صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
306. باب الحوض والشفاعة - ذكر تفضل الله جل وعلا على صفيه صلى الله عليه وسلم بإعطائه الحوض ليسقي منه أمته يوم القيامة جعلنا الله منهم بمنه-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فضل کیا کہ انہیں حوض عطا کیا تاکہ وہ قیامت کے دن اپنی امت کو اس سے سیراب کریں، اللہ ہمیں اپنے فضل سے ان میں شامل کرے
حدیث نمبر: 6458
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجْ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى صَنْعَاءَ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ، فِيهَا مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَذَهَبٍ، أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ" .
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے، جو ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ اس حوض کی چوڑائی اس حوض کی لمبائی جتنی ہے، اس میں دو پرنالے ہیں جو جنت سے آتے ہیں، چاندی اور سونے کے بنے ہوئے ہیں، (اس کا مشروب یا پانی) دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس حوض کے پاس آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6458]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6458، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 255، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20118، والبزار فى (مسنده) برقم: 3849، 3849 م، 4496» «رقم طبعة با وزير 6424»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (722). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
307. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم كما بين أيلة إلى صنعاء أراد به صنعاء اليمن دون صنعاء الشام-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "جیسے ایلہ سے صنعاء تک" سے مراد صنعاء یمن ہے نہ کہ صنعاء شام
حدیث نمبر: 6459
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى صَنْعَاءَ اليمنِ، وَإِِنَّ فِيهِ مِنَ الأَبَارِيقِ بِعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک میرا حوض ایلہ سے لے کر صنعاء کے فاصلے جتنا ہے اور اس کے پاس آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6459]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6425»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (711): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
308. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن الشفاعة هي الدعوة التي أخرها صلى الله عليه وسلم لأمته في العقبى-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ شفاعت وہ دعا ہے جو صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے آخرت میں مؤخر کی
حدیث نمبر: 6460
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی امت کے بارے میں دعا مانگتا ہے، میں نے اپنی مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6460]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 201، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6460، 6469، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20833، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15348، 15496، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2237، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3043» «رقم طبعة با وزير 6426»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
309. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم جعل دعوته التي استجيبت له شفاعة لأمته في القيامة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبول شدہ دعا کو اپنی امت کے لیے قیامت میں شفاعت کے لیے رکھا
حدیث نمبر: 6461
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا، وَإِِنِّي أَخَّرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الآخِرَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو وہ مانگتا ہے، میں نے اپنی دعا کو آخرت میں اپنی امت کی شفاعت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6461]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6304، 7474، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 198، ومالك فى (الموطأ) برقم: 720، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6461، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3602، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4307، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15937، 20830، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7829» «رقم طبعة با وزير 6427»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
310. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم شفاعتي لأمتي أراد به من لم يشرك بالله منهم دون من أشرك-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میری شفاعت میری امت کے لیے" سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ کہ مشرکین
حدیث نمبر: 6462
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: بُعِثْتُ إِِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمَ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهْ، وَاخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي فِي الْقِيَامَةِ، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِِنْ شَاءَ اللَّهُ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ مجھے سرخ و سیاہ (یعنی تمام بنی نوع انسان) کی طرف مبعوث کیا گیا۔ میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا۔ میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی، دشمن ایک ماہ کی مسافت سے مرعوب ہو جاتا ہے، میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور جائے نماز قرار دیا گیا۔ اور مجھ سے یہ کہا گیا: تم مانگو تمہیں دیا جائے گا، تو میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ دعا ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6462]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6462، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 886، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1009، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1350، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4792، 4793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21694» «رقم طبعة با وزير 6428»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 316)، «صحيح أبي داود» (506). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
311. باب الحوض والشفاعة - ذكر إيجاب الشفاعة لمن مات من أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم وهو لا يشرك بالله شيئا-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے مرے اور وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے اس کے لیے شفاعت لازم ہے
حدیث نمبر: 6463
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، قَالَ: فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَإِِذَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالا: لا نَدْرِي، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي، فَإِِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى، قَالَ: فَلَبِثْنَا يَسِيرًا، ثُمَّ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِِنَّهُ أَتَانِي مِنْ رَبِّي آتٍ، فَخَيَّرَنِي بِأَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ بِاللَّهِ وَالصُّحْبَةِ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ:" فَأَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي"، قَالَ: فَلَمَّا رَكِبُوا، قَالَ:" فَإِِنِّي أُشْهَدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي" .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا، ہر شخص نے اپنی سواری کے بازو کو بچھا دیا۔ راوی کہتے ہیں: رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیر موجود تھے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا، تو سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی وہاں کھڑے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں پتہ، البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصہ سے آواز سنی ہے، جو چکی چلنے کی طرح کی آواز تھی۔ راوی کہتے ہیں: ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد آیا اور اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا شفاعت (کو میں اختیار کر لوں) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کا واسطہ دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان لوگوں میں شامل کیجیے، جن کو آپ کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ سوار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میری امت کا جو بھی فرد ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اسے میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6463]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 211، 6463، 6470، 7207، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 36، 221، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2441، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4317، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24610» «رقم طبعة با وزير 6429»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (211). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
312. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم إنما يشفع في القيامة عند عجز الأنبياء عنها في ذلك اليوم-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت کریں گے جب انبیاء اس سے عاجز ہوں گے
حدیث نمبر: 6464
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْجَحْدَرِيُّ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ لِذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: لَوِ اسْتَشْفَعْنَا إِِلَى رَبِّنَا كَيْ يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا، قَالَ: فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَمَرَ الْمَلائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّكَ حَتَّى يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا، قَالَ: فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَهَا، فَيَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّهِ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا أَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ، فَيَأْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا إِِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللَّهُ خَلِيلا، قَالَ: فَيَأْتُونَ إِِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ الَّتِي أَصَابَ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ، وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ، قَالَ: فَيَأْتُونَ مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَيُذْكَرُ خَطِيئَتَهُ، فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْهَا، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، وَلَكِنِ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: فَيَأْتُونِي، فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيَأْذَنُ لِي، فَإِِذَا أَنَا رَأَيْتُهُ وَقَعَتْ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَعُودُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي، ثُمَّ يُقَالُ: ارْفَعْ مُحَمَّدُ، وَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، وَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ أَضَعُ رَأْسِي، فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِيَ، ثُمَّ يُقَالُ لِيَ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، سَلْ تُعْطَهْ، اشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَحْمَدُ رَبِّي بِمَحَامِدَ يُعَلِّمُنِيهِ، ثُمَّ أَشْفَعُ، فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، فَأُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ، وَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ"، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: فَلا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ:" فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا بَقِيَ فِي النَّارِ إِِلا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ، أَوْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ:" وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى الَّذِي خَلْقَهُ اللَّهُ"، وَإِِنَّمَا هُوَ:" الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو (میدان محشر میں) اکٹھا کیا جائے گا۔ انہیں یہ بات الہام کی جائے گی، تو وہ کہیں گے اگر کوئی ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے، تو یہ بہتر ہوگا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ وہ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا، آپ میں اپنی روح کو پھونکا، اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ ہمیں اس صورتحال سے نجات ملے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے، اور اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی۔ وہ کہیں گے کہ تم سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا۔ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے۔ وہ یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، وہ اپنی اس خطا کا ذکر کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ اس خطا کی وجہ سے انہیں اپنے پروردگار سے حیا آئے گی (وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی اس خطا کو یاد کریں گے جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے۔ انہیں اس وجہ سے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہوگی (وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انہیں توریت عطا کی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا۔ انہیں اپنی وہ خطا یاد آئے گی، جس کی وجہ سے وہ اپنے پروردگار سے حیا کریں گے (تو وہ یہ کہیں گے) تم لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یہ کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ ایک ایسے بندے ہیں جن کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت اللہ تعالیٰ نے کر دی ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لوگ میرے پاس آئیں گے۔ میں اپنے پروردگار سے اجازت مانگوں گا۔ وہ مجھے اجازت عطا کرے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا، میں سجدے میں رہوں گا، پھر یہ کہا جائے گا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے) سر کو اٹھاؤ۔ بولو، سنا جائے گا۔ مانگو، دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، شفاعت قبول ہوگی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروادوں گا، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا وہ مجھے (سجدے کی حالت میں) رہنے دے گا، پھر یہ کہا جائے گا: محمد! (سجدے سے) سر کو اٹھاؤ۔ بولو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں دوبارہ سجدے میں چلا جاؤں گا۔ جتنی دیر اللہ کو منظور ہوگا وہ مجھے (سجدے کی حالت میں) رہنے دے گا، پھر یہ کہا جائے گا: محمد! سجدے سے سر کو اٹھاؤ۔ بولو سنا جائے گا، مانگو دیا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنے سر کو اٹھاؤں گا اور اپنے پروردگار کی ایسے الفاظ کے ہمراہ حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی، میں ان لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا، پھر میں اپنا سر (سجدے میں) رکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو جتنا منظور ہوگا۔ وہ اتنی دیر (مجھے سجدے میں رہنے دے گا) پھر مجھ سے کہا جائے گا: (سجدے سے) اپنے سر کو اٹھاؤ، بولو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور ان الفاظ کے ذریعے اپنے پروردگار کی حمد بیان کروں گا، جن کی وہ مجھے تعلیم دے گا، پھر میں شفاعت کروں گا، تو میرے لیے حد مقرر کی جائے گی۔ میں ان لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا۔“ ابوعوانہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ یہ فرمایا: ”میں عرض کروں گا: اے میرے پروردگار! اب جہنم میں صرف وہ لوگ باقی رہ گئے ہیں جو قرآن (کے حکم) کی وجہ سے رکے ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جن کا جہنم میں ہمیشہ رہنا طے ہے۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بن سفیان نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں ”تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے“ حالانکہ اصل الفاظ یہ ہیں ”جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6464]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 44، 4476، 6565، 7410، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6464، 6481، 7484، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2593، 2594، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19954، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2737» «رقم طبعة با وزير 6430»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (805). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
313. باب الحوض والشفاعة - ذكر العلة التي من أجلها لا يشفع الأنبياء للناس يوم القيامة في الوقت الذي ذكرناه-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وجہ کہ انبیاء قیامت کے دن ہمارے ذکر کردہ وقت میں لوگوں کے لیے شفاعت کیوں نہیں کریں گے
حدیث نمبر: 6465
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَضَعْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةً مِنْ ثَرِيدٍ وَلَحْمٍ، فَتَنَاوَلَ الذِّرَاعَ، وَكَانَ أَحَبَّ الشَّاةِ إِِلَيْهِ، فَنَهَسَ نَهْسَةً، فَقَالَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ:" أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، ثُمَّ نَهَسَ أُخْرَى، فَقَالَ:" أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابَهُ لا يَسْأَلُونَهُ، قَالَ:" أَلا تَقُولُونَ: كَيْفَ؟"، قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي، وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ مِنْ رُؤوسِهِمْ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِمْ حَرُّهَا، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ دُنُوُّهَا مِنْهُمْ، فَيَنْطَلِقُونَ مِنَ الْجَزَعِ وَالضَّجَرِ مِمَّا هُمْ فِيهِ، فَيَأْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَمَرَ الْمَلائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ آدَمُ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِِنَّهُ كَانَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَعَصَيْتُهُ، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، وَأَوَّلُ مَنْ أَرْسَلَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ نُوحٌ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِِنَّهُ قَدْ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ، فَدَعَوْتُ بِهَا عَلَى قَوْمِي، فَأُهْلِكُوا، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى إِِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: يَا إِِبْرَاهِيمُ، أَنْتَ خَلِيلُ اللَّهِ، قَدْ سَمِعَ بِخُلَّتِكُمَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَذَكَرَ قَوْلَهُ فِي الْكَوَاكِبِ: هَذَا رَبِّي سورة الأنعام آية 76، وَقَوْلَهُ لآلِهَتِهِمْ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَقَوْلَهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَإِِنِّي أَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى مُوسَى، فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ نَبِيٌّ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالاتِهِ، وَكَلَّمَكَ تَكْلِيمًا، فَاشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ مُوسَى: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَإِِنِّي قَدْ قَتَلْتُ نَفْسًا، وَلَمْ أُؤَمَرْ بِهَا، فَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ، وَكَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِِلَى مَرْيَمَ، وَرَوْحٌ مِنْهُ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، أَلا تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ مِنَ الشَّرِّ؟ فَيَقُولُ: إِِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَأَخَافُ أَنْ يَطْرَحَنِي فِي النَّارِ، انْطَلِقُوا إِِلَى غَيْرِي، نَفْسِي نَفْسِي"، قَالَ عُمَارَةُ: وَلا أَعْلَمُهُ ذَكَرَ ذَنْبًا،" فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُونَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، فَأَنْطَلِقُ فَآتِي الْعَرْشَ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، فَيُقِيمُنِي رَبُّ الْعَالَمِينَ مِنْهُ مَقَامًا لَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا قَبْلِي، وَلَمْ يُقِمْهُ أَحَدًا بَعْدِي، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، أَدْخِلْ مَنْ لا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِكَ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِي الأَبْوَابِ الأُخَرِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ إِِلَى مَا بَيْنَ عِضَادِيِّ الْبَابِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ، أَوْ هَجَرَ وَمَكَّةَ" ، قَالَ: لا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ثرید اور گوشت کا پیالہ رکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے دستی اٹھائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکرے کے گوشت میں وہ سب سے زیادہ پسند تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانت کے ذریعے نوچ کر کھایا اور فرمایا: ”قیامت کے دن میں تمام انسانوں کا سردار ہوں گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تیسری مرتبہ کھایا اور فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ ایسا کیسے ہو گا؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) تمام لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔ بلانے والا اپنی آواز ان تک پہنچا سکے گا۔ نگاہ انہیں دیکھ سکے گی۔ اور سورج ان کے سر کے قریب ہو گا۔ اس کی تپش ان کے لیے شدید دشواری کا باعث ہو گی۔ اور سورج کا ان کے قریب ہونا ان کے لیے مشقت کا باعث ہو گا۔ وہ لوگ اپنی صورتحال کی وجہ سے گریہ و زاری اور آہ و بکا کرتے ہوئے جائیں گے اور سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا آدم علیہ السلام! آپ انسانوں کے جدامجد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت کے ذریعے پیدا کیا۔ اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں؟ تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب میں ہے اس سے پہلے اتنا غضب میں نہیں آیا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ اس نے مجھے ایک بات کا حکم دیا تھا۔ میں نے اس کی بات نہیں مانی۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی جہنم میں نہ ڈال دے۔ تم میرے بجائے کسی دوسرے کے پاس جاؤ (اب) مجھے اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ وہ لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا نوح علیہ السلام! آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ پہلے شخص ہیں، جسے رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے ہم کیسی بری صورتحال کا شکار ہیں؟ سیدنا نوح علیہ السلام فرمائیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد بھی کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی جس کے نتیجے میں وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے۔ اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ اس لئے تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ، مجھے صرف اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ وہ لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے سیدنا ابراہیم علیہ السلام! آپ اللہ کے خلیل ہیں، آپ دونوں کی خلت کے بارے میں تمام آسمانوں والوں اور زمین والوں نے سن رکھا ہے۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں؟ تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا، پھر وہ ستاروں کے بارے میں اپنے قول کا ذکر کریں گے ﴿یہ میرا پروردگار ہے﴾ [سورة الأنعام: 76] اور ان لوگوں کے بتوں کے بارے میں اپنے اس قول کا ذکر کریں گے ﴿بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے﴾ [سورة الأنبياء: 63] اور اپنے اس قول کا ذکر کریں گے ﴿میں بیمار ہوں﴾ [سورة الصافات: 89] ۔ (پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے) کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے، تم میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ وہ لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو کہیں گے: اے سیدنا موسیٰ علیہ السلام! آپ ایسے نبی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا۔ اس نے آپ کے ساتھ کلام کیا۔ آپ پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کیسی مشکل کا شکار ہیں؟ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام یہ کہیں گے: میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے، اس سے پہلے اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا حالانکہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا، تو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں داخل نہ کر دے۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ ابھی مجھے صرف اپنی فکر ہے، صرف اپنی فکر ہے۔ تو وہ لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، آپ اس کا کلمہ ہیں، اس کی روح ہیں جو اس نے سیدنا مریم کی طرف القاء کی تھی۔ اس کی طرف سے آنے والی روح ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں کر رہے کہ ہم کس مشکل کا شکار ہیں؟ تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میرا پروردگار آج جتنا غضب ناک ہے وہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا اور اس کے بعد کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہو گا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ مجھے جہنم میں نہ ڈال دے۔ تم لوگ میری بجائے کسی اور کے پاس جاؤ۔ مجھے صرف اپنی فکر ہے، اپنی فکر ہے۔“ عمارہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرے علم کے مطابق (روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں) کہ انہوں نے کسی ذنب کا ذکر کیا ہو۔ پھر لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، خاتم النبیین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں وہاں سے چلوں گا اور عرش کے پاس آ جاؤں گا۔ میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ میں چلا جاؤں گا، تو تمام جہانوں کا پروردگار اپنی بارگاہ میں مجھے ایسے مقام پر فائز کرے گا کہ اس نے مجھ سے پہلے کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کیا اور میرے بعد بھی کسی کو اس مقام پر فائز نہیں کرے گا۔ وہ یہ فرمائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تم اپنی امت کو دائیں طرف والے دروازے سے (جنت میں) داخل کرو۔ ان لوگوں کو جن سے حساب نہیں لیا جائے گا، حالانکہ وہ لوگ دوسرے دروازوں سے دیگر لوگوں کے ساتھ بھی اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، جنت کا ایک دروازہ اتنا چوڑا ہے جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان فاصلہ ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جتنا ہجر اور مکہ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ روایت میں کون سے لفظ کا ذکر پہلے ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6465]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3340، 3361، 4712، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 194، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6465، 7389، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4039، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1837، 2434، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3307، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8493» «رقم طبعة با وزير 6431»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (811). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
314. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار عن وصف القوم الذين تلحقهم شفاعة المصطفى صلى الله عليه وسلم في العقبى-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ قوم کی وصف جو آخرت میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے فیضیاب ہوگی
حدیث نمبر: 6466
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا رَدَّ إِِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي، لِمَا رَأَيْتُ مِنَ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَمَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي لَهُمْ، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ مُخْلِصًا، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ يُصَدِّقُ لِسَانُهُ قَلْبَهُ وَقَلْبُهُ لِسَانَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے شفاعت کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا عطا کیا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، مجھے یہ اندازہ تھا کہ میری امت میں سب سے پہلے تم مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے کیونکہ میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ تمہیں علم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، ان لوگوں کا جنت کے دروازوں پر یکے بعد دیگرے آنا میرے نزدیک ان کے لیے اپنی شفاعت مکمل ہونے سے زیادہ ضروری ہے۔ میری شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو پورے اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرے اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6466]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6466، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 233، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8185، 10864» «رقم طبعة با وزير 6432»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف بهذا التمام - «التعليق الرغيب» (4/ 216)، «ظلال الجنة» (825). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث حسن
315. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن الشفاعة في القيامة إنما تكون لأهل الكبائر من هذه الأمة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ قیامت میں شفاعت اس امت کے کبائر والوں کے لیے ہوگی
حدیث نمبر: 6467
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيِّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي" .
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والے لوگوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6467]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6467، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 231، 232، 3462، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2436، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4310، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1774» «رقم طبعة با وزير 6433»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5599)، «الروض» (45 و 65)، «الظلال» (830 - 832). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح