🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
376. باب المعجزات - ذكر ما بارك الله جل وعلا لصفيه صلى الله عليه وسلم في اليسير من أسبابه التي فرق بها بينه وبين غيره من أمته-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے برگزیدہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑی چیزوں میں برکت دی جو انہیں ان کی امت سے ممتاز کرتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6528
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: " انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنْ هِيَ إِِلا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ، فَانْطَلَقَ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُزْتِهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَإِِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنَ التَّمْرِ، فَأَخَذْنَا مِنْهُ حَاجَتَنَا، قَالَ: فَلَقَدِ الْتَفَتُّ إِِلَيْهِ، وَإِِنِّي لَمِنْ آخِرِ أَصْحَابِي كَأَنَّا لَمْ نَرْزَأَهْ تَمْرَةً" .
سیدنا دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں قبیلے کے کچھ سواروں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم جاؤ اور ان کے لیے ساز و سامان کا بندوبست کرو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! صرف کھجوروں کے چند صاع ہیں، پھر وہ چلے گئے۔ انہوں نے اپنے ڈب میں سے چابی نکال کر دروازہ کھولا تو وہ ڈھیر ساری کھجوریں تھیں۔ ہم نے اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں۔ راوی کہتے ہیں: جب میں نے مڑ کر اس کمرے کی طرف دیکھا تو میں وہاں سے نکلنے والا آخری فرد تھا لیکن یوں لگتا تھا جیسے ہم نے وہاں سے ایک بھی کھجور نہیں لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6528]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6528، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5238، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17850» «رقم طبعة با وزير 6494»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. * [عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ] قال الشيخ: هو علي بن مسلم بن سعيد الواسطي، ثقة من شيوخ البخاري، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين؛ فالسند صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
377. باب المعجزات - ذكر ما بارك الله جل وعلا في الشيء اليسير من الطعام للمصطفى صلى الله عليه وسلم حتى أكل منه عالم من الناس-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑے سے کھانے میں برکت دی حتیٰ کہ اس سے بہت سے لوگوں نے کھایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6529
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيِ الْقَوْمِ، فَتَعَاقَبُوهَا إِِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ، يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ: أَكَانَ يُمَدُّ؟! فَقَالَ سَمُرَةُ:" مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَتَعَجَّبَ؟ مَا كَانَ يُمَدُّ إِِلا مِنْ هَا هُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِِلَى السَّمَاءِ".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا، وہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو لوگ صبح سے لے کر دوپہر تک یکے بعد دیگرے اس کے پاس آتے رہے۔ کچھ لوگ اٹھتے تو دوسرے آ کر بیٹھ جاتے۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا وہ بڑھ رہا تھا؟ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر حیرانی ہو رہی ہے؟ وہ صرف اس طرف سے بڑھ رہا تھا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6529]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6529، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6707، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3625، والدارمي فى (مسنده) برقم: 57، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20452، 20519، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32366، والطبراني فى(الكبير) برقم: 6967» «رقم طبعة با وزير 6495»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5928). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
378. باب المعجزات - ذكر خبر ثان يصرح بنحو ما ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر دوسری خبر جو ہمارے بیان کردہ کی طرح واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6530
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، شَكَّ الأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَوْ أَذِنْتَ لَنَا، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَكَلْنَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: افْعَلُوا"، فَجَاءَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّهُمْ إِِنْ فَعَلُوا، قَلَّ الظُّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَطْعٍ، فَبَسَطْتُهُ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ، وَالآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ، وَالآخَرُ بِكَسْرَةٍ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النَّطْعِ مِنْ ذَلِكَ يَسِيرٌ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ"، فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِِلا مَلَئُوهُ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةً، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْهَدُ أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما (اعمش نامی راوی کو شک ہے شاید) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کو بھوک لاحق ہو گئی تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹ قربان کر کے انہیں کھا لیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم لوگ ایسا کر لو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر لوگوں نے ایسا کر لیا تو ان کے پاس سواری کے جانور کم ہو جائیں گے۔ آپ انہیں کہیں کہ وہ اضافی بچ جانے والا ساز و سامان لے کر آئیں اور پھر آپ اس سامان پر برکت کی دعا کریں، شاید اللہ تعالیٰ اس میں کوئی بہتری کی صورت پیدا کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دسترخوان منگوایا اور وہ پھیلا دیا گیا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لانے کے لیے کہا۔ راوی کہتے ہیں: تو کوئی شخص مٹھی بھر جو لے آیا، دوسرا شخص مٹھی بھر کھجوریں لے آیا، کوئی اور روٹی کا ٹکڑا لے آیا، یہاں تک کہ دسترخوان پر تھوڑا سا سامان اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کرو۔“ لوگوں نے اپنے برتنوں میں ڈالنا شروع کیا، یہاں تک کہ انہوں نے لشکر میں موجود ہر برتن کو بھر لیا، انہوں نے کھایا اور سیر ہو کر کھایا پھر بھی باقی رہ گیا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، جو شخص ان دونوں باتوں کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اس میں شک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6530]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 27، 27، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6530، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8743، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9582» «رقم طبعة با وزير 6496»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3221): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
379. باب المعجزات - ذكر ما بارك الله ما فضل من أزواد أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے زاد راہ میں جو بچا اس میں برکت دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6531
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانَ حِينَ صَالَحَ قُرَيْشًا، بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ: إِِنَّمَا يُبَايِعُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْفًا وَهَزْلا، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْ نَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لُحُومِهَا وَشُحُومِهَا، وَحَسَوْنَا مِنَ الْمَرَقِ، أَصْبَحْنَا غَدًا إِِذَا غَدَوْنَا عَلَيْهِمْ وَبِنَا جَمَامٌ، قَالَ: " لا، وَلَكِنْ إِِيتُونِي بِمَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِكُمْ"، فَبَسَطُوا أَنْطَاعًا، ثُمَّ صَبُّوا عَلَيْهَا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ، فَدَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، فَأَكَلُوا حَتَّى تَضَلَّعُوا شِبَعًا، ثُمَّ كَفَؤُوا مَا فَضَلَ مِنْ أَزْوَادِهِمْ فِي جُرُبِهِمْ، ثُمَّ غَدَوْا عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَرَيْنَ القَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً"، فَاضْطَبَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَرَمَلُوا ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَوْا أَرْبَعًا، وَالْمُشْرِكُونَ فِي الْحِجْرِ، وَعِنْدَ دَارِ النَّدْوَةِ، وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا تَغِيَّبُوا مِنْهُمْ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيِّ وَالأَسْوَدِ، مَشَوْا، ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ، فَتَقُولُ قُرَيْشٌ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّهُمُ الْغِزْلانُ، فَكَانَتْ سُنَّةً .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے صلح کر لی (اور آپ عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے) تو جب آپ مرا الظہران کے مقام پر پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ اطلاع ملی کہ قریش یہ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر ان کے ایسے اصحاب نے بیعت کی ہے جو کمزور ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اگر ہم اپنی سواریوں کو قربان کر کے ان کا گوشت اور چربی کھائیں اور ان کا شوربا پئیں تو کل جب ہم ان کے سامنے جائیں گے، تو ہماری حالت ایسی ہو گی کہ ہم طاقتور محسوس ہوں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی نہیں! تم لوگ میرے پاس اپنا بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان لے کر آؤ۔“ ان لوگوں نے دسترخوان بچھا دیے اور اس پر اپنا بچ جانے والا (کھانے پینے کا) سامان ڈال دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ ان لوگوں نے اسے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور بچ جانے والا کھانے پینے کا سامان انہوں نے اپنے تھیلوں میں ڈال لیا، پھر وہ اگلے دن (کفار قریش) کے سامنے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرما دیا: ”وہ لوگ (تمہارے اندر) کوئی کمزوری نہ دیکھیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے اضطباع (کے طور پر احرام کی چادر کو) لپیٹا، ان حضرات نے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے، مشرکین اس وقت حطیم میں اور دارالندوہ کے قریب موجود تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے دوسری طرف رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان آتے تو عام رفتار سے چلتے، پھر جب ان کے سامنے آتے (تو دوڑنے لگتے) تو قریش نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو ہرنوں کی طرح ہیں۔ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) تو یہ طریقہ سنت قرار پایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6531]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1602، 1649، 4256، 4257، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2707، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3811، 3812، 3814، 3841، 3845، 6531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1885، 1886، 1889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2953، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1946» «رقم طبعة با وزير 6497»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1650). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله رجال الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
380. باب المعجزات - ذكر خبر ثالث يصرح بصحة ما ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر تیسری خبر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6532
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَفْتُهُنَّ فِي يَدَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَدَعَا لِي فِيهِمْ بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: " إِِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ شَيْئًا، فَأَدْخِلْ يَدَكَ، وَلا تَنْثُرْهُ نَثْرًا" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَحَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنَّا نَطْعَمُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ فِي حِقْوِي حَتَّى انْقَطَعَ مِنِّي لَيَالِيَ عُثْمَانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں چند کھجوریں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں میں رکھا ہوا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان میں میرے لیے برکت کی دعا کر دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ان میں برکت کی دعا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم نے کوئی چیز لینی ہو تو اپنا ہاتھ ان کے اندر داخل کرنا، انہیں مکمل طور پر نہ ختم کر دینا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کھجوروں میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں خیرات کیے، ہم خود بھی ان میں سے کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلایا کرتے تھے، وہ میرے ڈب میں موجود رہتی تھیں، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کے خلاف بغاوت) کے دنوں میں وہ مجھ سے گر گئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6532]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6532، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3839، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8748، والبزار فى (مسنده) برقم: 9519، 9520» «رقم طبعة با وزير 6498»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن في الشواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
381. باب المعجزات - ذكر خبر رابع يدل على صحة ما ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر چوتھی خبر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6533
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ بِالرَّيِّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَتَتْ عَلَيَّ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ لَمْ أَطْعَمْ فِيهَا طَعَامًا، فَجِئْتُ أُرِيدُ الصُّفَّةَ، فَجَعَلْتُ أَسْقُطُ، فَجَعَلَ الصِّبْيَانُ يُنَادُونَ: جُنَّ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنَادِيهِمْ وأَقُولُ: بَلْ أَنْتُمُ الْمَجَانِينُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِِلَى الصُّفَّةِ، فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ،" فَدَعَا عَلَيْهَا أَهْلَ الصُّفَّةِ وَهُمْ يَأْكُلُونَ مِنْهَا، فَجَعَلْتُ أَتَطَاوَلُ كَيْ يَدْعُوَنِي، حَتَّى قَامَ الْقَوْمُ وَلَيْسَ فِي الْقَصْعَةِ إِِلا شَيْءٌ فِي نَوَاحِي الْقَصْعَةِ، فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَارَتْ لُقْمَةً، فَوَضَعَهَا عَلَى أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: كُلْ بِاسْمِ اللَّهِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا زِلْتُ آكُلُ مِنْهَا حَتَّى شَبِعْتُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ پر تین ایسے دن آئے جن میں، میں نے کچھ نہیں کھایا، میں صفہ (کے چبوترے) پر آنا چاہ رہا تھا لیکن گر گیا، بچوں نے بلند آواز میں کہنا شروع کر دیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دیوانہ ہو گیا ہے، تو میں نے انہیں بلند آواز میں جواب دینا شروع کیا، میں نے کہا: ”بلکہ تم لوگ پاگل ہو“، یہاں تک کہ ہم لوگ (اسی عالم میں) صفہ تک آ گئے۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانے کے لیے اہل صفہ کو بلوایا تھا اور وہ لوگ اسے کھا رہے تھے۔ میں نے خود کو سیدھا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ لوگ مجھے بھی دعوت دیں (لیکن کچھ نہیں ہوا) یہاں تک کہ وہ لوگ (کھانا کھا کر) اٹھ گئے۔ اس پیالے میں صرف وہ چیز باقی رہ گئی جو پیالے کے کناروں پر موجود ہوتی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا تو وہ ایک لقمہ بنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنی انگلیوں میں رکھا اور پھر مجھ سے فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اسے کھا لو“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، میں اس ایک لقمے کو اتنی دیر کھاتا رہا کہ میں سیر ہو گیا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6533]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 6499»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «التعليق الرغيب» (4/ 120 - 121)، والصحيح حديثه الآتي بعد حديث. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
382. باب المعجزات - ذكر بركة الله جل وعلا في الشيء اليسير من الخير للمصطفى صلى الله عليه وسلم حتى أكل منه الفئام من الناس-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑی سی خیر میں برکت دی حتیٰ کہ اس سے بہت سے لوگوں نے کھایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6534
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ مِنْهُ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدَيَّ، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" لِلطَّعَامِ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ:" قُومُوا"، قَالَ: فَانْطَلَقُوا، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتِ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلُمِّي مَا عِنْدَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ"، فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ عَلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَآدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ"، حَتَّى أَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ رَجُلًَا أَوْ ثَمَانُونَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی اہلیہ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں نقاہت محسوس کی ہے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کو بھوک لگی ہے، تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے (جو کھانے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کریں)؟ اس خاتون نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس خاتون نے جو کی چند ٹکیاں نکالیں، پھر انہوں نے اپنا دوپٹہ لیا اور روٹیاں اس کے کچھ حصے میں لپیٹ دیں اور میری بغل میں دے دیں۔ اس کا کچھ حصہ انہوں نے مجھے اوڑھا دیا اور پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہ لے کر چلا گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں تشریف فرما پایا، آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔ میں ان لوگوں کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کھانے کے لیے؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس موجود افراد سے فرمایا: ”اٹھو۔“ راوی کہتے ہیں: یہ سب حضرات روانہ ہو گئے۔ میں ان حضرات کے آگے چلتا ہوا سیدنا ابوطلحہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا ابوطلحہ نے فرمایا: اے ام سلیم رضی اللہ عنہا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں، ہمارے پاس تو اتنا کچھ نہیں ہے کہ ہم انہیں کھانا کھلا سکیں۔ تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا ابوطلحہ تشریف لے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تشریف لائے، یہاں تک کہ یہ دونوں حضرات گھر میں داخل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلیم! تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے پیش کرو۔“ تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا وہ روٹیاں لے آئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے ٹکڑے کر دیے گئے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس پر وہ کپی نچوڑ دی جس میں گھی تھا، وہ اس کا سالن بن گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کی اجازت دو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو گئے تو چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کے لیے کہو۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی اجازت دی۔ ان لوگوں نے بھی کھانا کھایا، یہاں تک کہ جب وہ سیر ہو گئے تو چلے گئے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے کے لیے کہو۔“ یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو کر کھایا، ان لوگوں کی تعداد ستر یا شاید اسی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6534]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 422، 3578، 5381، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2040، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3431، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5285، 6534، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6582، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3630، والدارمي فى (مسنده) برقم: 44، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3342، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14708، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12686» «رقم طبعة با وزير 6500»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
383. باب المعجزات - ذكر بركة الله جل وعلا في اللبن اليسير للمصطفى صلى الله عليه وسلم حتى روي منه الفئام من الناس-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھوڑے سے دودھ میں برکت دی حتیٰ کہ اس سے بہت سے لوگوں نے سیراب ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6535
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: وَالَّذِي لا إِِلَهَ إِِلا هُوَ، إِِنْ كُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًَا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ، فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا سَأَلْتُهُ إِِلا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، وَمَرَّ بِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، مَا سَأَلْتُهُ إِِلا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، حَتَّى مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِوَجْهِي، وَمَا فِي نَفْسِي، قَالَ:" أَبَا هِرٍّ"، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ:" الْحَقْ"، فَلَحِقْتُهُ، فَدَخَلَ إِِلَى أَهْلِهِ، فَأَذِنَ، فَدَخَلْتُ، فَإِِذَا هُوَ بِلَبَنٍ فِي قَدَحٍ، فَقَالَ لأَهْلِهِ:" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟"، قَالَ: هَدِيَّةُ فُلانٍ، أَوْ قَالَ: فُلانٌ، فَقَالَ:" أَبَا هِرٍّ، الْحَقْ إِِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ"، وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافٌ لأَهْلِ الإِِسْلامِ، لا يَأْوُونَ إِِلَى أَهْلٍ أَوْ مَالٍ، إِِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِِلَيْهِمْ، وَلَمْ يُشْرِكْهُمْ فِيهَا، وَإِِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ بَعَثَ بِهَا إِِلَيْهِمْ وَشَرَكَهُمْ فِيهَا، وَأَصَابَ مِنْهَا، فَسَاءَنِي وَاللَّهِ ذَلِكَ، قُلْتُ: أَيْنَ يَقَعُ هَذَا اللَّبَنُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، وَأَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، وَأَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ، قَالَ:" أَبَا هِرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خُذْ، فَنَاوِلْهُمْ"، قَالَ: فَجَعَلْتُ أُنَاوَلُ رَجُلًَا رَجُلًَا، فَيَشْرَبُ، فَإِِذَا رَوِيَ، أَخَذْتُهُ، فَنَاوَلْتُ الآخَرَ، حَتَّى رَوِيَ الْقَوْمُ جَمِيعًا، ثُمَّ انْتَهَيْتُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَتَبَسَّمَ، وَقَالَ:" أَبَا هِرٍّ، بقيتُ أَنَا وَأَنْتَ"، قُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خُذْ، فَاشْرَبْ"، فَمَا زَالَ يَقُولُ:" اشْرَبْ"، حَتَّى قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا، قَالَ:" فَأَرِنِي الإِِنَاءَ"، فَأَعْطَيْتُهُ الإِِنَاءَ، فَشَرِبَ الْبَقِيَّةَ، وَحَمِدَ رَبَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: «وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ» ”اللہ کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ (بعض اوقات) میرا یہ عالم ہوتا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنا کلیجہ زمین کے ساتھ لگا لیا کرتا تھا۔ ایک دن میں لوگوں کے راستے میں بیٹھ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، میں نے ان سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے سوال کیا تھا تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ تشریف لے گئے اور انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے ان سے بھی اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لیے یہ سوال کیا تھا تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ چلے گئے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر میرے پاس سے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کو دیکھا اور جو کچھ میرے دل میں تھا ملاحظہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ آؤ۔“ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے اندر آنے کی) اجازت دی تو میں اندر آیا۔ وہاں ایک پیالے میں دودھ موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: فلاں نے ہدیہ بھیجا ہے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فلاں نے بھیجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔“ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا کوئی گھر بار اور کوئی مال و منال نہیں تھا۔ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی صدقہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ان لوگوں کی طرف بھجوا دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس صدقے میں حصہ دار نہیں بنتے تھے لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی تحفہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ ان کی طرف بھجوا دیا کرتے تھے اور اس تحفے میں ان کے ساتھ حصہ دار ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خود بھی کچھ استعمال کر لیتے تھے۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بہت بری لگی، میں نے سوچا بھلا اتنا سا دودھ اہل صفہ کے، میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے (کیا کام آئے گا)؟ لیکن میں چلا گیا اور ان لوگوں کو بلا لایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی تو وہ لوگ اندر آ گئے۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (دودھ کا پیالہ) لو اور اسے ان لوگوں کو پکڑاؤ۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے (وہ پیالہ) ایک ایک شخص کی طرف بڑھانا شروع کیا۔ وہ شخص اسے لیتا اور جب وہ سیر ہو جاتا تو میں اس سے واپس لے لیتا اور دوسرے شخص کی طرف بڑھا دیتا، یہاں تک کہ سب لوگ سیر ہو گئے۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! اب میں اور تم (باقی رہ گئے ہیں)۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے سچ فرمایا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے لو اور اسے پی لو۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل یہی کہتے رہے: ”اور پیو۔“ یہاں تک کہ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، مجھے اب اس میں مزید کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ برتن مجھے دکھاؤ۔“ میں نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی رہ جانے والا (دودھ) پی لیا اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6535]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6246، 6452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6535، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4314، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11808، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2477، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10830» «رقم طبعة با وزير 6501»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (6452). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
384. باب المعجزات - ذكر ما بارك الله جل وعلا في تمر جابر بن عبد الله لدعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے جابر بن عبد اللہ کی کھجوروں میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا سے برکت دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6536
أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا، وَلَمْ يَرَوْ أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فأتيت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِِذَا جَدَدْتَهُ، فَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَآذِنِّي"، فَلَمَّا جَدَدْتَهُ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ"، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِِلا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ ثَلاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا: سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ"، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالا: إِِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد کا انتقال ہو گیا، ان کے ذمے قرض تھا، میں نے ان قرض خواہوں کے سامنے یہ پیشکش کی کہ میرے والد کے ذمے جو قرض تھا اس کے عوض میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں لیکن انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، ان کے خیال میں اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو پاتی تھی۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم کھجوریں اتار کر انہیں گودام میں رکھو تو مجھے اطلاع دینا“۔ (راوی کہتے ہیں:) جب میں نے ان کو اتار کر انہیں گودام میں (یا سکھانے کی جگہ پر) رکھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اور آپ کو اس بارے میں بتایا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کھجوروں کے اس ڈھیر) کے پاس تشریف فرما ہوئے، آپ نے برکت کی دعا کی، پھر آپ نے فرمایا: ”اپنے قرض خواہوں کو بلا لو اور انہیں پوری ادائیگی کر دو“۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کے ذمے واجب الادا تمام قرض ادا کر دیا پھر بھی (کھجوروں کے) تیرہ وسق باقی رہ گئے، سات وسق عجوہ کھجوروں کے تھے اور چھ وسق لون کھجوروں کے تھے۔ میں نے مغرب کی نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کی اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، آپ نے فرمایا: ”ابوبکر اور عمر کے پاس جاؤ اور انہیں اس بارے میں بتاؤ“۔ میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو ان دونوں نے فرمایا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عمل کیا تھا، اسی وقت ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6536]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2396، 2709، 2781، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6536، 7139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3638، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2884، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2434، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15165» «رقم طبعة با وزير 6502»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز» (28 - 29)، «صحيح أبي داود» (2568): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
385. باب المعجزات - ذكر خبر بأن الماء المغسول به أعضاء المصطفى صلى الله عليه وسلم كثر بعد فراغه من وضوئه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء کو دھونے والا پانی وضو کے بعد بڑھ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6537
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: " إِِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ، فَإِِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ، فَمَنْ جَاءَهَا، فَلا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ"، قَالَ: فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِِلَيْهَا رَجُلانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟"، فَقَالا: نَعَمْ، فَسَبَّهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهَا فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ، فَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِِنْ طَالَتْ بِكَ الْحَيَاةُ أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا" .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز جبکہ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کرتے رہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مؤخر کیا پھر آپ (اپنی قیام گاہ سے) باہر تشریف لائے۔ آپ نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر آپ (قیام گاہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لے آئے) پھر آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو کل تم لوگ تبوک کے چشمے تک پہنچ جاؤ گے، تم اس کے پاس اس وقت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہو گا، جو شخص وہاں آئے وہ اس کے پانی میں سے اس وقت تک کچھ حاصل نہ کرے جب تک میں نہیں آ جاتا۔“ راوی کہتے ہیں: جب ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی وہاں پہلے پہنچ چکے تھے۔ وہ چشمہ تسمے کی طرح (باریک) تھا جس میں سے تھوڑا سا پانی نکل رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”تم نے اس کے پانی کو استعمال کیا ہے؟“ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ناراضی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ ان دونوں سے کہا۔ پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اس چشمے میں سے تھوڑا سا پانی حاصل کیا، یہاں تک کہ وہ پانی کسی چیز میں اکٹھا ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے۔ پھر آپ نے وہ پانی دوبارہ اس چشمے میں ڈال دیا تو اس سے بہت سا پانی جاری ہو گیا اور لوگوں نے وہ پانی پیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! عنقریب تمہاری زندگی لمبی ہو گی اور تم دیکھو گے (کہ اس پانی کی وجہ سے) یہاں بہت سے باغات ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6537]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 706، ومالك فى (الموطأ) برقم: 478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 966، 968، 1704، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1458، 1591، 1593، 1595، 6537، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 586، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1576، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1206، 1208، 1220، والترمذي فى (جامعه) برقم: 553، 554، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1070، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1462، 1463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22419» «رقم طبعة با وزير 6503»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1089)، «الصحيحة» (1210): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں