🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
761. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأخبار المصرحة بأن أبا هريرة شهد هذه الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أنه حكاهما كما توهم من جهل صناعة الحديث حيث لم ينعم النظر في متون الأخبار ولا تفقه في صحيح الآثار
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - ان خبروں کا ذکر جو واضح کرتی ہیں کہ ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس نماز میں شرکت کی، نہ کہ اسے دوسروں سے نقل کیا جیسا کہ حدیث کی صنعت سے ناواقف نے وہم کیا کیونکہ اس نے خبروں کے متون پر غور نہیں کیا اور نہ ہی صحیح آثار میں تفہیم حاصل کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتْيِ الْعَشِيِّ، قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: سَمَّاهَا لَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَنَسِيتُ أَنَا، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَاتَّكَأَ عَلَى خَشَبَةٍ كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، قَالَ: وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، قَالَ النَّضْرُ: يَعْنِي أَوَائِلَ النَّاسِ، فَقَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ؟! وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدِهِ طُولٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ، وَلَمْ أَنَسَ"، فَقَالَ لِلْقَوْمِ:" أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" قَالُوا: نَعَمْ،" فَصَلَّى مَا كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَهُ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ كَبَّرَ" ، قَالَ: فَرُبَّمَا سَأَلُوا مُحَمَّدًا: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ:" ثُمَّ سَلَّمَ"، لَفْظُ الْخَبَرِ لِلنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شام کی ایک نماز پڑھائی۔ ابن سیرین نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے (اس نماز کا) نام لیا تھا لیکن میں اسے بھول گیا ہوں، (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں پر رکھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضب کے عالم میں اس لکڑی کے ساتھ ٹیک لگائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جلد باز لوگ (مسجد سے) نکل گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے۔ حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے لیکن انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کے ہاتھ کچھ لمبے تھے، انہیں ذوالیدین کہا جاتا تھا۔ انہوں نے عرض کی: کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہ تو نماز مختصر ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے دریافت کیا: ”کیا اسی طرح ہے، جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے عام سجدوں جتنا یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اسی کی مانند یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں: (ہمارے استاد سے) بعض لوگ یہ کہتے تھے (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) پھر انہوں نے سلام پھیر دیا، تو وہ یہ فرماتے تھے: مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے، انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ روایت کے یہ الفاظ نضر بن شمیل کے ابن عون کے حوالے سے نقل کردہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2256]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 482، 714، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 269، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 860، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2249، 2251، 2252، 2253، 2254، 2255، 2256، 2675، 2684، 2685، 2686، 2687، 2688، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1008، والترمذي فى (جامعه) برقم: 394، 399، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1378، 1379، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5046» «رقم طبعة با وزير 2253»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه الحنظلي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
762. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر إباحة بكاء المرء في صلاته إذا لم يكن ذلك لأسباب الدنيا
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں رونا جائز ہے اگر یہ دنیاوی اسباب کی وجہ سے نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" مَا كَانَ فِينَا فَارِسٌ يَوْمَ بَدْرٍ غَيْرَ الْمِقْدَادِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا فِينَا قَائِمٌ إِلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ يُصَلِّي وَيَبْكِي حَتَّى أَصْبَحَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر مقداد رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے اور کوئی گھڑ سوار نہیں تھا اور مجھے یاد ہے، ہم میں سے ہر شخص کھڑا ہوا تھا (یہاں روایت کا لفظ غلط نقل ہوا ہے اصل لفظ یہ ہے، ہم میں سے ہر شخص سویا ہوا تھا) صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (جاگتے رہے تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے نماز ادا کرتے رہے اور روتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 899، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2257، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 825، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1038، 1176، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 118، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 280، 305» «رقم طبعة با وزير 2254»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة» / السترة. * [مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ] قال الشيخ: أخرجه في «صحيحة» (2/ 52 / 899)، وأحمد في «مسنده» (1/ 125)، وأبو يعلى - أيضا - (1/ 242 / 280)، والنَّسائيُّ في «الكبرى» (1/ 270 / 823) من طريق عن شعبه ... به. وقد خالفه يوسف بن أبي إسحاق في متنه؛ فرواه، عن أبي إسحاق بلفظ مُستنكرٍ [فيما يأتي من هذا الكتاب برقم (4739)]، لم يتنبه له المُعَلِّق عليه [في «طبعة المؤسسة»]! وزاد - ضِغثاً على إِبَّالةٍ -؛ فعزاهُ للنسائي في «الكبرى»! وإنَّما حديث شعبة هذا؛ فراجع تعليقي هناك (رقم 4739). تنبيه!! رقم (4739) = (4759) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح غير حارثة بن مضرب، وهو ثقة روى له أصحاب السنن، ورواية شعبة عن أبي إسحاق السبيعي قبل اختلاطه، وابن مهدي: هو عبد الرحمن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
763. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الإباحة للمرء أن يرد السلام إذا سلم عليه وهو يصلي بالإشارة دون النطق باللسان
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اگر اسے سلام کیا جائے تو وہ اپنی نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دے، نہ کہ زبان سے بول کر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2258
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ، فَدَخَلَ رِجَالٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ:" كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کی مسجد میں تشریف لائے (راوی کہتے ہیں) یعنی مسجدِ قبا میں تشریف لائے، تو کچھ انصار مسجد میں آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، یہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز کے دوران سلام کیا گیا تو پھر آپ نے کیا کیا تھا؟ تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے بتایا: آپ نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارے (کے ذریعے جواب دیا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 238، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2258، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4301، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1186، وأبو داود فى (سننه) برقم: 927، والترمذي فى (جامعه) برقم: 368، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1017، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4657» «رقم طبعة با وزير 2255»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (318)، «صحيح أبي داود» (860). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، إبراهيم بن بشار الرمادي حافظ مستقيم من أهل الصدق، لكن تقع له أوهام، وقد توبع عليه، ومن فوقه من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
764. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر ما يعمل المصلي في رد السلام إذا سلم عليه في ذلك الوقت
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی اگر اس وقت اسے سلام کیا جائے تو سلام کے جواب میں کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ:" مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ إِشَارَةً"، وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ:" بِإِصْبَعِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارے سے جواب دیا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”آپ نے انگلی کے اشارے سے جواب دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 239، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2259، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1185، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1110، وأبو داود فى (سننه) برقم: 925، والترمذي فى (جامعه) برقم: 367، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1401، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3452، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19234» «رقم طبعة با وزير 2256»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (858). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن في الشواهد، نابل صاحب العباء ذكره المؤلف في "الثقات"، ووثقه النسائي في رواية، وقال في أخرى: ليس بالمشهور، وذكره مسلم في الطبقة الأولى من تابعي أهل المدينة، وفي سؤالات البرقاني للدار قطني: نابل صاحب العباء ثقة؟ فأشار بيده أن لا، وباقي رجاله ثقات، يزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن موهب.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
765. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأمر بالتسبيح للرجال والتصفيق للنساء إذا حزبهم أمر في صلاتهم
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مردوں کے لیے تسبیح اور عورتوں کے لیے تالی بجانا جائز ہے اگر انہیں اپنی نماز میں کوئی ضرورت پیش آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2260
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَحَانَتِ الصَّلاةُ، فَجَاءَ بِلالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ فَأُقِيمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَلْبَثَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ؟! مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِنْ سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں تشریف لے گئے تاکہ ان کے درمیان صلح کروائیں، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور بولے: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں گے تو میں اقامت کہوں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے لگے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، لوگ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے، جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا): ”تم اپنی جگہ پر رہو“ لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جو یہ حکم دیا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے، یہاں تک کہ صف میں آ کر کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تم اپنی جگہ پر ٹھہرے کیوں نہیں تھے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز ادا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا وجہ ہے، میں نے تمہیں دیکھا، تم نے بکثرت تالیاں بجائی تھیں؟ جس شخص کو نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) کوئی ضرورت پیش آ جائے اسے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا چاہیے، اگر وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہے گا، تو اس کی طرف توجہ مبذول ہو جائے گی، (نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لیے) تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 684، 1201، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 421، وابن الجارود فى "المنتقى"، 234، 341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 853، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2260، 2261، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4485، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 940، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1035، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23264، والحميدي فى (مسنده) برقم: 956» «رقم طبعة با وزير 2257»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (868): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو حازم بن دينار: هو سلمة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
766. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن بلالا قدم أبا بكر ليصلي بهم هذه الصلاة بأمر المصطفى صلى الله عليه وسلم لا من تلقاء نفسه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ بلال نے ابو بکر کو اس نماز کے لیے آگے کیا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے، نہ کہ اپنی مرضی سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2261
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، وَقَدْ صَلَّى الظُّهْرَ، فَقَالَ لِبِلالٍ:" إِنْ حَضَرَتِ صَلاةُ الْعَصْرِ وَلَمْ آتِ، فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ، فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَلَمَّا حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ، أَذَّنَ بِلالٌ وَأَقَامَ، وَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ تَقَدَّمْ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشُقُّ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ صَفَّحُوا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ، فَلَمَّا رَأَى التَّصْفِيحَ لا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنِ امْضِ"، فَلَبِثَ أَبُو بَكْرٍ هُنَيَّةً، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنِ امْضِ"، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ صَلاتَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لا تَكُونَ مَضَيْتَ؟"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَكُنْ لابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلاتِكُمْ شَيْءٌ، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان لڑائی ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے، ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ”اگر عصر کا وقت ہو جائے اور میں نہ آ پاؤں، تو ابوبکر سے کہنا لوگوں کو نماز پڑھا دے۔“ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی اور بولے: اے ابوبکر! آپ آگے بڑھیے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو چیرتے ہوئے تشریف لے آئے، جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تھے، تو ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ مسلسل تالیاں بج رہی ہیں، تو انہوں نے توجہ کی تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیچھے کھڑے ہوئے نظر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”تم نماز جاری رکھو“، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایڑیوں کے بل الٹے چلتے ہوئے پیچھے آ گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ابوبکر! کیا وجہ ہے، جب میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا تھا تو تم نے نماز کو جاری کیوں نہیں رکھا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابوقحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی امامت کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا: ”جب تمہیں نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کے لیے) ضرورت پیش آئے تو مردوں کو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنا چاہیے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 684، 1201، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 421، وابن الجارود فى "المنتقى"، 234، 341، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 853، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2260، 2261، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4485، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 783، وأبو داود فى (سننه) برقم: 940، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1035، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23264، والحميدي فى (مسنده) برقم: 956» «رقم طبعة با وزير 2258»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيح» -أيضا- (869): خ، دون قوله لبلال: «وإِنْ حَضَرَتِ صَلَاةُ الْعَصْرِ ... فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، خلف بن هشام ثقة من رجال مسلم، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
767. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأمر للمصلي بما يفهم عنه في صلاته عند حاجة إن بدت له فيها
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ نمازی کو اپنی نماز میں جو ضرورت سمجھ آئے اس کے بارے میں سمجھانا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2262
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ ، بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(امام کو متوجہ کرنے کے لیے) «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنے کا حکم مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2262]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1203، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 422، ابن الجارود فى "المنتقى"، 233، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 894، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2262، 2263،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 939، 944، والترمذي فى (جامعه) برقم: 369، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1403، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1034، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1866، 1867، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7405» «رقم طبعة با وزير 2259»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (867)، «الصحيحة» (497): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير أيوب الوزان وهو ثقة، عوف: هو ابن أبي جميلة الأعرابي، وشيخه القطان: هو الحسين بن عبد الله بن يزيد القطان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
768. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الإخبار بما أبيح للمرء فعله في الصلاة عند النائبة تنوبه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے اپنی نماز میں کسی ناگہانی ضرورت کے وقت کیا کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2263
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”(نماز کے دوران امام کو متوجہ کرنے کے لیے) «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہنے کا حکم مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2263]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1203، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 422، ابن الجارود فى "المنتقى"، 233، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 894، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2262، 2263،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 939، 944، والترمذي فى (جامعه) برقم: 369، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1403، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1034، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1866، 1867، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7405» «رقم طبعة با وزير 2260»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، وابن أبي السري: هو محمد بن المتوكل العسقلاني، قد توبع، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
769. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الإباحة للمرء أن يشير في صلاته لحاجة تبدو له
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز میں کسی ضرورت کے لیے اشارہ کر سکتا ہے جو اسے پیش آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2264
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُشِيرُ فِي الصَّلاةِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اشارہ کر لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 885، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2264، وأبو داود فى (سننه) برقم: 943، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3471، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1868، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12602» «رقم طبعة با وزير 2261»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (871). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
770. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الأمر للمصلي أن يبصق عن يساره تحت رجله اليسرى لا عن يمينه ولا تلقاء وجهه
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ نمازی اپنا تھوک اپنے بائیں پاؤں کے نیچے بائیں جانب تھوکے، نہ کہ دائیں جانب اور نہ ہی اپنے سامنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ، وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلا بِهِ، فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، تُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَهَذَا رِدَاؤُكَ إِلَى جَنْبِكَ؟! فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي: أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ أَحْمَقُ مِثْلُكَ، فَيَرَانِي كَيْفَ أَصْنَعُ، فَيَصْنَعُ بِمِثْلِهِ، أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا، فَحَكَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟" قَالَ: فَخَشَعْنَا، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ؟" فَقُلْنَا: لا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلا يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، أَرُونِي عَبِيرًا"، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ، فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتَيْهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ، وَلَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ ، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.
عبادہ بن ولید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کی مسجد میں حاضر ہوئے۔ وہ اس وقت ایک کپڑے کو اشتمال کے طور پر لپیٹ کر نماز ادا کر رہے تھے۔ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا ان کے اور قبلہ کے درمیان آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ ایک کپڑے میں نماز ادا کر رہے ہیں حالانکہ آپ کی بڑی چادر آپ کے پہلو میں موجود ہے؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے میرے سینے پر مارا اور بولے: میں یہ چاہتا تھا کہ تم جیسا احمق آدمی میرے پاس آ کر مجھے دیکھے کہ میں کیا کر رہا ہوں اور پھر وہ اس کی مانند عمل کرے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ کے دستِ اقدس میں ایک چھڑی تھی۔ آپ نے مسجد کے قبلہ کی سمت میں بلغم لگا ہوا دیکھا تو آپ اس کی طرف گئے اور اسے چھڑی کے ذریعے کھرچ دیا، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے؟“ راوی کہتے ہیں: ہم گھبرا گئے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے؟“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک شخص جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے کی طرف ہوتا ہے، تو وہ اپنے سامنے کی طرف نہ تھوکے اور اپنے دائیں طرف بھی نہ تھوکے۔ اسے اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور اگر بلغم تیزی سے آ رہا ہو، تو وہ اپنے کپڑے میں اس طرح کرے۔“ آپ نے اسے مل دیا۔ ”تم لوگ مجھے کوئی خوشبو دو۔“ تو اس قبیلے کا ایک نوجوان تیزی سے اپنے گھر گیا، اور اپنی ہتھیلیوں میں کچھ خوشبو لے کر آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور اس چھڑی کے کنارے پر رکھا اور اس کے ذریعے بلغم کے نشان پر مل دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: یہیں سے لوگوں نے مسجدوں میں خوشبو رکھنا شروع کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 352، 353، 361، 370، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 518، وابن الجارود فى "المنتقى"، 191، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 762، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2197، 2265، 2266، 2299، 2300، 2305، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 938، وأبو داود فى (سننه) برقم: 485، 633، 634، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 974، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14336» «رقم طبعة با وزير 2262»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (500): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير يعقوب بن مجاهد فمن رجال مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں