🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
326. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن الأنبياء أولهم وآخرهم يكونون في القيامة تحت لواء المصطفى صلى الله عليه وسلم-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ انبیاء اول و آخر قیامت کے دن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لواء کے نیچے ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6478
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَمُشَفَّعٍ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، تَحْتِي آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا، اور سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا، اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول کی جائے گی، اور میرے ہاتھ میں «لِوَاءُ الْحَمْدِ» ”لواء الحمد“ ہو گا، اور سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے نیچے (یعنی اس جھنڈے کے نیچے) ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6478]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6478، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 427، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7493، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14982» «رقم طبعة با وزير 6444»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1571). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح لغيره إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
327. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار عن وصف المقام المحمود الذي وعد الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بلغه الله إياه بفضله-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مقام محمود کی وصف جو اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعدہ کیا اور انہیں اپنے فضل سے اس تک پہنچائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6479
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ، فَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ، فَأَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ" .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”قیامت کے دن لوگوں کو زندہ کیا جائے گا، سب سے پہلے میں اور میری امت ایک ٹیلے پر آئیں گے، میرا پروردگار مجھے سبز حلہ پہنائے گا تو جو اللہ کو منظور ہوگا میں اس وقت (اللہ تعالیٰ کی حمد کے طور پر کلمات) کہوں گا، یہی «الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ» ”مقامِ محمود“ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6479]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6479، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3403، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16024، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1018، 1019، والطبراني فى(الكبير) برقم: 142، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8797» «رقم طبعة با وزير 6445»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (237). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
328. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن المقام المحمود هو المقام الذي يشفع صلى الله عليه وسلم في أمته-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مقام محمود وہ مقام ہے جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے شفاعت کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6480
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ حَبِيبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْبَرًا مِنْ نُورٍ، وَإِِنِّي لَعَلَى أَطْوَلِهَا وَأَنْوِرِهَا، فَيَجِيءُ مُنَادٍ، فَيُنَادِي: أَيْنَ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ؟ قَالَ: فَيَقُولُ الأَنْبِيَاءُ: كُلُّنَا نَبِيٌّ أُمِّيٌّ، فَإِِلَى أَيِّنَا أُرْسِلَ؟ فَيَرْجِعُ الثَّانِيَةَ، فَيَقُولُ: أَيْنَ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ الْعَرَبِيُّ؟ قَالَ: فَيَنْزِلُ مُحَمَّدٌ حَتَّى يَأْتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ، فَيَقْرَعَهُ، فَيَقُولُ: مَنْ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ أَوْ أَحْمَدُ، فَيُقَالُ: أَوَقَدْ أُرْسِلَ إِِلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُ، فَيَدْخُلُ، فَيَتَجَلَّى لَهُ الرَّبُّ، وَلا يَتَجَلَّى لِنَبِيٍّ قَبْلَهُ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ بِهَا مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّانِيَةَ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ بُرَّةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ الثَّالِثَةَ، فَيَخِرُّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا، وَيَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَهُ، وَلَنْ يَحْمَدَهُ بِهَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ بَعْدَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، تَكَلَّمْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، مَنْ قَالَ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُحَمَّدُ، لَسْتَ هُنَاكَ، تِلْكَ لِي، وَأَنَا الْيَوْمَ أَجْزِي بِهَا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ہر نبی کے لیے نور کا منبر ہو گا اور میں سب سے زیادہ اونچے اور سب سے زیادہ نورانی منبر پر ہوں گا، پھر ایک منادی آ کر یہ اعلان کرے گا: امی نبی کہاں ہیں؟ تو انبیاء جواب دیں گے کہ ہم میں سے ہر ایک امی نبی ہے، ہم میں کسے بلایا گیا ہے؟ وہ دوسری مرتبہ واپس آئے گا اور دریافت کرے گا: امی عربی نبی کہاں ہیں؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتریں گے اور جنت کے دروازے پر آ کر اس کو کھٹکھٹائیں گے۔ (اندر سے) داروغہ پوچھے گا: کون ہے؟ تو آپ جواب دیں گے: محمد (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) أحمد۔ دریافت کیا جائے گا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ تو وہ جواب دیں گے: جی ہاں، تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے، تو ان کا پروردگار ان کے سامنے تجلی فرمائے گا۔ ان سے پہلے کسی اور نبی کے لیے پروردگار نے تجلی نہیں کی ہو گی، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی۔ ان سے کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھاؤ، تم بات کرو اسے سنا جائے گا، تم شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا، مانگو وہ دیا جائے گا۔ وہ عرض کریں گے: اے پروردگار! میری امت، میری امت۔ تو ان سے کہا جائے گا: تم ہر اس شخص کو (جہنم سے) نکال لو جس کے دل میں جو کے وزن جتنا (ایمان ہو)۔ پھر وہ دوبارہ آ کر اللہ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے بھی ان کلمات کے ذریعے حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اس حمد کو بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا جائے گا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھاؤ، بات کرو اسے سنا جائے گا، شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا، مانگو وہ دیا جائے گا۔ پھر ان سے کہا جائے گا: تم ایسے ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لو جس کے دل میں گندم کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو، پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جائیں گے اور ایسے کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے کہ ان سے پہلے کسی نے ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا، تو ان سے کہا جائے گا: جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لو جس کے دل میں رائی جتنا ایمان ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا کر سجدے میں چلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی ایسے کلمات کے ذریعے حمد بیان کریں گے کہ ان کلمات کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اپنا سر اٹھاؤ، بات کرو اسے سنا جائے گا، شفاعت کرو اسے قبول کیا جائے گا، مانگو وہ دیا جائے گا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! جس شخص نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہا ہو (اسے بھی جہنم سے نکلنے کا حکم دیا جائے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا جائے گا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اس کے ساتھ تمہارا واسطہ نہیں ہے، یہ میرے ساتھ مخصوص ہے اور آج میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6480]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6305، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 200، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6196، 6480، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20832، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12571» «رقم طبعة با وزير 6446»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (4/ 217 - 218). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
329. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أول من يقرع باب الجنة في القيامة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6481
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے پہلے میں جنت کے دروازے کو کھٹکھٹاؤں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6481]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 44، 4476، 6565، 7410، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6464، 6481، 7484، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2593، 2594، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19954، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2737» «رقم طبعة با وزير 6447»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 130). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
330. باب المعجزات-
معجزاتِ کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6482
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِِنِّي لأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِِذْ بُعِثْتُ، إِِنِّي لأَعْرِفُهُ الآنَ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ، إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ» ”میں مکہ میں موجود اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو مجھے اس وقت سلام کیا کرتا تھا جب مجھے مبعوث کیا گیا تھا، میں آج بھی اس کو پہچانتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6482]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2277، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6482، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3624، والدارمي فى (مسنده) برقم: 20، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21177» «رقم طبعة با وزير 6448»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (185). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
331. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من أبطل وجود المعجزات في الأولياء دون الأنبياء-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اولیاء میں انبیاء کے علاوہ معجزات کا وجود باطل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6483
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُبَّ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بکھرے ہوئے بالوں اور پرانے کپڑوں والے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6483]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2622، 2854، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6483، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8027، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 674» «رقم طبعة با وزير 6449»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (6449) وقال عنه الشيخ: صحيح - «صحيح الترغيب» (24 - الزهد / 6): م نحوه. الموضع الثاني (6457 / *) وقال عنه الشيخ: صحيح - مضى (6449). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد إلا في هذا الموضع. ولكن الحديث هو نفسه مكرر ولا فرق بينهما أبدا لا في الإسناد ولا في المتن ولا في العنوان. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
332. باب المعجزات - ذكر خبر أوهم في تأويله جماعة لم يحكموا صناعة العلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اپنی تاویل میں کچھ لوگوں کو وہم میں ڈالتی ہے جو علم کی صنعت میں ماہر نہیں ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6484
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ذَبَحْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ"، فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ"، فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ، قَالَ:" أَمَا إِِنَّكَ لَوِ ابْتَغَيْتَهُ لَوَجَدْتَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (بکری) ذبح کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دستی مجھے پکڑا دو۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے دستی پکڑا دو۔“ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”مجھے دستی پکڑا دو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بکری میں دو ہی دستیاں ہوتی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم حاصل کرنا چاہتے تو اسے بھی پا لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6484]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6484، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6625، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10857، والبزار فى (مسنده) برقم: 8345، 8346» «رقم طبعة با وزير 6450»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «مختصر الشمائل» (96/ 143). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
333. ذكر الخبر المدحض قول من أبطل وجود المعجزات في الأولياء دون الأنبياء
اس روایت کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل قرار دیتی ہے جنہوں نے انبیاء کے علاوہ اولیاء میں معجزات کے وجود کا انکار کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6485
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً، فَأَرَادَ أَنْ يَرْكَبَهَا، فَالْتَفَتَتْ إِِلَيْهِ، فَقَالَتْ: إِِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا، إِِنَّمَا خُلِقْنَا لِيُحْرَثَ عَلَيْنَا"، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ"، وَمَا هُمَا ثَمَّ، قَالَ:" وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمٍ لَهُ، فَأَخَذَ الذِّئْبُ الشَّاةَ، فَتَبِعَهُ الرَّاعِي، فَلَفَظَهَا، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ لَكَ بِيَوْمِ السِّبَاعِ حَيْثُ لا يَكُونُ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي"، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ"، وَمَا هُمَا ثَمَّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک شخص گائے کو لے کر جا رہا تھا، اس نے اس پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو گائے نے اس کی طرف توجہ کر کے کہا: ہمیں اس کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ ہمارے ذریعہ کھیتی باڑی کی جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں (کہ گائے کلام کر سکتی ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنی بکریاں لے کر جا رہا تھا، بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑا، چرواہا بھیڑیے کے پیچھے گیا اور اس نے اس بکری کو اس سے چھڑوا لیا، تو بھیڑیے نے کہا: اس دن تم کیا کرو گے جو درندوں کی حکومت کا دن ہو گا؟ اس دن ان بکریوں کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود افراد نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں (کہ بھیڑیا کلام کر سکتا ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان وہاں موجود نہیں تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6485]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2324، 3471، 3471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2388، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6485، 6486، 6903، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3677، 3677 م، 3695، 3695 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7468» «رقم طبعة با وزير 6451»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 242 / 2186): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
334. باب المعجزات - ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6486
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةٍ، الْتَفَتَتْ إِِلَيْهِ، فَقَالَتْ: إِِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا، إِِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ"، قَالَ:" آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ. وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً، فَتَبِعَهَا الرَّاعِي، فَقَالَ الذِّئْبُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبْعِ، يَوْمَ لا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي"، فَقَالَ: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک شخص گائے پر سوار ہوا، تو گائے نے اس کی طرف رخ کر کے کہا: مجھے اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا، مجھے کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک بھیڑیے نے ایک بکری کو پکڑ لیا، چرواہا اس کے پیچھے آیا، تو بھیڑیے نے کہا: درندوں کے مخصوص دن میں کون اس کا محافظ ہو گا، جب ان کا نگران میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی یقین رکھتے ہیں)۔“ ابوسلمہ نامی راوی کہتے ہیں: اس دن یہ دونوں صاحبان حاضرین میں موجود نہیں تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6486]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2324، 3471، 3471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2388، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6485، 6486، 6903، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8057، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3677، 3677 م، 3695، 3695 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7468» «رقم طبعة با وزير 6452»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
335. باب المعجزات - ذكر الخبر الدال على إثبات كون المعجزات في الأولياء دون الأنبياء على حسب نياتهم وصحة ضمائرهم فيما بينهم وبين خالقهم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اولیاء میں انبیاء کے علاوہ معجزات ان کی نیات اور ان کے خالق کے ساتھ ان کے ضمیروں کی صحت کے مطابق ہوتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6487
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمَخْزُومِيُّ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ يُسْلِفُ النَّاسَ فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا فُلانُ، أَسْلِفْنِي سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: نَعَمْ، إِِنْ أَتَيْتَنِي بِوَكِيلٍ، قَالَ: اللَّهُ وَكِيلِي، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، قَدْ قَبِلْتُ اللَّهَ وَكِيلا، فَأَعْطَاهُ سِتَّ مِائَةِ دِينَارٍ، وَضَرَبَ لَهُ أَجَلًَا، فَرَكِبَ الْبَحْرَ بِالْمَالِ لِيَتَّجِرَ فيهِ، وَقَدَّرَ اللَّهُ أَنْ حَلَّ الأَجَلُ، وَارْتَجَّ الْبَحْرُ بَيْنَهُمَا، وَجَعَلَ رَبُّ الْمَالِ يَأْتِي السَّاحِلَ يَسْأَلُ عَنْهُ، فَيَقُولُ الَّذِي يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ: تَرَكْنَاهُ بِمَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ رَبُّ الْمَالِ: اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي فُلانٍ بِمَا أَعْطَيْتُهُ بِكَ، قَالَ: وَيَنْطَلِقُ الَّذِي عَلَيْهِ الْمَالُ، فَيَنْحَتُ خَشَبَةً، وَيَجْعَلُ الْمَالَ فِي جَوْفِهَا، ثُمَّ كَتَبَ صَحِيفَةً: مِنْ فُلانٍ إِِلَى فُلانٍ، إِِنِّي دَفَعْتُ مَالَكَ إِِلَى وَكِيلِي، ثُمَّ سَدَّ عَلَى فَمِ الْخَشَبَةِ، فَرَمَى بِهَا فِي عُرْضِ الْبَحْرِ، فَجَعَلَ يَهْوِي بِهَا حَتَّى رَمَى بِهَا إِِلَى السَّاحِلِ، وَيَذْهَبُ رَبُّ الْمَالِ إِِلَى السَّاحِلِ، فَيَسْأَلُ، فَيَجِدُ الْخَشَبَةَ، فَحَمَلَهَا، فَذَهَبَ بِهَا إِِلَى أَهْلِهِ، وَقَالَ: أَوْقِدُوا بِهَذِهِ، فَكَسَرُوهَا، فَانْتَثَرَتِ الدَّنَانِيرُ وَالصَّحِيفَةُ، فَأَخَذَهَا، فَقَرَأَهَا، فَعَرَفَ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُ، فَقَالَ لَهُ رَبُّ الْمَالِ: مَالِي، فَقَالَ: قَدْ دَفَعْتُ مَالِي إِِلَى وَكِيلِي، إِِلَى مُوَكَّلٍ بِي، فَقَالَ لَهُ: أَوْفَانِي وَكِيلُكَ" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَكْثُرُ مِرَاؤُنَا وَلَغَظُنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَيُّهُمَا آمَنُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بنی اسرائیل میں ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک شخص اس کے پاس آیا اور بولا: اے فلاں! تم مجھے 600 دینار قرض دے دو۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے، اگر تم میرے پاس کوئی ضمانتی لے آؤ (تو میں ایسا کر دیتا ہوں)۔ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ میرا ضامن ہے۔ اس شخص نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، ٹھیک ہے، میں اللہ تعالیٰ کو ضامن کے طور پر قبول کرتا ہوں۔ اس شخص نے اسے 600 دینار دے دیے، اس نے اس کے ساتھ ایک مدت طے کی، پھر وہ دوسرا شخص سمندر پر سوار ہو کر مال لے کر گیا تاکہ اس کے ذریعے تجارت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہوا تھا کہ وہ مخصوص مدت گزر جائے تو وہ گزر گئی، لیکن سمندر ان دونوں آدمیوں کے درمیان رکاوٹ تھا۔ مال کا مالک شخص ساحل پر آتا اور اس کے بارے میں دریافت کرتا، جن لوگوں سے اس نے اس دوسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے یہی بتایا: ہم نے اسے فلاں فلاں جگہ پر چھوڑا تھا، تو مال کا مالک شخص یہ کہتا: اے اللہ! فلاں شخص کے معاملے میں تو ہی میرا نگران ہے، میں نے تیری ضمانت پر وہ چیز اسے دی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ شخص جس کے ذمے رقم کی ادائیگی تھی وہ گیا، اس نے ایک لکڑی لی اور اس کے اندر وہ مال رکھ دیا، پھر اس نے ایک صحیفہ تحریر کیا کہ یہ مال فلاں کی طرف سے فلاں کے لیے ہے، میں تمہارا مال اپنے ضامن کے سپرد کر رہا ہوں، پھر اس نے لکڑی کے منہ کو بند کر دیا اور اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا۔ وہ لکڑی سمندر میں تیرتی ہوئی ساحل تک آگئی۔ اس مال کا مالک شخص ساحل پر آیا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے، وہاں اسے لکڑی ملی، اس نے اس لکڑی کو اٹھایا اور اسے لے کر اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے اس لکڑی کو کاٹا تو اس میں سے دینار اور خط نکلا، اس شخص نے وہ خط لے کر اسے پڑھا تو وہ جان گیا (کہ یہ تو میرے ہی پیسے ہیں)، پھر دوسرا شخص بھی آگیا۔ مال کے مالک نے اس سے دریافت کیا: میرا مال؟ تو دوسرے شخص نے کہا: میں نے اپنا مال اپنے وکیل کے سپرد کر دیا تھا جسے میں نے ضامن بنایا تھا، تو پہلے شخص نے کہا: تمہارے وکیل نے مجھے پوری ادائیگی کر دی۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یاد ہے، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران شور شرابہ زیادہ ہو گیا کہ ان دونوں میں سے کون شخص زیادہ ایماندار ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6487]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2430، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6487، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5800، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11530، 20488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8706، والبزار فى (مسنده) برقم: 8682» «رقم طبعة با وزير 6453»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني منكر - «الصحيحة» تحت الحديث (2845)، وأصله في «البخاري». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں