🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
282. باب الصور والمصورين - ذكر العلة التي من أجلها زجر عن الصور في البيوت-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر گھروں میں تصاویر بنانے سے منع کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5845
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى رَسُولِهِ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟" فَقَالَتِ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ، تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لا تَدْخُلُهُ الْمَلائِكَةُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْبَيْتُ الَّذِي يُوحَى فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ فِي بَيْتٍ، وَفِيهِ صُورَةٌ أَنْ يَكُونَ حَافِظَاهُ مَعَهُ، وَهُمَا مِنَ الْمَلائِكَةِ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ:" لا تَصْحَبِ الْمَلائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ"، يُرِيدُ بِهِ رُفْقَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَخْرُجَ الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ مِنْ أَقَاصِي الْمُدُنِ وَالأَقْطَارِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ عَلَى نَعَمٍ وَعِيسٍ بِأَجْرَاسٍ وَكِلابٍ ثُمَّ لا تَصْحَبُهَا الْمَلائِكَةُ وَهُمْ وَفْدُ اللَّهِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ٹھہر گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف نہیں لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات محسوس کر لیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ پردہ کہاں سے آیا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوں اور اس کے ساتھ ٹیک لگائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے یہ کہا جائے گا: تم نے جو تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جس گھر میں تصویریں موجود ہوں، فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ وہ گھر ہو جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اب یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی شخص گھر میں موجود ہو اور اس میں تصویر بھی موجود ہو تو آدمی کے ساتھ موجود حفاظت والے فرشتے گھر کے اندر نہ جائیں، حالانکہ وہ دونوں بھی فرشتے ہی ہیں، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو“ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جو سوار سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، اب یہ بات ناممکن ہے کہ حاجی یا عمرہ کرنے والے لوگ دور دراز کے شہروں سے روانہ ہوں اور وہ اونٹوں اور جانوروں پر سوار ہو کر بیت عتیق آنے کا قصد کریں، ان کے ہمراہ گھنٹیاں اور کتے بھی ہوں اور پھر فرشتے ان کے ساتھ نہ آئیں، حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5845]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5815»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «آداب الزفاف» (77 - 78)، «غاية المرام» (121): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
283. باب الصور والمصورين - ذكر تعذيب الله جل وعلا المصورين الذين يصورون الصور-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا تصویر بنانے والوں کو عذاب دیتا ہے جو تصاویر بناتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5846
أَخْبَرَنَا ابْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي عَمِلْتُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُعَذَّبُ الْمُصَوِّرِينَ لِمَا صَوَّرُوا" ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ وَزَعَمَ أَنَّ لَهُ عِيَالا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لا تُصَوِّرْ شَيْئًا فِيهِ رُوحٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں یہ تصویریں بناتا ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ تصویریں بنانے والوں کو تصویریں بنانے کی وجہ سے عذاب دے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص چلا گیا، اس نے یہ بیان کیا تھا کہ اس کے بال بچے ہیں (جن کے لیے وہ اس طریقے سے روزی کماتا ہے)، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم کوئی ایسی تصویر نہ بناؤ جو کسی جاندار چیز کی ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5846]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2225، 5963، 7042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2110، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5685، 5686، 5846، 5848، 6057، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5373، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5024، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1751، 2283، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1891» «رقم طبعة با وزير 5816»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق نحوه، وهو الآتي قريبا (5818). تنبيه!! رقم (5818) = (5848) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
284. باب الصور والمصورين - ذكر البيان بأن المصورين يكونون في القيامة من أشد خلق الله عذابا-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر بیان کہ تصویر بنانے والے قیامت کے دن اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ سخت عذاب پائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5847
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ مُسْتَتِرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ، فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پردے کی طرف بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اسے اتار دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5847]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5817»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (119): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
285. باب الصور والمصورين - ذكر وصف العذاب الذي يعذب به المصورون-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر وصف اس عذاب کی جو تصویر بنانے والوں کو دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5848
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مَعِيشَتِي مِنْ هَذِهِ التَّصَاوِيرِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ" ، فَاصْفَرَّ لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ لا بُدَّ فَعَلَيْكَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ.
سعید بن ابوالحسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: میں ایک ایسا شخص ہوں جس کی روزی کا مدار تصویریں بنانے پر ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص تصویر بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے یہ عذاب دے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“ یہ سن کر اس شخص کا رنگ زرد ہو گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم نے ضرور تصویریں بنانی ہیں تو تم درختوں کی بنا لو یا کسی ایسی چیز کی بنا لو جس میں روح نہیں ہوتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2225، 5963، 7042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2110، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5685، 5686، 5846، 5848، 6057، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5373، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5024، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1751، 2283، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1891» «رقم طبعة با وزير 5818»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (120): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
286. باب الصور والمصورين - ذكر نفي دخول الملائكة البيت الذي فيه الصور-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر اس بات کی نفی کہ فرشتے اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں تصاویر ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5849
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ ، مَوْلَى آلِ الشِّفَاءِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، على أبي سعيد الخدري نعوده، قَالَ: فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ : أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَلائِكَةَ لا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ" ، يَشُكُّ إِسْحَاقُ أَيُّهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ.
رافع بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن ابوطلحہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے: ”بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تماثیل یا تصویر موجود ہو۔“ یہ شک اسحاق نامی راوی کو ہے کہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے ان دونوں میں سے کون سا لفظ بیان کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5849]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3545، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5849، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2805، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12038، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1303» «رقم طبعة با وزير 5819»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (118). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
287. باب الصور والمصورين - ذكر البيان بأن الملائكة قد تدخل البيت الذي فيه الشيء اليسير من الصور-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل ہو سکتے ہیں جس میں معمولی تصاویر ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5850
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلائِكَةَ لا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ" ، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ، وَإِذَا فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيِّ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا، وَيَدَعُ الثَّوْبَ؟! قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قَالَ:" إِلا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر موجود ہو۔“ بسر نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ بعد میں وہ بیمار ہو گئے، ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر بنی ہوئی تھی، میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں (تصویر کے بارے میں) حدیث نہیں سنائی تھی اور یہ کپڑا انہوں نے لٹکا دیا ہے؟ تو عبیداللہ نے کہا: کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ ”کپڑے پر نقش و نگار“ کا حکم مختلف ہے (یعنی اس کی اجازت ہے)؟ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5850]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5820»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (133): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
288. باب الصور والمصورين - ذكر البيان بأن هذه اللفظة " إلا رقما في ثوب " من كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم لا من كلام زيد بن خالد-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر بیان کہ لفظ "سواے اس کے کہ کپڑے پر نقش ہو" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے نہ کہ زید بن خالد کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5851
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ: فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا، فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : لِمَ تَنْزِعْهُ؟ فَقَالَ: إِنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ سَهْلٌ: أَلَمْ يَقُلْ: " إِلا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ"؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي.
عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے (گئے)، راوی کہتے ہیں: تو ہم نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس پایا، راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو بلایا جس نے ان کے نیچے سے بچھونا نکال لیا، تو سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: آپ نے اسے کیوں نکالا؟ انہوں نے بتایا: اس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں اور ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی وہ آپ جانتے ہیں، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”کپڑے پر بنے ہوئے نقش و نگار کا حکم مختلف ہے“؟ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، لیکن میں اپنے اطمینان کے لیے (اسے بھی نکال رہا ہوں)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2105، 2479، 3224، 3225، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2106، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 844، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5468، 5843، 5845، 5847، 5850، 5851، 5855، 5860، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 760، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4153، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1750، 2804، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2151، 3649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1207، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16226» «رقم طبعة با وزير 5821»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (134). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
289. باب الصور والمصورين - ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم الذين يصورون الأشياء-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو لعنت کی جو چیزیں تصویر کرتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5852
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِيَ اشْتَرَى حَجَّامًا، فَأَتَى بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ، وَلَعَنَ الْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ" .
عون بن ابوجحیفہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، انہوں نے پچھنے لگانے والا ایک غلام خریدا، وہ اپنے پچھنے لگانے کے آلات لے کر آیا تو انہوں نے انہیں توڑ دیا، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ”بے شک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون (یعنی پچھنے لگانے) کی قیمت، کتے کی قیمت اور فاحشہ عورت کی آمدن (استعمال کرنے سے) منع فرمایا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گودنے والی عورت اور گدوانے والی عورت، سود کھانے والے شخص اور کھلانے والے شخص پر لعنت فرمائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5852]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2086، 2238، 5347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4939، 5852، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3483، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11120، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19058» «رقم طبعة با وزير 5822»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
290. باب الصور والمصورين - ذكر الإخبار بأن الملائكة لا تدخل البيوت التي فيها التماثيل-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر خبر کہ فرشتے ان گھروں میں داخل نہیں ہوتے جن میں تماثیل ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5853
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي بَيْتِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرٌ مُصَوِّرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْخُلْ، فَقَالَ: إِنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَإِنْ كُنْتَ لا بُدَّ جَاعِلا فِي بَيْتِكَ، فَاقْطَعْ رُءُوسَهَا أَوِ اقْطَعْهَا وَسَائِدَ، وَاجْعَلْهَا بُسُطًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندر آ جائیں“، تو انہوں نے عرض کی کہ ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں موجود ہوں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے گھر میں ضرور استعمال کرنا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر کاٹ دیں یا انہیں کاٹ کر تکیے بنا لیں یا انہیں بچھونے بنا لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5853]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2112، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5853، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5380، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4158، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2806، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14691، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 25708» «رقم طبعة با وزير 5823»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مختصر الذي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
291. باب الصور والمصورين - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن مجاهدا لم يسمع من أبي هريرة شيئا-
تصویروں اور مصوروں کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ مجاہد نے ابو ہریرہ سے کچھ نہیں سنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5854
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ إِلا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، فَأَمَرَ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ أَنْ يُقْطَعَ، وَأَمَرَ بِالسِّتْرِ الَّذِي فِيهِ التِّمْثَالُ أَنْ يُقْطَعَ رَأْسُ التِّمْثَالِ، وَجُعِلَ مِنْهُ وِسَادَتانِ، وَأَمَرَ بِالْكَلْبِ فَأُخْرِجَ، وَكَانَ الْكَلْبُ جَرْوًا لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا، لیکن میں اس لیے آپ کے گھر میں داخل نہیں ہو سکا کیونکہ گھر میں آدمی کی تصویر موجود تھی“۔ (راوی کہتے ہیں:) گھر میں ایک پردہ تھا جس میں تصویر بنی ہوئی تھی اور گھر میں ایک کتا بھی تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کے سر کے بارے میں حکم دیا کہ اسے کاٹ دیا جائے اور جس پردے میں تصویریں بنی ہوئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس میں تصویروں کے سر کاٹ دیے جائیں اور اس کپڑے کے ذریعے تکیے بنا لیے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت کتے کو باہر نکال دیا گیا، وہ کتے کا بچہ تھا جس کے ساتھ سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کھیلا کرتے تھے، وہ ان کے پلنگ کے نیچے تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر جبرائیل میرے پاس آئے، اس کے بعد وہ مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5854]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 512، 5854، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3674، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7638، 8160، 9877، 10048، 10826، والبزار فى (مسنده) برقم: 8765، 9357، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 25929، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2793، 2794، 2795» «رقم طبعة با وزير 5824»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 56)، «آداب الزفاف» (102 - 108). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں