صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
346. باب المعجزات - ذكر الإخبار عن مصارع من قتل ببدر من قريش-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ بدر میں قریش سے جو مارے گئے ان کے مصارع کے بارے میں
حدیث نمبر: 6498
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَرَدَ بَدْرًا، أَوْمَأَ فِيهَا إِِلَى الأَرْضِ، فَقَالَ:" هَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ، وَهَذَا مَصْرَعُ فُلانٍ"، فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ، وَتَرَكَ قَتْلَى بَدْرٍ ثَلاثًا، ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَامَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، يَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، يَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، يَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًَّا؟ فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَ رَبِّي حَقًّا"، قَالَ: فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَسْمَعُونَ قَوْلَكَ، أَوْ يُجِيبُونَ وَقَدْ جَيَّفُوا؟ فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ لا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا"، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ، فَسُحِبُوا، فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے، یہ فلاں شخص کے مرنے کی جگہ ہے“، تو اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی بھی شخص اپنی مخصوص جگہ سے ذرا بھی نہیں ہٹا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے (کفار) مقتولین کو تین دن تک ایسے ہی رہنے دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! تمہارے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچ نہیں پایا؟ میرے پروردگار نے جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے سچ پا لیا ہے“، راوی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنی بات ان لوگوں کو سنا رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! میں جو کہہ رہا ہوں تم اس بات کو ان لوگوں سے زیادہ اچھے طور پر نہیں سن رہے، لیکن وہ لوگ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو گھسیٹ کر بدر کے ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6498]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1779، 2875، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4721، 4722، 6498، 6525، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5138، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2074، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2681، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18506، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12202» «رقم طبعة با وزير 6464»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م، وتقدم برقم (4702). تنبيه!! رقم (4702) = (4722) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
347. باب المعجزات - ذكر الإخبار عن كتبة حاطب بن أبي بلتعة بالكتاب إلى قريش يخبرهم بخروج المصطفى صلى الله عليه وسلم إليهم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے خط کے بارے میں جو انہوں نے قریش کو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے خروج کی خبر دینے کے لیے لکھا
حدیث نمبر: 6499
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَهُوَ كَاتَبُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالزُّبَيْرَ، وَطَلْحَةَ، وَالْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، فَقَالَ: " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا"، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، فَقَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، فَقُلْنَا: آللَّهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينِ لَهُمْ قَرَابَاتٌ بِمَكَّةَ، يَحْمُونَ قَرَابَتَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي قَرَابَةٌ أَحْمِي بِهَا أَهْلِي، فَأَحْبَبْتُ إِِنْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي وَأَهْلِي، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الإِِسْلامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ هَذَا قَدْ صَدَقَكُمْ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ"، وَأَنْزَلَ فِيهِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ سورة الممتحنة آية 1 .
عبید اللہ بن ابو رافع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے معتمد خصوصی تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اور خاخ نامی باغ میں پہنچو۔ وہاں ایک عورت ہو گی، اس کے پاس ایک خط ہو گا، وہ تم اس سے لے لینا۔“ ہم لوگ اپنے گھوڑوں کو دوڑاتے ہوئے اس باغ تک آئے، وہاں ایک عورت موجود تھی۔ ہم نے اسے کہا: تم خط نکالو۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو تم خط نکالو گی یا ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے، تو اس نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے خط نکال دیا۔ ہم وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ میں رہنے والے کچھ مشرکین کے نام تھا۔ اس خط میں سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادوں کے بارے میں بتایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حاطب یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں ایک ایسا شخص ہوں جو قریش کے ساتھ ملا ہوا ہوں، لیکن میں قریش کا حصہ نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو دیگر مہاجرین ہیں، ان کے مکہ میں رشتہ دار موجود ہیں، جس کی وجہ سے ان کے رشتہ دار اور اہل خانہ محفوظ ہیں، لیکن میری مکہ میں کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے جس کی وجہ سے میں اپنے اہل خانہ کو محفوظ کر لوں۔ اس لیے میں یہ چاہتا تھا کہ اگر نسبی طور پر میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر میں ان پر کوئی احسان کر دوں، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں اور میرے گھر والوں کا خیال رکھیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میں نے اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے یا اسلام قبول کرنے کے بعد کفر سے راضی ہوتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے تمہارے ساتھ سچ بولا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ بدر میں شریک ہوا ہے۔ تمہیں کیا پتہ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ہو: ”تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے۔““ (راوی کہتے ہیں:) اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6499]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3007، 3081، 3983، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2494، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6499، 7119، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2650، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3305، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18502، 18503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 610» «رقم طبعة با وزير 6465»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
348. باب المعجزات - ذكر الإخبار عن الريح الشديدة التي هبت لموت بعض المنافقين-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ بعض منافقین کی موت پر تیز ہوا چلنے کے بارے میں
حدیث نمبر: 6500
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةً بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَهَاجَتْ عَلَيْهِمْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، حَتَّى وَقَعَتِ الرِّحَالُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا لِمَوْتِ مُنَافِقٍ"، قَالَ: فَرَجَعْنَا إِِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَجَدْنَا مُنَافِقًا عَظِيمَ النِّفَاقِ مَاتَ يَوْمَئِذٍ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک غزوہ میں شرکت کی تو ان لوگوں پر انتہائی تیز ہوا چلی، یہاں تک کہ پالان گرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کسی منافق کی موت (کی نشانی ہے)۔“ راوی کہتے ہیں: جب ہم لوگ مدینہ منورہ واپس آئے تو وہاں آ کر ہمیں پتہ چلا کہ اس دن ایک بڑے منافق کا انتقال ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6500]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2782، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6500، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14602» «رقم طبعة با وزير 6466»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 124). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح إسناده قوي
349. باب المعجزات - ذكر الإخبار عن هبوب ريح شديدة قبل أن تهب-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ تیز ہوا چلنے سے پہلے اس کے بارے میں بتایا گیا
حدیث نمبر: 6501
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى تَبُوكَ حَتَّى أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، فَإِِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْرُصُوا"، فَخَرَصَ الْقَوْمُ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: " أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا حَتَّى أَرْجِعَ إِِلَيْكِ"، فَسَارَ حَتَّى أَتَى تَبُوكَ، فَقَالَ:" إِِنَّهُ سَيَأْتِيكُمُ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلا يَقُومَنَّ فِيهَا أَحَدٌ، وَمَنْ كَانَ لَهُ بَعِيرٌ فَلْيُوثِقْ عِقَالَهُ"، فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ، فَلَمْ يَقُمْ فِيهَا إِِلا رَجُلٌ وَاحِدٌ، فَأَلْقَتْهُ فِي جَبَلِ طَيِّئٍ، قَالَ: فَأَتَاهُ مَلِكُ أَيْلَةَ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى وَادِيَ الْقُرَى، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ:" كَمْ جَاءَتْ حَدِيقَتُكِ؟"، قَالَتْ: عَشَرَةُ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنِّي مُسْتَعْجِلٌ، مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَفْعَلْ"، فَسَارَ حَتَّى إِِذَا أَوْفَى عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ:" هَذِهِ طَيْبَةُ أَوْ طَابَةُ"، فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ:" هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الأَنْصَارِ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خَيْرُ دُورِ الأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ، أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ؟"، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَنُو سَاعِدَةَ، وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ" .
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تبوک کی طرف روانہ ہوئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ قریٰ میں پہنچے تو وہاں ایک عورت اپنے باغ میں موجود تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تم اس باغ کی پیداوار) کا اندازہ لگاؤ۔“ تو لوگوں نے اندازہ لگایا کہ اس کی پیداوار دس وسق ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: ”اس کی جو پیداوار ہوگی تم اسے شمار کر لینا، ہم واپس تمہارے پاس آئیں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آج رات تم پر تیز ہوا چلے گی، اس ہوا میں کوئی شخص کھڑا ہرگز نہ ہو، جس شخص کا اونٹ ہے وہ اس کی رسی کو باندھ دے۔“ تیز ہوا چلی تو کوئی شخص اس میں کھڑا نہیں ہوا، صرف ایک شخص کھڑا ہوا تھا، ہوا نے اسے جبلِ طے کے اوپر پھینک دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہاں ایلہ کا حکمران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ایک سفید خچر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر پیش کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اسے پہننے کے لیے دی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ قریٰ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا: ”تمہارے باغ میں کتنی پیداوار ہوئی؟“ اس نے جواب دیا: دس وسق۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازے کے بالکل مطابق تھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جلدی جانا چاہتا ہوں، تم میں سے جو شخص میرے ساتھ جلدی جانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ طیبہ ہے“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”یہ طابہ ہے۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انصار کا سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار ہیں۔ کیا میں تمہیں ان کے بعد والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ان کے بعد) بنو ساعدہ اور بنو حارث بن خزرج ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6501]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1482 م، 1872، 3161، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1188، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2314، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4503، 6501، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3079، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7530، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24091» «رقم طبعة با وزير 6467»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (271): ق، ومضى برقم (4486). تنبيه!! رقم (4486) = (4503) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
350. باب المعجزات - ذكر ما حال الله جل وعلا بين صفيه صلى الله عليه وسلم وبين المشركين فيما قصدوه به-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ان کے ارادوں سے روک دیا
حدیث نمبر: 6502
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ، فَتَعَاقَدُوا بِاللاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةِ الثَّالِثَةِ الأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِِسَافٍ: لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا، لَقُمْنَا إِِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَؤُلاءِ الْمَلأُ مِنْ قَوْمِكَ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ، لَوْ قَدْ رَأَوْكَ، قَامُوا إِِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ، فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِِلا عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ،" إِِيتِينِي بِوَضُوءٍ"، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: هَا هُوَ ذَا، هَا هُوَ ذَا، فَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِِلَيْهِ بَصَرًا، وَلَمْ يَقُمْ إِِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، وَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، ثُمَّ حَصَبَهُمْ، فَمَا أَصَابَ رَجُلا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِِلا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قریش کے کچھ لوگ حطیم میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے لات، عزیٰ، مناۃ، نائلہ اور اساف (نامی بتوں) کے نام پر قسم اٹھا کر یہ معاہدہ کیا کہ اگر ہم نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ہم ایک ساتھ ہو کر ان کے سامنے آئیں گے اور ان سے اس وقت تک الگ نہیں ہوں گے جب تک انہیں شہید نہیں کر دیتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی آئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے عرض کی: آپ کی قوم کے ان لوگوں نے آپ کے خلاف یہ طے کیا ہے کہ جب وہ آپ کو دیکھیں گے تو آپ کے مدمقابل کھڑے ہوں گے اور آپ کو شہید کر دیں گے، اس طرح ان میں سے ہر ایک فرد آپ کے خون میں سے اپنے حصے کو حاصل کر لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے میری بیٹی! تم میرے پاس وضو کے لیے پانی لے کر آؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد (حرام یعنی خانہ کعبہ کے قریب) تشریف لائے، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ بولے: یہ وہی ہیں، یہ وہی ہیں، پھر انہوں نے اپنی نگاہیں جھکا دیں اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں سے لگ گئیں، ان میں سے کسی نے بھی نگاہ اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا اور ان میں سے کوئی بھی شخص اٹھ کر آپ کے سامنے نہیں آیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی میں مٹی لی اور فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» ”(ان لوگوں کے) چہرے بگڑ جائیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان پر پھینکی تو اس مٹی کی جو بھی کنکری ان میں سے جس بھی شخص تک پہنچی وہ غزوہ بدر کے دن مارا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6502]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6502، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 587، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2913، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2806، 3554» «رقم طبعة با وزير 6468»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (228)، «الصحيحة» (2824). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
351. باب المعجزات - ذكر ما كان يدفع الله جل وعلا عن صفيه صلى الله عليه وسلم مكيدة المشركين إياه من الشتم واللعن وما أشبههما-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی گالیوں، لعنتوں اور اس جیسے مکر سے بچایا
حدیث نمبر: 6503
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عنِ ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عِبَادَ اللَّهِ، انْظُرُوا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَهُمْ وَلَعَنَهُمْ"، يَعْنِي: قُرَيْشًا، قَالُوا: كَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اے اللہ کے بندو! تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے برا کہنے اور لعنت کرنے کو مجھ سے کیسے پھیر دیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد قریش تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایسا کیسے ہوا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ لوگ مذمم کو برا کہتے ہیں، مذمم پر لعنت کرتے ہیں (یعنی کفارِ قریش دشمنی کے طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد کی بجائے مذمم کہتے تھے تو وہ لعنت اور برا بھلا مذمم پر واقع ہوتا تھا) میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6503]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3533، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6503، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3438، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5602، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7449، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1170، والبزار فى (مسنده) برقم: 8861» «رقم طبعة با وزير 6469»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج الفقه» (59): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
352. باب المعجزات - ذكر ظهور اللبن من الضرع الحائل للمصطفى صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خشک تھن سے دودھ کا ظہور
حدیث نمبر: 6504
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ يَافِعًا فِي غَنَمٍ لِعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ أَرْعَاهَا، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا غُلامُ،" هَلْ مَعَكَ مِنْ لَبَنٍ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ، قَالَ: " ائْتِنِي بِشَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ"، فَأَتَيْتُهُ بِعَنَاقٍ، فَاعْتَقَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَعَلَ يَمْسَحُ الضَّرْعَ وَيَدْعُو حَتَّى أَنْزَلَتْ، فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَاحْتَلَبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ: اشْرَبْ، فَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ: اقْلِصْ، فَقَلَصَ، فَعَادَ كَمَا كَانَ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْكَلامِ أَوْ مِنْ هَذَا الْقُرْآنِ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنَّكَ غُلامٌ مُعَلَّمٌ، قَالَ: فَلَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً، مَا نَازَعَنِي فِيهَا بَشَرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں جوانی میں عقبہ بن ابومعیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے دریافت کیا: ”اے لڑکے! کیا تمہارے پاس دودھ ہے؟“ میں نے جواب دیا: جی ہاں، لیکن میں امین ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی ایسی بکری لے کر آؤ جس کے ساتھ کسی بکرے نے جفتی نہ کی ہو“، تو میں ایک سال کا بکری کا بچہ لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑا پھر آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی، یہاں تک کہ اس کا دودھ اترنے لگا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی چیز لے کر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں دودھ دوہ لیا پھر آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم پیو“، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے پی لیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے پی لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تھن سے یہ کہا: ”تم خشک ہو جاؤ“، تو وہ خشک ہو گیا اور اس طرح ہو گیا جس طرح پہلے تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے بھی یہ کلام (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس قرآن کی تعلیم دیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایک ایسے لڑکے ہو جو سمجھ بوجھ رکھتا ہے (یا جسے تعلیم دی جائے گی)“ راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ستر سورتیں سیکھی ہیں، اس بارے میں کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6504]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5000، 5002، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6504، 7061، 7064، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2914، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5078، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 59، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3668» «رقم طبعة با وزير 6470»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الروض النضير» (652)، وفي (ق) جملة السبعين سورة. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
353. باب المعجزات - ذكر شهادة الشجر للمصطفى صلى الله عليه وسلم بالرسالة-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ درخت نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی
حدیث نمبر: 6505
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ تُرِيدُ؟"، قَالَ: إِِلَى أَهْلِي، قَالَ:" هَلْ لَكَ إِِلَى خَيْرٍ؟"، قَالَ: مَا هُوَ؟، قَالَ: " تَشَهَّدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: هَلْ مِنْ شَاهِدٍ عَلَى مَا تَقُولُ؟، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ السَّمُرَةُ"، فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الأَرْضَ خَدًّا حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلاثًا، فَشَهِدَتْ أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِِلَى مَنْبَتِهَا، وَرَجَعَ الأَعْرَابِيُّ إِِلَى قَوْمِهِ، وَقَالَ: إِِنْ يَتَّبِعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ، وَإِِلا رَجَعْتُ إِِلَيْكَ، فَكُنْتُ مَعَكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک دیہاتی آیا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم کہاں جا رہے ہو؟“ اس نے کہا: اپنے گھر والوں کی طرف، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے؟“ اس نے جواب دیا: وہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس نے دریافت کیا: آپ جو بات کہہ رہے ہیں کیا اس کا کوئی گواہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ ببول کا درخت ہے“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلوایا، وہ اس وادی کے کنارے پر موجود تھا تو زمین کو چیرتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا، اس نے تین مرتبہ کلمہ شہادت پڑھا اور اس بات کی گواہی دی کہ ایسا ہی ہے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے پھر وہ اس جگہ واپس چلا گیا جہاں وہ اُگا تھا، جب وہ دیہاتی اپنی قوم کے پاس واپس جانے لگا تو وہ بولا: اگر ان لوگوں نے میری بات مان لی تو میں ان کو لے کر آپ کی خدمت میں آؤں گا ورنہ میں خود آپ کے پاس واپس آ جاؤں گا اور آپ کے ساتھ رہوں گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6505]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6505، والدارمي فى (مسنده) برقم: 16، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5662، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 13582» «رقم طبعة با وزير 6471»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج المشكاة» (2925). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات
354. باب المعجزات - ذكر حنين الجذع الذي كان يخطب عليه المصطفى صلى الله عليه وسلم لما فارقه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اس تنے کا ہنہنانا جس پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تھے جب وہ اسے چھوڑ گئے
حدیث نمبر: 6506
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقُومُ إِِلَى جِذْعٍ، فَيَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأَنَّهُ لَمَّا صَنَعَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِِلَيْهِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر جمعے کا خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو وہ تنا رونے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس پر پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6506]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3583، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1081، والترمذي فى (جامعه) برقم: 505، والدارمي فى (مسنده) برقم: 31، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5781، 5782، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4846، 5992» «رقم طبعة با وزير 6472»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2174): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
355. باب المعجزات - ذكر البيان بأن الجذع الذي ذكرناه إنما سكن عن حنينه باحتضان المصطفى صلى الله عليه وسلم إياه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ تنے نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے لگانے سے ہنہنانا بند کیا
حدیث نمبر: 6507
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِِلَى جَنْبِ خَشَبَةٍ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِِلَيْهَا، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالَ:" ابْنُوا لِي مِنْبَرًا"، فَبَنَوْا لَهُ مِنْبَرًا عَتَبَتَانِ، فَلَمَّا قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ لِيَخْطُبَ، حَنَّتِ الْخَشَبَةُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَنَسٌ:" وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَسَمِعْتُ الْخَشَبَةَ حَنَّتْ حَنِينَ الْوَلَدِ، فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ إِِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْتَضَنَهَا، فَسَكَنَتْ" ، قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ إِِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى، ثُمَّ قَالَ:" يَا عِبَادَ اللَّهِ، الْخَشَبَةُ تَحِنُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَوْقًا إِِلَيْهِ لِمَكَانِهِ مِنَ اللَّهِ، فَأَنْتُمْ أَحَقُّ أَنْ تَشْتَاقُوا إِِلَى لِقَائِهِ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت اس کے ساتھ لگا لیتے تھے، جب لوگوں کا ہجوم زیادہ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے منبر بنا دو۔“ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر بنا دیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے منبر پر کھڑے ہوئے تو وہ لکڑی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں رونے لگی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت مسجد میں موجود تھا، میں نے اس لکڑی کی آواز سنی، یوں جیسے کوئی بچہ روتا ہے اور وہ اس وقت تک روتی رہی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر کر اس کے پاس تشریف نہیں لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ساتھ نہیں لگا لیا (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا) تو وہ پرسکون ہو گئی۔ راوی کہتے ہیں: جب حسن بصری رحمہ اللہ یہ روایت بیان کرتے تھے تو وہ رونے لگتے تھے اور کہتے تھے: ”اے اللہ کے بندو! ایک لکڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں روتی ہے، اس مرتبے اور مقام کی وجہ سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی بارگاہ میں حاصل ہے، تو تم لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے مشتاق رہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6507]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1776، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6507، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3627، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1415، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2273» «رقم طبعة با وزير 6473»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (2174). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح