صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
386. باب المعجزات - ذكر بركة الله جل وعلا في الماء اليسير حتى انتفع به الخلق الكثير بدعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا نے تھوڑے سے پانی میں برکت دی حتیٰ کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے بہت سے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا
حدیث نمبر: 6538
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ، وَلَيْسَ مَعَنَا مَاءٌ غَيْرُ فَضْلَةٍ، فَجُعِلَ فِي إِِنَاءٍ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَدْخَلَ يَدَهُ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، وَقَالَ: " حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ نَاسٌ، وَشَرِبُوا، قَالَ: فَجَعَلْتُ لا آلُو مَا جَعَلْتُ فِي بَطْنِي مِنْهُ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ بَرَكَةٌ ، قَالَ: فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، عصر کی نماز کا وقت ہو گیا۔ ہمارے پاس پانی نہیں تھا، صرف بچا ہوا (تھوڑا سا) پانی تھا، اسے ایک برتن میں ڈال دیا گیا، پھر وہ برتن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا، آپ نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کیا اور ارشاد فرمایا: ”وضو کے پانی کی طرف آ جاؤ، برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں نے وضو کیا اور انہوں نے پانی پیا بھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ وہ پانی زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ میں ڈال سکوں کیونکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ یہ برکت والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار چار سو (افراد تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6538]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5639، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 107، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6538، والدارمي فى (مسنده) برقم: 26، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14331، 15089، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32381» «رقم طبعة با وزير 6504»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (5639)، م (1856). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
387. باب المعجزات - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به سالم عن جابر-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف سالم نے جابر سے روایت کی
حدیث نمبر: 6539
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ، وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ بِوَضُوءٍ، " فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الإِِنَاءِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اور لوگ وضو کے لیے پانی تلاش کر رہے تھے لیکن انہیں پانی نہیں ملا، پھر وضو کا کچھ پانی لایا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ”وہ اس سے وضو کرنا شروع کریں“ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا، لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6539]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6505»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
388. باب المعجزات - ذكر البيان بأن الماء الذي وصفناه كان ذلك في تور حيث بورك للمصطفى صلى الله عليه وسلم-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ پانی میں تور کے موقع پر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برکت دی گئی
حدیث نمبر: 6540
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً، فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِيهِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْفَجِرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ: " حَيَّ عَلَى أَهْلِ الطَّهُورِ، وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ" ، قَالَ الأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، لوگوں کو پانی نہیں ملا، تو پانی کا ایک پیالہ لایا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو پھوٹتے ہوئے دیکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طہارت کے حصول کے ذریعے کی طرف آ جاؤ، برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ اعمش نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ سالم نے مجھے یہ بات بتائی ہے، میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: ایک ہزار پانچ سو (لوگ تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6540]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3579، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2854، 6493، 6540، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 77، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 80، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3633، والدارمي فى (مسنده) برقم: 29، 30، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3839» «رقم طبعة با وزير 6506»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (6504). تنبيه!! رقم (6504) = (6538) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
389. باب المعجزات - ذكر خبر قد يوهم غير المتبحر في صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي تقدم ذكرنا لها-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6541
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسُ عَطَشٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَجَهِشَ النَّاسُ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَوَضَعَ يَدَهُ فِي مَاءٍ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ مِثْلَ الْعُيُونِ" ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا ثَلاثَ آلافٍ، لَكَفَانَا، وَكُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لاحق ہو گئی۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک پانی میں رکھا تو وہ پانی چشموں کی طرح ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم تین ہزار بھی ہوتے تو وہ ہمارے لیے کفایت کر جاتا، ویسے ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6541]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3576، 4152، 4153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1856، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4874، 6540، 6541، 6542، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2885، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3883» «رقم طبعة با وزير 6507»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (6/ 26). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
390. باب المعجزات - ذكر البيان بأن الماء الذي ذكرنا حيث بورك للمصطفى صلى الله عليه وسلم فيه كان ذلك في ركوة لا في تور-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ پانی جس میں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برکت دی گئی وہ تور میں نہیں بلکہ رکوہ میں تھا
حدیث نمبر: 6542
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا، إِِذَا جَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ:" مَا لَكُمْ؟"، فَقَالُوا: مَا لَنَا لا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَلا نَشْرَبُ إِِلا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: " فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الرَّكْوَةِ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْثَالَ الْعُيُونِ، قَالَ: فَشَرِبْنَا، وَتَوَضَّأْنَا ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَلَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ، لَكَفَانَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حدیبیہ کے موقع پر لوگ پیاس کا شکار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ رکھا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ہمارے پاس وضو کرنے کے لیے (پانی) نہیں ہے اور پینے کے لیے بھی نہیں ہے، صرف وہ پانی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس پیالے پر رکھے اور پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ دعا کی، راوی کہتے ہیں: تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی مانند پانی پھوٹنا شروع ہوا۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے اسے پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہم پندرہ سو لوگ تھے لیکن اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ہمارے لیے کافی ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6542]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3576، 4152، 4153، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1856، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4874، 6540، 6541، 6542، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2885، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3883» «رقم طبعة با وزير 6508»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
391. باب المعجزات - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6543
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الأَعَاجِيبِ لا نُحَدِّثُهُ، عَنْ غَيْرِكَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ، ثُمَّ أَتَى الْمَقَاعِدَ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهِ عَلَيْهَا جِبْرِيلُ، فَقَعَدَ عَلَيْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بِلالٌ، فَنَادَى بِالْعَصْرِ، فَقَامَ مَنْ لَهُ أَهْلٌ بِالْمَدِينَةِ، فَتَوَضَّئُوا، وَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لا أَهْلَ لَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، " فَوَضَعَ أَصَابِعُهُ فِي الْقَدَحِ، فَمَا وَسِعَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، فَوَضَعَ هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةَ، وَقَالَ:" هَلُمُّوا فَتَوَضَّئُوا أَجْمَعِينَ" ، قُلْتُ لأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْجَمْعُ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ أَنَّ هَذَا الْفِعْلَ مِنَ الْمُصْطَفَى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَرْبَعِ مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ: مَرَّةً كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَلْفٍ وَأَرْبَعِ مِائَةٍ إِِلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي تَوْرٍ، وَالْمَرَّةُ الثَّانِيَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً إِِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي رَكْوَةٍ، وَالْمَرَّةُ الثَّالِثَةُ كَانَ الْقَوْمُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَدَحٍ رَحْرَاحٍ، وَالْمَرَّةُ الرَّابِعَةُ كَانَ الْقَوْمُ ثَلاثَ مِائَةٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَاءُ فِي قَعْبٍ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ أَوْ تَهَاتِرٌ.
ثابت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں کسی ایسی حیران کن چیز کے بارے میں بتائیے جسے ہم آپ کے علاوہ کسی اور کے حوالے سے روایت نہ کر سکیں، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ تشریف لے آئے جہاں سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عصر کے لیے اذان دی تو جس بھی شخص کا مدینہ منورہ میں گھر بار تھا وہ گھر گیا، اس نے قضائے حاجت کی مہاجرین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ باقی رہ گئے جن کے اہل خانہ مدینہ میں نہیں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں پانی موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس پیالے میں داخل کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انگلیاں اس پیالے میں نہیں آ سکیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چار انگلیاں اس پیالے میں رکھیں، اور پھر فرمایا: ”آگے آؤ اور تم سب لوگ وضو کر لو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے خیال میں ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی، تو انہوں نے جواب دیا: ستر سے لے کر اسی تک تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں اس طرح مطابقت ہو سکتی ہے کہ یہ معجزہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی مرتبہ صادر ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار مرتبہ مختلف موقعوں پر صادر ہوا۔ ایک مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اور اس وقت پانی (پتھر کے بنے ہوئے پیالے میں تھا) دوسری مرتبہ لوگوں کی تعداد چودہ سو سے لے کر پندرہ سو تک تھی اس وقت پانی رکابی میں تھا۔ تیسری مرتبہ لوگوں کی تعداد ساٹھ سے لے کر اسی تک تھی، اس وقت پانی گہرے پیالے میں تھا۔ چوتھی مرتبہ لوگوں کی تعداد تین سو تھی، اس وقت پانی بڑے پیالے میں تھا۔ اس طرح ان روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6543]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6509»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (200)، م (7/ 59). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
392. باب المعجزات - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم سمى الله في الوضوء الذي ذكرناه-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ذکر کردہ وضو میں اللہ کا نام لیا
حدیث نمبر: 6544
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟" فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ"، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَجْرِي مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوضَّئُوا حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ ، قَالَ ثَابِتٌ لأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ؟، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا (وہ انہیں نہیں ملا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس پانی میں رکھا اور فرمایا: «تَوَضَّؤُوا بِاسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کا نام لے کر وضو کرنا شروع کرو۔“ (راوی کہتے ہیں:) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کو جاری ہوتے ہوئے دیکھا، ان لوگوں نے وضو کر لیا، یہاں تک کہ وہاں موجود ہر فرد نے وضو کر لیا۔ ثابت رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: ان لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: تقریباً ستر لوگ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6544]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6510»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
393. باب المعجزات - ذكر البيان بأن هذا الماء كان في مخضب من حجارة-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ یہ پانی پتھر کے مخضب میں تھا
حدیث نمبر: 6545
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَقَامَ مَنْ كَانَ قَرِيبَ الدَّارِ إِِلَى أَهْلِهِ، فَتَوَضَّأَ، وَبَقِيَ قَوْمٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ عَنْ أَنْ يُمْلأَ فِيهِ كَفَّهُ،" فَضَمَّ أَصَابِعَهُ فَوَضَعَهَا فِي الْمِخْضَبِ، فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ جَمِيعًا" ، فَقُلْنَا: كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: ثَمَانِينَ رَجُلًَا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نماز کا وقت ہو گیا، جس شخص کا گھر وہاں قریب تھا اس نے (اپنے گھر جا کر) وضو کر لیا اور کچھ لوگ باقی رہ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر کا بنا ہوا ایک برتن لایا گیا جس میں پانی موجود تھا۔ اس برتن میں اتنا پانی بھی نہیں تھا کہ وہ ہتھیلی بھر کر آ سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں اور اس پیالے میں رکھ دیں تو وہاں موجود تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ (راوی کہتے ہیں:) ہم نے دریافت کیا: ان کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: 80 افراد تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6545]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6511»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
394. باب المعجزات - ذكر البيان بأن الماء الذي ذكرناه كان في قدح رحراح واسع الأعلى ضيق الأسفل-
معجزاتِ کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے ذکر کردہ پانی ایک وسیع اوپر والے اور تنگ نیچے والے قدح میں تھا
حدیث نمبر: 6546
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَوَضَّئُونَ، فَحَزَرْتُ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِِلَى الثَّمَانِينَ، قَالَ: " فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا تو ایک گہرے پیالے میں پانی لایا گیا۔ لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا، میں نے انہیں شمار کیا تو ان کی تعداد 60 سے لے کر 80 تک تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ پانی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6546]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6512»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
395. باب المعجزات - ذكر خبر يوهم عالما من الناس أنه مضاد للأخبار التي ذكرناها قبل-
معجزاتِ کا بیان - ذکر خبر جو کسی عالم کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ہمارے پہلے ذکر کردہ خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 6547
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ أَوْ بِالزَّوْرَاءِ، فَأَرَادَ الْوَضُوءَ، فَأُتِيَ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يَسِيرٌ،" فَوَضَعَ كَفَّهُ عَلَى الْقَعْبِ، فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ" ، قَالَ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلاثِ مِائَةٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ منورہ میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) زوراء میں موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی اس پیالے پر رکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا، یہاں تک کہ تمام لوگوں نے وضو کر لیا۔ راوی نے دریافت کیا: آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: 300 کے لگ بھگ تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6547]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 169، 195، 200، 3572، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6539، 6543، 6544، 6545، 6546، 6547، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 76، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 116، والدارقطني فى (سننه) برقم: 221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12214» «رقم طبعة با وزير 6513»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3572)، م (7/ 59). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين