🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
209. باب القران - ذكر الأمر لمن ساق الهدي أن يجعل إهلاله بالحج والعمرة معا
قران کے حج کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو ہدی ساتھ لائے وہ اپنا احرام حج اور عمرہ دونوں کے لیے کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3912
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهلِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثُمَّ لا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَجَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ، وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ:" هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ حج اور عمرے کا تلبیہ پڑھے اور وہ اس وقت احرام نہیں کھولے گا، جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا (یا جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے) انہوں نے بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کو کھول دیا، جب وہ لوگ منیٰ سے واپس آئے، تو انہوں نے اپنے حج کے لیے دوسری مرتبہ طواف کیا، البتہ جن لوگوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں مکہ آئی، تو مجھے حیض آ چکا تھا، میں بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکی اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کر سکی، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بالوں کو کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھو اور عمرے کو چھوڑ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج مکمل کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تنعیم بھیجا، تو وہاں سے میں نے (عمرے کا تلبیہ پڑھا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے اس عمرے کی جگہ ہو گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3901»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1560): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
210. باب القران - ذكر البيان بأن المتمتع بالعمرة إلى الحج يجزئه أن يطوف طوافا واحدا ويسعى سعيا واحدا لعمرته وحجه
قران کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ عمرہ سے حج تک متمتع ہونے والے کے لیے ایک طواف اور ایک سعي اس کے عمرہ اور حج کے لیے کافی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، وَأَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، وعبيد الله بن عمر ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَطَافَ لَهُمَا سَبْعًا، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج اور عمرہ کو جمع کیا، انہوں نے ان دونوں کے لیے سات مرتبہ طواف کیا اور سات مرتبہ سعی کی اور یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3913]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3913، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2597» «رقم طبعة با وزير 3902»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (1640 و 1708)، م (2/ 50 - 52). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
211. باب القران - ذكر وصف طواف القارن إذا قرن بين حجه وعمرته
قران کے حج کا بیان - قارن کے طواف کی صفت کا ذکر جب وہ اپنے حج اور عمرہ کو ملا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3914
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " لَمْ يَطُفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلا طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کا طواف صرف ایک مرتبہ کیا تھا جو آپ کے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3914]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3903»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3808). تنبيه!! رقم (3808) = (3819) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
212. باب القران - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن القارن يطوف طوافين
قران کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ قارن دو طواف کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3915
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْ حَجَّتِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حج اور عمرے کو جمع کر لے، وہ ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ طواف کرے گا اور وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا، جب تک اس سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3915]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1732، وابن الجارود فى "المنتقى"، 506، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2746، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3915، 3916، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2932، والترمذي فى (جامعه) برقم: 948، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1886، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2972، 2975، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9521، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2591، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5059» «رقم طبعة با وزير 3904»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
213. باب القران - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن القارن يطوف طوافين ويسعى سعيين
قران کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ قارن دو طواف اور دو سعي کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3916
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ كَفَاهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلا يَحِلَّ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ، ثُمَّ يَحِلُّ مِنْهُمَا جَمِيعًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حج اور عمرے کو اکٹھا کر لے تو ایک ہی طواف ان دونوں کے لیے کافی ہو گا اور ایسا شخص اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک قربانی کا دن نہیں آ جاتا، پھر وہ ان دونوں کا احرام ایک ہی دفعہ کھولے گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3916]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1732، وابن الجارود فى "المنتقى"، 506، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2746، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3915، 3916، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2932، والترمذي فى (جامعه) برقم: 948، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1886، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2972، 2975، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9521، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2591، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5059» «رقم طبعة با وزير 3905»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (33)، «التعليقات الجياد» (4/ 71). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3917
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ:" هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ"، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى بِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَجَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرے کا تلبیہ پڑھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہو وہ عمرے کے ساتھ حج کا بھی تلبیہ پڑھے، پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب میں مکہ آئی تو مجھے حیض آ گیا، میں نے بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کیا اور صفا و مروہ کی سعی بھی نہیں کی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کرو اور عمرے کو چھوڑ دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا، جب ہم نے حج مکمل کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہو گیا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا، انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے کے بعد احرام کھول دیا، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد حج کے لیے دوسری مرتبہ طواف کیا، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے حج کا تلبیہ پڑھا تھا اور انہوں نے حج اور عمرے کو جمع کر لیا تھا، تو انہوں نے ایک ہی مرتبہ طواف کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3917]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3906»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - وهو مختصر (3901). تنبيه!! رقم (3901) = (3912) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
214. باب القران - ذكر الموضع الذي أمرهم المصطفى صلى الله عليه وسلم بما وصفنا فيه بعد تقدمتهم الإهلال بعمرة
قران کے حج کا بیان - اس مقام کا ذکر جہاں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے بیان کردہ عمل کا حکم دیا، ان کے عمرہ کے احرام سے آگے بڑھنے کے بعد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3918
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَلَيَالِي الْحَجِّ، وَحَرَمِ الْحَجِّ حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفٍ، قَالَتْ: فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عَمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَلا"، قَالَتْ: فَالآخِذُ بِهَا، وَالتَّارِكُ لَهَا مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَانُوا أَهْلَ قُوَّةٍ، فَكَانَ مَعَهُمُ الْهَدْيُ، فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَى الْعُمْرَةِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يُبْكِيكِ يَا هَنْتَاهُ؟"، قُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ قَوْلُكَ لأَصْحَابِكَ، فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ:" وَمَا شَأْنُكِ؟"، قَالَتْ: لا أُصَلِّي، قَالَ:" فَلا يَضُرُّكِ، إِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ آدَمِ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ، فَعَسَى أَنْ تُدْرِكِيهَا"، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فِي حَجِّهِ حَتَّى قَدِمْنَا مِنًى، فَطَهَرْتُ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ مِنًى فَأَفَضْتُ الْبَيْتَ، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الآخَرِ حَتَّى نَزَلَ الْمُحَصَّبُ، وَنَزَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ، فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا، ثُمَّ ائْتِيَا هُنَا، فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا حَتَّى تَأْتِيَانِي"، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ لِذَلِكَ حَتَّى فَرَغْتُ، وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ، ثُمَّ جِئْتُهُ سَحْرًا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ فَرَغْتُمْ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَرَكِبَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حج کے مہینوں میں، حج کی راتوں میں، حج کے قابلِ احترام (مخصوص موسم میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ جب ہم نے سرف کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کے پاس قربانی کا جانور موجود نہ ہو اور وہ اسے عمرے میں تبدیل کرنا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے اور جس کے پاس قربانی کا جانور موجود ہو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے اسے موقوف کر دیا اور کچھ لوگوں نے اسے ترک کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ افراد کا تعلق تھا جو صاحبِ حیثیت تھے اور ان کے ساتھ قربانی کا جانور موجود تھا، وہ عمرہ (کر کے احرام نہیں کھول) سکتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم کیوں رو رہی ہو؟“ میں نے عرض کی کہ میں نے آپ کا وہ فرمان سنا ہے، جو آپ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا ہے، لیکن میں عمرہ نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیوں، تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی کہ میں نماز ادا نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ تم آدم کی بیٹیوں سے تعلق رکھنے والی ایک عورت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر بھی وہی چیز مقرر کی ہے، جو ان پر مقرر کی ہے۔ تم اپنے حج کو جاری رکھو، عنقریب تم اسے (یعنی عمرے کو) پا لو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم لوگ حج کے لیے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ہم منیٰ آ گئے اور میں پاک ہو گئی۔ پھر میں منیٰ سے نکلی، میں نے بیت اللہ کا طوافِ افاضہ کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آخری روانگی میں نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیِ محصب میں پڑاؤ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی پڑاؤ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: ”تم اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ، اسے عمرے کا احرام بندھوا لاؤ۔ تم دونوں فارغ ہو کر یہاں آ جانا، میں تم دونوں کا انتظار کروں گا، جب تک تم آ نہیں جاتے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس موقع پر میں نکلی، یہاں تک کہ میں (عمرہ کر کے فارغ ہو گئی) اور میں طواف کر کے فارغ ہوئی، پھر میں سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ فارغ ہو گئے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو روانگی کا حکم دیا۔ ہم نے روانگی کی تیاری کر لی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بیت اللہ کے پاس سے، صبح کی نماز سے پہلے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا طواف کیا، پھر (مکہ مکرمہ سے) تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3918]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3907»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3784). تنبيه!! رقم (3784) = (3795) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
215. باب القران - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم قد أمرهم ما وصفنا قبل دخولهم مكة مرة أخرى مثل ما أمرهم به بسرف
قران کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے بیان کردہ عمل کا حکم دیا، اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ مکہ میں داخل ہوں، جیسا کہ انہوں نے سرف میں حکم دیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3919
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالا: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالذَّرَارِيُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ"، فَقُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟، فَقَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اشْتَرِكُوا فِي الإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ"، قَالَ: فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا بَلْ لِلأَبَدِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا، كَأَنَّمَا خُلِقْنَا الآنَ، أَرَأَيْتَ الْعَمَلَ الَّذِي نَعْمَلُ بِهِ، أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ مِمَّا نَسْتَقْبِلُ؟، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلامُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ"، قُلْتُ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا فِي إِفْرَادِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، وَقِرَانِهِ وَتَمَتُّعِهِ بِهِمَا مِمَّا تَنَازَعَ فِيهَا الأَئِمَّةُ مِنْ لَدُنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا، وَيُشَنِّعُ بِهِ الْمُعَطِّلَةُ، وَأَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَقَالُوا: رَوَيْتُمْ ثَلاثَةَ أَحَادِيثَ مُتَضَادَّةٌ فِي فِعْلٍ وَاحِدٍ، وَرَجُلٍ وَاحِدٍ، وَحَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَزَعَمْتُمْ أَنَّهَا ثَلاثَتُهَا صِحَاحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، وَالْعَقْلُ يَدْفَعُ مَا قُلْتُمْ، إِذْ مُحَالٌ أَنَّ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ كَانَ مُفْرَدًا قَارِنًا مُتَمَتِّعًا، فَلَمَّا صَحَّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ قَارِنًا مُتَمَتِّعًا مُفْرَدًا، صَحَّ أَنَّ الأَخْبَارَ يَجِبُ أَنْ يُقْبَلَ مِنْهَا مَا يُوَافِقُ الْعَقْلَ، وَمَهْمَا جَازَ لَكُمْ أَنْ تَرُدُّوا خَبَرًا يَصِحُّ، ثُمَّ لا تَسْتَعْمِلُوهُ، أَوْ تُؤْثِرُوا غَيْرَهُ عَلَيْهِ كَمَا فَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ الثَّلاثَةِ، يَجُوزُ لِخِصْمِكُمْ أَنْ يَأْخُذَ مَا تَرَكْتُمْ، وَيَتْرُكَ مَا أَخَذْتُمْ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلٌ هَذَا فِي الْخَلْوَةِ إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لإِصَابَةِ الْحَقِّ، وَالْهِدَايَةِ لِطَلَبِ الرُّشْدِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الأَخْبَارِ، وَنَفْيِ التَّضَادِ عَنِ الآثَارِ، لَعَلِمَ بِتَوْفِيقِ الْوَاحِدِ الْجَبَّارِ، أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تَضَادَ بَيْنَهَا وَلا تَهَاتُرَ، وَلا يُكَذِّبُ بَعْضُهَا بَعْضًا إِذَا صَحَّتُ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، لَعَرِفَهَا الْمُخَصُوصُونَ فِي الْعِلْمِ، الذَّابُّونَ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ، وَعَنْ سُنَّتِهِ الْقَدَحَ، الْمُؤْثِرُونَ مَا صَحَّ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْلِ مَنْ بَعْدَهُ مِنْ أُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ الْجَمْعِ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ، أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ حَيْثُ أَحْرَمَ، كَذَلِكَ قَالَهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ وَحْدَهَا، حَتَّى بَلَغَ سَرِفَ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِمَا ذَكَرْنَا فِي خَبَرِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَفْرَدَ حِينَئِذٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَقَامَ عَلَى عُمْرَتِهِ، وَلَمْ يَحِلَّ، فَأَهَلَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا مَعًا حِينَئِذٍ إِلَى أَنْ دَخَلَ مَكَّةَ، وَكَذَلِكَ أَصْحَابُهُ الَّذِينَ سَاقُوا مَعَهُمُ الْهَدْيَ، وَكُلُّ خَبَرٍ رُوِيَ فِي قِرَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ حَيْثُ رَأَوْهُ يُهِلُّ بِهِمَا بَعْدَ إِدْخَالِهِ الْحَجَّ عَلَى الْعُمْرَةِ إِلَى أَنْ دَخَلَ مَكَّةَ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ وَسَعَى، أَمَرَ ثَانِيًا مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقٍ الْهَدْيَ، وَكَانَ قَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ أَنْ يَتَمَتَّعَ وَيَحِلَّ، وَكَانَ يَتَلَهَّفُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الإِهْلالِ، حَيْثُ كَانَ سَاقٍ الْهَدْيَ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَ أَصْحَابِهِ مِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ لَمْ يَكُونُوا يُحِلُّونَ حَيْثُ رَأَوَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ، حَتَّى كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا وَصَفْنَاهُ مِنْ دُخُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَأَحْرَمَ الْمُتَمَتِّعُونَ خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنًى، وَهُوَ يُهِلُّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، إِذِ الْعُمْرَةُ الَّتِي قَدْ أَهَلَّ بِهَا فِي أَوَّلِ الأَمْرِ قَدِ انْقَضَتْ عِنْدَ دُخُولِهِ مَكَّةَ بِطَوَافِهِ بِالْبَيْتِ، وَسَعْيِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَحَكَى ابْنُ عُمَرَ، وَعَائِشَةُ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ" أَرَادَ مِنْ خُرُوجِهِ إِلَى مِنًى مِنْ مَكَّةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ، وَفَّقَنَا اللَّهُ لِمَا يُقَرِّبُنَا إِلَيْهِ، وَيَزْلِفُنَا لَدَيْهِ مِنَ الْخُضُوعِ عِنْدَ وُرُودِ السُّنَنِ إِذَا صَحَّتْ، وَالانْقِيَادِ لِقُبُولِهَا، وَاتِّهَامِ الأَنْفُسِ، وَإِلْزَاقِ الْعَيْبِ بِهَا إِذَا لَمْ نُوَفَّقْ لإِدْرَاكِ حَقِيقَةِ الصَّوَابِ دُونَ الْقَدْحِ فِي السُّنَنِ، وَالتَّعَرُّجِ عَلَى الآرَاءِ الْمَنْكُوسَةِ، وَالْمَقَايَسَاتِ الْمَعْكُوسَةِ، إِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ آئے، تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھول دے۔“ ہم نے کہا: کس حد تک حلال ہونا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل طور پر۔“ جب تلبیہ کا دن آیا، تو ہم نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم لوگ ایک اونٹ اور ایک گائے میں حصے دار بن جاؤ۔ سات آدمیوں کی طرف سے ایک قربانی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اس عمرے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ اس سال کے لیے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمارے سامنے دینی احکام کو یوں بیان کیجئے جس طرح ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں۔ عمل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو آدمی کرتا ہے کیا اس بارے میں قلم خشک ہو چکا ہے اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے یا یہ ازسر نو کچھ ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں بلکہ اس بارے میں قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے۔“ میں نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے (جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ روایات جو ہم نے ذکر کی ہیں، ان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج افراد کرنے، یا حج تمتع یا حج قران کرنے کا تذکرہ ہے۔ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے لے کر ہمارے آج کے دن تک ائمہ کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ معطلہ فرقے کے افراد اور دیگر اہل بدعت اس حوالے سے ہمارے ائمہ پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں: آپ لوگوں نے ایک ہی فعل، ایک ہی فرد اور ایک ہی حالت کے بارے میں تین متضاد روایات نقل کی ہیں اور آپ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ نقل کے اعتبار سے یہ تینوں روایات صحیح ہیں حالانکہ عقل آپ کے موقف کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد بھی کیا ہو، حج قران بھی کیا ہو اور حج تمتع بھی کیا ہو۔ تو جب یہ بات درست (طور پر ثابت) ہو گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی حالت میں حج قران، تمتع اور افراد کرنے والے نہیں تھے تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ ان روایات کو قبول کرنا ضروری ہے جو عقل کے موافق ہوں۔ بعض اوقات آپ کے لیے یہ بات جائز ہوتی ہے کہ آپ کسی صحیح حدیث کو اختیار نہ کریں، آپ اس پر عمل نہ کریں، یا کسی دوسری روایت کو اس پر ترجیح دیں، جس طرح آپ نے ان تین روایات کے بارے میں کیا ہے، تو پھر آپ کے مخالف فریق کے لیے بھی یہ بات جائز ہو گی کہ وہ اس روایت کو اختیار کر لے جسے آپ نے ترک کر دیا اور اس روایت کو ترک کر دے جسے آپ نے اختیار کیا ہو۔ (ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں) اس بات کا قائل شخص اگر خلوت میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرتا اور اس سے یہ دعا مانگتا کہ (اللہ تعالیٰ اسے) حق اور ہدایت تک پہنچا دے، تاکہ وہ شخص ”ایک“ اور ”غالب“ (معبود) کی عطا کردہ توفیق کے ذریعے روایات کے درمیان تطبیق دینے، اور آثار میں تضاد کی نفی کرنے کے لیے رہنمائی کا طلب گار ہوتا، (تو اسے پتہ چل جاتا کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی روایت کسی دوسری روایت کی تکذیب کرتی ہے جبکہ وہ نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو، جس سے علم حدیث کے ماہرین آگاہ ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (منسوب کی جانے والی) جھوٹی باتوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (پر کیے جانے والے اعتراضات کو) پرے کرنے والے (حضرات محدثین) جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر منقول حدیث کو آپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے کسی بھی دوسرے شخص کے قول پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان روایات کے درمیان تطبیق دینے کی صورت یوں ہو گی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے زہری، عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح نقل کیا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”سرف“ کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو وہ حکم دیا، جس کا ذکر ہم نے افلح بن حمید کے حوالے سے منقول روایت میں کیا ہے۔ تو اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض حضرات نے حج افراد کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا، بعض حضرات اپنے عمرہ کے تلبیہ پر برقرار رہے، (انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی) اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج اور عمرہ) دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے کر آئے تھے ان کی بھی یہی حالت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج قران کے بارے میں جو بھی روایات نقل کی گئی ہیں، یہ اس وقت کے بارے میں ہیں جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کے ساتھ حج کو شامل کر کے ان دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لے آئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیت اللہ کا) طواف کر لیا (صفا و مروہ کی) سعی کر لی، تو جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری مرتبہ یہ حکم دیا کہ وہ تمتع کر کے احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قربانی کا جانور ساتھ لانے کی وجہ سے آپ کا تلبیہ رہ گیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے، انہوں نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ انہوں نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام ختم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ جب ترویہ کا دن آیا تو تمتع کرنے والوں نے (نئے سرے سے حج کا) احرام باندھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں جو عمرہ کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ تشریف لانے کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرنے، صفا و مروہ کی سعی کرنے سے ادا ہو چکا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے جو یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج (کا تلبیہ پڑھا) اس سے ان کی مراد وہ وقت ہو گا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے منی کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اس طرح ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے جو اس کی بارگاہ کا قرب دلاتی ہے اور اس کے قریب کرتی ہے، (یعنی) جب احادیث مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو ان کے سامنے جھک جائیں، اور انہیں قبول کرنے کے لیے سر تسلیم خم کر دیں اور جب ہمیں صحیح حقیقت کے ادراک کی توفیق نصیب نہ ہو تو ہم احادیث پر اعتراض کرنے، غلط آراء اور غلط قیاس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے آپ پر الزام عائد کریں اور اپنے آپ کے ساتھ عیب کو لاحق کریں (یعنی اسے اپنی ذاتی خامی سمجھیں) بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3919]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3908»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3780). تنبيه!! رقم (3780) = (3791) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
216. باب التمتع - ذكر الأمر بالتمتع لمن أراد الحج واستحبابه وإيثاره على القران والإفراد معا
تمتع کے حج کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو حج کا ارادہ کرے اس کے لیے تمتع مستحب اور ترجیحی ہے، قران اور افرد دونوں پر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3920
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ أَبُو يَعْلَى آخَرَ مَعَهُ، قَالا: سَمِعْنَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ بِالْعُمْرَةِ، أَمْ بِالْحَجِّ؟، قَالَتِ: ابْدَأْ بِأَيِّهِمَا شِئْتَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ صَفِيَّةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلْتُهَا، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ مَا قَالَتْ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجَّةٍ"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عِمْرَانَ هَذَا اسْمُهُ أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ مِصْرَ.
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا، وہ بیان کرتے ہیں: میں اُم المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! میں نے کبھی حج نہیں کیا تھا، تو کیا میں عمرے سے آغاز کروں یا پہلے حج کر لوں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو پہلے کر لو۔ وہ بیان کرتے ہیں: پھر میں اُم المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی ذکر کرے (یعنی تلبیہ پڑھتے ہوئے ایسا کرے)۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعمران نامی راوی کا نام اسلم ابوعمران ہے اور یہ مصر سے تعلق رکھنے والے ثقہ راوی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3920]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3920، 3922، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8877، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27191» «رقم طبعة با وزير 3909»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2469). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
217. باب التمتع - ذكر الخبر الدال على أن استحباب التمتع لمن قصد البيت العتيق وإيثاره على القران والإفراد
تمتع کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ بیت عتیق کا قصد کرنے والے کے لیے تمتع کا استحباب اور قران و افرد پر ترجیح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3921
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، لا نَخْلِطُ بِغَيْرِهِ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عَمْرَةً، وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، فَقُلْنَا بَيْنَنَا: لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلا خَمْسٌ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا، وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ، وَلَوْلا الْهَدْيُ لأَحْلَلْتُ"، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْتِعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلأَبَدِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کا تلبیہ پڑھا، اس میں کوئی دوسری چیز شامل نہیں کی۔ ذوالحجہ کی چار تاریخ کو ہم لوگ مکہ آ گئے۔ جب ہم نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرے میں تبدیل کر لیں اور ہم اپنی خواتین کے لیے حلال ہو جائیں۔ ہم نے آپس میں یہ کہا: ہمارے اور عرفہ میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں، ہم جب عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تم سب سے زیادہ نیکو کار اور تم سب سے زیادہ سچا ہوں۔ اگر قربانی کا جانور ساتھ نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔“ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ سہولت اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3921]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3910»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1566): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں