صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
265. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الأخبار ولا تفقه في صحيح الآثار أنه مضاد لخبر الصعب بن جثامة الذي ذكرناه
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس خبر کا ذکر جو خبریں اور صحیح آثار میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ صعب بن جثامہ کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3972
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَأُهْدِيَ لَهُ لَحْمُ صَيْدٍ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَهُوَ رَاقِدٌ، فَأَبَيْنَا أَنْ نَأْكُلَهُ، حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَظَ قُلْنَا: صَيْدٌ أُهْدِيَ لَكَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ لَمْ تَأْكُلُوا؟، قَالُوا: انْتَظَرْنَا حَتَّى نَنْظُرَ مَا تَقُولُ فِيهِ، قَالَ:" أَكَلْنَا مِثْلَ هَذَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُوا، فَأَكَلُوا، وَأَكَلَ" .
عبدالرحمن بن عثمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا، وہ لوگ اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سو رہے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) ہم نے وہ گوشت کھانے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، تو ہم نے بتایا: آپ کو تحفہ دیا گیا تھا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر کیا وجہ ہے، تم نے اسے کھایا کیوں نہیں؟ لوگوں نے بتایا: ہم یہ انتظار کر رہے تھے تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم نے اس طرح کی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھائی تھی، تو تم لوگ بھی کھاؤ۔ (راوی کہتے ہیں) تو لوگوں نے بھی اسے کھا لیا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کھا لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3972]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3972، 3973، 5256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10020، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1400» «رقم طبعة با وزير 3961»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (4/ 17). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
266. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أن ابن المنكدر لم يسمع هذا الخبر من عبد الرحمن بن عثمان التيمي
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ ابن منکدر نے یہ خبر عبد الرحمن بن عثمان تیمی سے نہیں سنی
حدیث نمبر: 3973
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فِي الْحَجِّ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَأُهْدِيَ لَنَا طَائِرٌ، وَطَلْحَةُ نَائِمٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ، وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمْ يَأْكُلْهُ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَوَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ:" أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَسْتُ أُنْكِرُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَسَمِعَهُ مِنَ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، فَمَرَّةً رَوَى عَنْ مُعَاذٍ، وَأُخْرَى عَنْ أَبِيهِ.
معاذ بن عبدالرحمن تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کے لیے جا رہے تھے اور ہم احرام کی حالت میں تھے، ہمیں ایک پرندہ تحفے کے طور پر دیا گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور کچھ لوگوں نے پرہیز کیا اور اسے نہیں کھایا، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو ہم نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے اس کا گوشت کھا لیا تھا اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بتایا کہ ہم نے اس (شکار) کا گوشت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھایا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میں اس بات کا انکار نہیں کرتا کہ ابن منکدر نے یہ روایت عبدالرحمن بن عثمان تیمی سے سنی ہو گی اور انہوں نے یہ روایت عبدالرحمن کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سنی ہو گی، تو ایک مرتبہ انہوں نے اسے معاذ کے حوالے سے نقل کر دیا اور دوسری مرتبہ ان کے والد کے حوالے سے نقل کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3972، 3973، 5256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10020، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1400» «رقم طبعة با وزير 3962»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
267. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر البيان بأن المحرم له أكل ما أهدي له من الصيد ما لم يكن بأمره أو بإشارته
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ محرم کے لیے اس صید کو کھانا جائز ہے جو اسے ہدیہ کیا گیا ہو، بشرطیکہ اس کا حکم یا اشارہ نہ ہو
حدیث نمبر: 3974
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَاسٍ مُحْرِمِينَ، وَأَبُو قَتَادَةَ حَلَّ، فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَعَدَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسٍ، وَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمْ سَوْطًا، فَحَمَلَ عَلَى الْحِمَارِ فَصَرَعَهُ، فَأَتَاهُمْ بِهِ، فَأَكَلُوا، وَحَمَلُوا، فَلَقُوا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَأَلُوهُ عَمَّا صَنَعَ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ أَوْ أَمَرَهُ؟"، قَالُوا: لا، قَالَ:" فَكُلُوهُ" .
عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ موجود تھے، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، جبکہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا، لوگوں نے ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا، ان لوگوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑ گئی، وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے، انہوں نے ان حضرات میں سے کسی کی لاٹھی لی اور اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا، پھر وہ اس کا (گوشت) لے کر ان حضرات کے پاس آئے، ان حضرات نے اسے کھا لیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھ بھی رکھ لیا، جب ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی شخص نے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا یا اسے (شکار کرنے کا) حکم دیا تھا؟“ ان حضرات نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم لوگ اسے کھا لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1821، 5492، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1196، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2635، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3966، 3974، 3975، 3977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2815، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 847، 848، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3093، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9955، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22962» «رقم طبعة با وزير 3963»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - تقدم (3955). تنبيه!! رقم (3955) = (3966) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
268. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر الإباحة للمحرم أكل لحم الصيد إذا لم يكن أعان عليه بشيء
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم صید کا گوشت کھائے اگر اس نے اس پر کوئی مدد نہ کی ہو
حدیث نمبر: 3975
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ، فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ، فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ" .
سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ مکہ کے راستے میں کسی جگہ پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) پیچھے رہ گئے، ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا، لیکن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، انہوں نے اپنے ساتھیوں سے یہ فرمائش کی کہ وہ انہیں ان کی لاٹھی پکڑا دیں، تو ان کے ساتھیوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نیزہ مانگا، تو انہوں نے وہ بھی نہیں دیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے لیا، پھر اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض اصحاب نے اس کا گوشت کھا لیا اور بعض نے اس کا گوشت نہیں کھایا، جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ خوراک ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلائی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1821، 5492، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1196، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2635، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3966، 3974، 3975، 3977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2815، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 847، 848، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3093، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9955، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22962» «رقم طبعة با وزير 3964»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
حدیث نمبر: 3976
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةَ شَيْخَانِ حَافِظَانِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةَ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ، حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ ثَنِيَّةِ الْغَزَّالِ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارٍ وَحْشِيٍّ، فَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ، وَهُوَ حِلٌّ فَنَكَّسُوا رُؤُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُحِدُّوا أَبْصَارَهُمْ فَيَفْطَنَ، فَرَآهُ فَرَكِبَ فَرَسَهُ، وَأَخَذَ الرُّمْحَ، فَسَقَطَ مِنْهُ السَّوْطُ، فَقَالَ: نَاوِلْنِيهِ، فَقُلْنَا: لا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ، قَالَ: ثُمَّ جَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ، فَأَتَوْهُ، فَسَأَلُوهُ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا" ، وَأَظُنُّهُ قَالَ: مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے ”عسفان“ میں موجود ”غزال“ نامی گھاٹی میں پڑاؤ کیا، وہاں ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) موجود تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا، دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے اپنے سر جھکا لیے کہ کہیں ان کی نگاہوں کا پیچھا کرتے ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو (اس شکار کے بارے میں) پتا نہ چل جائے، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی (اس شکار کو) دیکھ لیا، وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، انہوں نے نیزہ پکڑا، ان کی سوٹی نیچے گر گئی تو انہوں نے کہا: یہ مجھے پکڑا دیں، تو ہم نے کہا: ہم اس بارے میں کسی بھی حوالے سے آپ کی مدد نہیں کریں گے، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اس کا کچھ گوشت بھون لیا، انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں، (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آگے تشریف لے جا چکے تھے، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا، (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس اس میں سے (کچھ گوشت) ہے؟“ یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3976، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 3810، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4542» «رقم طبعة با وزير 3965»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1623). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
269. باب ما يباح للمحرم وما لا يباح - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أكل من لحم الحمار الوحشي الذي عقره أبو قتادة في ذلك السفر
محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں ابو قتادہ کے زخمی کردہ جنگلی گدھے کا گوشت کھایا
حدیث نمبر: 3977
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْرَمَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ غَيْرِي، فَرَأَيْنَا حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ وَأَلْجَمْتُ، ثُمَّ رَكِبْتُ، وَأَخَذْتُ الرُّمْحَ، وَنَسِيتُ السَّوْطَ، فَسَأَلْتُهُمْ أَنْ يُنَاوِلُونِيهِ فَأَبَوْا، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُ سَوْطِي، ثُمَّ ضَرَبْتُ الْحِمَارَ فَعَقَرْتُهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ الْقَوْمِ، وَتَرَكَ بَعْضٌ، فَلَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَدْ أَصَابَ الَّذِينَ أَكَلُوا، هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ"، قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ هَذِهِ رِجْلٌ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوا، میرے علاوہ باقی سب لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا، ہم نے ایک حمارِ وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا تو میں نے (گھوڑے پر) زین رکھی، لگام ڈالی اور میں سوار ہو گیا۔ میں نے نیزہ پکڑ لیا، لیکن لاٹھی اٹھانا بھول گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ مجھے لاٹھی پکڑا دیں، لیکن انہوں نے میری بات کو تسلیم نہیں کیا، میں گھوڑے سے نیچے اترا، میں نے اپنی لاٹھی پکڑی، پھر میں نے اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ بعض لوگوں نے اس کا گوشت کھا لیا اور بعض نے نہیں کھایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنہوں نے اس کا گوشت کھایا ہے انہوں نے ٹھیک کیا ہے، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت کا کچھ حصہ ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! یہ ایک ٹانگ ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1821، 5492، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1196، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2635، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3966، 3974، 3975، 3977، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2815، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1852، والترمذي فى (جامعه) برقم: 847، 848، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3093، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9955، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2749، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22962» «رقم طبعة با وزير 3966»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - انظر (3955). تنبيه!! رقم (3955) = (3966) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
270. باب الكفارة
کفارہ کا بیان -
حدیث نمبر: 3978
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ مِنْ رَأْسِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" انْسُكْ نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ اطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ".
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قربانی کر لو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو (اور سر منڈوا لو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3967»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1624 - 1626): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
271. باب الكفارة - ذكر البيان بأن الله جل وعلا أنزل آية الفدية حيث أمر صلى الله عليه وسلم كعب بن عجرة بالفدية
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا نے فدیہ کی آیت نازل کی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ کو فدیہ کا حکم دیا
حدیث نمبر: 3979
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ، وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ لَهُ: " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَ، قَالَ: وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفِدْيَةِ، وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ أَذْبَحَ شَاةً .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت حدیبیہ میں موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوا دوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے یہ بات واضح نہیں تھی کہ انہیں وہیں سر منڈوانا پڑے گا، وہ لوگ اس بات کے خواہش مند تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر فدیہ سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ ”میں تین دن کے روزے رکھوں یا ایک «فَرَق» (اناج کا مخصوص پیمانہ) چھ مسکینوں میں تقسیم کروں یا ایک بکری ذبح کروں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3968»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
272. باب الكفارة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أمر كعب بن عجرة بالكفارة التي ذكرناها بعد حلقه رأسه
کفارہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عجرہ کو ہمارے بیان کردہ کفارہ کا حکم دیا جب اس نے اپنا سر منڈوایا
حدیث نمبر: 3980
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لِي، أَوْ تَحْتَ بُرْمَةٍ لِي، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ يَا كَعْبُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہا تھا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے کعب! کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سر کو منڈوا دو اور ایک قربانی کر لو یا تین دن کے روزے رکھ لو یا ایک فرق چھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3969»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3981
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ إِلا أَنَّهُ قَالَ:" اذْبَحْ شَاةً".
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند روایت نقل کرتے ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم ایک بکری ذبح کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحج/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، 3984، 3985، 3986، 3987، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، 1857، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، 3080، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388» «رقم طبعة با وزير 3970»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح