صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
336. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من أبطل وجود المعجزات إلا في الأنبياء-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ معجزات صرف انبیاء میں ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 6488
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنَهَا، مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ وَهِيَ تُرْضِعُهُ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لا تَمِتِ ابْنِي حَتَّى يَكُونَ مِثْلَ هَذَا، قَالَ: اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِِلَى الثَّدْيِ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ تُلْعَنُ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، أَمَّا الرَّاكِبُ، فَكَانَ كَافِرًا، وَأَمَّا الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُونَ لَهَا: إِِنَّهَا تَزْنِي، فَتَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ، وَيَقُولُونَ: تَسْرِقُ، وَتَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ اس کے دودھ پلانے کے دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا۔ اس عورت نے دعا کی: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تَجْعَلَهُ مِثْلَهُ» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک وہ اس شخص کی مانند (امیر کبیر) نہیں ہو جاتا۔“ بچے نے کہا: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ» ”اے اللہ! مجھے اس کی مانند نہ کرنا۔“ پھر وہ دوبارہ چھاتی کی طرف گیا (اور دودھ پینے لگا) پھر وہاں سے ایک عورت گزری جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اس عورت نے دعا کی: «اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْهُ مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس عورت کی مانند نہ کرنا۔“ تو اس بچے نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو مجھے اس کی مانند کر دینا۔“ جہاں تک سوار کا معاملہ تھا تو وہ شخص کافر تھا۔ جہاں تک اس عورت کا معاملہ تھا، تو لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو وہ عورت یہ کہہ رہی تھی: «حَسْبِيَ اللَّهُ» ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔“ لوگ یہ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے، تو وہ عورت یہ کہتی تھی: «حَسْبِيَ اللَّهُ» ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6488]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3466، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9258، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6289، والطبراني فى(الكبير) برقم: 44» «رقم طبعة با وزير 6454»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3466). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
337. باب المعجزات - ذكر خبر ثان يصرح بأن غير الأنبياء قد يوجد لهم أحوال تؤدي إلى المعجزات-
معجزاتِ کا بیان - ذکر دوسری خبر جو واضح کرتی ہے کہ غیر انبیاء میں بھی ایسی حالتیں ہوتی ہیں جو معجزات کی طرف لے جاتی ہیں
حدیث نمبر: 6489
أَخْبَرَنَا مُظْهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَابِتٍ بِوَاسِطَ الشَّيْخُ الصَّالِحُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِِسْحَاقَ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِِلا ثَلاثَةٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، كَانَ فِي بَنِي إِِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، فَأَنْشَأَ صَوْمَعَةً، فَجَعَلَ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَنَادَتْهُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِِلَيْهَا، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَانِيًا، فَنَادَتْهُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِِلَيْهَا، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَالِثًا، فَقَالَ: صَلاتِي وَأُمِّي، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لا تُمِتْهُ أَوْ يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ، قَالَ: فَتَذَاكَرَ بَنُو إِِسْرَائِيلَ يَوْمًا جُرَيْجًا، فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِِسْرَائِيلَ: إِِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَفْتِنَهُ فَتَنْتُهُ، قَالُوا: قَدْ شِئْنَا، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ فَتَعَرَّضَتْ لِجُرَيْجٍ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِِلَيْهَا، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِِلَى صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ بِغَنَمِهِ، فَأَمْكَنَتْهُ نَفْسَهَا، فَحَمَلَتْ، فَوَلَدَتْ غُلامًا، فَقَالَتْ: هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ بَنِي إِِسْرَائِيلَ، فَضَرَبُوهُ، وَشَتَمُوهُ، وَهَدُّوا صَوْمَعَتَهُ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ، فَوَلَدَتْ غُلامًا، قَالَ: وَأَيْنَ الْغُلامُ؟ قَالُوا: هُوَ ذَا، قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى الْغُلامَ، فَضَرَبَهُ بِإِِصْبَعِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا غُلامُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: فُلانٌ الرَّاعِي، قَالَ: فَوَثَبُوا يُقَبِّلُونَ رَأْسَهُ، قَالُوا لَهُ: نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: لا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ، ابْنُوهَا مِنْ طِينِ كَمَا كَانَتْ" . قَالَ: " وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ تُرْضِعُهُ، إِِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، فَتَرَكَ الصَّبِيُّ ثَدْيَ أُمِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ يَنْظُرُ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، ثُمَّ مَرَّ بِامْرَأَةٍ تُرْجَمُ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأُمَّةِ فَتَرَكَ الصَّبِيُّ أُمَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الأُمَّةِ يَنْظُرُ إِِلَيْهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأَمَةِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا بُنَيَّ، مَرَّ رَاكِبٌ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَمَرَرْتُ بِهَذِهِ الأَمَةِ تُرْجَمُ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ لا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الأَمَةِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، قَالَ: يَا أُمَّاهْ، إِِنَّ الرَّاكِبَ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، وَإِِنَّ هَذِهِ الأَمَةَ يَقُولُونَ: سَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ، وَيَقُولُونَ: زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ، وَهِيَ تَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جھولے میں صرف تین بچوں نے گفتگو کی ہے: ایک سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے، اور (دوسرے) جریج کے واقعے والے لڑکے نے۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس کا نام جریج تھا، اس نے ایک عبادت گاہ بنائی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگا۔ ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے بلند آواز میں پکارا، تو اس نے اپنی ماں کی بات کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ دوسرے دن اس کے پاس آئی، اس نے اسے بلند آواز میں پکارا تو اس نے پھر اس کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ تیسرے دن اس کی طرف آئی، تو اس نے سوچا کہ ایک طرف میری نماز ہے اور ایک طرف میری ماں ہے، تو اس کی ماں نے (بددعا دیتے ہوئے) کہا: «اللّٰهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ» ”اے اللہ! تو اسے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایک دن بنی اسرائیل جریج کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت نے کہا: اگر تم لوگ چاہو تو میں اسے آزمائش کا شکار کر سکتی ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، ہم تیار ہیں۔ وہ گئی اور اس نے جریج کو گناہ کی پیشکش کی، لیکن جریج نے اس کی طرف توجہ نہیں کی، پھر وہ عورت ایک چرواہے کے پاس آئی جو جریج کی عبادت گاہ کے پاس اپنی بکریاں لے کر آیا ہوا تھا، اس عورت نے اس چرواہے کے ساتھ گناہ کیا، پھر وہ حاملہ ہو گئی، جب اس نے ایک بچے کو جنم دیا تو یہ کہا کہ یہ جریج کی اولاد ہے۔ اس بات پر بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے جریج پر حملہ کر دیا، اس کی پٹائی کرنے لگے، اسے برا بھلا کہنے لگے اور انہوں نے اس کے عبادت خانے کو منہدم کر دیا۔ جریج نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: تم نے ایک فاحشہ عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ جریج نے دریافت کیا: وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: وہ یہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جریج نے دو رکعت نماز ادا کی، پھر وہ بچے کے پاس آیا اور اپنی انگلی اسے لگا کر کہا: اے بچے! تمہارا باپ کون ہے؟ اس نے کہا: فلاں چرواہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (یہ سن کر) لوگ جریج کے سر کو بوسہ دینے لگے اور انہوں نے کہا: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنائیں گے۔ جریج نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، تم اسے مٹی سے ہی بنا دو جیسے یہ پہلے تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ ایک عورت کی گود میں ایک بچہ تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی، اسی دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا تو اس عورت نے دعا کی: «اللّٰهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند (امیر کبیر) بنا دینا۔“ بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑا اور سوار کی طرف رخ کر کے اسے دیکھنے لگا، پھر وہ کہنے لگا: «اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ» ”اے اللہ! مجھے اس سوار کی مانند نہ بنانا۔“ پھر وہاں سے ایک عورت گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا، اس عورت (یعنی بچے کی ماں) نے یہ کہا: «اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ بنانا۔“ اس بچے نے اپنی ماں کا دودھ پینا چھوڑا، اس کنیز کی طرف دیکھا اور بولا: «اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا» ”اے اللہ! تو مجھے اس کنیز کی مانند (مومن اور ایماندار) کر دینا۔“ اس عورت نے کہا: اے میرے بیٹے! پہلے ایک سوار گزرا تو میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس سوار کی مانند کر دینا، تو تم نے کہا: مجھے اس کی مانند نہ کرنا، پھر ایک کنیز گزری جسے سنگسار کیا جانا تھا تو میں نے کہا: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس کنیز کی مانند نہ کرنا، اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ اے اللہ! مجھے اس کی مانند کر دینا۔ اس لڑکے نے کہا: اے امی جان! یہ سوار شخص ایک ظالم شخص ہے اور یہ کنیز جس کے بارے میں لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نے چوری کی ہے، اس نے چوری نہیں کی، اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے زنا کیا ہے، حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا، وہ عورت یہی کہتی ہے: «حَسْبِيَ اللّٰهُ» ”میرے لیے اللہ ہی کافی ہے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6489]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2482، 3436، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2550، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4183، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8186، 8187، 9116، والطبراني فى(الكبير) برقم: 43» «رقم طبعة با وزير 6455»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (2482)، م (8/ 4 - 5). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
338. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من أنكر وجود المعجزات في الأولياء دون الأنبياء-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اولیاء میں انبیاء کے علاوہ معجزات کا وجود منکر ہے
حدیث نمبر: 6490
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6490]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2703، 2806، 4499، 4500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1675، وابن الجارود فى "المنتقى"، 908، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6490، 6491، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4766، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4595، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15986، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12496» «رقم طبعة با وزير 6456»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مشكلة الفقر» (125). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
339. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6491
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أُخْتَ الرَّبِيعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِِنْسَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ"، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَقْتَصُّ مِنْ فُلانَةَ؟! لا وَاللَّهِ، لا تَقْتَصُّ مِنْهَا، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِمْ حَتَّى رَضُوا بِالدِّيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ کی بہن ام حارثہ نے ایک شخص کو زخمی کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قصاص دلوایا جائے گا، قصاص دلوایا جائے گا۔“ تو ام ربیعہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا فلاں عورت سے قصاص دلوایا جائے گا؟ جی نہیں، اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہیں دلوایا جائے گا، پھر دوسرے طریقے سے بات چیت ہوتی رہی، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت لینے پر رضامند ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لیں، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6491]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2703، 2806، 4499، 4500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1675، وابن الجارود فى "المنتقى"، 908، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6490، 6491، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3100، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4766، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4595، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15986، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12496» «رقم طبعة با وزير 6457»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
340. باب المعجزات - ذكر ارتجاج أحد تحت المصطفى صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے احد کا ہلنا
حدیث نمبر: 6492
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أُحُدًا ارْتَجَّ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبُتْ أُحُدُ، فَمَا عَلَيْكَ إِِلا نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ" ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ بِمِثْلِهِ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ احد پہاڑ نے حرکت کی، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے احد! اپنی جگہ پر رہو۔ تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔“ معمر کہتے ہیں: میں نے قتادہ کو اس کی مانند حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6492]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6492، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23274، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7518، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 449» «رقم طبعة با وزير 6458»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (875): خ - أنس، وسيأتي (6826). تنبيه!! رقم (6826) = (6865) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
341. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الأشياء إذا كانت من غير ذوات الأرواح غير جائز منها النطق-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ بے روح چیزوں کا بولنا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 6493
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الأَعْيُنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، " فَدَعَا بِالطَّعَامِ، وَكَانَ الطَّعَامُ يُسَبِّحُ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا تو کھانا تسبیح پڑھ رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6493]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3579، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2854، 6493، 6540، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 77، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 80، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3633، والدارمي فى (مسنده) برقم: 29، 30، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3839» «رقم طبعة با وزير 6459»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
342. باب المعجزات - ذكر شهادة الذئب لرسول الله صلى الله عليه وسلم على صدق رسالته-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ بھیڑیے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی صداقت کی گواہی دی
حدیث نمبر: 6494
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا رَاعٍ يَرْعَى بِالْحَرَّةِ إِِذْ عَرَضَ ذِئْبٌ لِشَاةٍ مِنْ شَائِهِ، فَجَاءَ الرَّاعِي يَسْعَى، فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لِلرَّاعِي: أَلا تَتَّقِي اللَّهَ، تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ رِزْقٍ سَاقَهُ اللَّهُ إِِلَيَّ؟، قَالَ الرَّاعِي: الْعَجَبُ لِلذِّئْبِ، وَالذِّئْبُ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ، يُكَلِّمُنِي بِكَلامِ الإِِنْسِ، قَالَ الذِّئْبُ لِلرَّاعِي: أَلا أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا؟ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ، يُحَدِّثُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ، فَسَاقَ الرَّاعِي شَاءَهُ إِِلَى الْمَدِينَةِ، فَزَوَاهَا فِي زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مَا قَالَ الذِّئْبُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ لِلرَّاعِي:" قُمْ فَأَخْبِرْ"، فَأَخْبَرَ النَّاسَ بِمَا قَالَ الذِّئْبُ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ الرَّاعِي، أَلا مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ كَلامُ السِّبَاعِ الإِِنْسَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الإِِنْسَ، وَيُكَلِّمَ الرَّجُلُ نَعْلَهُ وَعَذَبَةَ سَوْطِهِ، وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِحَدِيثِ أَهْلِهِ بَعْدَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک چرواہا پتھریلی زمین پر بکریاں چرا رہا تھا، اسی دوران ایک بھیڑیا اس کی بکری کے پاس آیا، وہ چرواہا دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اس بکری کو بھیڑیے سے چھڑا لیا۔ اس بھیڑیے نے چرواہے سے کہا: تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو، تم میرے اور اس رزق کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہو جو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بھیجا تھا۔ اس چرواہے نے کہا: بھیڑیے پر حیرانگی ہے، وہ بھیڑیا جس کی شکل و صورت بھیڑیے جیسی ہے، وہ انسانوں کی طرح میرے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ اس بھیڑیے نے اس چرواہے سے کہا: کیا میں تم کو اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں؟ یہ دو طرف کی پتھریلی زمین کے درمیان (مدینہ منورہ میں) اللہ کے رسول ہیں جو لوگوں کو ان باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں، پھر وہ چرواہا اپنی بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آ گیا۔ اس نے وہاں کے ایک گوشے میں ان کو کھڑا کیا اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیڑیے کی گفتگو کے بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چرواہے سے کہا: ”تم کھڑے ہو اور لوگوں کو بتاؤ۔“ اس نے لوگوں کو بتایا جو بھیڑیے نے کہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چرواہے نے سچ کہا ہے۔ خبردار! قیامت کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک درندے انسانوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے، اور آدمی اپنے جوتے کے ساتھ اور اپنے کوڑے کے کنارے کے ساتھ کلام نہیں کرے گا، اور اس کا زانو اس کو اس بارے میں بتائے گا کہ اس کے بعد اس کی اہلیہ نے کیا کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6494، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8536، 8538، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2181، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11971، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 877، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38710، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 6178» «رقم طبعة با وزير 6460»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (122)، «المشكاة» (5459). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
343. باب المعجزات - ذكر انشقاق القمر للمصطفى صلى الله عليه وسلم لنفي الريب عن خلد المشركين به-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چاند کا شق ہونا تاکہ مشرکین کے دلوں سے شک دور ہو
حدیث نمبر: 6495
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ، وَكُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، حَتَّى ذَهَبَتْ فِلْقَةٌ خَلْفَ الْجَبَلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا، اس وقت ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں موجود تھے، یہاں تک کہ چاند کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6495]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3636، 3869، 3871، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2800، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6495، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3777، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3653، والحميدي فى (مسنده) برقم: 86 م» «رقم طبعة با وزير 6461»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
344. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به إبراهيم النخعي عن أبي معمر-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف ابراہیم نخعی نے ابو معمر سے روایت کی
حدیث نمبر: 6496
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6496]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2801، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6496، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2182، 3288، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2003، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 700، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13473» «رقم طبعة با وزير 6462»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
345. باب المعجزات - ذكر انشقاق القمر للمصطفى صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چاند کا شق ہونا
حدیث نمبر: 6497
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُهَيْرٍ أَبُو يَعْلَى بِالأُبُلَّةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ" .
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6497]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6497، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3781، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3289، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17022، والبزار فى (مسنده) برقم: 3435، 3436، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1559، 1560، 1561» «رقم طبعة با وزير 6463»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد، ومتواتر عن جمع من الصحابة، فانظر الحديثين الذين قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين