🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
756. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر قد يفصل به إشكال اللفظة التي ذكرناها في خبر ابن المبارك
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ابن المبارک کی خبر میں ہمارے بیان کردہ لفظ کے اشکال کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2246
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى نَزَلَتْ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ سورة البقرة آية 238" الآيَةَ .
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں پہلے کوئی شخص نماز کے دوران اپنے ساتھی کے ساتھ اپنے کسی کام کے سلسلے میں بات چیت کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نماز کی حفاظت کرو“ نازل ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1200، 4534، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 539، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 856، 857، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2245، 2246، 2250، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1218، وأبو داود فى (سننه) برقم: 949، والترمذي فى (جامعه) برقم: 405، 2986، 2986 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 408، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3394، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19586» «رقم طبعة با وزير 2243»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد فمن رجال البخاري. تنبيه!! الصواب إسناده صحيح على شرط البخاري، وهذا خطأ في إدخال البيانات وليس من الشيخ شعيب لأنه قال بإثره: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير مسدد فمن رجال البخاري». - مدخل بيانات الشاملة -.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
757. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن نسخ الكلام في الصلاة إنما نسخ منه ما كان منه من مخاطبة الآدميين دون مخاطبة العبد ربه فيها
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ نماز میں بات چیت کا منسوخ ہونا صرف انسانوں سے مخاطبت کے بارے میں تھا، نہ کہ بندے کی اپنے رب سے مخاطبت کے بارے میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2247
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَجَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ رِجَالا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، وَلا يَضُرُّهُمْ" . قُلْتُ: وَرِجَالا مِنَّا يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ؟ قَالَ:" فَلا تَأْتُوهُمْ" . قُلْتُ: وَرِجَالا مِنَّا يَخُطُّونَ؟ قَالَ:" قَدْ كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ" . قَالَ: قَالَ: ثُمَّ بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلا كَهَرَنِي، وَلا سَبَّنِي، وَلَكِنْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ صَلاتَنَا هَذِهِ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَتِلاوَةُ الْقُرْآنِ" . قَالَ: قَالَ: وَأَطْلَقْتُ غُنَيْمَةً لِي تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فوجدت الذئب قد ذهب منها بشاة، وأنا رجل من بني آدم، آسف كما يأسفون، وأغضب كما يغضبون، فصككتها صكة، فأخبرت بذلك رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَعْلَمُ أَنَّهَا مُؤْمِنَةٌ لأَعْتَقْتُهَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْتِنِي بِهَا"، فَجِئْتُ بِهَا، فَقَالَ: " أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟"، قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ، فَأَعْتِقْهَا" .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جو صرف ان کا گمان ہے، یہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔“ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جاؤ۔“ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ رمل کا عمل کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک صاحب یہ علم جانتے تھے، تو (ہمارے زمانے میں) جس شخص کی لکیر اس کے مطابق ہو جائے، تو وہ (بات درست ثابت ہوتی ہے)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا، اسی دوران حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آ گئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے“، تو لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا۔ میں نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو، تم میری طرف گھور کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو کچھ لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانوں پر مارے۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں خاموش ہو گیا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا؛ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جتنا معلم نہیں دیکھا۔ اللہ کی قسم! نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا، نہ جھڑکا، نہ برا کہا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہماری اس نماز کے دوران لوگوں کے کلام میں سے کوئی چیز مناسب نہیں ہے، یہ (نماز) تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت (پر مشتمل ہوتی ہے)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی کچھ بکریاں کھلی چھوڑیں جنہیں ایک کنیز پہاڑ اور جوانیہ کی طرف چرا رہی تھی، میں نے یہ صورت حال پائی کہ کوئی بھیڑیا ان میں سے ایک بکری کو لے گیا ہے، میں بھی آخر ایک انسان ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے، جس طرح دوسروں کو ہوتا ہے اور مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے، جس طرح دوسروں کو آتا ہے، میں نے اس کنیز کو مکا رسید کیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ یہ کنیز مومن ہے، تو میں اسے آزاد کر دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے لے کر میرے پاس آؤ۔“ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ اس نے جواب دیا: آسمان میں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ مومن ہے، تم اسے آزاد کر دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 537، وابن الجارود فى "المنتقى"، 235، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 859، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 165، 2247، 2248، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1217، وأبو داود فى (سننه) برقم: 930، 3282، 3909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15903» «رقم طبعة با وزير 2244»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 111 - 113)، «صحيح أبي داود» (862): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير عبد الرحمن بن إبراهيم -ولقبه: دحيم- فمن رجال البخاري، وغير صحابي الحديث فقد خرج حديثه مسلم، ولم يخرج له البخاري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
758. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن الكلام الذي زجر عنه في الصلاة إنما هو مخاطبة الآدميين وكلام بعضهم بعضا دون ما يخاطب العبد ربه في صلاته
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ نماز میں جس کلام سے منع کیا گیا وہ انسانوں سے مخاطبت اور آپس میں بات چیت ہے، نہ کہ بندے کا اپنے رب سے اپنی نماز میں کلام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2248
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَأَبُو خَلِيفَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَجَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ، وَإِنَّ رِجَالا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:" ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلا يَضُرُّهُمْ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ، قَالَ:" فَلا تَأْتُوهُمْ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قَالَ: قَالَ: وَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمَّيَاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي لِكَيْ أَسْكُتَ سَكَتُّ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ، وَلا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلا كَهَرَنِي، وَلا شَتَمَنِي، وَلَكِنْ قَالَ:" إِنَّ صَلاتَنَا هَذِهِ لا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَتِلاوَةُ الْقُرْآنِ" .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت سے زیادہ دور نہیں ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ فال نکالتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں، یہ انہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں (یعنی علم رمل کا عمل کرتے ہیں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی لکیریں لگایا کرتے تھے، تو (ہمارے زمانے میں) جس شخص کی لکیر اس کے موافق ہو (اس کی بات درست ثابت ہوتی ہے)۔“ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا تھا، حاضرین میں سے کسی صاحب کو چھینک آ گئی تو میں نے ان سے کہا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے“، تو لوگوں نے مجھے گھور کے دیکھا، میں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو، تم لوگ میری طرف اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنے زانو پر مارے، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو میں خاموش ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے اچھا معلم اور کوئی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے مارا، نہ جھڑکا، نہ برا کہا، بلکہ یہ ارشاد فرمایا: ”ہماری اس نماز میں لوگوں کے کلام کی مانند بات چیت کرنا مناسب نہیں ہے، یہ تکبیر، تسبیح اور قرآن کی تلاوت (پر مشتمل ہوتی ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 537، وابن الجارود فى "المنتقى"، 235، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 859، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 165، 2247، 2248، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1217، وأبو داود فى (سننه) برقم: 930، 3282، 3909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15903» «رقم طبعة با وزير 2245»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، ابن خزيمة: هو محمد بن إسحاق، وأبو خليفة: هو الفضل بن الحباب، ويحيى القطان: هو يحيى بن سعيد بن فروخ، وحجاج الصواف: اسمه حجاج بن أبي عثمان الصواف، وانظر ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
759. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر يحتج به من جهل صناعة الحديث وزعم أنه منسوخ نسخه نسخ الكلام في الصلاة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے حدیث کی صنعت سے ناواقف نے دلیل کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ اسے نماز میں کلام کے منسوخ ہونے نے منسوخ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2249
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ مِنَ اثْنَتَيْنِ مِنْ صَلاةِ الْعَشِيِّ، فَقَامَ إِلَيْهِ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاةِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ كَانَتْ حَيْثُ كَانَ الْكَلامُ مُبَاحًا فِي الصَّلاةِ، ثُمَّ نُسِخَ هَذَا الْخَبَرُ بِتَحْرِيمِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لأَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِمَكَّةَ عِنْدَ رُجُوعِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلاثِ سِنِينَ، وَرَاوِي هَذَا الْخَبَرِ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ سَنَةَ خَيْبَرَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَذَلِكَ مَا وَصَفْتُ، عَلَى أَنَّ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ كَانَ بَعْدَ نَسْخِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ بِعَشْرِ سِنِينَ سَوَاءٌ، فَكَيْفَ يَكُونُ الْخَبَرُ الْمُتَأَخِّرِ مَنْسُوخًا بِالْخَبَرِ الْمُتَقَدِّمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی نماز میں دو رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا، تو سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا: ”ایسا ہی ہے، جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور دو مرتبہ سجدہ سہو کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے ایک عالم کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ وہ نماز تھی جس میں نماز کے دوران کلام کرنا مباح تھا، پھر اس روایت کو منسوخ کر دیا گیا، جو نماز کے دوران کلام کرنے کے حرام ہونے والی روایت کے ذریعے منسوخ ہوا، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نماز کے دوران کلام کرنا مکہ میں منسوخ ہوا تھا، اس وقت جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے واپس آئے تھے اور یہ بات ہجرت سے تین سال پہلے کی ہے، جبکہ اس روایت کو نقل کرنے والے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن سات ہجری میں غزوہ خیبر کے سال میں اسلام قبول کیا تھا، جیسا کہ میں یہ بات پہلے ذکر کر چکا ہوں، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کا واقعہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کے دس سال بعد پیش آیا تھا، تو بعد والی روایت پہلی والی روایت کے ذریعے کیسے منسوخ ہو سکتی ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2249]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2246»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 130)، «الروض النضير» (1097) «صحيح أبي داود» (923). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
760. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر احتج به من جهل صناعة الحديث فزعم أن أبا هريرة لم يشهد هذه القصة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا صلى معه هذه الصلاة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے حدیث کی صنعت سے ناواقف نے دلیل کے طور پر پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ ابو ہریرہ نے اس واقعے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا اور نہ ہی ان کے ساتھ یہ نماز پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2250
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238،" فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا الْخَبَرُ يُوهِمُ مَنْ لَمْ يَطْلُبِ الْعِلْمَ مِنْ مَظَانِّهِ أَنَّ نَسْخَ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَشْهَدْ قِصَّةَ ذِي الْيَدَيْنِ، وَذَاكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةِ بِالْحَاجَةِ، وَلَيْسَ مِمَّا يَذْهَبُ إِلَيْهِ الْوَاهِمُ فِيهِ فِي شَيْءٍ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ مِنَ الأَنْصَارِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ، وَصَلَّوْا بِهَا قَبْلَ هِجْرَةِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا، وَكَانُوا يُصَلُّونَ بِالْمَدِينَةِ كَمَا يُصَلِّي الْمُسْلِمُونَ بِمَكَّةَ فِي إِبَاحَةِ الْكَلامِ فِي الصَّلاةِ لَهُمْ، فَلَمَّا نُسِخَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ نُسِخَ كَذَلِكَ بِالْمَدِينَةِ، فَحَكَى زَيْدٌ مَا كَانُوا عَلَيْهِ، لا أَنَّ زَيْدًا حَكَى مَا لَمْ يَشْهَدْهُ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے ہم ضرورت کے پیش نظر نماز کے دوران کلام کر لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیان والی نماز کی بھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فرمانبرداری کے ساتھ کھڑے رہو۔“ نازل ہوئی، تو ہمیں (نماز کے دوران) خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جس نے علمِ حدیث کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل نہیں کیا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ نماز کے دوران کلام کرنے کے منسوخ ہونے کا حکم مدینہ منورہ میں آیا تھا، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق انصار سے ہے، وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے ہم نماز کے دوران کوئی ضرورت کی بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے جس غلط فہمی کا شکار یہ شخص ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا تعلق ان انصار سے ہے جنہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام قبول کیا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے سے پہلے مدینہ منورہ میں نمازیں ادا کرتے رہے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ میں اسی طرح نماز ادا کرتے تھے جس طرح مسلمان مکہ میں نماز ادا کرتے تھے اور اس وقت ان لوگوں کے لیے نماز کے دوران بات چیت کرنا مباح تھا۔ جب یہ حکم مکہ میں منسوخ ہوا تو اسی طرح مدینہ میں منسوخ ہو گیا۔ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے وہ چیز بیان کی ہے جس پر وہ پہلے عمل کیا کرتے تھے، ایسا نہیں ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کسی ایسی چیز کے بارے میں بیان کیا ہو جس میں وہ خود شریک نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1200، 4534، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 539، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 856، 857، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2245، 2246، 2250، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1218، وأبو داود فى (سننه) برقم: 949، والترمذي فى (جامعه) برقم: 405، 2986، 2986 م، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 408، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3394، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19586» «رقم طبعة با وزير 2247»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (2242). تنبيه!! رقم (2242) = (2245) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
761. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأخبار المصرحة بأن أبا هريرة شهد هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أنه حكاهما كما توهم من جهل صناعة الحديث حيث لم ينعم النظر في متون الأخبار ولا تفقه في صحيح الآثار
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - ان خبروں کا ذکر جو واضح کرتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں شرکت کی، نہ کہ اسے دوسروں سے نقل کیا جیسا کہ حدیث کی صنعت سے ناواقف نے وہم کیا کیونکہ اس نے خبروں کے متون پر غور نہیں کیا اور نہ ہی صحیح آثار میں تفہیم حاصل کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2251
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2248»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2246). تنبيه!! رقم (2246) = (2249) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو في «الموطأ» برواية الليثي 1/ 94، وبرقم (137) برواية محمد بن الحسن، وفيهما: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر، وليس فيهما: صلى لنا، وهي في المصادر المخرج منها عن مالك سوى عبد الرزاق وإحدى روايتي البيهقي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2252
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2252]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2249»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم، حرملة من رجال مسلم، ومن فوقه على شرطهما، ويونس: هو ابن يزيد الأيلي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2253
وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2250»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات، رجال الشيخين غير محمد بن عبد الأعلى: وهو الصنعاني فمن رجال مسلم، ابن عون: اسمه عبد الله بن عون بن أرطبان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2254
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2254]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2251»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، يعقوب بن إبراهيم: هو الدورقي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2255
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2255]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2252»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں