صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
366. باب المعجزات - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم رد الراحلة على جابر بن عبد الله بعد أن أوفاه ثمنها هبة له-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر بن عبد اللہ کو اس کی سواری واپس کی جب اس کی قیمت ادا کر دی اور اسے ہبہ کیا
حدیث نمبر: 6518
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ الْبَزَّارُ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي، فَتَخَلَّفْتُ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي:" ارْكَبْ"، فَرَكِبْتُهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟"، فَقُلْتُ: بَلْ، ثَيِّبًا، قَالَ: قَالَ: " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ"، فَقُلْتُ: إِِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ امْرَأَةً تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ:" أَمَا إِِنَّكَ قَادِمٌ، فَإِِذَا قَدِمْتَ، فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ". ثُمَّ قَالَ:" أَتَبِيعُ جَمَلَكَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ:" الآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، قَالَ: فَدَخَلْتُ، فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَأَمَرَ بِلالا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً، قَالَ: فَوَزَنَ لِي بِلالٌ، فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا وَلَّيْتُ، قَالَ:" ادْعُ لِي جَابِرًا"، فَدُعِيتُ، فَقُلْتُ: الآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضَ إِِلَيَّ مِنْهُ، قَالَ:" جَمَلُكَ وَثَمَنُهُ لَكَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کے لیے روانہ ہوا۔ میرا اونٹ سست ہو گیا تھا، اس لیے میں لوگوں سے پیچھے رہ گیا (راستے میں کسی جگہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی کے ذریعے میرے اونٹ کو مارا اور پھر مجھ سے فرمایا: ”تم اس پر سوار ہو جاؤ۔“ جب میں اس پر سوار ہوا تو میں نے خود کو دیکھا، میں اس اونٹ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے شادی کر لی ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟“ میں نے عرض کی: بلکہ ثیبہ کے ساتھ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کسی کنواری کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس سے خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کرتی؟“ میں نے عرض کی: میری بہنیں ہیں، مجھے یہ اچھا لگا کہ میں کسی ایسی عورت کے ساتھ شادی کروں جو ان کا خیال رکھے، ان کی کنگھی کرے، ان کی نگرانی کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم (اپنے گھر) جانے لگے ہو، جب تم جاؤ تو عقلمندی کا مظاہرہ کرنا، عقلمندی کا مظاہرہ کرنا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ کے عوض میں وہ مجھ سے خرید لیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے (مدینہ منورہ) تشریف لے آئے، میں اگلے دن آیا، میں مسجد میں آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم اب آئے ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اونٹ کو چھوڑو اور (مسجد کے اندر) جا کر دو رکعات ادا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں اندر آیا، میں نے نماز ادا کی، جب میں واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ مجھے وزن کر کے ایک اوقیہ دے دیں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے وزن کر کے دیا اور میزان میں (میرے پلڑے کو) وزنی رکھا۔ راوی کہتے ہیں: جب میں وہاں سے روانہ ہوا اور مڑ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔“ مجھے بلایا گیا تو میں نے اندازہ لگا لیا کہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ اونٹ مجھے واپس کر دیں گے، مجھے یہ بات سب سے زیادہ ناپسند تھی، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ بھی تمہارا ہوا اور قیمت بھی تمہاری ہوئی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6518]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 443، 1801، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 715، وابن الجارود فى "المنتقى"، 642، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2496، 2713، 2714، 2715، 2717، 4182، 4911، 6517، 6518، 6519، 7138، 7140، 7141، 7143، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3219، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2048، 2776، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1100،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1860، 2205، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 510،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14348» «رقم طبعة با وزير 6484»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى طرفه الأول (2706). تنبيه!! رقم (2706) = (2717) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
367. باب المعجزات - ذكر البيان بأن جابر بن عبد الله استثنى حملان راحلته التي وصفناها إلى المدينة بعد البيع-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ جابر بن عبد اللہ نے ہمارے بیان کردہ سواری کی فروخت کے بعد مدینہ تک اس کے حمل کو استثناء کیا
حدیث نمبر: 6519
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَى، فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ، قَالَ: فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا لَهُ وَضَرَبَهُ، فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ، وَقَالَ:" بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ"، فَقُلْتُ: لا، ثُمَّ قَالَ:" بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ"، فَقُلْتُ: لا، ثُمَّ قَالَ:" بِعْنِيهِ بِأُوقِيَّةٍ"، فَبِعْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ، وَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلانَهُ إِِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرَانِي مَاكَسْتُكَ لآخُذَ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ؟ فَهُمَا لَكَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ اپنے اونٹ پر سفر کر رہے تھے جو تھک چکا تھا، انہوں نے اس اونٹ کو ویسے ہی چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کے لیے دعا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارا تو وہ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ وہ پہلے کبھی اتنا تیز نہیں چلتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کی: جی نہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔“ میں نے عرض کی: جی نہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھے فروخت کر دو۔“ تو میں نے ایک اوقیہ کے عوض میں اسے فروخت کر دیا، میں نے اس سودے میں یہ استثناء کیا کہ میں اس پر سوار ہو کر اپنے گھر تک جاؤں گا، جب میں (مدینہ منورہ) پہنچا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے تمہارے اونٹ اور درہموں کی وجہ سے تمہارے ساتھ یہ سودا کیا؟ یہ دونوں تمہارے ہوئے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6519]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 443، 1801، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 715، وابن الجارود فى "المنتقى"، 642، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2496، 2713، 2714، 2715، 2717، 4182، 4911، 6517، 6518، 6519، 7138، 7140، 7141، 7143، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3219، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2048، 2776، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1100،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1860، 2205، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 510،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14348» «رقم طبعة با وزير 6485»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
368. باب المعجزات - ذكر ما أكرم الله جل وعلا صفيه صلى الله عليه وسلم بهزيمة المشركين عنه عن قبضة تراب رماهم بها-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی شکست سے نوازا جب انہوں نے ان پر مٹی کی مٹھی پھینکی
حدیث نمبر: 6520
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، قَالَ: فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ، تَقَدَّمْتُ، فَأَعْلُو ثَنِيَّةً، فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ، فَتَوَارَى عَنِّي، فَمَا دَرَيْتُ مَا اصْنَعُ، ثُمَّ نَظَرْتُ إِِلَى الْقَوْمِ، فَإِِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى، فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا، وَعَلَيَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِِحْدَاهُمَا، مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى، قَالَ: فَانْطَلَقَ رِدَائِي، فَجَمَعَتُهُ، وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْهَزِمًا، وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزِعًا"، فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِِنْسَانًَا إِِلا مَلأَ عَيْنَهُ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ، فَوَلُّوا مُدْبِرِينَ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں شرکت کی۔ راوی کہتے ہیں: جب ہم دشمن کے مدمقابل آئے تو میں آگے بڑھا اور میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا، دشمن کا ایک شخص میرے مدمقابل آیا تو میں نے اسے تیر مارا، وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ جب میں نے لوگوں کی صورت حال کا جائزہ لیا تو دشمن دوسری گھاٹی سے نمودار ہو رہا تھا، اس کا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا سامنا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ منہ پھیر کر پیچھے ہٹ گئے، میں بھی پسپا ہو کر پیچھے ہٹا۔ میرے جسم پر دو چادریں تھیں جن میں سے ایک کو میں نے تہبند کے طور پر باندھا ہوا تھا اور دوسری کو جسم پر لپیٹا ہوا تھا۔ میری وہ والی چادر گر گئی تو میں نے اسے اٹھایا اور لپیٹا، میرا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو پسپا ہونے کی صورت حال میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابنِ اکوع نے گھبراہٹ دیکھ لی ہے۔“ جب دشمن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے نیچے اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹھی بھر مٹی لی اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «شَاهَتِ الْوُجُوهُ» ”ان کے چہرے بگڑ جائیں“، تو ان میں سے جو بھی شخص تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو مٹی سے بھر دیا جو اس مٹھی (میں سے ان کی طرف آئی تھی) تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مالِ غنیمت مسلمانوں کے درمیان تقسیم کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6520]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1777، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6520، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 5333» «رقم طبعة با وزير 6486»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «الصحيحة» (2824): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
369. باب المعجزات - ذكر تكبير المصطفى صلى الله عليه وسلم عند رؤيته أهل حنين في الحال التي وصفناها-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ حالت میں حنین کے لوگوں کو دیکھ کر تکبیر کہی
حدیث نمبر: 6521
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: اشْتَدَّ الْقِتَالُ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِِنَّا إِِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ"، قَالَ: فَمَا لَبِثْتُ أَنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر لڑائی شدید ہو گئی، میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللّٰهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ﴾ [سورة الصافات: 177] » ”اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا۔“”راوی کہتے ہیں: اس کے کچھ ہی دیر بعد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6521]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 371، 610، 947، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 382، 1365، وابن الجارود فى "المنتقى"، 667، 781، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 351، 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4091، 4745، 4746، 5274، 6521، 7212، 7213، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2210، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2054، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1115، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1957، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1933، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3741، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12138» «رقم طبعة با وزير 6487»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (4725، 4726). تنبيه!! رقم (4725) = (4745) من «طبعة المؤسسة». رقم (4726) = (4746) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
370. باب المعجزات - ذكر سقوط الأصنام التي في الكعبة بإشارة المصطفى صلى الله عليه وسلم إليها دون مسها بشيء منه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ کعبہ میں موجود بت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی اشارہ کے بغیر انہیں چھوئے گر گئے
حدیث نمبر: 6522
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ وَجَدَ بِهَا ثَلاثَ مِائَةٍ وَسِتِّينَ صَنَمًا، فَأَشَارَ بِعَصًا إِِلَى كُلِّ صَنَمٍ، وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا"، فَسَقَطَ الصَّنَمُ وَلَمْ يَمَسَّهُ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے وہاں تین سو ساٹھ بت پائے۔ آپ عصا کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے اور یہ کہتے تھے: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ﴿جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾ [سورة الإسراء: 81] ”حق آ گیا اور باطل رخصت ہو گیا۔ بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا“، تو وہ بت گر جاتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بتوں کو چھوا نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6522]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6522، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13643، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7933» «رقم طبعة با وزير 6488»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (6397). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
371. باب المعجزات - ذكر ما أبان الله جل وعلا من دلائل صفيه صلى الله عليه وسلم على صحة نبوته من طاعة الأشجار له-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت پر درختوں کی اطاعت سے دلائل ظاہر کیے
حدیث نمبر: 6523
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يُدَاوِي وَيُعَالِجُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءً، هَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ؟، قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً"، وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرٌ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذْقًا مِنْهَا، فَأَقْبَلَ إِِلَيْهِ وَهُوَ يَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْجُدُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ إِِلَى مَكَانِكَ، فَقَالَ الْعَامِرِيُّ: وَاللَّهِ لا أُكَذِّبُكَ بِشَيْءٍ تَقُولُهُ أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ: يَا آلَ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَاللَّهِ لا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ" ، قَالَ: وَالْعِذْقُ: النَّخْلَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ شخص دوا دیا کرتا تھا اور علاج کرتا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے کچھ نظریات ہیں، کیا آپ کو اس بارے میں دلچسپی ہے کہ میں آپ کو کوئی دوائی دوں؟ (یعنی آپ کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تو میں آپ کو اس کی دوا دیتا ہوں)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ میں تمہیں کوئی نشانی دکھاؤں؟“ اس وقت اس شخص کے پاس ایک کھجور کا درخت تھا اور ایک دوسرا درخت تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کو اپنے پاس بلایا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کبھی سجدہ کرتا ہوا اور کبھی سر کو اٹھاتا ہوا، پھر کبھی سجدہ کرتا ہوا اور کبھی اپنے سر کو اٹھاتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور آکر آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ۔“ تو بنو عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب میں کبھی بھی آپ کو کسی بھی ایسی بات کے حوالے سے جھوٹا قرار نہیں دوں گا جو بات آپ بیان کریں گے۔ پھر اس شخص نے کہا: اے عامر بن صعصعہ کی اولاد! اللہ کی قسم! میں ان کی کسی بھی بات کو جھٹلاؤں گا نہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «العِذْقُ» کا معنی ”کھجور کا درخت“ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6523]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6523، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4260، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3628، والدارمي فى (مسنده) برقم: 24، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1979» «رقم طبعة با وزير 6489»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5926 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
372. باب المعجزات - ذكر خبر فيه دلائل معلومة على صحة ما أصلناه من إثبات الأشياء المعجزة لرسول الله صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے معجزاتی چیزوں کے اثبات کے لیے معروف دلائل ہیں
حدیث نمبر: 6524
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْكِلابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ، وَاتَّبَعْتُهُ بِإِِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَرَى شَيْئًا لِيَسْتَتِرَ بِهِ، فَإِِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى إِِحْدَاهُمَا، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ: " انْقَادِي عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ"، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّى أَتَى الشَّجَرَةَ الأُخْرَى، فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا، فَقَالَ:" انْقَادِي عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ"، فَانْقَادَتْ مَعَهُ كَذَلِكَ حَتَّى إِِذَا كَانَ النِّصْفُ جَمَعَهُمَا، فَقَالَ:" الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِِذْنِ اللَّهِ"، فَالْتَأَمَتَا، قَالَ جَابِرٌ: فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَتَبَاعَدَ، فَجَلَسْتُ، فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ، فَإِِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلٌ، وَإِِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدِ افْتَرَقَتَا، فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَى سَاقٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً، فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا يَمِينًا وَيَسَارًا، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِِلَيَّ، قَالَ:" يَا جَابِرُ، هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَانْطَلِقْ إِِلَى الشَّجَرَتَيْنِ، فَاقْطَعْ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا غُصْنًَا، فَأَقْبِلْ بِهِمَا، حَتَّى إِِذَا قُمْتَ مَقَامِي أَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِكِ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِكِ"، قَالَ جَابِرٌ: فَأَخَذْتُ حَجَرًا، فَكَسَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ، فَقَطَعْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًَا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا، حَتَّى إِِذَا قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَمَّ ذَلِكَ؟، فَقَالَ:" إِِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ، فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ"، فَأَتَيْنَا الْعَسْكَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا جَابِرُ، نَادِ بِوَضُوءٍ"، فَقُلْتُ: أَلا وَضُوءَ أَلا وَضُوءَ؟، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ فِي الرَّكْبِ مِنْ قَطْرَةٍ، وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُبْرِدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ، فَقَالَ:" انْطَلِقْ إِِلَى فُلانٍ الأَنْصَارِيِّ، فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْءٍ؟"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِِلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فِيهَا، فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِِلا قَطْرَةً فِي عَزْلاءِ شَجْبٍ مِنْهَا، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ مَا كَانَتْ شَرْبَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِِلا قَطْرَةً فِي عَزْلاءِ شَجْبٍ مِنْهَا، لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ، قَالَ:" اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ"، فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ لا أَدْرِي مَا هُوَ، وَيَغْمِزُهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَانِيهِ، فَقَالَ:" يَا جَابِرُ، نَادِ بِجَفْنَةٍ"، فَقُلْتُ: يَا جَفْنَةَ الرَّكْبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِهَا تُحْمَلُ، فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا، وَبَسَطَ يَدَهُ فِي وَسَطِ الْجَفْنَةِ، وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَالَ:" خُذْ يَا جَابِرُ، وَصُبَّ عَلَيَّ، وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ"، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى امْتَلأَتْ، قَالَ:" يَا جَابِرُ، نَادِ مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِمَاءٍ"، قَالَ: فَأَتَى النَّاسُ، فَاسْتَقَوْا حَتَّى رَوُوا، قَالَ: فَقُلْتُ: هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ؟ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلأَى .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم نے وادیِ افیح میں پڑاؤ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں پانی کا برتن لے کر آپ کے پیچھے گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جائزہ لیا تو آپ کو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جس کے ذریعے آپ رکاوٹ بنا لیں۔ وادی کے کنارے پر دو درخت موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے اس کی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا: ”اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو۔“ تو وہ درخت ایک فرمانبردار اونٹ کی طرح آپ کے ساتھ چل پڑا جو اونٹ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے کے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے درخت کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے اس کی بھی ایک ٹہنی کو پکڑا اور فرمایا: ”اللہ کے حکم کے تحت میرے ساتھ چلو۔“ تو وہ بھی آپ کے ساتھ اسی طرح چل پڑا، یہاں تک کہ (ان دونوں کے) درمیان میں آ کر وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کے حکم کے تحت میرے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا۔“ تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہو گئے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے کچھ پیچھے ہٹ گیا، اس اندیشے کے تحت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا قریب ہونا محسوس ہو گیا تو شاید آپ زیادہ دور تشریف لے جائیں۔ میں وہاں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، وہ درخت ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے اور ان میں سے ہر ایک اپنی پنڈلی پر کھڑا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذرا سی دیر کے لیے رکے اور آپ نے اپنے سر کو بائیں اور دائیں طرف گھمایا، پھر آپ تشریف لے آئے، جب آپ میرے پاس پہنچے تو آپ نے دریافت کیا: ”اے جابر! کیا تم نے مجھے دیکھ لیا تھا؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ کر انہیں میری طرف لے آؤ، یہاں تک کہ جب تم اس مقام پر پہنچو جہاں تم نے مجھے کھڑے ہوئے دیکھا تھا تو ایک ٹہنی اپنے دائیں طرف چھوڑ دینا اور ایک بائیں طرف چھوڑ دینا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک پتھر لے کر اس کے دو ٹکڑے کیے، پھر میں ان دو درختوں کے پاس آیا، میں نے ان میں سے ہر ایک کی ٹہنی توڑ لی، پھر میں انہیں گھسیٹتا ہوا لایا، یہاں تک کہ اس جگہ پر آ کر کھڑا ہو گیا جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک ٹہنی کو اپنے دائیں طرف اور ایک ٹہنی کو اپنے بائیں طرف چھوڑ دیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایسا کر لیا ہے، آپ نے ایسا کیوں کروایا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا جنہیں عذاب دیا جا رہا تھا، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میری شفاعت کے ذریعے ان دونوں کے عذاب میں اس وقت تک تخفیف ہو جائے جب تک وہ دونوں ٹہنیاں تر رہتی ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ہم لشکر کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے جابر! وضو کے پانی کے لیے اعلان کر دو۔“ تو میں نے اعلان کیا: خبردار! وضو کا پانی ہے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو لشکر میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا۔ (راوی کہتے ہیں:) انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو اپنے ڈول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ٹھنڈا پانی رکھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم فلاں انصاری کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ کیا اس کے ڈول میں کوئی پانی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں اس شخص کے پاس گیا، میں نے اس ڈول کا جائزہ لیا تو مجھے اس ڈول کے سرے پر صرف ایک پانی کا قطرہ دکھائی دیا، اگر میں اسے انڈیل لیتا تو وہ پینے کے قابل نہ رہتا۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس ڈول میں صرف ایک قطرہ ملا جو اس کے سرے پر موجود تھا، اگر میں اسے انڈیل لیتا تو اس کے خشک حصے نے اسے جذب کر لینا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قطرہ اپنے دست مبارک پر ڈالا اور کچھ پڑھنا شروع کیا۔ مجھے نہیں معلوم وہ کیا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے ٹٹولنا شروع کیا پھر آپ نے مجھے وہ عطا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! پیالے کے لیے اعلان کرو۔“ تو میں نے کہا: کوئی پیالہ لے کر آئے۔ راوی کہتے ہیں: میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا یعنی پیالے کے درمیان میں اپنا ہاتھ بڑھایا، اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”اے جابر! اسے حاصل کرو اور اسے میرے اوپر انڈیل دو اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ لینا۔“ میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر انڈیل دیا اور میں نے «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ لی، تو میں نے پانی کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پھوٹ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ برتن بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! یہ اعلان کرو کہ جس شخص کو بھی پانی کی ضرورت ہو (وہ آ جائے)۔“ راوی کہتے ہیں: تو لوگ آ گئے، انہوں نے پانی پی لیا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اعلان کیا: کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے (پانی کی) ضرورت ہو؟ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے سے اپنا دست مبارک اٹھایا تو وہ پیالہ بھرا ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6524]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 3014، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6524، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 452» «رقم طبعة با وزير 6490»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 234 - 235). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
373. باب المعجزات - ذكر إسماع الله جل وعلا أهل القليب من بدر كلام صفيه صلى الله عليه وسلم وخطابه إياه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے بدر کے قليب والوں کو اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام اور خطاب سنوایا
حدیث نمبر: 6525
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ نِدَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ وَهُوَ عَلَى بِئْرِ بَدْرٍ يُنَادِي:" يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةُ بْنَ خَلَفٍ، أَلا هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟"، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا؟، فَقَالَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ، إِِلا أَنَّهُمْ لا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُونِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نصف رات کے وقت مسلمانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بدر کے کنویں کے پاس موجود تھے اور بلند آواز میں فرما رہے تھے: ”اے ابو جہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ، اے امیہ بن خلف! تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچ پا لیا ہے؟“ مسلمانوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ ایسی قوم کو مخاطب کر رہے ہیں جو مردار ہو چکے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں جو کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے، البتہ وہ لوگ اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے کہ مجھے جواب دیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6525]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1779، 2875، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4721، 4722، 6498، 6525، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5138، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2074، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2213، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2681، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18506، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12202» «رقم طبعة با وزير 6491»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (878 - 884)، «أحكام الجنائز» (167 - 169). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
374. باب المعجزات - ذكر ما حيل بين الشياطين وبين خبر السماء وإرسال الشهب عليهم عند إظهار المصطفى صلى الله عليه وسلم الإسلام-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلام کے ظہور پر شیاطین اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل کیا گیا اور ان پر شہاب ثاقب بھیجے گئے
حدیث نمبر: 6526
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ، وَمَا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالُوا: مَا ذَاكَ إِِلا شَيْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، فَمَرَّ النَّفْرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ، وَهُمْ عَامِدُونَ إِِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ، قَالُوا: هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَرَجَعُوا إِِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا سورة الجن آية 2 - 2، فَأَوْحَى اللَّهُ إِِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ سورة الجن آية 1" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سامنے کوئی تلاوت نہیں کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب عکاظ کے بازار کی طرف تشریف لے گئے۔ یہ وہ وقت تھا، جب شیاطین اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ آ چکی تھی اور ان پر شہابِ ثاقب بھیجے جاتے تھے، تو شیاطین اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ پڑ چکی ہے اور اب ہمارے اوپر شہابِ ثاقب بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا: یہ کسی ایسی وجہ سے ہوا ہوگا، جو نئی رونما ہوئی ہے، تم لوگ زمین کے مشرقی حصوں اور مغربی حصوں کا جائزہ لو اور اس بات کا جائزہ لو کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے؟ تو وہ لوگ زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا گزر تہامہ کی طرف سے ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک کھجور کے باغ میں موجود تھے۔ یہ لوگ عکاظ کے بازار کی طرف جاتے ہوئے راستے میں (کھجور کے اس باغ میں تھے) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان جنات نے قرآن کی تلاوت سنی تو انہوں نے کہا: یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ بن گئی ہے، تو وہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس گئے اور انہوں نے یہ کہا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ﴿1﴾ يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ﴿2﴾ ﴾ ”ہم نے قرآن کو سنا ہے وہ بڑی حیران کن چیز ہے، وہ ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیں گے۔“ [سورة الجن: 1-2] تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف یہ بات وحی کی: ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ ﴿1﴾ ﴾ ”تم یہ فرما دو کہ جب جنات کے ایک گروہ نے اسے غور سے سنا۔“ [سورة الجن: 1] [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6526]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 773، 4921، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6526، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3878، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11560، 11561، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3323، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3119، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2307» «رقم طبعة با وزير 6492»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4921)، م (2/ 35 - 36). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
375. باب المعجزات - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد لخبر ابن عباس الذي ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابن عباس کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6527
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ : هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟، قَالَ: فَقَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ : هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟، قَالَ: لا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَهُ لَيْلَةً، فَفَقَدْنَاهُ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، إِِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءٍ، فَقَالَ:" إِِنَّهُ قَدْ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ"، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَرَانَا نِيرَانَهُمْ وَآثَارَهُمْ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الزَّادِ، فَقَالَ:" لَكُمْ كُلُّ عَظْمِ طَعَامٍ يُذْكَرُ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِِنَّهُمَا طَعَامُ إِِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ" .
امام شعبی بیان کرتے ہیں: میں نے علقمہ بن قیس سے دریافت کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ تو علقمہ نے جواب دیا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا: کیا آپ (یعنی صحابہ کرام) میں سے کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب جنات سے ملاقات ہوئی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا تو ہم نے وہ رات بدترین حالت میں گزاری۔ صبح کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا کی طرف سے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنات کا پیغام رساں میرے پاس آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا، میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنات کے آگ جلانے اور دیگر چیزوں کے نشانات دکھائے۔ ان جنات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کی ہر ہڈی جب تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہو گا اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہو گی۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان دو چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6527]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 450، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 82، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1432، 6320، 6527، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 39، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 38، وأبو داود فى (سننه) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى (جامعه) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى (مسنده) برقم: 12، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 384، 385، والدارقطني فى (سننه) برقم: 149، 150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3858» «رقم طبعة با وزير 6493»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (1429). تنبيه!! رقم (1429) = (1432) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين