🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
491. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن أول حادثة في هذه الأمة تكون من البحرين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں پہلی حادثہ بحرین سے ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6648
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ:" هَا، إِِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، إِِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَشْرِقُ الْمَدِينَةِ هُوَ الْبَحْرَيْنِ وَمُسَيْلِمَةُ مِنْهَا، وَخُرُوجُهُ كَانَ أَوَّلَ حَادِثٍ حَدَثَ فِي الإِِسْلامِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”اس طرف فتنہ ہو گا، فتنہ اس طرف ہو گا، وہاں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مدینہ منورہ کا مشرق بحرین ہے اور مسیلمہ کذاب کا خروج بھی وہیں سے ہوا تھا اور اس کا خروج اسلام میں پیدا ہونے والی سب سے پہلی بدعت تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6648]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1037، 3104، 3279، 3511، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2905، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3576، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6648، 6649، 7301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2268، 3953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4770» «رقم طبعة با وزير 6614»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فضائل الشام». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
492. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ إِِلَى الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ:" إِِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا، إِِنَّ الْفِتْنَةَ هُنَا، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”بے شک فتنہ اس طرف ہوگا، بے شک فتنہ اس طرف ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6649]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1037، 3104، 3279، 3511، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2905، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3576، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6648، 6649، 7301، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2268، 3953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4770» «رقم طبعة با وزير 6615»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
493. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف ما كان يتوقع صلى الله عليه وسلم من وقوع الفتن من ناحية البحرين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو بحرین کی طرف سے فتنوں کے وقوع کی توقع تھی اس کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6650
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ، مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ، وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ، وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً" ، قَالَ: وَقَالَ أَصْحَابِي: قَالَ: هُمْ قَرِيبٌ مِنْ ثَلاثِينَ كَذَّابًا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک قیامت سے پہلے کچھ کذاب ہوں گے، جن میں ایک یمامہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہے اور ایک صنعاء سے تعلق رکھنے والا شخص عنسی ہے۔ ان میں سے ایک حمیر سے تعلق رکھتا ہو گا اور ان میں سے ایک دجال ہو گا جو فتنے کے اعتبار سے ان سب سے بڑا ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میرے ساتھیوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”ان کذابوں کی تعداد 30 کے قریب ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6650]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2923، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6650، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14945، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38721، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1898» «رقم طبعة با وزير 6616»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر التعليقات. * [قَالَ] قال الشيخ: يعني جابرا؛ كما في رواية أحمد. * قال الشيخ: إسناده حسن، وفي الحسن بن الصباح كلامٌ يسيرٌ من قِبَلِ حِفْظِه، مع كَونِه من شيوخ البخاري. وله شاهد عن الحسن البصري ... مُرسلاً: أخرجه ابن أبي شَيبةَ (12/ 161 / 19379). وإسناده حسن؛ لولا عنعنة مبارك - وهو ابن فضالة -. والحديث له طرق أخرى من رواية ابن لهيعة، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أخرجه أحمد (3/ 345). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
494. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن هذه اللفظة ثلاثين كذابا إنما هي من كلام المصطفى صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ تیس کذابوں کی لفظ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6651
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ دَجَّالُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، حَتَّى يَفِيضَ الْمَالُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ الْقَتْلُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک 30 دجالوں کا خروج نہیں ہو گا جن میں سے ہر ایک یہ کہتا ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے یہاں تک کہ مال عام ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور «الْهَرْجُ» ”حرج“ بکثرت ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حرج سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل، قتل۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6651]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 85، 1036، 1412، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 157، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6651، 6680، 6681، 6700، 6711، 6717، 6718، 6734، 6838، 6845، 6846، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8506، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4255، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2218، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16806، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7282» «رقم طبعة با وزير 6617»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1683). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
495. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن مسيلمة الكذاب كان أصحاب رسول الله يخوضون فيه في حياته صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ مسيلمہ کذاب کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کی زندگی میں گفتگو کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6652
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ مُسَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرَةَ : أَكْثَرَ النَّاسِ فِي شَأْنِ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ،" فِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِي شَأْنِهِ، فَإِِنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ قَبْلَ الدَّجَّالِ، وَإِِنَّهُ لَيْسَ بَلَدٌ إِِلا يَدْخُلُهُ رُعْبُ الْمَسِيحِ، إِِلا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیلمہ کذاب کے بارے میں کچھ ارشاد فرمانے سے پہلے لوگ بکثرت اس کے معاملے میں بات چیت کیا کرتے تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”امابعد! جہاں تک اس شخص کے معاملے کا تعلق ہے جس کے معاملے میں تم لوگ اکثر گفتگو کر رہے ہوتے ہو، دجال سے پہلے ظاہر ہونے والے 30 کذابوں میں سے یہ ایک کذاب ہے اور دجال کا فتنہ ہر شہر میں داخل ہو گا، صرف مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو گا کیونکہ اس کے ہر داخلے پر دو فرشتے تعینات ہیں جو دجال کے رسوخ کو اس سے دور کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6652]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1879، 3239، 7126، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3731، 6652، 6805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8719، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20756»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره دون ما بين الهلالين - «صحيح الموارد» (1588). * [عِيَاضِ بْنِ مُسَافِعٍ] قال الشيخ: قلت: لا يعرف إِلاَّ بهذا الإسناد، ولذلك قال الحسيني: «لا يُدْرَى مَن هو؟ »، وأقرَّه الحافظ في «التعجيل» (327/ 836). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
496. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر رؤيا المصطفى صلى الله عليه وسلم في مسيلمة والعنسي-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسيلمہ اور عنسی کے بارے میں رؤيا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6653
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِيَ يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ: مُسَيْلِمَةَ وَالْعَنْسِيَّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سونے کے بنے ہوئے دو کنگن دیکھے، میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے دو کذاب مراد ہیں، مسیلمہ اور عنسی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6653]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3620، 3621، 4373، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6653، 6654، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8296، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3922، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16824، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2409» «رقم طبعة با وزير 6619»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
497. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن مسيلمة طلب من المصطفى صلى الله عليه وسلم خلافته بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ مسيلمہ نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے بعد خلافت مانگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6654
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي هِلالٍ: فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُسَيْلِمَةَ قَدِمَ فِي جَيْشٍ عَظِيمٍ حَتَّى نَزَلَ فِي نَخْلٍ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يَقُولُ: إِِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الأَمْرَ بَعْدَهُ تَبِعْتُهُ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا مَعَهُ إِِلا ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذِهِ مَا أَعْطَيْتُكَ، وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّكَ اللَّهُ، وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُكَ عَنِّي، وَإِِنِّي لأَحْسَبُكَ الَّذِي رَأَيْتُ فِيمَا أُرِيتُ" ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَطَلَبْتُ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَحَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، أُرِيتُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا، فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي: الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَاءَ، وَمُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسیلمہ ایک بڑا لشکر لے کر آیا یہاں تک کہ انہوں نے ایک کھجوروں کے باغ میں پڑاؤ کیا۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی کہ وہ یہ کہتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد مجھے اپنا نائب مقرر کر دیں تو میں ان کی پیروی کر لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک میں ایک شاخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس آ کر ٹھہرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھ سے یہ شاخ مانگو تو میں تمہیں یہ بھی نہیں دوں گا اور اگر تم منہ پھیر کر چلے جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے پاؤں کاٹ دے گا۔ یہ ثابت میری طرف سے تمہیں جواب دے دے گا، میرا تمہارے بارے میں یہ خیال تھا کہ تم وہی شخص ہو جس کے بارے میں مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خوابوں کے بارے میں تحقیق کی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے سے بنے ہوئے دو کنگن ہیں۔ میں ان دونوں کی وجہ سے بڑا پریشان ہوا تو میری طرف یہ بات وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونک ماروں، میں نے ان پر پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے اس کی تاویل یہ کی کہ اس سے مراد وہ دونوں کذاب ہیں جن کا ظہور میرے بعد ہو گا۔ ایک عنسی ہے، جو صنعاء کا رہنے والا ہے اور ایک مسیلمہ ہے، جو یمامہ کا رہنے والا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6654]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3620، 3621، 4373، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2273، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6653، 6654، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8296، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2292، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3922، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16824، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2409» «رقم طبعة با وزير 6620»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
498. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن الذي يلي أمر الناس إلى أن تقوم الساعة يكون من قريش لا من غيرها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ قیامت تک لوگوں کے امور کی قیادت قریش سے ہوگی نہ کہ دوسروں سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6655
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ هَذَا الأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ فِي النَّاسِ اثْنَانِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”یہ معاملہ (یعنی حکومت) ہمیشہ قریش میں رہے گا، جب تک لوگوں میں سے دو آدمی بھی باقی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6655]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3501، 7140، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6266، 6655، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5379، 16629، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4925» «رقم طبعة با وزير 6621»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - تقدم (6233). تنبيه!! رقم (6233) = (6266) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
499. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر إخبار المصطفى صلى الله عليه وسلم عن خلافة أبي بكر الصديق بعده-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ابو بکر صدیق کی خلافت کی خبر دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6656
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمُقْرِئُ الْخَطِيبُ بِوَاسِطَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَتْهُ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْكَ يَعْنِي الْمَوْتَ؟ قَالَ:" إِِنْ لَمْ تَجِدِينِي، فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ" .
محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ واپس چلی جائے، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی کیا رائے ہے کہ میں دوبارہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں (یعنی اگر آپ کا وصال ہو چکا ہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے)؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ جانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6656]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3659، 7220، 7360، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2386، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6656، 6871، 6872، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3676، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16686، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17028» «رقم طبعة با وزير 6622»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3117): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
500. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن أبا بكر الصديق ثم عمر ثم عثمان ثم عليا الخلفاء بعد المصطفى صلى الله عليه وسلم ورضي الله عنهم وقد فعل-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ابو بکر صدیق، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء ہوں گے رضی اللہ عنہم اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6657
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخِلافَةُ ثَلاثُونَ سَنَةً، وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ، وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ أَنَّ آخِرَهُ يَنْقُضُ أَوَّلَهُ، إِِذِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّ الْخِلافَةَ ثَلاثُونَ سَنَةً ثُمَّ، قَالَ: وَسَائِرُهُمْ مُلُوكٌ، فَجَعَلَ مَنْ تَقَلَّدَ أُمُورَ الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ ثَلاثِينَ سَنَةٍ مُلُوكًا كُلَّهُمْ، ثُمَّ قَالَ: وَالْخُلَفَاءُ وَالْمُلُوكُ اثْنَا عَشَرَ، فَجَعَلَ الْخُلَفَاءَ وَالْمُلُوكَ اثْنَيْ عَشَرَ فَقَطْ، فَظَاهِرُ هَذِهِ اللَّفْظَةِ يَنْقُضُ أَوَّلَ الْخَبَرِ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ، وَلا يَجِبُ أَنْ يُجْعَلَ حِرْمَانُ تَوْفِيقِ الإِِصَابَةِ دَلِيلا عَلَى بُطْلانِ الْوَارِدِ مِنَ الأَخْبَارِ، بَلْ يَجِبُ أَنْ يُطْلَبَ الْعِلْمُ مِنْ مَظَانِّهِ، فَيُتَفَقَّهُ فِي السُّنَنِ حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّ أَخْبَارَ مَنْ عُصِمَ، وَلَمْ يَكُنْ يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى، إِِنْ هُوَ إِِلا وَحْيٌ يُوحَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا تَتَضَادُّ وَلا تَتَهَاتَرُ، وَلَكِنْ مَعْنَى الْخَبَرِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَعْدَ الثَّلاثِينَ سَنَةً يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُمْ: خُلَفَاءُ أَيْضًا عَلَى سَبِيلِ الاضْطِرَارِ، وَإِِنْ كَانُوا مُلُوكًا عَلَى الْحَقِيقَةِ، وَآخِرُ الاثْنَيْ عَشَرَ مِنَ الْخُلَفَاءِ كَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَلَمَّا ذَكَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِلافَةَ ثَلاثِينَ سَنَةً، وَكَانَ آخِرُ الاثْنَيْ عَشَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ مِنَ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، أُطْلِقَ عَلَى مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الأَرْبَعِ الأُوَلِ اسْمُ الْخُلَفَاءِ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَضَهُ اللَّهُ إِِلَى جَنَّتِهِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ لِثِنْتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ عَشَرَةٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ ثَانِيَ وَفَاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَيْلَةَ الاثْنَيْنِ لِسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَيْنَ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَلاثَةَ أَشْهُرٍ وَاثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ يَوْمًَا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الثَّانِي مِنْ مَوْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ثُمَّ قُتِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ عَشْرَ سِنِينَ وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ وَأَرْبَعَ لَيَالٍ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً إِِلا اثْنَيْ عَشَرَ يَوْمًا، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَقُتِلَ، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ خَمْسَ سِنِينَ وَثَلاثَةَ أَشْهُرٍ إِِلا أَرْبَعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ يَوْمُ السَّابِعَ عَشَرَ مِنْ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ، بَايَعَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ بِالْكُوفَةِ، وَبَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بِإِِيلِيَاءَ، ثُمَّ سَارَ مُعَاوِيَةُ يُرِيدُ الْكُوفَةَ، وَسَارَ إِِلَيْهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَالْتَقَوْا بِنَاحِيَةِ الأَنْبَارِ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى كِتَابٍ بَيْنَهُمْ بِشُرُوطٍ فِيهِ، وَسَلَّمَ الْحَسَنُ الأَمْرَ إِِلَى مُعَاوِيَةَ، وَذَلِكَ يَوْمُ الاثْنَيْنِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ إِِحْدَى وَأَرْبَعِينَ، وَتُسَمَّى هَذِهِ السَّنَةُ سَنَةُ الْجَمَاعَةِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ بِدِمَشْقَ يَوْمَ الْخَمِيسِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ، وَكَانَتْ وِلايَتُهُ تِسْعَ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ إِِلا لَيَالٍ، وَكَانَتْ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَسَبْعُونَ سَنَةً، ثُمَّ وَلِيَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ابْنُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ، وَتُوُفِّيَ بِحُوَارَيْنَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى دِمَشْقَ لأَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَلاثِينَ سَنَةً، وَكَانَتْ وِلايَتُهُ ثَلاثَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ إِِلا أَيَّامًا، ثُمَّ بُويِعَ ابْنُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ يَوْمَ النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ يَوْمَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الآخِرِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ إِِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَبَايَعَ أَهْلُ الْحِجَازِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَاسْتَوَى الأَمْرُ لِمَرْوَانَ يَوْمَ الأَرْبِعَاءِ لِثَلاثِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِدِمَشْقَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ، وَلَهُ ثَلاثٌ وَسِتُّونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ عَشَرَةَ أَشْهُرٍ إِِلا لَيَالٍ، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَبُوهُ، وَمَاتَ عَبْدُ الْمَلِكِ بِدِمَشْقَ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ سِتٍّ وَثَمَانِينَ وَلَهُ اثْنَانِ وَسِتُّونَ سَنَةً، ثُمَّ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ الْوَلِيدَ ابْنَهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الْمَلِكِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ الْوَلِيدُ بِدِمَشْقَ فِي النِّصْفِ مِنْ جُمَادَى الآخِرَةِ سَنَةَ سِتٍّ وَتِسْعِينَ، وَكَانَ لَهُ يَوْمَ مَاتَ ثَمَانٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ تِسْعَ سِنِينَ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ بُويِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخُوهُ لأُمِّهِ وَأَبِيهِ، وَتُوُفِّيَ سُلَيْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِعَشْرِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ صَفَرٍ بِدَابِقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَلَهُ خَمْسٌ وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ إِِمَارَتُهُ سَنَتَيْنِ وَثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ، ثُمَّ بَايَعَ النَّاسُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ سُلَيْمَانُ، وَتُوُفِّيَ رَحِمَهُ اللَّهُ بِدَيْرِ سَمْعَانَ مِنْ أَرْضِ حِمْصَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ إِِحْدَى وَمِائَةٍ، وَلَهُ يَوْمَ مَاتَ إِِحْدَى وَأَرْبَعُونَ سَنَةً، وَكَانَتْ خِلافَتُهُ سَنَتَيْنِ وَخَمْسَةَ أَشْهُرٍ وَخَمْسَ لَيَالٍ، وَهُوَ آخِرُ الْخُلَفَاءِ الاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهِمْ.
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خلافت تیس سال تک ہو گی، اس کے بعد بادشاہ ہوں گے، خلفاء اور بادشاہ بارہ ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا آخری حصہ اس کے پہلے حصے کا الٹ ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ ”خلافت تیس سال تک ہو گی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس کے بعد سارے بادشاہ ہوں گے، تو تیس سال گزرنے کے بعد جو بھی شخص مسلمانوں کے امور کا نگران بنے گا وہ سب لوگ بادشاہ شمار ہوں گے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد بارہ ہو گی“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء اور بادشاہوں کی تعداد تو صرف بارہ تک محدود کی ہے، اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ الفاظ ابتدائی حصے کے برعکس ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے تحت ایسا نہیں ہے اور یہ بات لازم نہیں ہے کہ اگر آدمی کسی صحیح دلیل تک پہنچنے کی توفیق سے محروم رہا ہو تو وہ منقول روایات کو غلط قرار دینا شروع کر دے، بلکہ یہ بات لازم ہے کہ وہ علم کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل کرے اور سنن کے بارے میں سمجھ بوجھ حاصل کرے تاکہ اسے یہ بات پتہ چل جائے کہ وہ ذات جو معصوم ہے اور جو خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتی بلکہ وہی کلام کرتی ہے جو ان کی طرف وحی کیا جاتا ہے، ان کے بیان کردہ فرامین میں کوئی تضاد اور کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ تیس سال گزرنے کے بعد جو حکمران آئیں گے انہیں اضطراری طور پر (یعنی مجبوری کے عالم میں) خلفاء کہا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ درحقیقت بادشاہ ہوں گے، اور ان بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کر دی کہ حقیقی خلافت تیس سال تک ہو گی اور پھر اس کے بعد بارہ خلفاء میں سے آخری عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ہیں تو ان کا شمار خلفاء راشدین مہدیین میں ہو گا، تو ان کے درمیان اور پہلے چار خلفاء کے درمیان جو لوگ آئے ہیں ان کے لیے لفظ خلفاء استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارکہ کو اللہ تعالیٰ نے قبض کیا اور جنت کی طرف منتقل کیا تو یہ پیر کے دن بارہ ربیع الاول کی رات 11 ہجری کی بات ہے، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے دوسرے دن یعنی منگل کے دن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال 17 جمادی الثانی کی رات کو ہوا، ان کی خلافت دو سال تین ماہ اور بائیس دن بنتی ہے۔ اس کے بعد اگلے دن یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتقال کے اگلے دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، ان کی مدت خلافت دس سال چھ ماہ چار دن بنتی ہے، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کی مدت خلافت بارہ سال سے بارہ دن کم بنتی ہے، پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا، وہ شہید ہوئے، ان کی خلافت پانچ سال تین ماہ بنتی ہے جس میں سے چودہ دن کم ہوں گے، جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو یہ رمضان کی سترہ تاریخ تھی اور سنہ چالیس ہجری تھا۔ اس کے بعد اہل کوفہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اہل شام نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر عالیہ میں بیعت کر لی، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف (جنگ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ان کی طرف روانہ ہوئے، انبار کے قریب دونوں کا سامنا ہوا تو انہوں نے ایک معاہدے کے تحت صلح کر لی جس میں کچھ شرائط پائی جاتی تھیں، تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے حکومت کا معاملہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، یہ 25 ربیع الاول پیر کے دن کی بات ہے اور اکتالیس ہجری کا سال ہے، اس سال کو اجتماعیت کا سال قرار دیا گیا۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دمشق میں انتقال ہوا، یہ پیر کے دن بائیس رجب المرجب ساٹھ ہجری کی بات ہے، ان کی حکومت 19 سال اور چار ماہ سے کچھ دن کم تھی، جس وقت ان کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر 78 برس تھی، اس کے بعد ان کا بیٹا یزید بن معاویہ پیر کے دن ان کا جانشین بنا، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن اس کے والد کا انتقال ہوا تھا، اس کا انتقال حوارین میں ہوا جو دمشق کی ایک بستی ہے، یہ چودہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے، اس وقت اس کی عمر 38 سال تھی اور اس کی حکومت تین سال آٹھ ماہ سے کچھ دن کم تھی۔ پھر اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کے ہاتھ پر بیعت کی گئی، یہ پندرہ ربیع الاول سن 64 ہجری کی بات ہے، اس کا انتقال 25 ربیع الثانی 64 ہجری میں ہوا، اس کی حکومت چالیس دن تھی، جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی عمر اکیس برس تھی، پھر اہل شام نے مروان بن حکم کی بیعت کر لی اور اہل حجاز نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی، پھر بدھ کے دن تین ذی قعدہ سن 64 ہجری میں مروان مکمل طور پر حکمران بن گیا، مروان بن حکم کا انتقال رمضان کے مہینے میں دمشق میں 65 ہجری میں ہوا، اس وقت اس کی عمر 63 برس تھی اور اس کی حکومت دس ماہ سے کچھ دن کم رہی۔ پھر اہل شام نے عبدالملک بن مروان کے ہاتھ پر بیعت کر لی، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا، عبدالملک کا انتقال دمشق میں شوال میں ہوا، یہ سن 86 ہجری کی بات ہے، اس وقت اس کی عمر 62 سال تھی، پھر اہل شام نے اس کے بیٹے ولید کے ہاتھ پر بیعت کر لی، یہ اسی دن کی بات ہے جس دن عبدالملک کا انتقال ہوا تھا، پھر ولید کا انتقال دمشق میں پندرہ جمادی الثانی 96 ہجری میں ہوا، جس دن اس کا انتقال ہوا اس کی عمر 48 برس تھی اور اس کی حکومت نو سال آٹھ ماہ تک رہی، پھر سلیمان بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کی گئی جو اس کا سگا بھائی تھا۔ سلیمان کا انتقال دابق کے مقام پر جمعہ کے دن دس صفر 99 ہجری میں ہوا، اس وقت اس کی عمر 45 سال تھی اور اس کی حکومت دو سال آٹھ ماہ پانچ دن تک رہی تھی، پھر لوگوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہاتھ پر اسی دن بیعت کی جس دن سلیمان کا انتقال ہوا تھا، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال حمص کی سرزمین پر ”دیر سمعان“ کے مقام پر ہوا، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے، یہ پانچ رجب المرجب 101 ہجری کی بات ہے، جس دن ان کا انتقال ہوا اس دن ان کی عمر اکتالیس برس تھی اور ان کی خلافت دو سال پانچ ماہ اور پانچ دن تک رہی، یہ ان بارہ خلفاء میں سے آخری خلیفہ تھے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6657]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6657، 6943، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4464، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8099، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4646، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2226، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22337» «رقم طبعة با وزير 6623»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (459). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں