🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
218. باب التمتع - ذكر الخبر الدال على استحباب إهلال المرء بالتمتع بالعمرة إلى الحج والإيثار على القران والإفراد معا
تمتع کے حج کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کے لیے عمرہ سے حج تک تمتع کا احرام کرنا اور قران و افرد پر ترجیح دینا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3922
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ ،، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ مَوَالِيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي لَمْ أَحُجَّ قَطُّ، فَبِأَيِّهِمَا أَبْدَأُ، بِالْحَجِّ أَمْ بِالْعُمْرَةِ؟، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتَ فَاعْتَمِرْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، وَإِنْ شِئْتَ بَعْدَ أَنْ تَحُجَّ، فَذَهَبْتُ إِلَى صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِ صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا آلَ مُحَمَّدٍ مَنْ حَجِّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فِي حَجٍّ".
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلاموں کے ہمراہ حج کیا، وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین! میں نے پہلے حج نہیں کیا، تو اب میں پہلے حج کروں یا عمرہ کروں؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو حج کرنے سے پہلے عمرہ کر لو اور اگر چاہو، تو حج کرنے کے بعد عمرہ کر لینا، پھر میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے بھی مجھ سے یہی بات ارشاد فرمائی، میں واپس سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہیں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے بارے میں بتایا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والو! تم میں سے جو شخص حج کرے وہ حج میں عمرے کا بھی تلبیہ پڑھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3922]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3920، 3922، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8877، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27191» «رقم طبعة با وزير 3911»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر (3909). تنبيه!! رقم (3909) = (3920) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
219. باب التمتع - ذكر الإباحة للمرء أن يتمتع بالعمرة إلى الحج إذا قصد البيت العتيق
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اگر بیت عتیق کا قصد کرے تو عمرہ سے حج تک تمتع کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3923
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ فِي حَجَّةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، يَقُولُ: لا يَفْتِي بِالتَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ إِلا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ:" بِئْسَ مَا قُلْتُ يَا ابْنَ أَخِي، فَوَاللَّهِ لَقَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَعَلْنَاهُ مَعَهُ" .
محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے ضحاک بن قیس کو سنا، یہ اس موقع کی بات ہے جب سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما (اپنے عہد خلافت میں) حج کے لیے آئے تھے، ضحاک یہ کہہ رہے تھے: حج کے ہمراہ عمرہ کو شامل کرنے کی سہولت کا فتویٰ وہ شخص دے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھتیجے! تم نے بہت غلط بات کہی ہے، اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی ایسا کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3923]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1225، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3923، 3939، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2733، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3700، والترمذي فى (جامعه) برقم: 823، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1855، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8943، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1521، 1589» «رقم طبعة با وزير 3912»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف؛ إلاَّ التَّمتُّع عند (م) - «تيسير الانتفاع» / ترجمة محمد بن عبد الله بن الحارث.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح غير محمد بن عبد الله بن نوفل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
220. باب التمتع - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر من لم يكن معه الهدي بكل الإحلال لا بالبعض منه
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو مکمل احلال کا حکم دیا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو، نہ کہ جزوی احلال کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3924
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ سَاقَ هَدْيًا فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً"، فَقُلْنَا: حِلٌّ مِنْ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ"، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَلَبِسْنَا، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، فَقَالَ أُنَاسٌ: مَا هَذَا الأَمْرُ، نَأْتِي عَرَفَةَ، وَأُيُورُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا؟، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِينَا كَالْمُغْضَبِ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ، وَلَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ تَقُولُونَ هَذَا مَا سُقْتُ الْهَدْيَ، فَاسْمَحُوا بِمَا تُؤْمَرُونَ بِهِ"، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ الَّتِي أَمَرْتَنَا بِهَا أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلأَبَدِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے اور مکہ آ گئے، ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں ہے وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر دے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کس حد تک احرام ختم کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پر۔ (راوی کہتے ہیں) ہم نے اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت بھی کی، سلے ہوئے کپڑے بھی پہن لیے، خوشبو بھی لگا لی، کچھ لوگوں نے یہ بات کہی: اب تو یہ ہو گا، جب ہم عرفہ کی طرف جائیں گے، تو ہماری شرمگاہوں سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، آپ ہمارے درمیان یوں کھڑے ہوئے جیسے غصے کے عالم میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں اور مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے یہ بات کہی ہے، اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ لیا ہوتا (تو میں بھی احرام کھول دیتا)، تمہیں جس چیز کا حکم دیا جائے اس کی پیروی کیا کرو۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! عمرے کے بارے میں حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3924]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3913»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3780). تنبيه!! رقم (3780) = (3791) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
221. باب التمتع - ذكر السبب الذي من أجله أمرهم صلى الله عليه وسلم بالإحلال ولم يحل هو بنفسه
تمتع کے حج کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں احلال کا حکم دیا اور خود احلال نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ، حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہوا ہے اور قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے، اس لیے جب تک میں قربانی نہیں کرتا، اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3925]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1566، 1697، 1725، 4398، 5916، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1229، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3925، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2681، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1806، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3046، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8933، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27067» «رقم طبعة با وزير 3914»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1585): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
222. باب التمتع - ذكر أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم أصحابه الذين أحلوا بالعمرة ولم يسوقوا هديا أن يحلوا
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان صحابہ کو جو عمرہ کے بعد احلال کر چکے تھے اور ہدی ساتھ نہ لائے تھے، احلال کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3926
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى، فَلا يَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ" ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم میں سے کوئی صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور کوئی صرف عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور اس نے قربانی کا جانور بھی ساتھ رکھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا ہے اور اس نے قربانی کا جانور ساتھ نہیں رکھا وہ احرام کھول دے اور جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھ رہا تھا اور اس نے قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے، تو وہ احرام نہ کھولے، اور جو شخص حج کا تلبیہ پڑھ رہا تھا وہ اپنے حج کو مکمل کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جو عمرے کا تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3926]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3915»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3901). تنبيه!! رقم (3901) = (3912) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
223. باب التمتع - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر بإدخال الحج على العمرة من أهل بها ومن ساق الهدي قبل ذلك
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے جو عمرہ کا احرام کیا اور جو ہدی ساتھ لایا، اس پر حج شامل کرنے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3927
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ قَدْ سَاقَ هَدْيًا، فَلْيُهِلَّ بِحَجٍّ مَعَ عُمْرَتِهِ، ثُمَّ لا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا"، قَالَتْ: فَحِضْتُ لَيْلَةَ عَرَفَةَ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي حَجَّتِي؟، قَالَ:" امْتَشِطِي، وَدَعِي الْعُمْرَةَ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ" ، قَالَتْ: فَحَجَجْتُ، فَبَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَعْمَرَنِي مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي تَرَكْتُهَا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ میں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا، میں قربانی کا جانور ساتھ نہیں لے جا سکی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہو اسے عمرے کے ہمراہ حج کا تلبیہ بھی پڑھنا چاہیے، پھر وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولے گا جب تک وہ ان دونوں سے فارغ نہیں ہو جاتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عرفہ کی رات مجھے حیض آ گیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں اپنے حج کے بارے میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بالوں میں کنگھی کر لو اور عمرے کو چھوڑ دو اور حج کا تلبیہ پڑھو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے حج کر لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کو میرے ہمراہ بھیجا۔ انہوں نے میرے اس عمرے کی جگہ مجھے عمرہ کروایا جو رہ گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3927]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3916»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3781). تنبيه!! رقم (3781) = (3792) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
224. باب التمتع - ذكر البيان بأن الإحلال إنما أبيح لمن لم يسق الهدي معه في الابتداء
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ احلال کی اجازت صرف اس کے لیے ہے جو شروع میں ہدی ساتھ نہ لائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3928
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرَةَ، عَنْ عُمَرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ إِلا أَنْ يَكُونَ سَاقَ هَدْيًا"، قَالَتْ: وَأَتَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، قَالُوا:" ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ذی قعدہ ختم ہونے میں پانچ دن رہ گئے تھے، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا: جو شخص بیت اللہ کا طواف کر چکا ہو وہ احرام کھول دے، البتہ وہ شخص نہیں کھولے گا، جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے) ذبح کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3917»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
225. باب التمتع - ذكر وصف ما يعمل المتمتع بالعمرة إلى الحج عند دخول مكة
تمتع کے حج کا بیان - اس بات کی صفت کا ذکر کہ عمرہ سے حج تک متمتع ہونے والا مکہ میں داخل ہونے پر کیا عمل کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا، سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، لا نَرَى إِلا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ،" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيً، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَنْ يَحِلَّ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، قَالَ:" نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ" ، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثِ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ذیقعدہ ختم ہونے میں پانچ دن باقی رہ گئے تھے، تو ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہیں ہے جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا اور مروہ کی سعی کر لے، تو احرام کھول دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قربانی کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت آیا، تو میں نے دریافت کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے (گائے) قربان کی ہے۔ یحییٰ نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت قاسم بن محمد کے سامنے ذکر کی، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم نے حدیث کو صحیح طور پر بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3918»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1156)، «صحيح أبي داود» (1536)، «الحج الكبير»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
226. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عَمْرَةً وَحَجًّا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» میں عمرہ اور حج کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1089، 1546، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 690، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2618، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2743، 2744، 2747، 2748، 3930، 3931، 3932، 3933، 4019، 5900، 5901، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1202، 1773، والترمذي فى (جامعه) برقم: 546، 821، 1494، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2917، 2968، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2734، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5091» «رقم طبعة با وزير 3919»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1575): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
227. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر الخبر المصرح بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان قارنا في حجته
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں قارن تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ ، أَنَّ الْحَسَنَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَرَنَ الْقَوْمُ مَعَهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو جمع کر دیا تھا اور آپ کے ہمراہ کچھ لوگوں نے بھی ان دونوں کو جمع کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1089، 1546، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 690، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2618، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2743، 2744، 2747، 2748، 3930، 3931، 3932، 3933، 4019، 5900، 5901، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1202، 1773، والترمذي فى (جامعه) برقم: 546، 821، 1494، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2917، 2968، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2734، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5091» «رقم طبعة با وزير 3920»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1556).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الصحيح غير الاشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں