صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
356. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به أنس-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف انس نے روایت کی
حدیث نمبر: 6508
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقُومُ إِِلَى جَنْبِ شَجَرَةٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ خَشَبَةٍ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَنِدُ إِِلَيْهِ يَخْطُبُ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، فَكَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ، فَحَنَّتْ تِلْكَ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا حَنِينًا سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِِمَّا قَالَ: مَسَحَهَا، وَإِِمَّا قَالَ: فَأَمْسَكْهَا، فَسَكَنَتْ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے پہلو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک تنے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک لکڑی (یا شاید یہ الفاظ ہیں) کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے تو وہ چیز رونے لگی جس کے قریب کھڑے ہو کر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کرتے تھے)، اس کے رونے کی آواز کو تمام اہل مسجد نے سنا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے (راوی کو شک ہے) شاید یہاں انہوں نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہاتھ پھیرا (یا پھر شاید یہ الفاظ استعمال کیے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا تو اسے سکون آیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6508]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 449، 918، 2095، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1395، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1417، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5778، 5780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14335» «رقم طبعة با وزير 6474»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
357. باب المعجزات - ذكر برء رجل عمرو بن معاذ المقطوعة عند تفل المصطفى صلى الله عليه وسلم فيها-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ عمرو بن معاذ کی کٹی ہوئی ٹانگ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک سے ٹھیک ہوئی
حدیث نمبر: 6509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَفَلَ فِي رِجْلِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ حِينَ قُطِعَتْ رِجْلُهُ، فَبَرَأَ" .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمرو بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ٹانگ کٹ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6509]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 6475»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2904). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
358. باب المعجزات - ذكر برء رجل سلمة بن الأكوع من الضربة التي أصابتها حين تفل المصطفى صلى الله عليه وسلم فيها-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ سلمہ بن الاکوع کی اس ضرب سے شفا ہوئی جو انہیں لگی تھی جب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تھوکا
حدیث نمبر: 6510
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟، فَقَالَ: هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، أُصِيبَ سَلَمَةُ، قَالَ:" فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَثَ فِيهَا ثَلاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ" .
یزید بن ابوعبید بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر کسی ضرب کا نشان دیکھا تو میں نے دریافت کیا: اے ابومسلم! یہ ضرب کس چیز کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ ضرب مجھے غزوہ حنین کے دن لگی تھی۔ لوگوں نے یہ کہا کہ اب سلمہ شہید ہو جائے گا، اب سلمہ شہید ہو جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ اپنا لعابِ دہن ڈالا تو اس کے بعد آج تک مجھے اس میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6510]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4206، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6510، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3894، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16779» «رقم طبعة با وزير 6476»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4206). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
359. باب المعجزات - ذكر ما ستر الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم عن عين من قصده من المشركين بأذى-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مشرک کی نظر سے بچایا جو انہیں ایذاء دینے کا ارادہ رکھتا تھا
حدیث نمبر: 6511
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1، جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي لَهَبٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهَا امْرَأَةٌ بَذِيئَةٌ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْذِيَكَ، فَلَوْ قُمْتَ، قَالَ: إِِنَّهَا لَنْ تَرَانِي، فَجَاءَتْ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرِ، إِِنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي، قَالَ: لا، وَمَا يَقُولُ الشِّعْرَ، قَالَتْ: أَنْتَ عِنْدِي مُصَدَّقٌ، وَانْصَرَفَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ تَرَكَ؟، قَالَ:" لا، لَمْ يَزَلْ مَلَكٌ يَسْتُرُنِي عَنْهَا بِجَنَاحِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں﴾ [سورة المسد: 1] تو ابولہب کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ عورت بڑی بدزبان ہے، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ کو اذیت پہنچائے گی، اگر آپ تشریف لے جائیں (تو یہ مناسب ہو گا)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی۔“ وہ عورت آئی، اس نے کہا: اے ابوبکر! تمہارے آقا نے میری ہجو بیان کی ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، وہ شعر تو کہتے ہی نہیں ہیں۔ اس عورت نے کہا: تم میرے نزدیک سچے آدمی ہو، پھر وہ عورت چلی گئی۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے آپ کو دیکھا ہی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، ایک فرشتے نے اپنے پروں کے ذریعے مجھے اس سے چھپایا ہوا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6511]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6511، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 292، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 25، 53، 2358» «رقم طبعة با وزير 6477»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلت: أخرجه من طريق أبي يعلى، وهذا في «مسنده» (1/ 33 و 4/ 246). ورجاله ثقات؛ غير أَنَّ عطاء بن السائب كان اختلط. ومن طريقِه: أخرجه البزَّار (2294 و 2295) وغيره، ومع ذلك حَسَّنَ الحافظ إسناده في «الفتح» (8/ 738)! ولعلَّ ذلك لأنَّ له شاهداً في «مسند الحميدي» (323) من طريق الوليد بن كثير، عن ابن تَدرُس، عن أسماء بنت عُميسٍ ... نحوه. ومِنْ طريق الحُميدي: أخرجه الحاكم (2/ 361)، وقال: «صحيح الإسناد»! ووافقه الذهبي!! وابنُ تَدْرُسَ - هذا لم نعرفه. ولعلَّ أداة الكنية (ابن) مُقحمةٌ مِنْ بعضِ الرُّواة، والصوابُ: (تَدرُس)، وهو جَدُّ أَبِي الزُّبير، محمد بن مسلم بن تَدْرُسَ، فقد ذكره المِزِّيُّ في شيوخ الوليد بن كثير - الراوي عنه هذا الحديث -؛ كما ذكره في الرواة عن أسماء بنت أبي بكر، وهذا سهوٌ منه، والصواب أَنْ يُذكرَ في الرواة عن أسماء بنت عميس؛ كما في هذا الحديث. وعلى كلِّ حالٍ؛ فَإِنِّي لم أَجِدْ لتَدْرُسَ هذا ترجمةً، ولكنَّ الحديثَ بِهَذا الشاهد حسنٌ - إن شاء الله -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح بشواهده
360. باب المعجزات - ذكر ما استجاب الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم ما دعا على بعض المشركين في بعض الأحوال-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض مشرکین پر بعض حالات میں کی گئی دعا قبول کی
حدیث نمبر: 6512
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَبْصَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًَا يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ رَاعِي الْعِيرِ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ: " كُلْ بِيَمِينِكَ"، قَالَ: لا أَسْتَطِيعُ، قَالَ:" لا اسْتَطَعْتَ"، قَالَ: فَمَا نَالَتْ يَدُهُ إِِلَى فِيهِ بَعْدُ .
ایاس بن سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کا نام بسر بن راعی العیر تھا، وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کر بھی نہیں سکو گے۔“ راوی کہتے ہیں: تو پھر اس کے بعد اس کا (دایاں ہاتھ) کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6512]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2021، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6512، 6513، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2075، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14726، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16756» «رقم طبعة با وزير 6478»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (6/ 109). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
361. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 6513
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ الأَهْوَازِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًَا كَانَ يَأْكُلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ بِيَمِينِكَ"، قَالَ: لا أَسْتَطِيعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ:" لا اسْتَطَعْتَ"، فَمَا رَفَعَهَا إِِلَى فِيهِ .
ایاس بن سلمہ بن اکوع رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر بائیں ہاتھ سے کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ کر بھی نہیں سکو گے۔“ اس کے بعد وہ شخص اپنا (دایاں ہاتھ) کبھی اپنے منہ تک نہیں اٹھا سکا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6513]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2021، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6512، 6513، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2075، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14726، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16756» «رقم طبعة با وزير 6479»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
362. باب المعجزات - ذكر ما جعل الله جل وعلا دعوة المصطفى صلى الله عليه وسلم على من لم يكن لها بأهل وقربة إلى الله جل وعلا-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو اس کے لیے قربت بنایا جو اس کا اہل نہ تھا اور اللہ جل وعلا سے قربت حاصل کی
حدیث نمبر: 6514
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ، فَرَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْتِ هِيَ؟ لَقَدْ كَبِرْتِ، لا كَبِرَ سِنُّكِ"، فَرَجَعَتِ الْيَتِيمَةُ إِِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ؟، قَالَتِ الْجَارِيَةُ: دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يَكْبَرَ سِنِّي، فَالآنَ لا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا، أَوْ قَالَتْ: قَرْنَيْ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا:" يَا أُمُّ سُلَيْمٍ، مَالَكِ؟"، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي؟، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ؟"، قَالَتْ: زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ عَلَيْهَا أَنْ لا يَكْبَرَ سِنُّهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، أَمَا تَعْلَمِينَ شَرْطِي عَلَى رَبِّي؟ إِِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي، فَقُلْتُ: إِِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ، فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بأهلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک یتیم لڑکی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”کیا یہ تم ہو؟ تمہاری عمر زیادہ ہو جائے گی لیکن تمہارے دانتوں کی عمر زیادہ نہیں ہو گی۔“ تو وہ یتیم لڑکی روتی ہوئی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اے لڑکی! تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس لڑکی نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا کی ہے کہ میرے دانت بڑے نہ ہوں، اب تو میرے دانت کبھی بڑے نہیں ہوں گے، (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) میرے بال (بڑے نہیں ہوں گے)۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا تیزی سے اپنی چادر لپیٹ کر نکلیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ام سلیم! وہ کیسے؟“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اس لڑکی نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے اس کے خلاف یہ دعا کی ہے کہ اس کے دانت بڑے نہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے پروردگار کے ساتھ کیا طے کیا ہے؟ میں نے اپنے پروردگار سے یہ عرض کی ہے: اے میرے پروردگار! میں ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح راضی ہوتا ہوں جیسے دوسرے لوگ راضی ہوتے ہیں اور اسی طرح غصے میں آ جاتا ہوں جیسے دوسرے لوگ غصے میں آتے ہیں، تو اپنی امت کے جس بھی شخص کے خلاف میں کوئی ایسی دعا کروں جس کا وہ اہل نہ ہو تو اے پروردگار! اسے اس شخص کے حق میں طہارت کے حصول، پاکیزگی کے حصول اور اپنی قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیری بارگاہ میں قرب حاصل کرے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحم دل تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6514]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2603، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5791، 6514، والبزار فى (مسنده) برقم: 6422، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 6005» «رقم طبعة با وزير 6480»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (83): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
363. باب المعجزات - ذكر سؤال المصطفى صلى الله عليه وسلم أن يجعل سبابه لأمته قربة لهم يوم القيامة-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ ان کی گالی ان کی امت کے لیے قیامت کے دن قربت بنے
حدیث نمبر: 6515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ قُرْبَةً إِِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ، فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں جس بھی مومن بندے کو برا کہوں، تو اس چیز کو تو قیامت کے دن اپنی بارگاہ میں قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6515]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6361، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2601، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6515، 6516، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2807، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13509، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7431، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1071» «رقم طبعة با وزير 6481»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
364. باب المعجزات - ذكر البيان بأن ما وراء السباب من المصطفى صلى الله عليه وسلم لأمته إنما سأل الله أن يجعل ذلك كله قربة لهم وصدقة عليهم في يوم القيامة-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی امت کے لیے گالی کے علاوہ جو کچھ تھا اس نے اللہ سے دعا کی کہ یہ سب قیامت کے دن ان کے لیے قربت اور صدقہ بنے
حدیث نمبر: 6516
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَهُ، وَإِِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ، أَوْ سَبَبْتُهُ، أَوْ جَلَدْتُهُ، أَوْ لَعَنْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ”اے اللہ! میں نے تجھ سے یہ عہد لیا ہے جس کی تو خلاف ورزی نہیں کرے گا کہ میں ایک انسان ہوں، جس مومن کو میں اذیت پہنچاؤں یا اسے برا کہوں یا اسے کوڑا ماروں یا اس پر لعنت کروں تو تُو اس چیز کو اس شخص کے حق میں رحمت، پاکیزگی اور قربت کے حصول کا ذریعہ بنا دے جس کے ذریعے وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6516]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6361، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2601، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6515، 6516، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2807، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13509، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7431، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1071» «رقم طبعة با وزير 6482»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3999): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
365. باب المعجزات - ذكر ما استجاب الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم في راحلة جابر بن عبد الله-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جابر بن عبد اللہ کی سواری کے لیے دعا قبول کی
حدیث نمبر: 6517
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مِنْ مَكَّةَ إِِلَى الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَعْيَا جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ أَسُوقُهُ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ مُتَخَلِّفًا، فَلَحِقَنِي، فَقَالَ لِي: " مَا لَكَ مُتَخَلِّفًا؟"، قَالَ: قُلْتُ: لا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِلا أَنَّ جَمَلِيَ ظَالِعٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْحَقَهُ بِالْقَوْمِ، قَالَ: فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنَبِهِ، فَضَرَبَهُ، ثُمَّ زَجَرَهُ، فَقَالَ:" ارْكَبْ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي بَعْدُ وَإِِنِّي لأَكُفُّهُ عَنِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلا دُونَ الْمَدِينَةِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَعَجَّلَ إِِلَى أَهْلِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لا تَأْتِ أَهْلكَ طَرُوقًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، قَالَ: فَمَا تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: امْرَأَةً ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلا بِكْرًا تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ عَبْدَ اللَّهِ تُوُفِّيَ أَوِ اسْتُشْهِدَ، وَتَرَكَ جَوَارِيَ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ: أَحْسَنْتَ وَلا أَسَأْتَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِعْنِي جَمَلَكَ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا، بَلْ بِعْنِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لا، بَلْ بِعْنِيهِ، قُلْتُ: أَجَلْ عَلَى أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ، فَهُوَ لَكَ بِهَا، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ، فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلالٍ: أَعْطِهِ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، وَزِدْهُ، قَالَ: فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ، وَزَادَنِي قِيرَاطًا ، قَالَ: فَقُلْتُ: لا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ فِي كِيسٍ لِي، فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہے تھے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا اونٹ تھک چکا تھا اور میں اسے پیچھے لیے ہوئے چل رہا تھا، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں پیچھے رہ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آ کر ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”کیا وجہ ہے، تم پیچھے کیوں چل رہے ہو؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: جی نہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا اونٹ تھک گیا ہے، ورنہ میرا تو ارادہ ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ چلوں، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے والے حصے پر مارا اور اسے ڈانٹا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوار ہو جاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے خود کو دیکھا کہ میں اسے روک روک کر لوگوں کے ساتھ چل رہا تھا (یعنی وہ لوگوں سے آگے نکلا جا رہا تھا)، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، میں نے اپنے گھر جلدی جانے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جاؤ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تم نے کس کے ساتھ شادی کی ہے؟“ میں نے عرض کی: ایک ثیبہ عورت کے ساتھ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی؟“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میرے والد) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) یا وہ شہید ہو گئے، انہوں نے کچھ بیٹیاں (پسماندگان میں) چھوڑی تھیں تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں شادی کر کے ان کے پاس ایسی لڑکی لے آؤں جو انہی کی مانند ہو، راوی کہتے ہیں کہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اچھا کیا یا تم نے برا کیا، راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ویسے ہی آپ کا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ کا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں، بلکہ تم اسے مجھے فروخت کرو۔“ میں نے عرض کی: ٹھیک ہے، سونے کے ایک اوقیہ کے عوض میں (میں آپ کو فروخت کرتا ہوں) یہ آپ کا ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ لے لیا، تم اس پر سوار ہو کر مدینہ جا سکتے ہو۔“ جب میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اسے سونے کا ایک اوقیہ دے دو اور (ایک اوقیہ سے) زیادہ دینا۔“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے سونے کا ایک اوقیہ اور ایک قیراط دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ طے کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دی گئی یہ اضافی ادائیگی مجھ سے کبھی جدا نہیں ہو گی، راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس ایک تھیلی میں موجود رہی، یہاں تک کہ واقعہ حرہ کے موقع پر اہل شام نے اسے چھین لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6517]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 443، 1801، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 715، وابن الجارود فى "المنتقى"، 642، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2496، 2713، 2714، 2715، 2717، 4182، 4911، 6517، 6518، 6519، 7138، 7140، 7141، 7143، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3219، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2048، 2776، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1100،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1860، 2205، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 510،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14348» «رقم طبعة با وزير 6483»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (4/ 176 - 177). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين