🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
728. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الزجر لمن شهدت العشاء الآخرة في الجماعة أن ترفع رأسها قبل أخذ الرجال مقاعدهم إذا كان في ثيابهم قلة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ جو عورت عشاء کی آخری نماز جماعت سے شرکت کرے وہ اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک مرد اپنی جگہ نہ لیں، اگر ان کے کپڑوں میں کمی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2216
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" كُنَّ النِّسَاءُ يُؤْمَرْنَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ أَنْ لا يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ حَتَّى يَأْخُذَ الرِّجَالُ مَقَاعِدَهُمْ مِنَ الأَرْضِ، مِنْ ضِيقِ الثِّيَابِ" . قَالَ بِشْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي حَازِمٍ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خواتین کو نماز کے بارے میں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ”وہ اپنے سر (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک مرد اپنی جگہ پر بیٹھ نہیں جاتے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مردوں کے کپڑے تنگ ہوتے تھے۔ بشر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت ابوحازم سے بھی سنی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2216]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1695، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2216، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7542، والطبراني فى(الكبير) برقم: 5763» «رقم طبعة با وزير 2213»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (641): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
729. باب فرض متابعة الإمام - ذكر البيان بأن صلاة المرأة كلما كانت أستر كان أعظم لأجرها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا بیان کہ عورت کی نماز جتنی زیادہ پردے میں ہو، اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2217
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حُمَيْدٍ امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ الصَّلاةَ مَعَكَ. قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلاةَ مَعِي، وَصَلاتُكِ فِي بَيْتِكَ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلاتِكِ فِي مَسْجِدِي" . قَالَ: فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ، وَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا.
عبداللہ بن سوید انصاری اپنی پھوپھی سیدہ ام حمید رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، یہ سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنا پسند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا علم ہے کہ تم میری اقتداء میں نماز ادا کرنے کو پسند کرتی ہو، تاہم تمہارا گھر (کے اندرونی حصے) میں نماز ادا کرنا تمہارے اپنے حجرے (باہر کے قریب والے کمرے) میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے حجرے میں نماز ادا کرنا تمہارے گھر (کے صحن) میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنے گھر میں نماز ادا کرنا تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، اور تمہارا اپنی قوم کی مسجد میں نماز ادا کرنا تمہارا میری مسجد میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ ان خاتون کی ہدایت کے تحت ان کے لیے گھر کے سب سے دور دراز اور تاریک ترین کونے میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کی گئی اور وہ خاتون زندگی بھر اسی جگہ پر نماز ادا کرتی رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2217]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1689، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2217، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5454، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27732، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 7702، والطبراني فى(الكبير) برقم: 356» «رقم طبعة با وزير 2214»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 134 - 135). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث قوي، عبد الله بن سويد الأنصاري ترجمة البخاري 5/ 109، فلم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا، ذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 95، وقد توبع، وباقي السند رجاله ثقات رجال الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
730. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الزجر عن الصلاة بين السواري جماعة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - ستونوں کے درمیان جماعت سے نماز پڑھنے سے منع کرنے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2218
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَيْنَ السَّوَارِي، فَقَالَ: كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اس چیز سے بچا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2218]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1568، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2218، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 767، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 820، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 897، وأبو داود فى (سننه) برقم: 673، والترمذي فى (جامعه) برقم: 229، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5285، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12533» «رقم طبعة با وزير 2215»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - الصحيحة (335)، صحيح أبي داود (677). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، بندار: هو محمد بن بشار، ويحيى بن هانئ: هو ابن عروة المرادي، وعبد الحميد بن محمود: هو المعولي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
731. باب فرض متابعة الإمام - ذكر خبر ثان يصرح بهذا الزجر المطلق
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس مطلق منع کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2219
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُنْهَى عَنِ الصَّلاةِ بَيْنَ السَّوَارِي، وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا" .
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”ہمیں ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے سے منع کیا جاتا تھا اور ہمیں ان سے پرے کیا جاتا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2219]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1567، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2219، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 799، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1002، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5286، والبزار فى (مسنده) برقم: 3312، 3313، والطبراني فى(الكبير) برقم: 39، 40» «رقم طبعة با وزير 2216»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، هارون أبو مسلم: هو ابن مسلم، وأبو مسلم كنيته، روى عنه جمع، وذكره المؤلف في «ثقاته» 7/ 581، وباقي رجاله ثقات، أبو قتيبة: هو سلم بن قتيبة الشعيري الخراساني الفريابي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
732. باب فرض متابعة الإمام - ذكر استعمال المصطفى صلى الله عليه وسلم الفعل المضاد له في الظاهر
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کے استعمال کا ذکر جو ظاہری طور پر اس کے مخالف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2220
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَأَلْتُ بِلالا : " أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنَ" . قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْفِعْلُ يُنْهَى عَنْهُ بَيْنَ السَّوَارِي جَمَاعَةً، وَأَمَّا اسْتِعْمَالُ الْمَرْءِ مِثْلَهُ مُنْفَرِدًا فَجَائِزٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو آپ نے کہاں نماز پڑھی تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ سامنے والے دو ستونوں کے درمیان۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خیال نہیں رہا کہ میں ان سے یہ سوال کرتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات ادا کی تھیں؟ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ فعل یہ ہے کہ ستونوں کے درمیان باجماعت نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک آدمی کے انفرادی طور پر ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے کا تعلق ہے تو یہ جائز ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2220]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 397، 468، 504، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1329، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1492، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2942، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2220، 3200، 3201، 3202، 3203، 3204، 3206، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5866، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2023، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3063، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1747، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4550» «رقم طبعة با وزير 2217»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1764 و 1765)، «صفة الصلاة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير إبراهيم بن بشار، وهو الرمادي، وهو مع كونه حافظا له أوهام، لكنه توبع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
733. باب فرض متابعة الإمام - ذكر وصف الإمامة التي تكون للمأموم والإمام معا
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس امامت کی کیفیت کا ذکر جو مأموم اور امام دونوں کے لیے ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2221
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أُمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ، وَأَتَمَّ الصَّلاةَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلا عَلَيْهِمْ" .
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں کی امامت کرے اور وقت پر نماز ادا کرے اور مکمل نماز ادا کرے تو اسے بھی ثواب ملے گا اور لوگوں کو بھی ثواب ملے گا، اگر اس میں سے وہ کوئی کمی کرے تو اس شخص پر اس کا وبال ہوگا، لوگوں پر اس کا وبال نہیں ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2221]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1513، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2221، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 764، 777، وأبو داود فى (سننه) برقم: 580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 983، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17578» «رقم طبعة با وزير 2218»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (593). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم، يحيى بن أيوب: هو أبو العباس الغافقي فيه كلام ينزل به عن رتبة الصحيح، وكذا شيخه عبد الرحمن بن حرملة، أبو علي الهمداني: هو ثمامة بن شفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
734. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الزجر عن قيام المأمومين إلى الصلاة حتى يروا إمامهم
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ مأموم اپنے امام کو دیکھے بغیر نماز کے لیے کھڑے ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2222
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي" .
سیدنا عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے، تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2222]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 635، 637، 638، 909، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 603، 604، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1526، 1644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1755، 2147، 2222، 2223، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 686، وأبو داود فى (سننه) برقم: 539، والترمذي فى (جامعه) برقم: 592، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22969» «رقم طبعة با وزير 2219»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (1752). تنبيه!! رقم (1752) = (1755) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد، فإنه من رجال البخاري، يحيى: هو ابن سعيد القطان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
735. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الخبر المستقصي للفظة المختصرة التي ذكرناها
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ مختصر لفظ کی تحقیق کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2223
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ" .
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے، تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے کہ میں تمہاری طرف آ گیا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2223]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 635، 637، 638، 909، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 603، 604، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1526، 1644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1755، 2147، 2222، 2223، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 686، وأبو داود فى (سننه) برقم: 539، والترمذي فى (جامعه) برقم: 592، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22969» «رقم طبعة با وزير 2220»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (552): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، محمد بن مشكان: ترجمه المؤلف في «ثقاته» 9/ 127، فقال: محمد بن مشكان السرخسي يروى عن يزيد بن هارون وعبد الرزاق، حدثنا عنه محمد بن عبد الرحمن الدغولي وغيره، مات سنة تسع وخمسين وثلاثمائة مئة، وكان ابن حنبل -رحمه الله- يكاتبه، ومن فوقه من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
736. باب فرض متابعة الإمام - ذكر ما يستحب للمرء إذا لم ينتظره المؤذن والقوم عند إتيانه الصلاة أن لا يجد في نفسه عليهم وإن كان أفضلهم
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر مؤذن اور لوگ نماز کے لیے آنے والے کا انتظار نہ کریں تو اسے ان پر کوئی گلہ نہیں کرنا چاہیے، چاہے وہ ان سے افضل ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2224
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: " عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَنِي، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجْدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ، قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلاةِ، وَوَجَدْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلاتَهُ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لأَنَّهُمْ سَبَقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ: أَحْسَنْتُمْ، أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ" .
عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد (سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر فجر سے پہلے راستے سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میں بھی ہٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی انڈیلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلائی کو باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اندر داخل کیے اور جبے کے نیچے سے باہر نکالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہنیوں تک دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر وضو کیا (یعنی مسح کیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، کچھ ہی دور چلنے کے بعد ہم ان لوگوں تک پہنچ گئے جو نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا تھا اور وہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، اس وقت جب نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ ان لوگوں کو فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کی دوسری رکعت ادا کی، جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مسلمان اس پر گھبرا گئے، انہوں نے بکثرت «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا شروع کر دیا کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے کی کوشش کی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اچھا کیا ہے۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن الجارود فى "المنتقى"، 30، 91، 93، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، 100، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، 545، 1236، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421» «رقم طبعة با وزير 2221»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
737. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الأمر للقوم إذا احتبس عنهم إمامهم أن يقدموا رجلا يصلي بهم
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اگر لوگوں کا امام ان سے غائب ہو تو وہ ایک شخص کو آگے کریں جو انہیں نماز پڑھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2225
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ، وَعُرْوَةَ ابني المغيرة بن شعبة، عَنْ أَبِيهِمَا الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ جُبَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صُوفٌ رُومِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي فُرُوجٍ كَانَ فِي خَصْرِهَا، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَنَا مَعَهُ، فَوَجَدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ، فَأَدْرَكْنَاهُ وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً، فَصَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّانِيَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَمَّ صَلاتَهُ، فَفَزِعَ النَّاسُ لِذَلِكَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاتَهُ، قَالَ:" قَدْ أَصَبْتُمْ، وَأَحْسَنْتُمْ إِذَا احْتَبَسَ إِمَامُكُمْ، وَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَقَدِّمُوا رَجُلا يَؤُمُّكُمْ" . قَصَّرَ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ فِي سَنَدِ هَذَا الْخَبَرِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبَّادَ بْنَ زِيَادٍ فِيهِ، لأَنَّ الزُّهْرِيَّ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَسَمِعَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ. قَالَهُ: أَبُو حَاتِمٍ.
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے برتن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی انڈیلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کلائیاں باہر نکالنے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی، وہ اون کا بنا ہوا رومی جبہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس جگہ سے باہر نکالا جو کھلی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو کے پاس تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صف میں کھڑے ہو گئے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان لوگوں کی امامت کر رہے تھے۔ ہم نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں دوسری رکعت ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اپنی نماز مکمل کی تو لوگ اس بات سے گھبرا گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے، تم نے اچھا کیا ہے، جب تمہارا امام نہ آ سکے اور نماز کا وقت ہو جائے تو تم کسی شخص کو آگے کر دو جو تمہیں نماز پڑھائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جعفر بن برقان نے اس روایت کی سند کو مختصر نقل کیا ہے، انہوں نے اس کی سند میں عباس بن زیاد کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زہری نے یہ روایت عباس بن زیاد کے حوالے سے عروہ بن مغیرہ کے حوالے سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت حمزہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے بھی سنی ہے۔ یہ بات امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2225]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن الجارود فى "المنتقى"، 30، 91، 93، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، 100، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، 545، 1236، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421» «رقم طبعة با وزير 2222»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون قوله المذكور - «صحيح أبي داود» (136). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، رجاله ثقات إلا أن جعفر بن برقان -وإن كان ثقة- يضطرب في روايته عن الزهري، ويختلف فيه، وسيذكر المؤلف بإثر الحديث أنه قصر في سند هذا الخبر، فلم يذكر عباد بن زياد مع أن الزهري رواه عنه، عن حمزة وعروة، وانظر ما قبله و (1326).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں