صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
316. باب الحوض والشفاعة - ذكر إثبات الشفاعة في القيامة لمن يكثر الكبائر في الدنيا-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ قیامت میں شفاعت اس کے لیے ثابت ہے جو دنیا میں بہت کبائر کرتا ہو
حدیث نمبر: 6468
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ وَكَانَ مِنَ الْحُفَّاظِ الْمُتْقِنِينَ وَأَهْلِ الْفِقْهِ فِي الدِّينِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6468]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6468، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 228، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4739، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2435، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15938، 20831، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13424» «رقم طبعة با وزير 6434»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
317. باب الحوض والشفاعة - ذكر الخبر المدحض قول من أبطل شفاعة المصطفى صلى الله عليه وسلم لأمته في القيامة زعم أن الشفاعة هو استغفاره لأمته في الدنيا-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ جس نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قیامت میں شفاعت کو باطل کیا اور یہ زعم کیا کہ شفاعت دنیا میں ان کی امت کے لیے استغفار ہے
حدیث نمبر: 6469
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہوتی ہے جو وہ اپنی امت کے لیے کرتا ہے، میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6469]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 201، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6460، 6469، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20833، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15348، 15496، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2237، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3043» «رقم طبعة با وزير 6435»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
318. باب الحوض والشفاعة - ذكر تخيير الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بين الشفاعة وبين أن يدخل نصف أمته الجنة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت اور اپنی امت کا نصف جنت میں داخل کرنے کے درمیان انتخاب دیا
حدیث نمبر: 6470
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: عَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَرَشَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا ذِرَاعَ رَاحِلَتِهِ، فَانْتَبَهْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَإِِذَا نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ قُدَّامَهَا أَحَدٌ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَائِمَانِ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالا: مَا نَدْرِي، غَيْرَ أَنَّا سَمِعْنَا صَوْتًا بِأَعْلَى الْوَادِي، فَإِِذَا مِثْلُ هَدِيرِ الرَّحَى، فَلَمْ نَلْبَثْ إِِلا يَسِيرًا حَتَّى أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ:" فَإِِنَّكُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِي"، قَالَ: فَأَقْبَلْنَا إِِلَى النَّاسِ، فَإِِذَا هُمْ فَزِعُوا، وَفَقَدُوا نَبِيَّهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّهُ أَتَانِيَ اللَّيْلَةَ آتٍ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، وَإِِنِّي اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَنْشُدُكَ اللَّهَ لَمَا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ:" إِِنِّي أُشْهِدُ مَنْ حَضَرَ أَنَّ شَفَاعَتِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِنْ أُمَّتِي" .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ پڑاؤ کیا، ہر شخص نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ رات کے کسی حصے میں، میں بیدار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے کوئی موجود نہیں تھا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے چل پڑا، تو سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی کھڑے نظر آئے، میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں نہیں معلوم البتہ ہم نے وادی کے بالائی حصے کی طرف سے ایک آواز سنی ہے جو چکی کے چلنے جیسی آواز ہے۔ راوی کہتے ہیں، تھوڑی ہی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پروردگار کی طرف سے ایک قاصد میرے پاس آیا۔ اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا، یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر میں شفاعت کروں (خواہ وہ کتنے ہی لوگوں کی کیوں نہ ہو) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا اور اپنے ساتھ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کریں، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں میں شامل ہو جن کو میری شفاعت نصیب ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لوگ لوگوں کی طرف آئے تو وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس اس رات (میرے پروردگار کا) قاصد آیا، تو اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا میں شفاعت کو اختیار کروں، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔“ لوگوں نے عرض کی: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کیجیے، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمام حاضرین کو اس بات کا گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میری شفاعت میری امت کے ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو ایسی حالت میں فوت ہوتا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6470]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 211، 6463، 6470، 7207، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 36، 221، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2441، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4317، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24610» «رقم طبعة با وزير 6436»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (818)، وهو مطول (211)، وسيأتي (7163). تنبيه!! رقم (7163) = (7207) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
319. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار عن وصف الكوثر الذي أعطاه الله جل وعلا نبيه صلى الله عليه وسلم-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ کوثر کی وصف جو اللہ جل وعلا نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا
حدیث نمبر: 6471
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَرَأَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ يَجْرِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ"، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَضَرَبْتُ بِيَدِي، فَإِِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ، وَإِِذَا حَصْبَاؤُهُ اللُّؤْلُؤُ" .
ثابت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ آیت ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] ”بے شک ہم نے تمہیں کوثر عطا کی۔“ تلاوت کی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”کوثر جنت میں موجود ایک نہر ہے جو (جنت کی زمین پر) بہتی ہے، اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنا ہاتھ مارا، تو جنت کی مٹی کی خوشبو مشک کی طرح کی تھی اور اس کی کنکریاں موتیوں کی طرح کی تھیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6471]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6437»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2513)، «المشكاة» (5641). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
320. باب الحوض والشفاعة - ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم الكوثر الذي خصه الله جل وعلا بإعطائه إياه في الجنة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وصف کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوثر کی جو اللہ جل وعلا نے انہیں جنت میں عطا کیا
حدیث نمبر: 6472
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِِذَا أَنَا بِنَهَرٍ حَافَّتَاهُ مِنَ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي مَجْرَى الْمَاءِ، فَإِِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ، أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک نہر موجود تھی، جس کے کناروں پر موتی تھے، میں نے اپنا ہاتھ پانی کے بہاؤ پر مارا تو اس کی خوشبو مشک کی طرح تھی، میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6472]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6438»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الترمذي» (3597): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
321. باب الحوض والشفاعة - ذكر وصف بياض ماء الكوثر وحلاوته الذي وصفناه-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وصف کہ کوثر کا پانی سفید اور میٹھا ہے جو ہم نے بیان کیا
حدیث نمبر: 6473
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي، بَيَاضُهُ بَيَاضُ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَحَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي، فَإِِذَا الثَّرَى مِسْكٌ أَذْفَرُ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک نہر بہہ رہی تھی جس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا اور وہ شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے موجود تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ لگایا تو وہاں کی مٹی مشک کی طرح تھی۔ میں نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6473]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6439»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
322. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم حافتاه من اللؤلؤ أراد به قباب اللؤلؤ المجوف-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اس کے کنارے موتیوں سے ہیں" سے مراد موتیوں کے خالی گنبد ہیں
حدیث نمبر: 6474
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الْجَنَّةِ إِِذْ عَرَضَ لِي نَهَرٌ، حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ الْمُجَوَّفِ، فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ: أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِِلَى أَرْضِهِ، فَأَخْرَجَ مِنْ طِينِهِ الْمِسْكَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ میں جنت میں جا رہا تھا، اسی دوران میرے سامنے ایک نہر آئی جس کے دونوں کناروں پر اندر سے خالی موتیوں کے بنے ہوئے خیمے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ وہ کوثر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک زمین سے لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مٹی کو اٹھایا تو وہ مشک کی طرح کی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6474]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4964، 6580، 6581، 6582، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 400، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6448، 6451، 6454، 6459، 6471، 6472، 6473، 6474، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 266، وأبو داود فى (سننه) برقم: 784، 4747، 4748، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2417، 2418، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12176، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2442، 2542» «رقم طبعة با وزير 6440»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
323. باب الحوض والشفاعة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم يوم القيامة يكون أول من تنشق عنه الأرض وأول شافع-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے جن کے لیے زمین شق ہوگی اور سب سے پہلے شافع ہوں گے
حدیث نمبر: 6475
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى بَنِي هَاشِمٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ" .
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا، کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا، قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا، میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہہ رہا، سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا جائے گا، سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6475]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2276، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6242، 6333، 6475، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3605، 3606، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13196، 13877، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17260» «رقم طبعة با وزير 6441»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - تقدم برقم (6209). تنبيه!! رقم (6209) = (6242) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
324. باب الحوض والشفاعة - ذكر وصف قوله صلى الله عليه وسلم وأول شافع وأول مشفع-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر وصف کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "سب سے پہلے شافع اور سب سے پہلے مشفع" کی
حدیث نمبر: 6476
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ وَالانَ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ، حَتَّى إِِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَكَانَهُ، حَتَّى صَلَّى الأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، كُلُّ ذَلِكَ لا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لأَبِي بَكْرٍ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" نَعَمْ، عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فَجُمِعَ الأَوَّلُونَ وَالآخَرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ حَتَّى انْطَلِقُوا إِِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، فَقَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ، اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، فَقَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، فَانْطَلِقُوا إِِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِِلَى نُوحٍ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ سورة آل عمران آية 33، فَيَنْطَلِقُونَ إِِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِِلَى رَبِّكَ، فَإِِنَّهُ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، فَلَمْ يَدَعْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِِلَى إِِبْرَاهِيمَ، فَإِِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلا، فَيَأْتُونَ إِِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِِلَى مُوسَى، فَإِِنَّ اللَّهَ قَدْ كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَإِِنَّهُ يُبْرِئُ الأَكْمَهَ وَالأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَيَقُولُ عِيسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، انْطَلِقُوا إِِلَى مُحَمَّدٍ، فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِِلَى رَبِّكُمْ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ، وَآتِي جِبْرِيلَ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ رَبَّهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِِذَا نَظَرَ إِِلَى رَبِّهِ، خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ بِضَبْعَيْهِ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، جَعَلْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا فَخْرَ، حَتَّى إِِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الأَنْبِيَاءَ، فَيَجِيءُ النَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا، فَإِِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ، يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: انْظُرُوا فِي النَّارِ، هَلْ فِيهَا مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلا، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتُ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ، فَيَقُولُ اللَّهُ: اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِِسْمَاحِهِ إِِلَى عَبِيدِي، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ آخَرُ، يُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أَمَرْتُ وَلَدِي، إِِذَا مِتُّ فَاحْرِقُونِي بالنَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي، حَتَّى إِِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ، فَاذْهَبُوا بِي إِِلَى الْبَحْرِ، فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ، فَقَالَ اللَّهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِِلَى مُلْكٍ أَعْظَمِ مُلْكٍ، فَإِِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي، وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ فَذَلِكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى" ، قَالَ إِِسْحَاقُ: هَذَا مِنْ أَشْرَفِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثُ عِدَّةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، مِنْهُمْ: حُذَيْفَةُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَغَيْرُهُمْ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ بِإِِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت فجر کی نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے۔ جب چاشت کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کر لیں۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کر لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں کیا معاملہ ہے، آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا طرز عمل اختیار کیا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں! میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے آگے ہوں گی، تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے، وہ یہ کہیں گے: اے سیدنا آدم علیہ السلام! آپ انسانوں کے جد امجد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا، اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجیے، تو سیدنا آدم علیہ السلام یہ کہیں گے: مجھے بھی اسی طرح کی صورت حال درپیش ہے جو تم کو درپیش ہے۔ تم لوگ اپنے ایک باپ کے بعد والے دوسرے باپ (یعنی سیدنا نوح علیہ السلام کی طرف جاؤ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 33] ”بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو تمام جہانوں میں منتخب کر لیا ہے۔“ تو لوگ سیدنا نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا تھا، اس نے آپ کی دعا کو مستجاب بھی کیا تھا، یہاں تک کہ زمین پر کوئی بھی کافر بستا ہوا نہیں رہا تھا، تو سیدنا نوح علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل بنایا تھا، تو لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ یہ کہیں گے کہ میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کلام کا شرف عطا کیا ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کو ٹھیک کر دیا کرتے تھے، وہ مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے: میں یہ نہیں کر سکتا، تم لوگ ان کے پاس جاؤ جو تمام اولاد آدم کے سردار ہیں، قیامت کے دن سب سے پہلے انہی کے لیے زمین کو شق کیا گیا۔ تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ تاکہ وہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کریں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ لوگ (میری طرف) آئیں گے، میں جبرائیل علیہ السلام کے پاس جاؤں گا، جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو) اجازت دو اور اسے جنت کی خوش خبری دو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر جائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جائیں گے جو تقریباً ایک ہفتے جتنا ہو گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنے سر کو اٹھاؤ، تم بولو سنا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھائیں گے، جب وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے تو دوبارہ سجدے میں چلے جائیں گے جو پورے ایک ہفتے جتنا طویل ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، بولو سنا جائے گا، شفاعت کرو شفاعت قبول کی جائے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر سجدے میں جانے لگیں گے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑ لیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کے جیسے کلمات القاء کرے گا جو اس نے اس سے پہلے کسی انسان کو وہ القا نہیں کیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! تو نے مجھے تمام اولاد آدم کا سردار بنایا ہے، میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، قیامت کے دن سب سے پہلے میرے لیے زمین کو شق کیا گیا، میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن حوض کوثر کے پاس آئیں گے۔ وہ صنعاء اور ایلہ کے درمیان جگہ سے زیادہ بڑا ہے۔ پھر یہ کہا جائے گا: صدیق کو بلاؤ تاکہ وہ شفاعت کرے، پھر یہ کہا جائے گا: انبیاء کو بلاؤ، تو کوئی نبی آئے گا، ان کے ساتھ کچھ لوگ ہوں گے، کوئی نبی آئے گا ان کے ساتھ پانچ یا چھ افراد ہوں گے، کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہو گا، پھر یہ کہا جائے گا: شہداء کو بلاؤ تاکہ وہ جس کی چاہیں شفاعت کریں۔ جب شہداء ایسا کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا: میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں، تم میری جنت میں ہر اس شخص کو داخل کر دو جو کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم میں جائزہ لو، کیا وہاں کوئی ایسا شخص ہے جس نے کبھی کوئی بھلائی کی ہو؟ تو فرشتوں کو جہنم میں ایک شخص ملے گا۔ اس سے دریافت کیا جائے گا: کیا تم نے بھی کوئی بھلائی کی ہے؟ وہ بولے گا: جی نہیں، البتہ میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگوں سے نرمی سے کام لیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے اس بندے کے ساتھ نرمی کرو جس طرح اس نے میرے بندوں کے ساتھ نرمی کی تھی، پھر ایک اور شخص کو جہنم سے نکالا جائے گا۔ اس سے دریافت کیا جائے گا: تم نے کبھی کوئی بھلائی کی؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں، البتہ میں نے اپنی اولاد کو یہ حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو تم لوگ مجھے آگ میں جلا دینا اور پھر مجھے پیس دینا، یہاں تک کہ جب میں سرمہ بن جاؤں تو مجھے دریا میں بہا دینا اور اسے ہوا میں اڑا دینا، تو اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ عرض کرے گا: تیرے خوف کی وجہ سے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دیکھو جو سب سے بڑا ملک ہے تمہیں اس جتنا اور اس جتنا مزید دس گنا علاقہ دیا جاتا ہے، بندہ عرض کرے گا: تو میرے ساتھ کیوں مذاق کر رہا ہے جبکہ تو بادشاہ ہے؟“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اس بات پر میں چاشت کے وقت ہنس پڑا تھا۔“ اسحاق نامی راوی کہتے ہیں: یہ سب سے بہترین حدیث ہے، یہ روایت متعدد افراد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کی ہے جن میں سیدنا حذیفہ، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات شامل ہیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6476]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6476، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 56، 57، والبزار فى (مسنده) برقم: 76، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 556» «رقم طبعة با وزير 6442»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الظلال» (751 و 812). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد
325. باب الحوض والشفاعة - ذكر الإخبار بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم وأمته يكونون شهداء على سائر الأمم في القيامة-
حوضِ کوثر اور شفاعت (سفارش) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت قیامت کے دن دیگر امتوں پر گواہ ہوں گے
حدیث نمبر: 6477
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُدْعَى نُوحٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: هَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، فَيَقُولُ لأُمَّتِهِ: هَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ، فَيُقَالُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُمَّتُهُ"، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَ، وَيَكُونُ الرَّسُولُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143" ، وَالْوَسَطُ: الْعَدْلُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن سیدنا نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا تو وہ عرض کریں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَبِّ» ”اے میرے پروردگار! میں حاضر ہوں۔“ پروردگار دریافت کرے گا: ”کیا تم نے تبلیغ کر دی تھی؟“ وہ جواب دیں گے: ”جی ہاں اے میرے پروردگار۔“ تو پروردگار ان کی امت سے دریافت کرے گا: ”کیا اس نے تم لوگوں کو تبلیغ کر دی تھی؟“ تو لوگ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تو پروردگار (سیدنا نوح علیہ السلام سے) دریافت کرے گا: ”تمہارے حق میں گواہی کون دے گا؟“ سیدنا نوح علیہ السلام عرض کریں گے: ”سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت۔““ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو (میری امت کے افراد) یہ گواہی دیں گے کہ سیدنا نوح علیہ السلام نے تبلیغ کر دی تھی، اور رسول (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں پر گواہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے: ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا﴾ [سورة البقرة: 143] ”اسی طرح ہم نے تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بن جاؤ اور رسول تم لوگوں پر گواہ ہو۔“ اور «الْوَسَطُ» سے مراد عادل ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6477]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3339، 4487، 7349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6477، 7216، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3080، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10939، 10940، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2961، 2961 م، 2961 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4284، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 222، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11226» «رقم طبعة با وزير 6443»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3339). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين