صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
238. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر خبر ثان يصرح بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يكن متمتعا في حجته
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں متمتع نہ تھے
حدیث نمبر: 3942
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، فَإِنِّي لَوْلا أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ"، فَأَهَلَّ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ بِحَجَّةٍ، وَبَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ" ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، أَرْسَلَ مَعَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَهَا، فَخَرَجَتْ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ صَوْمٌ، وَلا هَدْيٌ، وَلا صَدَقَةٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ذو الحجہ کا چاند نظر آنے والا تھا جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (حج کرنے کے لیے) روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا پڑھ لے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ رکھا ہوتا، تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پڑھ لیتا۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے حج کا تلبیہ پڑھا اور بعض نے عمرے کا تلبیہ پڑھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا۔ عرفہ کے دن مجھے حیض آ گیا، میں اپنے عمرے کا احرام نہیں کھول سکی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم عمرے کو چھوڑ دو اور اپنے بالوں کو کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کر دو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو ان کے ہمراہ بھیجا اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے بٹھایا اور انہیں ساتھ لے کر تنعیم چلے گئے۔ وہاں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمرے کی جگہ عمرے کا احرام باندھا۔ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے حج اور عمرے کو مکمل کر دیا اور اس بارے میں (روزہ رکھنے یا قربانی دینے یا صدقہ دینے کی صورت میں فدیہ ادا نہیں کرنا پڑا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، 3795، 3834، 3835، 3900، 3902، 3903، 3904، 3905، 3912، 3917، 3918، 3926، 3927، 3928، 3929، 3942، 4005، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، 1779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، 945، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، 2981، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357» «رقم طبعة با وزير 3931»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (4/ 28 - 29). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
239. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر وصف حجة المصطفى صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3943
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا بِالْمَدِينَةِ، لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ، فَلَمَّا جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :" اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَهِلِّي" ، قَالَ: فَفَعَلَتْ، فَلَمَّا اطْمَأَنَّ صَدْرُ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ وَأَهْلَلْنَا، لا نَعْرِفُ إِلا الْحَجِّ، وَلَهُ خَرَجْنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، وَهُوَ يُعْرَفُ تَأْوِيلَهُ، وَإِنَّمَا يَفْعَلُ مَا أُمِرَ بِهِ". قَالَ جَابِرٌ : فَنَظَرْتُ بَيْنَ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي مَدَّ بَصَرِي، وَالنَّاسُ مُشَاةٌ وَرُكْبَانٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ"، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، بَدَأَ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ سَعَى ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ انْطَلَقَ إِلَى الْمَقَامِ، فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَصَلَّى خَلْفَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الصَّفَا، فَقَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَكَبَّرَ ثَلاثًا، وَقَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهَ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمَلِكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ثَلاثًا، ثُمَّ دَعَا، ثُمَّ هَبَطَ مِنَ الصَّفَا، فَمَشَى حَتَّى إِذَا تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ، سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدَتْ قَدَمَاهُ مِنْ بَطْنِ الْمَسِيلِ، مَشَى إِلَى الْمَرْوَةِ، فَرَقِيَ عَلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عَلَى الصَّفَا، فَطَافَ سَبْعًا، وَقَالَ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، فَإِنِّي لَوْلا أَنِّي مَعِيَ هَدْيًا لَتَحَلَّلْتُ، وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ" . قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِأَيِّ شَيْءٍ أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ:" فَإِنَّ مَعِيَ هَدْيًا، فَلا تَحِلَّ"، قَالَ عَلِيٌّ: فَدَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ وَقَدِ اكْتَحَلَتْ، وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صِبْغٍ، فَقُلْتُ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا؟، فَقَالَتْ لِي: أَمَرَنِي أَبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ مُسَتَثِّبَتًا فِي الَّذِي، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا"، قَالَ: وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِيَدِهِ ثَلاثًا وَسِتِّينَ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا غَبَرَ، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ قِطْعَةً فَطَبَخَ جَمِيعًا، فَأَكَلا مِنَ اللَّحْمِ، وَشَرِبَا مِنَ الْمَرَقِ، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، قَالَ:" لا بَلْ لِلأَبَدِ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ"، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْعِلَّةُ فِي نَحْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ دُونَ مَا وَرَاءَ هَذَا الْعَدَدِ أَنَّ لَهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ كَانَتْ ثَلاثًا وَسِتِّينَ سَنَةً، وَنَحَرَ لِكُلِّ سَنَةٍ مِنْ سِنِيهِ بَدَنَةً بِيَدِهِ، وَأَمَرَ عَلِيًّا بِالْبَاقِي، فَنَحَرَهَا.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران حج نہیں کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا لوگوں میں اعلان کروا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی وہاں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو جنم دیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَهِلِّي» تم غسل کر کے کپڑا باندھ لو اور احرام باندھ لو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایسا ہی کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میدان میں کھڑی ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ ہمارے ذہن میں صرف حج کا خیال تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی روانہ ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفسیر کو جانتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی کرتے تھے جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے سامنے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف جہاں تک نگاہ جاتی تھی لوگوں کا ہجوم دیکھا جو پیدل بھی تھے اور سوار بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلبیہ پڑھنا شروع کیا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ بے شک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ جب ہم مکہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے حجرِ اسود کا استلام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکروں میں دوڑ کر طواف کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر کے فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ ابراہیم کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”تم لوگ مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کے پاس دو رکعات نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استلام کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ہم اس سے آغاز کریں گے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پر چڑھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خانہ کعبہ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ تکبیر کہی اور یہ کلمات پڑھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ زندگی دیتا ہے اور وہ موت دیتا ہے، تمام بھلائی اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ یہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ پڑھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا سے نیچے اترے اور عام رفتار سے چلتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم نشیبی حصے سے اوپر کی طرف چڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام رفتار سے چلتے ہوئے مروہ کی طرف تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر چڑھے جب خانہ کعبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات پڑھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر پڑھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سات مرتبہ چکر لگایا اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ اپنے احرام میں باقی رہے، اگر میں نے اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ رکھا ہوتا، تو میں بھی احرام کھول دیتا، مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر پہلے آ جاتا، تو میں عمرے کا تلبیہ پڑھتا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”اے علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پڑھا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: میں نے یہ کہا تھا: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پڑھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے تلبیہ پڑھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے تم احرام نہ کھولو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا اور رنگین کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: تمہیں اس بات کا کس نے حکم دیا ہے؟ انہوں نے مجھے جواب دیا: میرے والد نے مجھے اس بات کا حکم دیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عراق میں یہ بات ارشاد فرمائی: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا، تاکہ فاطمہ کی شکایت لگاؤں اور انہوں نے جو بات بیان کی ہے اس معاملے کی تحقیق کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے سچ بات بیان کی ہے میں نے ہی اسے اس بات کی ہدایت کی تھی۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی جس میں سے 63 اونٹوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے نحر کیا اور باقی بچ جانے والوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نحر کیا، پھر ان میں سے ہر ایک جانور کا کچھ گوشت لے کر ان سب کو ملا کر پکایا گیا، تو ان دونوں حضرات نے اس کا گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا۔ سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیا یہ حکم اس سال کے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” «لَا بَلْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ» جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے 63 اونٹ اپنے ہاتھوں سے قربان کرنے میں علت یہ ہے: اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بھی 63 سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر شریف کے ہر سال کے عوض میں اپنے دستِ مبارک کے ذریعے ایک اونٹ قربان کیا اور باقی جانوروں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ان کو قربان کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3932»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1663): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
240. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر وصف حجة المصطفى صلى الله عليه وسلم الذي أمرنا الله جل وعلا باتباعه واتباع ما جاء به
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی صفت کا ذکر، جس کی اتباع اور اس کے لائے ہوئے کی پیروی کا اللہ جل وعلا نے ہمیں حکم دیا
حدیث نمبر: 3944
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي، فَنَزَعَ زِرِّيَ الأَعْلَى، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّيَ الأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، وَأَنَا غُلامٌ يَوْمَئِذٍ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلاةِ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا، كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا، وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْتُ: أَخْبَرَنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِيَدِهِ وَعَقَدَ تِسْعًا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةِ بَشَرٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ، فَقَالَ:" اغْتَسِلِي، وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، وَأَحْرِمِي"، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ، وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمَلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ"، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا، وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: وَلا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ سورة الكافرون آية 1، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158" أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ"، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَوَحَّدَ اللَّهَ، وَكَبَّرَهُ، وَقَالَ:" لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمَلِكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، نَجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ"، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرَ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، قَالَ:" لَوْ أَنِّيَ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ، وَجَعَلْتُهَا عَمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ، وَلْيَجْعَلْهَا عَمْرَةً"، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟، قَالَ: فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الأُخْرَى، وَقَالَ:" دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ، لا بَلْ لأَبَدِ الأَبَدِ، لا بَلْ لأَبَدِ الأَبَدِ"، وَقَدِمَ عَلِيُّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ قَدْ حَلَّ، وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صِبْغٍ، وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةِ لِلَّذِي صَنَعَتْ، وَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَتْ، مَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ:" فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ، فَلا تَحِلَّ"، قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ، وَقَصَّرُوا إِلا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى، فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ، قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا، حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، يَخْطُبُ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَكَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلَّهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنَّ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ: كِتَابَ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ"، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ، يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ" ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّي بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَاطِنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبَلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلا، وَغَابَ الْقُرْصُ، أَرْدَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ، حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:" أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ"، كُلَّمَا أَتَى حَبْلا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلا حَتَّى تَصْعَدَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَصَلَّى الْفَجْرَ، حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ، وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا، دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَكَانَ رَجُلا حَسَنَ الشَّعْرِ، أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّتْ ظُعُنٌ يَجْرِينَ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الشِّقِّ الآخَرِ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ، حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا، فَحَرَّكَ قَلِيلا، ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلَ حَصَا الْخَذْفِ، رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَنَحَرَ ثَلاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَنَحَرَ مَا غَبَرَ مِنْهَا، وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، وَأَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ، فَطُبِخَتْ، فَأَكَلا مِنْ لَحْمِهَا، وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْتَقُونَ عَلَى زَمْزَمٍ، فَقَالَ:" انْزِعُوا يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ، لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ"، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا، فَشَرِبَ مِنْهُ ، لَفْظُ الْخَبَرِ لأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ لَوِ اسْتَقْصَيْنَاهُ لَدَخَلَ فِيهِ ثُلُثَ السُّنَنِ، وَفِيمَا أَوْمَأْنَا إِلَيْهِ مِنَ الأَشْيَاءِ الَّتِي فُرِضَتْ عَلَى الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أُمَّتِهِ جَمِيعًا مِنَ الْوضُوءِ، وَالتَّيَمُّمِ، وَالاغْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَالصَّلاةِ، وَالْحَجِّ، وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَشْيَاءَ مَا فِيهَا غَنِيَّةٌ عَنِ الإِمْعَانِ وَالإِكْثَارِ فِيهَا لِمَنْ وَفَّقَهُ اللَّهُ لِلصَّوَابِ، وَهُدَاهُ لِسُلُوكِ الرَّشَادِ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے تعارف دریافت کیا؛ یہاں تک کہ جب میری باری آئی، تو میں نے بتایا: میں محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب ہوں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا اور میرا اوپر والا بٹن کھولا پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا۔ پھر انہوں نے اپنی ہتھیلی میرے سینے پر رکھی۔ میں ان دنوں نوجوان آدمی تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! تمہیں خوش آمدید، تم جو چاہو دریافت کرو۔“ تو میں نے ان سے سوال کیا، وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے۔ نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی چادر کی طرف بڑھے۔ انہوں نے اسے لحاف کے طور پر لپیٹ لیا، جب بھی وہ اسے اپنے کندھے پر رکھنے کی کوشش کرتے، تو اس کا ایک کنارہ واپس آ جاتا، کیونکہ وہ چادر چھوٹی تھی، حالانکہ ان کی بڑی چادر ان کے پہلو میں کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے نو کا عدد بنایا اور بولے: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ٹھہرے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوران حج نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں سال لوگوں میں حج کا اعلان کروا دیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں۔“ تو بہت سے لوگ مدینہ منورہ آ گئے، وہ سب اس بات کے خواہش مند تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی مانند عمل کریں۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے، تو وہاں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو جنم دیا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھجوایا کہ میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم غسل کر کے کپڑا باندھ لو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی اور میں نے حدِ نگاہ تک دیکھا، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیدل اور سوار لوگ نظر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف بھی اسی طرح تھے، بائیں طرف بھی اسی طرح تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی اسی طرح تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفسیر کو جانتے تھے؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمل کیا ہم نے بھی ویسا ہی عمل کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرنے کا تلبیہ پڑھتے ہوئے یہ پڑھا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں حاضر ہوں۔ بے شک حمد اور نعمت تیرے لیے مخصوص ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔“ لوگ بھی یہی تلبیہ پڑھتے رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس پر کچھ نہیں کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی تلبیے کو جاری رکھا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی، عمرے کا ہمارے ذہن میں نہیں تھا، یہاں تک کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بیت اللہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے تین چکروں میں دوڑ کر (رمل) طواف کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چل کر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ ابراہیم کی طرف بڑھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”اور تم لوگ ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو جائے نماز بنا لو۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا۔ (امام جعفر صادق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:) میرے والد یہ فرمایا کرتے تھے، میرا خیال ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بھی ذکر کی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات میں سورہ اخلاص اور سورہ الکافرون کی تلاوت کی تھی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجرِ اسود کی طرف واپس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا استلام کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے قریب پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔“ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) «أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ» ”میں اس سے آغاز کرتا ہوں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے آغاز کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی کبریائی کا اعتراف کیا اور یہ پڑھا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے، وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس نے وعدے کو پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور (کافروں کے لشکروں) کو اسی نے پسپا کیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے اور ان کے درمیان دعا بھی مانگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اتر کر مروہ کی طرف گئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کی طرف چڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام رفتار سے چلنے لگے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ پر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر بھی اسی طرح کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پر کیا تھا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ کا آخری طواف کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا، اگر وہ پہلے آ جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور اسے عمرے میں تبدیل کر لیتا؛ تو تم لوگوں میں سے جس کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کر لے۔“ سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حکم اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور ارشاد فرمایا: ”عمرہ حج میں داخل ہو گیا“، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی، (پھر فرمایا:) ”بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانور لے کر آئے۔ انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس حالت میں پایا کہ وہ احرام کھول چکی تھیں اور رنگے ہوئے کپڑے پہن چکی تھیں اور انہوں نے سرمہ لگایا ہوا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان پر اعتراض کیا، تو انہوں نے بتایا: میرے والد نے اس بات کا حکم دیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ عراق میں یہ بات بیان کرتے تھے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور فاطمہ کی شکایت کرنا چاہی ان کے اس عمل کی وجہ سے جو انہوں نے کیا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا کہ میں نے ان پر اعتراض کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے ٹھیک کہا ہے؛ تم نے جب حج کی نیت کی تھی، تو کیا کہا تھا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں نے عرض کی: اے اللہ! میں اس کے لیے حاضر ہوں جس کی تیرے رسول نے نیت کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ تو قربانی کا جانور ہے، تو تم اب احرام نہ کھولنا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: قربانی کے جو جانور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے وہ مل کر ایک سو بنتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: تمام لوگوں نے احرام کھول دیا اور بال چھوٹے کروا لیے، صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور تھے انہوں نے ایسا نہیں کیا؛ جب ترویہ کا دن آیا، تو یہ لوگ منیٰ کی طرف حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ وادی نمرہ میں لگا دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعرِ حرام کے قریب وقوف کریں گے جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آگے گزر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ تشریف لے آئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، تو اللہ کے حکم کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء پر پالان رکھ دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیبی حصے میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے تشریف لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمہارا یہ دن، اس مہینے میں، اس شہر میں قابل احترام ہے۔ خبردار! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے ان پاؤں کے نیچے رکھی ہوئی ہے اور زمانہ جاہلیت کے خون معاف کر دیے گئے ہیں؛ اپنے خون کے بدلوں میں سے سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کے خون کو معاف کرتا ہوں جو بنو سعد میں دودھ پی رہے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا اور زمانہ جاہلیت کا سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے، سب سے پہلے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وصول کرنے والے سود کو کالعدم قرار دیتا ہوں وہ سارے کا سارا معاف کر دیا جاتا ہے۔ تم خواتین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی امان کے ہمراہ انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کے ہمراہ ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے؛ تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر ایسے کسی شخص کو نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو تم ان کی پٹائی کرو جس میں زیادتی نہ ہو اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں خوراک اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو۔ میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو، تو تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے؛ اور اگر تم لوگوں سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے، تو تم کیا جواب دو گے؟“ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ کر دی ہے، پیغام پہنچا دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے؛ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کر کے پھر لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر اذان دی گئی پھر اقامت کی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر اقامت کہی گئی پھر عصر کی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز ادا نہیں کی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف کی جگہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء کے پیٹ کو ان پتھروں کی طرف رکھا اور جبلِ مشاۃ کو اپنے سامنے کی طرف کر کے قبلہ کی طرف رخ کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور زردی رخصت ہو گئی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی قصواء کی لگام کو یوں کھینچا ہوا تھا کہ اس کا سر پالان کے سرے سے لگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے لوگوں سے یہ کہہ رہے تھے: ”اے لوگو! آرام سے چلو، آرام سے چلو۔“ جب بھی کوئی پہاڑ راستے میں آتا (یعنی چڑھائی آتی)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لگام کو تھوڑا سا ڈھیلا کر دیتے تھے، تاکہ وہ اس کے اوپر چڑھ جائے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لے آئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ہمراہ ادا کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کوئی نفل نماز ادا نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح صادق ہونے کے بعد ایک اذان اور ایک اقامت کے ہمراہ یہ نماز ادا کی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہوئے اور مشعرِ حرام تک آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی، اس کی کبریائی بیان کی، اس کی معبودیت کا اعتراف کیا اور اس کی وحدانیت کا اعتراف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ اچھی طرح روشنی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے نکلنے سے پہلے وہاں سے روانہ ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، وہ ایک ایسے صاحب تھے، جن کے بال بڑے خوبصورت تھے اور خود بھی گورے چٹے اور حسین تھے؛ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، تو وہاں سے کچھ خواتین گزریں۔ سیدنا فضل رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کے چہرے پر رکھا اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہما کے چہرے کو دوسری طرف موڑ دیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ محسر میں تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اونٹنی کو تھوڑی) سی حرکت دی (یعنی اس کی رفتار کو کچھ تیز کیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درمیانی راستے پر آ گئے جو جمرہ کبریٰ کی طرف جاتا ہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کنکری کے ہمراہ تکبیر کہی۔ وہ کنکری اتنی تھی کہ چٹکی میں آ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے نشیبی حصے سے کنکریاں ماری تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ (63) اونٹ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے نحر کیے۔ باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں نحر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنی قربانی میں حصہ دار بنایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہر قربانی کا کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکایا گیا، ان دونوں صاحبان نے اس کا گوشت کھایا اور اس کے شوربے کو پیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے جن سے لوگ پینے کے لیے آبِ زمزم لے رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! تم لوگ پانی نکالو، اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پانی پلانے پر غالب آ جائیں گے (یعنی لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو جائے گا)، تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابی شیبہ کے حوالے سے حسن بن سفیان کے نقل کردہ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر ہم اس قسم کو تفصیل سے بیان کریں تو اس میں تین سنتیں داخل ہو جائیں گی اور جن اشیاء کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر اور سب پر فرض ہیں ان میں وضو کرنا، تیمم کرنا، غسل جنابت کرنا، نماز ادا کرنا، حج کرنا اور اس جیسے دیگر امور شامل ہیں؛ جسے اللہ تعالیٰ درست چیز کی توفیق عطا کر دے اور ہدایت کے راستے کی طرف جس کی رہنمائی کر دے، اسے ان چیزوں میں زیادہ غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے (بلکہ یہ چیزیں لوگوں کو ویسے ہی معلوم ہوتی ہیں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1677، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1304» «رقم طبعة با وزير 3933»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
241. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر وصف اعتمار المصطفى صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کی صفت کا ذکر
حدیث نمبر: 3945
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فإذا عبد الله بن عمر جالس إلى حجرة عائشة، وإذا الناس يصلون في المسجد صلاة الضحى، قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، ثُمَّ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ، أَوْ نَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: مَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ:" يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَةً، إِلا وَهُوَ شَاهِدٌ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي قَوْلِ بْنِ عُمَرَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، أَبْيَنُ الْبَيَانِ أَنَّ الْخَيِّرَ الْمُتْقِنَ الْفَاضِلَ قَدْ يَنْسَى بَعْضَ مَا يَسْمَعُ مِنَ السُّنَنِ أَوْ يَشْهَدُهَا، لأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اعْتَمَرَ إِلا أَرْبَعَ عُمَرٍ، الأُولَى عَمْرَةُ الْقَضَاءِ سَنَةَ الْقَابِلِ مِنْ عَامِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ الْعُمْرَةُ الثَّانِيَةُ حَيْثُ فَتْحَ مَكَّةَ، وَكَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ هَوَازِنَ، وَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ، فَلَمَّا رَجَعَ وَبَلَغَ الْجِعْرَانَةَ، قَسَّمَ الْغَنَائِمَ بِهَا، وَاعْتَمَرَ مِنْهَا إِلَى مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي شَوَّالٍ، وَاعْتَمَرَ الْعُمْرَةَ الرَّابِعَةَ فِي حَجَّتِهِ، وَذَلِكَ فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ عَشْرَةِ مِنَ الْهِجْرَةِ.
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تشریف فرما تھے، لوگ مسجد میں چاشت کی نماز ادا کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ان سے ان لوگوں کی اس نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ بدعت ہے، پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ عمرہ کیا تھا، جن میں ایک عمرہ رجب کے مہینے میں کیا تھا۔ ہمیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ ہم ان کی بات کو غلط قرار دیں یا ان کو جواب دیں، ہم نے حجرے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی تو ان سے کہا: اے ام المؤمنین! کیا آپ سن رہی ہیں کہ سیدنا ابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہما کیا فرما رہے ہیں؟ انہوں نے دریافت کیا: کیا فرما رہے ہیں؟ عروہ نے بتایا: یہ کہہ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے، جن میں سے ایک عمرہ رجب کے مہینے میں تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ» ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا تھا یہ بھی اس میں شامل تھے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی بھی عمرہ نہیں کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے، ان میں سے ایک عمرہ رجب کے مہینے میں تھا؛ اس قول کا واضح بیان موجود ہے کہ بہتر، متقن اور فاضل شخص بھی بعض اوقات کسی ایسی چیز کو بھول سکتا ہے جو حدیث اس نے سنی ہو یا جس میں وہ موجود رہا ہو، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چار ہی عمرے کیے تھے: پہلا عمرہ قضا کا تھا جو حدیبیہ کے سال کے اگلے سال تھا اور یہ رمضان کے مہینے میں ہوا تھا؛ اور دوسرا عمرہ اس وقت ہوا تھا جب مکہ فتح کیا تھا اور مکہ بھی رمضان میں فتح ہوا تھا؛ پھر آپ وہاں سے ہوازن تشریف لے گئے تھے، پھر غزوہ حنین ہوا، جب وہاں سے واپس تشریف لائے اور جعرانہ کے مقام پر پہنچے، وہاں آپ نے مالِ غنیمت تقسیم کیا اور وہاں سے عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہو گئے، یہ شوال کے مہینے کی بات ہے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھا عمرہ حج کے موقع پر کیا تھا جو سن دس ہجری کے ذوالحجہ کے مہینے میں کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1775، 1777، 4253، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1255، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3070، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3945، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4203، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1992، والترمذي فى (جامعه) برقم: 936، 937، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2998، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8925، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5483» «رقم طبعة با وزير 3934»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيح» (1738): ق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
242. باب ما جاء في حج النبي صلى الله عليه وسلم واعتماره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن المصطفى صلى الله عليه وسلم لم يعتمر إلا ثلاث عمر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین عمرے کیے
حدیث نمبر: 3946
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ، وَعُمْرَةَ الْجِعْرَانَةَ، وَعُمْرَتَهُ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے: ایک عمرہ حدیبیہ کے موقع پر، ایک اس سے اگلے سال قضا کے طور پر، ایک عمرہ جعرانہ سے کیا تھا اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ہمراہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3946]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3946، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4397، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1993، والترمذي فى (جامعه) برقم: 816، 816 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1900، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3003، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8932، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2246» «رقم طبعة با وزير 3935»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1739). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
243. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان -
حدیث نمبر: 3947
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ:" كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا أَحْرَمُوا أَتَوْا الْبَيْتَ مِنْ ظَهْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا، وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى سورة البقرة آية 189" .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جب احرام باندھتے تھے تو وہ گھر کی پشت کی طرف سے آتے تھے (یعنی حج کے لیے اپنے گھر کی پچھلی طرف سے روانہ ہوتے تھے) تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَىٰ﴾ [سورة البقرة: 189] ”یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں کے پیچھے والے حصے کی طرف سے آؤ، بلکہ نیکی اس شخص کی ہے جو پرہیزگاری اختیار کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3947]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1803، 4512، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 3026، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3947، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4237، 10957، 10958، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10488، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 752، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1732» «رقم طبعة با وزير 3936»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (1803 و 4512)، م (8/ 243). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
244. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر الإباحة للمحرم أن يغسل رأسه في إحرامه
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم اپنے احرام میں سر دھوئے
حدیث نمبر: 3948
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اختلفا بالأبواء، فقال عبد الله بن عباس: يغسل المحرم رأسه، وَقَالَ الْمِسْوَرُ لا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ وَطَأْطَأَهُ، حَتَّى بَدَا لِي رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ" .
ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان ”ابواء“ کے مقام پر اختلاف ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا تھا کہ محرم شخص اپنے سر کو دھو سکتا ہے، جبکہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا تھا کہ محرم شخص اپنے سر کو نہیں دھو سکتا۔ ان حضرات نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں ان سے اس بارے میں دریافت کروں۔ میں نے انہیں پالان کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے پایا، انہوں نے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ کیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے دریافت کیا: ”کون ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے دوران کس طرح اپنے سر کو دھوتے تھے؟“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے کچھ نیچے کیا، یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آنے لگا، پھر انہوں نے پانی انڈیلنے والے شخص سے یہ کہا: ”مجھ پر پانی انڈیلو۔“ اس نے ان کے سر پر پانی انڈیلا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر میں حرکت دی، وہ اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3948]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1205، وابن الجارود فى "المنتقى"، 486، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3948، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5998، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2664، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1840، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1834، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2934، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9224، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2673، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24012» «رقم طبعة با وزير 3937»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1613): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
245. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر الإباحة للمحرم عند إرادته الجمرة أن يستتر من الحر
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم جب جمرہ کا ارادہ کرے تو گرمی سے بچنے کے لیے چھپ جائے
حدیث نمبر: 3949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَنَّ أُمَّ الْحُصَيْنِ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: " حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلالا، أَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ" .
سیدہ ام حصین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع میں شرکت کی ہے، میں نے سیدنا اسامہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا، ان دونوں میں سے ایک نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا ہوا تھا اور دوسرے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چادر تانی ہوئی تھی، تاکہ آپ کو دھوپ کی تپش سے بچائیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1298، 1838، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2688، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3949، 4564، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7474، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3060، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1834، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1706، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2861، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16914» «رقم طبعة با وزير 3938»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1609): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
246. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر جواز احتجام المرء المحرم لعلة تعترضه
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم کسی عارضہ کی وجہ سے پچھنا لگوائے
حدیث نمبر: 3950
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَذًى كَانَ بِرَأْسِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر میں ہونے والی تکلیف کی وجہ سے حالتِ احرام میں پچھنے لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1835، 1938، 1939، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 427، 487، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2651، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3531، 3950، 3951، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1571، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1835، 1836، والترمذي فى (جامعه) برقم: 775، 776، 777، 839، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1682، 3081، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1874» «رقم طبعة با وزير 3939»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1611): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
247. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر الإباحة للمحرم أن يحتجم لعلة تحدث به ما لم يقطع شعرا
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم کسی عارضہ کی وجہ سے پچھنا لگوائے بشرطیکہ بال نہ کاٹے
حدیث نمبر: 3951
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم ہونے کے دوران پچھنے لگوائے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3951]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1835، 1938، 1939، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 427، 487، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2651، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3531، 3950، 3951، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1571، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1835، 1836، والترمذي فى (جامعه) برقم: 775، 776، 777، 839، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1682، 3081، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1874» «رقم طبعة با وزير 3940»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه (1610): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين