِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الرَّوَاحَ لا يَكُونُ إِلا بَعْدَ الزَّوَالِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح کا غسل کرے اور پھر روانہ ہو جائے، تو گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، جو شخص دوسری گھڑی میں جائے اس نے گائے کی قربانی کی، جو شخص تیسری گھڑی میں جائے اس نے دنبے کی قربانی کی، جو شخص چوتھی گھڑی میں جائے اس نے مرغی کی قربانی کی، جو شخص پانچویں گھڑی میں جاتا ہے گویا اس نے انڈہ صدقہ کیا، جب امام آ جائے، تو فرشتے مسجد میں آ کر (ذکر یعنی خطبے کو) سنتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ لفظ «رَوَاح» (جانے) کا اطلاق دن کی تمام گھڑیوں پر ہوتا ہے، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ لفظ «رَوَاح» کا اطلاق صرف زوال کے بعد جانے پر ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2775]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 881، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 850، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2775، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1387، وأبو داود فى (سننه) برقم: 351، والترمذي فى (جامعه) برقم: 499، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5944، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10064» «رقم طبعة با وزير 2764»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (378): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null