🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
396. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6548
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب یہ آیت ﴿وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] (اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی صاحبزادی صفیہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، البتہ تم میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے مانگ لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6548]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 205، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6548، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3650، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2310، 3184، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12773، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25684، 26175» «رقم طبعة با وزير 6514»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3177): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6549
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، سَلِينِي مَا شِئْتِ، لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا" .
سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قریش! اللہ تعالیٰ سے اپنی جانیں خرید لو، میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے بنو عبدالمطلب! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا! میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا! تم جو چاہو مجھ سے مانگ لو لیکن میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6549]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2752، 2753، 3527، 4771، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 646، 6549، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3646، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3185، 3185 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2774، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12772، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8518» «رقم طبعة با وزير 6515»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه، «فقه السيرة» (97). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
397. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم إنذار عشيرته بما مثل به-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قریبی قوم کو انذار کی مثال ایسی دی جو انہوں نے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6550
أَخْبَرَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ إِِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ، قَالَ: وَهُنَّ فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَادَى:" يَا صَبَاحَاهُ"، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِِلَيْهِ، فَبَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، يَا بَنِي، يَا بَنِي، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًَا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ أَصَدَّقْتُمُونِي؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ"، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَمَا دَعَوْتُمُونَا إِِلا لِهَذَا، ثُمَّ قَامَ، فَنَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ سورة المسد آية 1، وَقَدْ تُبَّ ، وَقَالُوا: مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”اور تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ نازل ہوئی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ الفاظ بھی ہیں: «وَرَهْطَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ» ”اور ان میں سے اپنے مخلص گروہ کو (ڈراؤ)“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صفا پہاڑ کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر چڑھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: «يَا صَبَاحَاهْ!» ”خطرہ ہے!“ تو لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے، کوئی شخص خود آگیا اور کسی نے اپنے قاصد کو بھیج دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! اے بنو فہر! اے بنو عبدمناف! اے بنو (فلاں)! اے بنو (فلاں)! تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اس بات کی اطلاع دوں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے؟“ ان لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ“ ”تو میں شدید عذاب سے پہلے تمہیں ڈرا رہا ہوں۔“ اس پر ابولہب نے کہا: ”تم ہمیشہ کے لیے برباد ہو جاؤ! کیا تم نے ہمیں صرف اس کام کے لیے بلایا تھا؟“ پھر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا (اور چلا گیا) اور اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ﴾ [سورة المسد: 1] ”ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں“ تو وہ برباد ہو گیا۔ البتہ دوسرے لوگوں نے یہ کہا تھا: ”ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہوا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6550]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1394، 2752، 3525، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 208، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6550، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10752، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3363، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13227، 17798، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2585» «رقم طبعة با وزير 6516»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (96)، «الصحيحة» (3177): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
398. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه - ذكر إدخال المصطفى صلى الله عليه وسلم أصبعيه في أذنيه ورفعه صوته عندما وصفناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ وقت میں اپنی انگلیاں کانوں میں ڈالیں اور اپنی آواز بلند کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6551
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ الأَشْعَرِيُّ : " لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، وَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَرَفَعَ صَوْتَهُ، وَقَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ"، ثُمَّ سَاقَ الْخَبَرَ .
سیدنا اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [سورة الشعراء: 214] ”تم اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ“ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں رکھیں اور بلند آواز میں کہا: ”اے بنو عبدمناف!“ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث بیان کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6551]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3186، والبزار فى (مسنده) برقم: 3031» «رقم طبعة با وزير 6517»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر التعليق. * [أَبُو عَاصِمٍ] قال الشيخ: وعنه ابن جرير في «التفسير» (19/ 73)، وأبو عوانة (1/ 94). وتابعه أبو زيدٍ - واسمه: سعيد بن أوس الأنصاري -: عند الترمذي (8/ 330 - 331) - واستغربه -. وإسنادُ الأولى حسنٌ، رجاله ثقات من رجال الشيخين؛ غير قسامة بن زهير، وهو ثقة. ورواهُ ابنُ جَرِيرٍ عن ثقتين آخرين، عن عوف، عن قسامة، قال: بَلَغَنِي أنَّهُ لَمَّا نَزَلَ ... الحديث، وزاد: «واصباحاه»!، وهي عند الترمذي. وزاد أبو عَوانة: «إِنِّي لكم نذير»، وهذه في حديث ابن عباس الذي قبله، وفي أوله زيادة: «يا صباحاه»!. وللحديث شاهدٌ مِنْ رِوَاية قبيصة بن المُخارق، وزهير بن عمرو ... مرفوعاً بلفظ: «يا بني عبد مناف! إِنِّي نذير، إِنَّمَا مثلي ومَثلُكم ... » الحديث. أخرجه مسلم (1/ 134)، وأبو عوانة (1/ 92 - 93)، وأحمد (5/ 60)، والطبراني (5/ 313 / 5305). * [ثُمَّ سَاقَ الْخَبَرَ] قال الشيخ: لم أَرَ تَمَامَه إلاَّ ما تقدَّم نقله عن أبي عوانة وغيره آنفاً! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
399. باب تبليغه صلى الله عليه وسلم الرسالة وما لقي من قومه - ذكر تفريق المصطفى صلى الله عليه وسلم بين الحق والباطل بالرسالة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامِ رسالت پہنچانے اور اپنی قوم سے پیش آنے والے حالات کا بیان - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6552
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ عُمَرَوٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَلَسْنَا إِِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ يَوْمًا، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ:" طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ، وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ، فَاسْتُغْضِبَ، فَجَعَلَتْ أَعْجَبُ، مَا قَالَ إِِلا خَيْرًا، ثُمَّ أَقْبَلَ إِِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا يَحْمِلُ الرَّجُلَ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مُحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ، لا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ، وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ، أَوَلا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِِذْ أَخْرَجَكُمْ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ، مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ كُفِيتُمُ الْبَلاءَ بِغَيْرِكُمْ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ، وَفَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دَيْنًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الأَوْثَانِ، فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ، حَتَّى إِِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَلَدَهُ أَوْ وَالِدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا، وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلإِِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ، فَلا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ، وَأَنَّهَا الَّتِي قَالَ اللَّهُ: الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ سورة الفرقان آية 74" .
عبدالرحمن بن جبیر رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ہم سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: ان دونوں آنکھوں کے لیے مبارک باد ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ اللہ کی قسم! ہماری تو یہ خواہش تھی کہ کاش ہم نے بھی وہی کچھ دیکھا ہوتا جو آپ نے دیکھا اور ہم بھی ان کے ساتھ حاضر ہوتے جن کے ساتھ آپ حاضر رہے، تو سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے، میں اس پر بہت حیران ہوا کیونکہ اس شخص نے تو اچھی بات ہی کہی تھی، پھر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کسی شخص کو کون سی بات اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ اس منظر میں حاضر ہونے کی تمنا کرے جسے اللہ تعالیٰ نے اس سے غائب (محفوظ) رکھا ہے؟ وہ نہیں جانتا کہ اگر وہ اس وقت موجود ہوتا تو اس کی کیا صورت حال ہوتی؟ اللہ کی قسم! بیشک کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھا کر دیا، اس لیے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ کیا تم لوگ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان نہیں کرتے کہ اس نے جب تمہیں پیدا کیا تو تم اپنے پروردگار کی معرفت رکھتے ہو اور تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے تم اس کی تصدیق کرنے والے ہو، جبکہ تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا؟ اللہ کی قسم! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو کسی بھی نبی کو ایسی شدید صورت حال میں مبعوث نہیں کیا گیا جیسی صورت حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا گیا، یعنی (انبیاء کی آمد کے درمیان) وقفہ آ چکا تھا اور جاہلیت کا زمانہ تھا۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بتوں کی عبادت کرنے سے بہتر کوئی اور دین نہیں ہے، پھر فرق کرنے والی (کتاب یا اسلام) آئی جس نے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا، اور اس نے باپ اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی کروا دی، یہاں تک کہ ایک شخص اپنی اولاد یا اپنے والد یا اپنے بھائی کو کافر دیکھتا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے کھول دیا تھا۔ وہ یہ بات جانتا تھا کہ اگر اس کا کوئی قریبی رشتہ دار (کفر کی حالت میں) ہلاک ہوا تو جہنم میں جائے گا، تو اس کی آنکھ اس بات پر کیسے ٹھنڈی ہو سکتی تھی جبکہ وہ یہ جانتا تھا کہ اس کی محبوب ہستی جہنم میں جائے گی؟ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ﴾ [سورة الفرقان: 74] ”اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6552]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6552، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24333، والطبراني فى(الكبير) برقم: 600» «رقم طبعة با وزير 6518»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2823). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
400. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6553
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ إِِلَى كِسْرَى، وَقَيْصَرَ، وَأُكَيْدِرَ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ تَعَالَى" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور دومہ (کے حکمران) اکیدر کو مکتوبات بھجوائے، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف (آنے کی) دعوت دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6553]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1774، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6553، 6554، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8796، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2716، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12550» «رقم طبعة با وزير 6519»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (74). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
401. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به خالد بن قيس عن قتادة-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف خالد بن قیس نے قتادہ سے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6554
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ إِِلَى كِسْرَى، وَقَيْصَرَ، وَأُكَيْدِرَ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور دومہ (کے حکمران) اکیدر کو خط لکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کی دعوت دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6554]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1774، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6553، 6554، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8796، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2716، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12550» «رقم طبعة با وزير 6520»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
402. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر وصف كتب النبي صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر وصف کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط کیسے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6555
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ مِنْ فِيهِ إِِلَى فِي، قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِِذْ جِيءَ" بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى هِرَقْلَ، جَاءَ بِهِ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، فَدَفَعَهُ إِِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا تُرْجُمَانَهُ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِِنِّي سَائِلُ هَذَا الرَّجُلِ عَنْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِِنْ كَذَّبَنِي فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَاللَّهِ لَوْلا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبَ، لَكَذَبْتُهُ، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ، قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: مَنْ تَبِعَهُ: أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَائُهُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَائُهُمْ، قَالَ: فَهَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ، قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لا، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِِيَّاهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ الْحَرْبُ سِجَالا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، يُصِيبُ مِنَّا، وَنُصِيبُ مِنْهُ، قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ، أَوْ قَالَ: هُدْنَةٍ، لا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ، قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لا، ثُمَّ قَالَ لِتُرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: إِِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فِيكُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، فَزَعَمْتَ أَنْ لا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ: أَضُعَفَاءُ النَّاسِ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ: بَلْ، ضُعَفَاؤُهُمْ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ: أَنْ لا، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا، وَكَذَلِكَ الإِِيمَانُ إِِذَا خَالَطَهُ بَشَاشَةُ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الإِِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالٌ، تَنَالُونَ مِنْهُ، وَيَنَالُ مِنكمْ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا، وَكَذَلِكَ الأَنْبِيَاءُ لا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قَبْلَ قَوْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ مَا يَأْمُرُكُمْ؟، قَالَ: قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ، قَالَ: إِِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًَّا، فَإِِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ إِِلَيْهِ، لأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ، فَإِِذَا فِيهِ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِِسْلامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِِنَّ عَلَيْكَ إِِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ: يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ سورة آل عمران آية 64، إِِلَى قَوْلِهِ: اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 64"، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ، ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ عِنْدَهُ، وَكَثُرَ اللَّغَطُ، فَأُمِرَ بِنَا، فَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ لأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ جَلَّ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الأَصْفَرِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الإِِسْلامَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے بذاتِ خود مجھے یہ بات بتائی، وہ کہتے ہیں: جس عرصے میں ہمارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح کا معاہدہ چل رہا تھا، اس دوران میں شام گیا، ابھی میں شام میں موجود تھا کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب (وہاں کے حکمران) ہرقل کے نام آیا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہ مکتوب لے کر آئے تھے، انہوں نے وہ مکتوب بصریٰ کے گورنر کے سپرد کیا، بصریٰ کے گورنر نے وہ خط ہرقل کو بھجوا دیا، ہرقل نے دریافت کیا: کیا یہاں ان صاحب کی قوم سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، (سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) تو مجھے قریش کے کچھ افراد سمیت بلا لیا گیا، جب ہم لوگ ہرقل کے پاس آئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، اس نے دریافت کیا: یہ صاحب جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں، تم میں سے نسبی طور پر کون ان کے سب سے زیادہ قریب ہے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: میں، تو اس نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا، پھر اس نے اپنے ترجمان کو بلوایا اور کہا: تم ان سے کہہ دو کہ میں اس شخص سے ان صاحب کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں، اگر یہ شخص میرے ساتھ غلط بیانی کرے تو تم لوگ اسے جھوٹا قرار دے دینا۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میری کسی بات کو جھٹلایا جا سکتا ہے تو میں وہاں غلط بیانی کر دیتا، پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس شخص سے دریافت کرو کہ تمہارے درمیان ان صاحب کا حسب کیسا ہے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: وہ ہمارے درمیان صاحبِ حسب شمار ہوتے ہیں۔ قیصر نے دریافت کیا: کیا ان کے آبا و اجداد میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، اس نے دریافت کیا: ان صاحب کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے تم نے کبھی ان پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، اس نے دریافت کیا: ان کے پیروکار کون لوگ ہیں، معزز افراد ہیں یا کمزور لوگ ہیں؟ میں نے جواب دیا: بلکہ کمزور لوگ ہیں، اس نے دریافت کیا: کیا ان میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے؟ میں نے کہا: ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس نے دریافت کیا: کیا ان لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا یعنی اس میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر (اس نے اپنے دین کو چھوڑا ہو)؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: جی نہیں، قیصر نے دریافت کیا: کیا تم نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی ہوئی ہے؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں، اس نے دریافت کیا: تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا نتیجہ کیا رہا؟ میں نے کہا: جنگ ہمارے اور ان کے درمیان برابر رہی، انہیں ہماری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، قیصر نے دریافت کیا: کیا انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، ہمارا اور ان کا طے شدہ مدت تک معاہدہ ہے، ہمیں نہیں معلوم وہ آگے چل کر اس بارے میں کیا کریں گے، (سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) صرف میں یہ کلمہ غلط بیانی کے طور پر شامل کر سکا، قیصر نے دریافت کیا: کیا ان سے پہلے کسی اور شخص نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا؟ میں نے جواب دیا: جی نہیں، پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: تم اس سے کہو کہ میں نے تم سے ان صاحب کے حسب کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ تمہارے درمیان کیسا ہے، تو تم نے یہ بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان صاحبِ حسب شمار ہوتے ہیں، رسول اسی طرح ہوتے ہیں، انہیں اپنی قوم کے صاحبِ حسب لوگوں میں مبعوث کیا جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان کے آبا و اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، تو میں نے اندازہ لگایا کہ اگر ان کے آبا و اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو پھر میں یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ صاحب اپنے آبا و اجداد کی بادشاہت حاصل کرنا چاہتے ہیں، پھر میں نے تم سے ان کے پیروکاروں کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ کمزور لوگ ہیں یا معزز افراد ہیں، تو تم نے کہا: وہ کمزور لوگ ہیں، رسولوں کے پیروکار ایسے ہی ہوتے ہیں، میں نے تم سے سوال کیا کہ ان کے یہ دعویٰ کرنے سے پہلے کیا تم نے ان پر (جھوٹا ہونے کا) الزام عائد کیا، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، اس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ جو شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کیسے غلط بیانی کر سکتا ہے، پھر میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد اس سے ناراض ہو کر ان کے دین کو چھوڑ کر مرتد بھی ہوا، تم نے جواب دیا: جی نہیں، ایمان ایسا ہی ہوتا ہے جب اس کے اندر دل کی بشاشت مل جائے (یا اس کی بشاشت دل میں گھر کر جائے)، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان لوگوں میں اضافہ ہو رہا ہے یا کمی ہو رہی ہے، تو تم نے جواب دیا: اضافہ ہو رہا ہے، ایمان اسی طرح ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جاتا ہے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا تم لوگوں نے ان کے ساتھ کوئی جنگ بھی کی، تو تم نے جواب دیا: تمہارے اور ان کے درمیان جنگ کا نتیجہ برابر برابر رہا، تمہیں ان کی طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں تمہاری طرف سے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، رسولوں کو اسی طرح آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے لیکن انجام کار انہی کے حق میں (صورت حال ہوتی ہے)، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے کبھی معاہدے کی خلاف ورزی کی، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، انبیاء اسی طرح ہوتے ہیں، وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے، میں نے تم سے سوال کیا کہ کیا ان سے پہلے بھی کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا، تو تم نے جواب دیا: جی نہیں، میں نے سوچا اگر ان سے پہلے کسی اور شخص نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو میں یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص کسی دوسرے کے قول کی پیروی کر رہا ہے، پھر قیصر نے دریافت کیا: وہ تمہیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو میں نے جواب دیا: وہ ہمیں نماز پڑھنے، زکوٰۃ ادا کرنے، رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنے اور پاک دامنی کا حکم دیتے ہیں۔ قیصر نے کہا: تم نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، اگر تو یہ واقعی سچ ہے تو پھر وہ واقعی نبی ہیں، مجھے اس بات کا علم تھا کہ ان کا ظہور ہونے والا ہے لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ظہور تم میں ہوگا، اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ سکتا ہوں، تو میں ان سے ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں ان کے پاس موجود ہوتا تو میں ان کے پاؤں دھوتا کیونکہ عنقریب ان کی بادشاہی میرے ان پاؤں کے نیچے تک پہنچ جائے گی۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب منگوایا اور اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ”اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہیں جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے،“ «مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ» ”یہ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روم کے حکمران ہرقل کے نام ہے،“ «سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى» ”وہ شخص سلامت رہے جو ہدایت کی پیروی کر لے،“ «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ» ”امابعد! میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے، تم اسلام قبول کر لو اللہ تعالیٰ تمہیں دگنا اجر عطا کرے گا اور اگر تم منہ موڑ لیتے ہو تو اریسیوں کا گناہ بھی تمہارے سر ہوگا،“ ﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 64] ”اے اہل کتاب! آگے آؤ! اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں گے“ (یہ آیت یہاں تک ہے) ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں“ جب قیصر وہ مکتوب پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے آس پاس آوازیں بلند ہو گئیں اور شور شرابہ ہوا، اس کے حکم کے تحت ہمیں وہاں سے نکال دیا گیا، جب ہم وہاں سے باہر آئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا معاملہ اتنا زبردست ہو گیا ہے کہ بنو اصفر کا حکمران بھی ان سے خوف کھاتا ہے۔ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اسے غالب کر دے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6555]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7، 51، 2681، 2804، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1773، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6555، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10998، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2717، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18679، 20494، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2406» «رقم طبعة با وزير 6521»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (355)، «الإرواء» (1/ 37)، «صحيح الأدب المفرد» (860): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
403. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر كتبة النبي صلى الله عليه وسلم إلى حبر تيماء-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبر تیماء کو خط لکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6556
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سِوَارٍ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَتَبَ إِِلَى حَبْرِ تَيْمَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیماء کے یہودی عالم کی طرف خط لکھا (اور اس خط میں) اسے سلام بھیجا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6556]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6556، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 81، 82، 83، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 898» «رقم طبعة با وزير 6522»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن الإسناد - انظر التعليق. * [أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ] قال الشيخ: هو أحمد بن الصبَّاح بن أبي سريج الرازي، ثقهٌ حافظٌ مِنْ شيوخ البخاري. ومن فوقَه ثِقَات من رجال الشيخين؛ إِلاَّ أَنَّ في رِوَاية ورقاء - وهو ابن عمر اليَشْكُرِي -، عن منصور - وهو ابن المُعتمر - ضعفا ً؛ فالإسناد حسن - إن شاء الله تعالى -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
404. باب كتب النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر كتبة النبي صلى الله عليه وسلم كتابه إلى بني زهير-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط (مکاتیب) کا بیان - ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زہیر کو خط لکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6557
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلاءِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: كُنَّا بِالْمِرْبَدِ، فَإِِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَشْعَثَ الرَّأْسِ بِيَدِهِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ، فَقُلْنَا لَهُ: كَأَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ؟ قَالَ: أَجَلْ، فَقُلْنَا لَهُ: نَاوِلْنَا هَذِهِ الْقِطْعَةَ الأَدِيمِ الَّتِي فِي يَدِكَ، فَأَخْذَنَاهَا، فَقَرَأْنَا مَا فِيهَا، فَإِِذَا فِيهَا: " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِِلَى بَنِي زُهَيْرٍ، أَعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَأَمَانِ رَسُولِهِ"، قَالَ: فَقُلْنَا: مَنْ كَتَبَ لَكَ هَذَا؟، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: قُلْنَا: مَا سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْنَا: مَا سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئًا؟، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصُّدُورِ" ، فَقُلْنَا لَهُ: أَسَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ: أَلا أَرَاكُمْ تَتَّهِمُونِي، فَوَاللَّهِ لا أُحَدِّثُكُمْ بِشَيْءٍ، ثُمَّ ذَهَبَ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا النَّمِرُ بْنُ تَوْلَبٍ الشَّاعِرُ.
سیدنا یزید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ کھجور سکھانے کی جگہ پر موجود تھے، وہاں ایک شخص آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا، ہم نے اس سے کہا: تم کوئی دیہاتی محسوس ہوتے ہو، اس نے جواب دیا: جی ہاں، ہم نے اس سے کہا: یہ چمڑے کا ٹکڑا ہمیں پکڑاؤ جو تمہارے ہاتھ میں ہے، ہم نے اسے حاصل کیا اور اس میں موجود عبارت کو پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا: ”(یہ مکتوب) اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو زہیر کی طرف ہے؛ تم لوگ مال غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخصوص حصہ اور خاص حصہ ادا کرو، تم لوگ اللہ اور اس کے رسول کی امان کے مطابق امن میں رہو گے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے (اس دیہاتی سے) دریافت کیا: یہ خط تمہیں کس نے لکھ کر دیا تھا؟ اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، ہم نے دریافت کیا: کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بھی کوئی بات سنی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”صبر کے مہینے (یعنی رمضان کے مہینے) کے روزے رکھنا اور ہر مہینے میں تین دن روزے رکھنا، سینوں کے غضب (یا کینے) کو رخصت کر دیتا ہے۔“ ہم نے اس شخص سے دریافت کیا: کیا تم نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ اس نے کہا: تم لوگوں کے بارے میں، میں یہ گمان نہیں کر رہا تھا کہ تم مجھ پر الزام عائد کرو گے، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کوئی حدیث نہیں سناؤں گا، پھر وہ شخص چلا گیا، (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ شخص نمر بن تولب تھا جو شاعر تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6557]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1178، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6557، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4157، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4432، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2999، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12873، 13498، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21068» «رقم طبعة با وزير 6523»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 82). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں