🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
277. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر البيان بأن عبد الله بن مسعود سمع هذا الخبر من المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر بیان کہ عبد اللہ بن مسعود نے یہ خبر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6428
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَعَلَيْهِ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ، يُنْثَرُ مِنْ رِيشِهِ تَهَاوِيلَ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے 600 پر تھے، انہوں نے اپنے ایک پر کو پھیلایا ہوا تھا جس میں سے موتی اور یاقوت کے مختلف رنگ نکل رہے تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6428]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3232، 3233، 4856، 4857، 4858، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 174، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 59، 6427، 6428، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3767، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11467، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3277، 3283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3817، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 276، 321، 356، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4993، والبزار فى (مسنده) برقم: 1808، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9050» «رقم طبعة با وزير 6394»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن: «صحيح الإسراء والمعراج» (ص 100 - 101). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
278. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر عرض الله جل وعلا الجنة والنار على المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر جنت اور جہنم دکھائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6429
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ حَتَّى أَحْفَوْهُ بِالْمَسْأَلَةِ، فَقَالَ: " سَلُونِي، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ"، قَالَ: فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، وَخَشُوا أَنْ يَكُونَ بَيْنَ يَدَيْ أَمْرٍ عَظِيمٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ يَمِينًَا وَشِمَالا، فَلا أَرَى كُلَّ رَجُلٍ إِِلا قَدْ دَسَّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَلُونِي، فَوَاللَّهِ لا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ إِِلا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ"، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟، قَالَ:" أَبُوكَ حُذَافَةُ"، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِِسْلامِ دَيْنًَا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْفِتَنِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا رَأَيْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ، إِِنَّهَا صُوِّرَتْ لِيَ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَأَبْصَرْتُهُمَا دُونَ ذَلِكَ الْحَائِطِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے گئے یہاں تک کہ سوالات کر کے آپ کو پریشان کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے سوال کرو، اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں اسے تمہارے سامنے بیان کر دوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: تو لوگ رک گئے۔ انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہو جائے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا، ہمیں جو بھی شخص نظر آیا اس نے اپنا سر اپنے کپڑے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”تم لوگ مجھ سے سوال کرو، اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں سوال کرو گے میں تمہارے سامنے اسے بیان کر دوں گا۔“ مسجد کے کونے میں ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! میرا باپ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولًا» ”ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی ہیں“ (یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم فتنوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے آج کے دن کی طرح کبھی بھی بھلائی اور برائی ایک ساتھ نہیں دیکھی، ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، میں نے اس دیوار کے پرے ان دونوں کو دیکھ لیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6429]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 93، 540، 749، 4621، 6362، 6468، 6486، 7089، 7090، 7091، 7294، 7295، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2359، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 106، 1502، 5792، 6429، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 495، والترمذي فى (جامعه) برقم: 156، 3056، والدارمي وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2885، 4191، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12226، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15919» «رقم طبعة با وزير 6395»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (106). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
279. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر عرض الله جل وعلا الأمم على المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر امتوں کو پیش کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6430
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ لَنَا: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟، قَالَ: قُلْتُ أَنَا، أَمَا إِِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي الصَّلاةِ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَا فَعَلْتَ؟، قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: وَمَا يُحَدِّثُكُمُ الشَّعْبِيُّ؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حَصِيبٍ الأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: " لا رُقْيَةَ إِِلا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ" . قَالَ: فَقَالَ قَالَ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ رَهْطٌ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ، وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقُلْتُ: هَذِهِ أُمَّتِي؟، فَقِيلَ: هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، وَلَكِنِ انْظُرْ إِِلَى الأُفُقِ، فَنَظَرْتُ، فَإِِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ إِِلَى هَذَا الْجَانِبِ الآخَرِ، فَإِِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلا عَذَابٍ"، ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ، وَقَالُوا: مَنْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِِسْلامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ قَطُّ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ، فَخَرَجَ إِِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ؟"، فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ، فَقَالَ:" هُمُ الَّذِينَ لا يَكْتَوُونَ، وَلا يَسْتَرْقُونَ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الأَسَدِيُّ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَنْتَ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ" .
حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے ہم سے دریافت کیا: تم میں سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا تھا؟ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں نے۔ میں اس وقت نماز کی حالت میں نہیں تھا بلکہ مجھے کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا: پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے جواب دیا: میں نے دم کیا۔ انہوں نے دریافت کیا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے جواب دیا: اس حدیث کی وجہ سے جو امام شعبی رحمہ اللہ نے ہمیں بیان کی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: شعبی نے تمہیں کیا حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: انہوں نے سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی، انہوں نے یہ فرمایا: «لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ» ”دم صرف نظر لگنے یا بخار کی صورت میں ہوتا ہے۔“ تو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بتایا ہے: ”میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیا گیا، میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ کچھ افراد تھے۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ ایک فرد تھا۔ کسی نبی کو دیکھا اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔ اسی دوران بہت سارے لوگ میرے سامنے آئے تو میں نے سوچا شاید یہ میری امت ہو گی، لیکن بتایا گیا کہ یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے لوگ ہیں۔ اب آپ افق کی طرف دیکھئے، جب میں نے اس طرف دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی تعداد تھی، پھر مجھ سے کہا گیا کہ آپ دوسری طرف دیکھئے، تو وہاں بھی بہت بڑی تعداد تھی، تو مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہیں جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ لوگ اس بارے میں غور و فکر کرتے رہے کہ یہ کون لوگ ہوں گے جو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل ہوں گے؟ تو ان میں سے بعض حضرات نے یہ کہا کہ شاید یہ وہ لوگ ہیں، جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ بعض نے کہا: شاید اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے، انہوں نے کبھی کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ اس طرح لوگوں نے مختلف آراء کا ذکر کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم لوگ کس بارے میں غور و فکر کر رہے ہو؟“ لوگوں نے اپنی گفتگو کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگاتے ہوں گے، (غیر شرعی الفاظ کے ذریعے) دم نہیں کرتے ہوں گے، اور فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے۔“ سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے) کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان میں شامل ہو“، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے: (یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے) کہ میں ان میں شامل ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے سبقت لے گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6430]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5705، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 220، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6104، 6430، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8365، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7499، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3884، 3889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2056، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3513، 3516، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19602، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2487» «رقم طبعة با وزير 6396»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (700/ 911): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6431
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَالْعَلاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ تَرَاجَعْنَا إِِلَى الْبَيْتِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الثَّلاثَةُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ يَجِيءُ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفْرُ مِنْ قَوْمِهِ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ مِنْ قَوْمِهِ أَحَدٌ، حَتَّى أَتَى عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ، أَعْجَبُونِي، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ: وَإِِذَا ظِرَابٌ مِنْ ظِرَابِ مَكَّةَ قَدْ سَدَّ وُجُوهَ الرِّجَالِ، قُلْتُ: رَبِّ، مَنْ هَؤُلاءِ؟، قَالَ: أُمَّتُكَ، قَالَ: فَقِيلَ لِي: رَضِيتَ؟، قَالَ: قُلْتُ: رَبِّ رَضِيتُ، رَبِّ رَضِيتُ، قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لِي: إِِنَّ مَعَ هَؤُلاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لا حِسَابَ عَلَيْهِمْ"، قَالَ: فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَخُو بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ، اجْعَلْهُ مِنْهُمْ"، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِدَاكُمْ أَبِي وَأُمِّي، إِِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا، فَإِِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ، فَإِِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ، فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الأُفُقِ، فَإِِنِّي رَأَيْتُ ثَمَّ أُنَاسًا يَتَهَرَّشُونَ كَثِيرًا"، قَالَ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ:" إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الثُّلُثَ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ:" إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ يَكُونَ الشَّطْرَ"، قَالَ: فَكَبَّرْنَا، فَتَلا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الآخِرِينَ سورة الواقعة آية 39 - 40، قَالَ: فَتَرَاجَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى هَؤُلاءِ السَّبْعِينَ، فَقَالُوا: نَرَاهُمْ أُنَاسًا وُلِدُوا فِي الإِِسْلامِ، ثُمَّ لَمْ يَزَالُوا يَعْمَلُونَ بِهِ حَتَّى مَاتُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَنَمَى حَدِيثُهُمْ إِِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ لا يَسْتَرْقُونَ، وَلا يَكْتَوُونَ، وَلا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ" ، قَالَ الشَّيْخُ: أَكْرَيْنَا: أَخَّرَنَا.
سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ہماری بات چیت طویل ہو گئی، پھر ہم اپنے گھر واپس آ گئے۔ اگلے دن صبح جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے گزشتہ رات انبیاء اور ان کی امت سے تعلق رکھنے والے پیروکار لوگوں کو پیش کیا گیا، تو کوئی ایک نبی آیا اس کے ساتھ اس کی قوم کے تین افراد تھے۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا ایک گروہ تھا۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کے کچھ لوگ تھے۔ ایک نبی آئے ان کے ساتھ ان کی قوم کا کوئی بھی فرد نہیں تھا، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام بنی اسرائیل کے ہجوم میں میرے سامنے آئے، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو (ان کی کثرت) مجھے اچھی لگی، میں نے دریافت کیا: اے میرے پروردگار! یہ کون لوگ ہیں؟ تو پروردگار نے فرمایا: یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسی دوران مکہ کا ایک چھوٹا پہاڑ لوگوں کے چہروں سے بھر گیا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ اے میرے پروردگار! اس نے فرمایا: یہ تمہاری امت ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم راضی ہو، تو میں نے جواب دیا: اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، اے میرے پروردگار میں راضی ہوں، پھر مجھے بتایا: ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ بھی جنت میں داخل ہوں گے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں تو اسی دوران بنو اسد بن خزیمہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر لے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عکاشہ اس حوالے سے تم سے آگے نکل گیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان ستر ہزار لوگوں میں شامل ہو، تو تم ایسا کر لو اور اگر تم اس حوالے سے عاجز آ جاتے ہو اور کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہو، تو کم از کم تم چھوٹے پہاڑ پر موجود افراد میں شامل ہو جانا (جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے) کیونکہ میں نے وہاں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ میری امت سے تعلق رکھنے والے میرے پیروکار اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے «اللهُ أَكْبَرُ» کہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ ایک تہائی حصہ ہوں گے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے تکبیر کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ نصف ہوں گے“، تو ہم نے تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ﴾ [سورة الواقعة: 39-40] ”پہلے والوں میں سے بھی بہت سے لوگ اور بعد والوں میں سے بھی بہت سے لوگ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر مسلمانوں نے ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور ساری زندگی اسلام کے احکام پر عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ مسلمان ہونے کے عالم میں فوت ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں (جو غیر شرعی الفاظ کے ذریعے) دم نہیں کرتے (علاج کے طور پر) داغ نہیں لگواتے، فال نہیں نکالتے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ اکرینا کا مطلب ہے ہم نے مؤخر کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6431]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6084، 6431، 7346، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8372، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2166، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3882» «رقم طبعة با وزير 6397»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق المتقدم على الحديث من طريق آخر (6052). تنبيه هام!! في «طبعة باوزير» الراوي عن «ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ» هو «شعبة» بدلا من «سَعِيدٍ» وكتب الشيخ الألباني تعليق على هذا الراوي فقال: [قال محقق الأصل: سعيد؛ كذا في الهامش. قلت: وكذا في «الموارد» (2645)، و «كشف الأستار» (4/ 203)]. تنبيه!! رقم (6052) = (6084) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
280. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر عرض الله جل وعلا على المصطفى صلى الله عليه وسلم ما وعد أمته في الآخرة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ پیش کیا جو ان کی امت کو آخرت میں وعدہ کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6432
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ هُوَ ابْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَكَانَ إِِذَا صَلَّى لَنَا خَفَّفَ، ثُمَّ لا نَسْمَعُ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ:" رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ"، ثُمَّ رَأَيْتُهُ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ أَسْرَعَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَاعَكُمْ طُولُ صَلاتِي وَقِيَامِي"، قُلْنَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَمِعْنَاكَ تَقُولُ:" رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ شَيْءٍ وُعِدْتُمُوهُ فِي الآخِرَةِ إِِلا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَأَقْبَلَ إِِلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى دَنَا بِمَكَانِي هَذَا، فَخَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ، فَقُلْتُ: رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَرَفَهَا عَنْكُمْ، فَأَدْبَرَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ، فَنَظَرْتُ إِِلَيْهَا نَظْرَةً، فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرْثَانَ أَخَا بَنِي غِفَارٍ مُتَّكِئًا فِي جَهَنَّمَ عَلَى قَوْسِهِ، وَإِِذَا فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةُ صَاحِبَةُ الْقِطَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا، فَلا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلا هِيَ أَرْسَلْتَهَا" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو مختصر پڑھاتے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف یہ کہتے ہوئے سنا: «أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟» ”اے میرے پروردگار! میں بھی ان میں ہوں؟“ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز پکڑنے کے لیے اپنا دستِ مبارک آگے بڑھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیزی سے نماز ادا کی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا اندازہ ہے کہ میری نماز اور قیام کی طوالت نے تمہیں گھبراہٹ کا شکار کیا ہے۔“ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ «أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟» ”اے میرے پروردگار! میں ان میں موجود ہوں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، آخرت کے حوالے سے تمہارے ساتھ جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ابھی میرے اس جگہ قیام کے دوران میرے سامنے پیش کی گئی ہے، یہاں تک کہ جہنم میرے سامنے پیش کی گئی، اس کا کچھ حصہ میری طرف آیا، یہاں تک کہ میری اس جگہ کے قریب ہو گیا، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے عرض کی: «أَيْ رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟» ”اے میرے پروردگار! میں ان لوگوں میں موجود ہوں۔“ اللہ تعالیٰ نے اسے تم لوگوں سے پھیر دیا، پھر اس کے ٹکڑے مڑ گئے، جیسے وہ غالیچے ہوں، میں نے اس کی طرف دیکھا تو بنو غفار سے تعلق رکھنے والا عمرو بن حرثان جہنم میں اپنی کمان سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ اور جہنم میں ایک حمیری عورت بھی تھی جو بلی کی مالکن تھی، اس نے بلی کو باندھ دیا تھا، اور وہ اسے کھانے کے لیے کچھ دیتی بھی نہیں تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6432]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6432، والطبراني فى(الكبير) برقم: 871، 872، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3197» «رقم طبعة با وزير 6398»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [حَرْمَلَةُ هُوَ ابْنُ يَحْيَى] قال الشيخ: تابعه أحمد بن صالح: عند الطبراني في «الكبير» (17/ 315 / 872)، دون ذكر الآخر؛ وهو - في نقدي - ابن لهيعة: فقد أخرجه الطبراني في «المعجم الأوسط» (1/ 181 / 2) من طريق عبد الله بن يوسف، قال: أنا ابن لهيعة، عن يزيد بن أبي حبيب ... به، وقال: «لم يروه عن ابن شماسة إلاَّ يزيد بن أبي حبيب». والسند صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
281. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر وصف مجلس المصطفى صلى الله عليه وسلم لمن قصده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر وصف کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اس کے لیے تھی جو ان سے ملنے آتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6433
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " كُنَّا إِِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو کوئی شخص وہاں بیٹھتا تھا جہاں آخری فرد بیٹھا ہوتا تھا (یعنی کوئی لوگوں کو پھلانگ کر آگے نہیں جاتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6433]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6433، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5868، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4825، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2725، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5971، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21209» «رقم طبعة با وزير 6399»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (330). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
282. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما كان يحفظ المصطفى صلى الله عليه وسلم نفسه من أذى المسلمين مع التسوية بين أمته ونفسه في إقامة الحق-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کو مسلمانوں کی ایذاء سے بچاتے تھے اور اپنی امت اور اپنی ذات کے درمیان حق قائم کرنے میں مساوات رکھتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6434
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْسِمُ شَيْئًا، أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ مَعَهُ، فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَالَ فَاسْتَقِدْ"، فَقَالَ: قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی چیز تقسیم کر رہے تھے، اس دوران ایک شخص آگے بڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی اسے ماری جو اس کے چہرے پر لگی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم آؤ اور بدلہ لے لو۔“ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے معاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6434]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6434، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4787، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6949، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4536، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16089، 16117، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11399» «رقم طبعة با وزير 6400»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «تيسير الانتفاع» / عبيدة بن مسافع. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
283. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما يستعمل المصطفى صلى الله عليه وسلم من حسن التأني في العشرة مع أمته-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ساتھ عشرت میں حسن تانی استعمال کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6435
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَذْرَمِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَجُلا قَطُّ أَخَذَ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتْرُكُ يَدَهُ، حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَتْرُكُ يَدَهُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑا ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ہو، یہاں تک کہ وہ شخص ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک (پہلے چھوڑتا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6435]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6435، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4794، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2490، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3716، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20847، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3471» «رقم طبعة با وزير 6401»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بطرقه - «الصحيحة» (2485). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
284. باب من صفته صلى الله عليه وسلم وأخباره - ذكر ما كان يستعمل صلى الله عليه وسلم عندما كان يقدم إليه المأكول والمشروب-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور حالات کے بیان کا باب - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا یا پانی پیش کیا جاتا تو کیا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6436
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِِذَا اشْتَهَى أَكَلَ، وَإِِلا تَرَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے کی چیز میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خواہش ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کھا لیتے تھے اور اگر نہیں ہوتی تھی تو نہیں کھاتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6436]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3563، 5409، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2064، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6436، 6437، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3763، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2031، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3259، 3259 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9638» «رقم طبعة با وزير 6402»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
285. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6437
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ، إِِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِِنِ كَرِهَهُ تَرَكَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کی چیز میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خواہش ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کھا لیتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوڑ دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6437]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3563، 5409، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2064، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6436، 6437، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3763، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2031، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3259، 3259 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14736، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9638» «رقم طبعة با وزير 6403»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں