🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
243. باب المزاح والضحك - ذكر خبر ثان يدل على صحة ما ذكرنا أن العرب إذا أرادت وصف شيئين وإن كان بينهما تباين تصفهما بلفظ أحدهما-
مزاح اور ہنسی کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے کہے کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عرب جب دو چیزوں کی وضاحت چاہتے ہیں خواہ ان کے درمیان تفاوت ہو، انہیں ایک ہی لفظ سے بیان کرتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5805
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلا الأَسْوَدَيْنِ: التَّمْرُ، وَالْمَاءُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5805]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 683، 5805، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8077، 8773، 9382، 9505، 10049، والبزار فى (مسنده) برقم: 8767» «رقم طبعة با وزير 5775»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - تقدم (682). تنبيه!! رقم (682) = (683) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
244. باب الاستئذان-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5806
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّازُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى ، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا رَدَّكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ" ، فَقَالَ: لِتَجِئْنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلا، قَالَ حَمَّادٌ: تَوَعَّدَهُ قَالَ: فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَأَتَى مَجْلِسَ الأَنْصَارِ فَقَصَّ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ: مَا قَالَ لِعُمَرَ، وَمَا قَالَ لَهُ عُمَرُ، فَقَالُوا: لا يَقُومُ مَعَكَ أَلا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ مَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، فَشَهِدَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّا لا نَتَّهِمُكَ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الأَمْرُ بِالرُّجُوعِ لِلْمُسْتَأْذِنِ إِذَا كَانَ الشَّرْطُ مَوْجُودًا، وَهُوَ عَدَمُ الإِذْنِ وَاجِبٌ، وَمَتَى وُجِدَ الشَّرْطُ وَهُوَ الإِذْنُ بَطُلَ الأَمْرُ بِالرُّجُوعِ.
عبداللہ بن ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی، جب انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے، اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے دریافت کیا: آپ واپس کیوں چلے گئے تھے؟ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو اسے واپس چلے جانا چاہیے۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو آپ اس پر کوئی گواہ لے آئیں ورنہ پھر (یہاں حماد نامی راوی نے یہ کہا: کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سزا دینے کا کہا:) راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس آئے اور مسجد میں آگئے، وہ انصار کی محفل کے پاس تشریف لائے اور انہیں سارا واقعہ بیان کیا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے بیان کیا اور جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے ساتھ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں کم سن ہو، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے آپ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے منقول حدیث کا معاملہ اہم ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اجازت لینے والے کے لیے واپس جانے کا حکم ہونا اس صورت میں ہے جب شرط موجود ہو اور وہ یہ کہ اجازت کا نہ ہونا واجب ہو لیکن جب شرط پائی جائے گی اور وہ اجازت دینا ہے تو پھر واپس جانے کا حکم کالعدم تصور ہوگا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5806]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2062، 6245، 7353، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5806، 5807، 5810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5180، 5181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2690، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2671، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13692، 17742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11186» «رقم طبعة با وزير 5776»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (827 و 832)، «الصحيحة» (3474): ق - أبي سعيد، وأبي موسى، دون قول عمر: أنا لا ... فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
245. باب الاستئذان - ذكر البيان بأن بعض السنن قد تخفى على العالم وقد يحفظها من هو دونه في العلم والدين-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر بیان کہ بعض سنن عالم سے چھپی رہتی ہیں اور اس سے کم علم و دین والا انہیں محفوظ رکھتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5807
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى " اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولا، فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ، فَقَالَ: أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ؟ ائْذَنُوا لَهُ، قِيلَ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ، فَدَعَا بِهِ، فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الأَنْصَارِ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: لا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ إِلا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ، فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے تین مرتبہ اجازت مانگی، انہیں اجازت نہیں ملی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شاید اس وقت مصروف تھے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے، تو انہوں نے دریافت کیا: کیا میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی؟ تم لوگ اسے اندر آنے کے لیے کہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا، وہ تو واپس چلے گئے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا (اور دریافت کیا) تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس پر کوئی ثبوت لے کر آئیں، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ انصار کی محفل میں تشریف لے گئے، ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے حق میں اس بارے میں گواہی وہ شخص دے گا جو ہم میں سب سے کم سن ہے اور وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہے، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر گئے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کی گواہی دی (کہ ایسا ہی) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے مخفی رہا، بازار میں خرید و فروخت نے مجھے اس سے غافل کر دیا، تاہم تم جو چاہو تسلیم کرو (یا تم جیسے چاہو سلام کرو)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5807]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2062، 6245، 7353، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5806، 5807، 5810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5180، 5181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2690، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2671، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13692، 17742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11186» «رقم طبعة با وزير 5777»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب» (827): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
246. باب الاستئذان - ذكر الزجر عن قول المستأذن عند استئذانه " أنا " دون السلام على القوم-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر منع کہ اجازت مانگنے والا استئذان کے وقت "میں ہوں" کہے بغیر لوگوں پر سلام کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5808
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ: " مَنْ ذَا؟" فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ:" أَنَا! أَنَا! مَرَّتَيْنِ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کی: میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: ”میں ہوں، میں ہوں“ گویا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5808]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6250، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5808، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10087، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5187، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2711، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2672، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3709، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17747، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14405» «رقم طبعة با وزير 5778»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج المشكاة» (4669): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
247. باب الاستئذان - ذكر الزجر عن أن ينظر المرء في دار أخيه المسلم بغير إذنه-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر جھانکے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5809
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں جھانک کر دیکھا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک کنگھی تھی جس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو کھجا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے یہ پتا ہوتا کہ تم اس طرح جھانک رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ (گھر والوں پر) نگاہ نہ پڑے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5809]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5924، 6241، 6901، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2156، وابن الجارود فى "المنتقى"، 852، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5809، 6001، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4874، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7035، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2709، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2429، 2430، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17728، 17729، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23265» «رقم طبعة با وزير 5779»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 273)، «الضعيفة» تحت الحديث (6078): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
248. باب الاستئذان - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من وصف الاستئذان إذا أراد ذلك على أقوام-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ لوگوں سے اجازت مانگنے کا طریقہ بیان کرے اگر وہ اس کا ارادہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5810
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنَّا فِي مَجْلِسِ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ بِعَصًا حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الاسْتِئْذَانُ ثَلاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلا فَارْجِعْ؟" . قَالَ أُبَيٌّ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ، ثُمَّ جِئْتُهُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُهُ أَمْسِ، فَسَلَّمْتُ ثَلاثًا، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ، فَلَوِ اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا، قَالَ: فَقَالَ أُبَيٌّ: وَاللَّهِ لا يَقُومُ مَعَكَ إِلا أَحْدَثُنَا سِنًّا، قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی محفل میں موجود تھے، اسی دوران سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ عصا ہاتھ میں لے کر تشریف لے آئے اور ٹھہر گئے، انہوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ میں سے کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تین مرتبہ اجازت مانگی جائے، اگر تمہیں اجازت مل جاتی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ واپس چلے جاؤ۔“؟ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کے لیے گزشتہ شام تین مرتبہ اجازت مانگی، مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس آ گیا، پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں ان کے پاس آیا تو میں نے انہیں بتایا: گزشتہ شام میں آپ کے پاس آیا تھا، میں نے تین مرتبہ سلام کیا، پھر میں واپس چلا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم نے آپ کی آواز سن لی تھی، لیکن ہم اس وقت کچھ مصروف تھے، اگر آپ اجازت لیتے رہتے یہاں تک کہ آپ کو اجازت مل جاتی (تو یہ مناسب ہوتا)؛ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دوسری طرح اجازت لی جس طرح میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو آپ اس بارے میں اپنے ساتھ کوئی گواہ لے کر آئیں، ورنہ ہم آپ کی پشت پر سزا عائد کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے ہمراہ وہ شخص اٹھ کر جائے گا جو ہم میں سب سے کم سن ہو، اے ابوسعید! تم اٹھو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں کھڑا ہوا اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے بتایا: میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5810]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2062، 6245، 7353، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5806، 5807، 5810، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5180، 5181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2690، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2671، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13692، 17742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11186» «رقم طبعة با وزير 5780»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (832): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
249. باب الاستئذان - ذكر الإباحة للمرء دخول بيت الداعي بغير إذنه إذا كان معه رسوله-
اجازت لینے (استیذان) کا بیان - ذکر اجازت کہ انسان دعوت دینے والے کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہو اگر اس کا رسول اس کے ساتھ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5811
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص کا دوسرے شخص کی طرف پیغام رساں کو بھیجنا اس کی طرف سے اجازت (شمار ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5811]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5811، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5189، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17748، 17749، والبزار فى (مسنده) برقم: 9867، 9868، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1588» «رقم طبعة با وزير 5781»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (4955). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
250. باب الأسماء والكنى-
ناموں اور کنیتوں کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5812]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 110، 3539، 6188، 6197، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2134، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5812، 5814، 5815، 5817، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4209، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4965، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2841، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2735، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3735، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19381، 19382، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7494» «رقم طبعة با وزير 5782»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2946): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
251. باب الأسماء والكنى - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن هذا الفعل-
ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس فعل سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5813
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ آخَرُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں کھڑے ہوئے تھے، ایک شخص نے بلند آواز میں دوسرے کو مخاطب کیا: ”اے ابوالقاسم!“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بلایا، میں نے فلاں شخص کو بلایا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ میرے نام کے مطابق نام رکھ لو لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5813]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2120، 2121، 3537، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2131، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5813، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2841 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3737، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19387، 19388، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12313» «رقم طبعة با وزير 5783»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
252. باب الأسماء والكنى - ذكر البيان بأن القصد في هذا الزجر إنما هو الجمع بينهما-
ناموں اور کنیتوں کا بیان - ذکر بیان کہ اس منع کا مقصد دونوں کا ایک ساتھ جمع کرنا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5814
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5814]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 110، 3539، 6188، 6197، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2134، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5812، 5814، 5815، 5817، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4209، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4965، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2841، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2735، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3735، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19381، 19382، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7494» «رقم طبعة با وزير 5784»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «تخريج المشكاة» (4769 / التحقيق الثاني)، «الصحيحة» (2946). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں