صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
296. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار عن وصف الطول الذي يكون بين حافتي حوض المصطفى صلى الله عليه وسلم في القيامة أوردنا الله إياه بفضله-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ قیامت کے دن مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض کے کناروں کے درمیان کی لمبائی کیسی ہوگی، اللہ ہمیں اپنے فضل سے اس کی طرف لے جائے
حدیث نمبر: 6448
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6448]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6414»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (714). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
297. باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أنه مضاد لخبر أنس بن مالك الذي ذكرناه-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ انس بن مالک کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6449
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرَ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَإِِنْ لَمْ تَجِدُونِي، فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِآنِيَةٍ وَقِرَبٍ ثُمَّ لا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِآنِيَةٍ وَقِرَبٍ ثُمَّ لا يَذُوقُونَ مِنْهُ شَيْئًا"، أُرِيدَ بِهِ: مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ الَّذِينَ قَدْ غُفِرَ لَهُمْ، يَجِيئُونَ بِأَوَانِي لِيَسْتَقُوا بِهَا مِنَ الْحَوْضِ، فَلا يُسْقَوْنَ مِنْهُ، لأَنَّ الْحَوْضَ لِهَذِهِ الأُمَّةِ خَاصٌّ دُونَ سَائِرِ الأُمَمِ، إِِذْ مُحَالٌ أَنْ يَقْدِرَ الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ عَلَى حَمْلِ الأَوَانِي وَالْقِرَبِ فِي الْقِيَامَةِ، لأَنَّهُمْ يُسَاقُونَ إِِلَى النَّارِ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میں تمہارے آگے تمہارا پیش رو ہوں گا، اگر تم مجھے نہ پاؤ، تو میں حوض (کوثر) کے پاس موجود ہوں گا، جو ایلہ سے لے کر مکہ تک کے فاصلے جتنا بڑا ہے۔ عنقریب کچھ مرد اور عورتیں برتن اور مشکیزے لے کر آئیں گے، لیکن وہ اس حوض میں سے کچھ بھی چکھ نہیں سکیں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”عنقریب کچھ مرد اور کچھ عورتیں برتن اور مشکیزے لے کر آئیں گے اور پھر وہ اس میں سے کچھ بھی چکھ نہیں سکیں گے۔“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ دیگر امتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے جن کی مغفرت ہو چکی ہو گی۔ وہ برتن لے کر آئیں گے تاکہ وہ اس حوض سے سیراب ہوں، لیکن وہ اس سے سیراب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ حوض اس امت کے لیے مخصوص ہے، دیگر امتوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی کافر یا منافق شخص قیامت کے دن برتن اور مشکیزے حاصل کرنے پر قادر ہو جائے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو تو قیامت کے دن جہنم کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا، ہم جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6449]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14946، 15352، 15353، والبزار فى (مسنده) برقم: 2975، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 749، 9070» «رقم طبعة با وزير 6415»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (771). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
298. باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر ثالث قد يوهم من لم يطلب العلم من مظانه أنه مضاد للخبرين الأولين اللذين ذكرناهما-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر تیسری خبر جو علم کے اصلی ذرائع سے نہ مانگنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے دو خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6450
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبَكَالِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ ، يَقُولُ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا حَوْضُكَ الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ؟، فَقَالَ:" هُوَ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى، ثُمَّ يُمِدُّنِي اللَّهُ فِيهِ بِكُرَاعٍ لا يَدْرِي بَشَرٌ مِمَّنْ خُلِقَ أَيُّ طَرَفَيْهِ"، قَالَ: فَكَبَّرَ عُمَرُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا الْحَوْضُ، فَيَزْدَحِمُ عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُقْتُلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَمُوتُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَرْجُو أَنْ يُورِدَنِيَ اللَّهُ الْكُرَاعَ فَأَشْرَبَ مِنْهُ" .
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا، اس نے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض کتنا بڑا ہے، جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے، پھر اللہ تعالیٰ میرے لیے اس کی گہرائی کو بڑھا دے گا اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کو کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا کنارا کہاں ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک حوض کا تعلق ہے، تو غریب مہاجرین کا اس پر ہجوم ہو گا، جنہیں اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا اور جو اللہ کی راہ میں (کوشش کرتے ہوئے) انتقال کر گئے، مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کے پاس لے جائے گا اور میں اس میں سے پانی پیوں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6450]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6450، 7247، 7414، 7416، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17917، والطبراني فى(الكبير) برقم: 312، 313، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 402» «رقم طبعة با وزير 6416»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الظلال» (715)، وانظر التعليق على الحديث الآتي (7203). تنبيه!! رقم (7203) = (7247) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
299. باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر رابع قد يوهم بعض المستمعين أنه مضاد للأخبار الثلاث التي ذكرناها قبل-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر چوتھی خبر جو بعض سننے والوں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے تین خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6451
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ، وَصَنْعَاءَ، أَوْ كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَخْبَارُ الأَرْبَعُ قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمُ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّهَا مُتَضَادَّةٌ، أَوْ بَيْنَهَا تَهَاتِرُ، لأَنَّ فِي خَبَرِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ:" مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ"، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ:" مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ"، وَفِي خَبَرِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:" مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى"، وَفِي خَبَرِ قَتَادَةَ:" مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ"، وَلَيْسَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌّ، وَلا تَهَاتِرٌ، لأَنَّهَا أَجْوِبَةٌ خَرَجَتْ عَلَى أَسْئِلَةٍ ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي كُلِّ خَبَرٍ مِمَّا ذَكَرْنَا جَانِبًا مِنْ جَوَانِبِ حَوْضِهِ أَنَّ مَسِيرَةَ كُلَّ جَانِبٍ مِنْ حَوْضِهِ مَسِيرَةُ شَهْرٍ، فَمِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى الْمَدِينَةِ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِغَيْرِ الْمُسْرِعِ، وَمِنْ أَيْلَةَ إِِلَى مَكَّةَ كَذَلِكَ، وَمِنْ صَنْعَاءَ إِِلَى بُصْرَى كَذَلِكَ، وَمِنَ الْمَدِينَةِ إِِلَى عَمَّانَ الشَّامِ كَذَلِكَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مدینہ اور صنعاء کے درمیان ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ چار روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے) کہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے یا ان میں اختلاف پایا جاتا ہے، تو سلیمان تیمی کی نقل کردہ روایات میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا ایلہ سے لے کر مکہ کے درمیان تک فاصلہ ہے۔“ عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے۔“ قتادہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے۔“ حالانکہ ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا، کیونکہ یہ سوالات کے جوابات ہیں جو سوالات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیے ہیں۔ ہم نے جو روایات ذکر کی ہیں ان سب روایات میں حوضِ کوثر کے کناروں میں سے کسی ایک کنارے کا ذکر ہے کہ اس حوض کے ہر طرف کا کنارہ ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے، تو صنعاء سے لے کر مدینہ منورہ تک ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے، جبکہ آدمی تیز رفتاری سے نہ چل رہا ہو۔ ایلہ سے لے کر مکہ تک کا سفر بھی اتنا ہے، صنعاء سے لے کر بصریٰ تک کا سفر بھی اتنا ہی ہے اور مدینہ سے لے کر عمان یا شام تک کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6451]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6417»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (714). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
300. باب الحوض والشفاعة - ذكر الخبر الدال على أن ليس بين هذه الأخبار التي ذكرناها تضاد ولا تهاتر-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ خبروں میں کوئی تضاد یا تناقض نہیں ہے
حدیث نمبر: 6452
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَمْرٍو ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، زَوَايَاهُ سَوَاءً، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، آنِيَتُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا حوض ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے۔ اس کے کنارے برابر ہیں۔ اس کا پانی برف سے زیادہ سفید، مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی طرح (بے شمار ہیں) جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6452]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6579، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2292، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6452، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 253، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6625» «رقم طبعة با وزير 6418»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (728): ق، وليس عند (خ): «زواياه سواء». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
301. باب الحوض والشفاعة - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6453
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمَسَافَةُ بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ، كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ، وَمَكَّةَ وَأَيْلَةَ، وَصَنْعَاءَ وَالْمَدِينَةِ، وَصَنْعَاءَ وَبُصْرَى سَوَاءً، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌّ، أَوْ تَهَاتِرٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے آگے (قیامت میں) ایک ایسا حوض ہو گا جو جرباء اور اذرح کے درمیان فاصلے جتنا بڑا ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جرباء اور اذرح کے درمیان کتنا فاصلہ ہے جتنا مدینہ اور عمان کے درمیان یا مکہ اور ایلہ کے درمیان یا صنعاء اور مدینہ کے درمیان یا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان ہے، تو اس حوالے سے ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6453]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6577، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2299، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6453، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4745، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4814» «رقم طبعة با وزير 6419»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (726 - 727): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
302. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار عن وصف الأواني التي تكون في حوض المصطفى صلى الله عليه وسلم-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض میں برتنوں کی وصف کیا ہوگی
حدیث نمبر: 6454
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ أَوْ أَكْثَرَ" ، يَعْنِي: الْحَوْضَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہیں اس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے پیالے ملیں گے جو آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے یا اس سے بھی زیادہ ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حوضِ کوثر تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6454]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6420»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (711 - 714): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
303. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن الكراع الذي تقدم ذكرنا له حيث ينصب إلى الحوض يمد ماؤه من الجنة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ کراع جو حوض کی طرف نصب ہوتا ہے اس کا پانی جنت سے آتا ہے
حدیث نمبر: 6455
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا عِنْدَ عُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ، إِِنِّي لأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ"، قَالَ: وَسُئِلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَعَةِ الْحَوْضِ فَقَالَ:" مِثْلُ مَقَامِي هَذَا إِِلَى عَمَّانَ مَا بَيْنَهُمَا شَهْرٌ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ"، وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ:" أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، يَنْبَعِثُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِدَادُهُمَا الْجَنَّةُ، أَحَدُهُمَا دُرٌّ، وَالآخَرُ ذَهَبٌ" .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے حوض کے پاس کھڑا ہو کر کچھ لوگوں کو اس سے دور کروں گا، میں ان لوگوں کو اپنے عصا کے ذریعے ماروں گا تاکہ وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کی وسعت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ میری (اس) جگہ سے لے کر عمان جتنا ہے، ان دونوں کے درمیان ایک ماہ کا یا اس سے قریب کا فاصلہ ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، اس میں دو پرنالے ہوں گے جن میں جنت سے پانی آئے گا، ان میں سے ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا اور دوسرا سونے کا ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6455]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2301، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6455، 6456، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7467، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22800» «رقم طبعة با وزير 6421»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (706 - 710). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
304. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6456
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ"، فَسُئِلَ عَنْ عَرَضِهِ فَقَالَ:" مِنْ مَقَامِي هَذَا إِِلَى عَمَّانَ"، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ:" أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، فِيهِ مِيزَابَانِ يُمَدَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالآخَرُ مِنْ وَرِقٍ" ، قَالَ بُنْدَارٌ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ؟ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ أَيْضًا، فَقُلْتُ: انْظُرْ لِي فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَنَظَرَ فِيهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اپنے حوض کے قریب کھڑے ہو کر اس سے (کچھ) اہل یمن کو پرے کروں گا۔ میں اپنے عصا کے ذریعے انہیں ماروں گا تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حوض کی چوڑائی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے کھڑے ہونے کی جگہ سے لے کر عمان تک (جتنا فاصلہ ہے وہ اتنا چوڑا ہو گا)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا۔ اس حوض میں دو پرنالے ہوں گے جو جنت سے آ رہے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا اور ایک چاندی کا بنا ہو گا۔“ بندار نامی راوی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن حماد سے کہا: کیا یہ ابوعوانہ کی نقل کردہ روایت ہے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے یہ روایت ابوعوانہ سے ہی سنی ہے۔ میں نے کہا: آپ میرے لیے شعبہ کی نقل کردہ روایت کا جائزہ لے لیجیے۔ انہوں نے اس میں اس روایت کو تلاش کیا اور پھر یہ حدیث بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6456]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2301، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6455، 6456، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7467، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2444، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4303، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22800» «رقم طبعة با وزير 6422»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
305. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن من شرب من حوض المصطفى صلى الله عليه وسلم أمن تسويد الوجه بعده-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے پئے گا اس کے بعد اس کا چہرہ سیاہ نہیں ہوگا
حدیث نمبر: 6457
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، وأبي اليمان الهوزني ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سَعَةُ حَوْضِكَ؟، قَالَ: " كَمَا بَيْنَ عَدْنٍ إِِلَى عَمَّانَ، وَأَنَّ فِيهِ مَثْعَبَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ"، قَالَ: فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَمْ يَسْوَدْ وَجْهُهُ أَبَدًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ:" مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ"، وَفِي خَبَرِ ثَوْبَانَ الَّذِي ذَكَرْنَا:" مِيزَابَانِ أَحَدُهُمَا دُرٌّ وَالآخَرُ ذَهَبٌ"، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ، لأَنَّ أَحَدَ الْمَثْعَبَيْنِ يَكُونُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالآخَرُ مِنْ فِضَّةٍ قَدْ رُكِّبَ عَلَيْهِ الدُّرُّ حَتَّى لا يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں دو پرنالے ہیں، جو سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔“ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے حوض (کا مشروب) کیسا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دودھ سے زیادہ سفید ہو گا اور چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہو گی، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہو گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں جبکہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہماری ذکر کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے کہ اس کے دو پرنالے ہیں، جن میں سے ایک موتی سے بنا ہوا ہے اور ایک سونے سے بنا ہوا ہے، تو ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ ان دو پرنالوں میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہو گا اور دوسرے کے بارے میں ہو سکتا ہے کہ وہ چاندی سے بنا ہوا ہو اور اس پر موتی لگا دیے گئے ہوں، اس طرح ان دونوں روایات میں تضاد باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6457]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6457، 7246، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2437، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4286، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22586، 22734، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32372، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7520، 7521، 7665، 7672» «رقم طبعة با وزير 6423»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (729). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح