🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
199. فصل - ذكر الإخبار عن الإباحة للمرأة الحائض أن تنفر إذا كانت طافت طواف الزيارة قبل رؤيتها الدم
- اس بات کی اطلاع کہ حیض والی عورت کو اگر اس نے خون دیکھنے سے پہلے طواف زیارت کیا ہو تو نفر کرنے کی اجازت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاضَتْ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟"، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ:" فَلا إِذًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا، اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ آپ کو بتایا گیا کہ وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3902]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3891»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (3889). تنبيه!! رقم (3889) = (3900) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
200. فصل - ذكر الأمر للمرأة إذا حاضت بعد الإفاضة أن تنفر
- اس حکم کا ذکر کہ اگر عورت افاضہ کے بعد حیض سے ہو تو وہ نفر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا طَافَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذَكَرْتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْتَنْفِرْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طواف کرنے کے بعد حیض آ گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ان کے حیض کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں، اس کے بعد انہیں حیض آیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3903]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3892»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
201. فصل - ذكر البيان بأن الحائض إنما رخص لها أن تنفر وإن لم يكن آخر عهدها بالبيت إذا كانت طافت قبل ذلك طواف الزيارة
- اس بات کا بیان کہ حیض والی عورت کو اس وقت رخصت ہے کہ وہ نفر کرے چاہے اس کا آخری عمل بیت اللہ سے نہ ہو، بشرطیکہ اس نے اس سے پہلے طواف زیارت کیا ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3904
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَرَى صَفِيَّةَ إِلا حَابِسَتَنَا، قَالَ:" وَمَا شَأْنُهَا؟"، قَالَتْ: حَاضَتْ، قَالَ:" أَمَا كَانَتْ أَفَاضَتْ؟"، قُلْتُ: بَلَى، وَلَكِنَّهَا حَاضَتْ، قَالَ:" فَلا حَبْسَ عَلَيْهَا فَلْتَنْفِرْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خیال ہے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: انہیں حیض آ گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، لیکن انہیں حیض آ گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کا رکنا ضروری نہیں ہے، وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3904]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3893»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
202. فصل - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
- دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3905
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَمَا أَفَاضَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذِكْرُتُ حَيْضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الإِفَاضَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْتَنْفِرْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حیض آ گیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ان کے حیض کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ طوافِ افاضہ کر چکی ہیں، طوافِ افاضہ کرنے کے بعد انہیں حیض آیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3905]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3894»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
203. فصل - ذكر الإخبار عما يقيم المهاجر بعد الإفاضة
- اس بات کی اطلاع کہ مہاجر افاضہ کے بعد کیا قیام کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3906
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ : مَا سَمِعْتَ فِيَ سُكْنَى مَكَّةَ؟، فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلْمُهَاجِرِ ثَلاثًا بَعْدَ الصَّدَرِ" .
عبدالرحمن بن حمید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا: مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے بارے میں آپ نے کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”باہر سے آنے والا شخص طوافِ صدر کرنے کے بعد تین دن تک (مکہ میں ٹھہر سکتا ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3906]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3933، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1352، وابن الجارود فى "المنتقى"، 249، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3906، 3907، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1453، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2022، والترمذي فى (جامعه) برقم: 949، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1073، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5534، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19289، والحميدي فى (مسنده) برقم: 867» «رقم طبعة با وزير 3895»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1763): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
204. فصل - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم للمهاجر ثلاثا بعد الصدر أراد به المكث بمكة
- اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "مہاجر کے لیے تین دن بعد صدر کے" سے مراد مکہ میں قیام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3907
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ ثَلاثًا بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ" .
سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”باہر سے آنے والا شخص اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد تین دن تک (مکہ میں) ٹھہر سکتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3907]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3933، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1352، وابن الجارود فى "المنتقى"، 249، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3906، 3907، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1453، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2022، والترمذي فى (جامعه) برقم: 949، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1073، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5534، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19289، والحميدي فى (مسنده) برقم: 867» «رقم طبعة با وزير 3896»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
205. فصل - ذكر الثنية التي يستحب للحاج أن يكون خروجه من مكة منها
- اس گھاٹی کا ذکر جو حاجی کے لیے مستحب ہے کہ وہ مکہ سے اس کے ذریعے نکلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3908
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِذِي طُوًى حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءِ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ، وَخَرَجَ مِنْ ثَنِيَّةِ السُّفْلَى" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذِي طُوًى» ”ذی طوی“ میں رات بسر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، اس کے بعد مکہ میں داخل ہوئے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں بطحا میں موجود بالائی گھاٹی «كَدَاء» ”کداء“ کی طرف سے داخل ہوئے تھے اور (واپس جاتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیریں گھاٹی کی طرف سے تشریف لے گئے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3908]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 484، 485، 487، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1188، ومالك فى (الموطأ) برقم: 489، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2614، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3908، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2658، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2044، والترمذي فى (جامعه) برقم: 854، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1968، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2941، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9083، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4746» «رقم طبعة با وزير 3897»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1629 - 1630): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
206. فصل - ذكر الموضع الذي يستحب أن يكون رجوع المرء من مكة إلى بلده عليه
- اس مقام کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ مکہ سے اپنے وطن واپسی پر اس پر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے باہر تشریف لے گئے تھے، تو آپ شجرہ کے راستے سے تشریف لے گئے تھے اور جب آپ واپس تشریف لائے تھے، تو آپ معرس کے راستے سے تشریف لائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3909]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3909، والبزار فى (مسنده) برقم: 8874» «رقم طبعة با وزير 3898»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ بلفظ: من مكة، وعن: أبي هريرة، والمحفوظ: إلى مكة، وعن: ابن عمر - «الضعيفة» (1631) وفي «الموارد»: إلى مكة. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
207. باب القران - ذكر خبر قد احتج به بعض أئمتنا في استحباب التمتع بالعمرة إلى الحج به
قران کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جس سے ہمارے بعض ائمہ نے عمرہ سے حج تک متمتع ہونے کے استحباب پر استدلال کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3910
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّهُ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، فَقَالَ:" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صبی بن معبد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حج اور عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھ لیا، انہوں نے (بعد میں) اس بات کا تذکرہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری رہنمائی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف کی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3910]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3069، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3910، 3911، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1798، 1799، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2970، 2970 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8864، 8873، 8942، وأحمد فى (مسنده) برقم: 84، والحميدي فى (مسنده) برقم: 18» «رقم طبعة با وزير 3899»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1578). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
208. باب القران - ذكر وصف إهلال الصبي بن معبد بما أهل به
قران کے حج کا بیان - صبی بن معبد کے اس احرام کی صفت کا ذکر جس سے اس نے احرام باندھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3911
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: كَثِيرًا مَا كُنْتُ آتِي الصُّبَيَّ بْنَ مَعْبَدٍ أَنَا، وَمَسْرُوقٌ نسأله عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً نَصْرَانِيًّا، فَأَسْلَمْتُ، فَأَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَسَمِعَنِي سَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا بِالْقَادِسِيَّةِ، فَقَالا: لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، فَكَأَنَّمَا حُمِلَ عَلَيَّ بِكَلِمَتِهِمَا جَبَلٌ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ، فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهُوَ بِمِنًى، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا، فَلامَهُمَا، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ" .
ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: میں اکثر صبی بن معبد کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، میں اور مسروق ان سے ان کے واقعے کے بارے میں دریافت کرتے تھے، انہوں نے بتایا: میں ایک عیسائی شخص تھا، میں نے اسلام قبول کیا، پھر میں نے حج اور عمرے کا احرام باندھ لیا، سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما نے مجھے (حج اور عمرے کا ایک ساتھ) تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں (قادسیہ) میں ان کے سامنے تلبیہ پڑھ رہا تھا، تو ان دونوں نے کہا: یہ شخص اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہے، تو ان دونوں کی اس بات سے گویا میرے اوپر پہاڑ جتنا وزن آ گیا، یہاں تک کہ جب میں مکہ آیا، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت منیٰ میں موجود تھے، میں نے اس بات کا تذکرہ ان کے سامنے کیا، تو انہوں نے ان دونوں کو ملامت کی اور میری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”تمہاری تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔“ یہ بات انہوں نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3911]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3069، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3910، 3911، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1798، 1799، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2970، 2970 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8864، 8873، 8942، وأحمد فى (مسنده) برقم: 84، والحميدي فى (مسنده) برقم: 18» «رقم طبعة با وزير 3900»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں