🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
481. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف قدر ذاك المقام الذي قال فيه المصطفى صلى الله عليه وسلم ما قال-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس مقام کی مقدار کی وصف جو مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6638
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَر الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَخَطَبَ حَتَّى حَضَرَتِ الظُّهْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَخَطَبَنَا حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَحَدَّثَنَا بِمَا كَانَ وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَأَعْلَمُنَا أَحْفَظُنَا" .
سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ جن کا نام عمرو بن اخطب ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ”جو کچھ ہو چکا ہے اور جو کچھ ہو گا،“ تو جس شخص نے اس بات کو سب سے زیادہ یاد رکھا وہ ہم میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6638]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2892، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6638، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8593، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23354، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6845، والطبراني فى(الكبير) برقم: 46» «رقم طبعة با وزير 6604»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
482. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قدر ما بقي من هذه الدنيا في جنب ما خلا منها-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس دنیا کا جو حصہ باقی ہے اس کے مقابلے میں جو گزر چکا اس کی مقدار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6639
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلا مِنَ الأُمَمِ، كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ، وَإِِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، قَالَ: ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالَ: فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، وَقَالُوا: نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلا وَأَقَلَّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لا، قَالَ: فَإِِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہارا عرصہ اس طرح ہے جیسے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت ہوتا ہے۔ تمہاری، یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو کچھ لوگوں کو مزدور رکھتا ہے اور یہ کہتا ہے: کون شخص ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک میرے لیے کام کرے گا؟ تو یہودیوں نے ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کیا۔ پھر اس شخص نے کہا: کون شخص دوپہر سے لے کر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کر لیا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پھر تم لوگ آئے جنہوں نے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کیا۔ اس بات پر یہودی اور عیسائی غصے میں آ گئے، انہوں نے کہا: ہم نے تو زیادہ عمل کیا ہے اور ہمیں تھوڑا معاوضہ دیا گیا ہے! تو پروردگار نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے حق کے حوالے سے تم پر کوئی زیادتی کی؟ وہ جواب دیتے ہیں: جی نہیں۔ تو پروردگار نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، جسے میں چاہوں گا اسے عطا کروں گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6639]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 557، 2268، 2269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6639، 7217، 7221، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2871، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11758، 11759، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4596» «رقم طبعة با وزير 6605»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (504): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
483. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قرب الساعة من النبوة بالإشارة المعلومة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ نبوت سے قیامت کی قربت معلوم اشارے سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6640
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ بِالرِّيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، وَقَتَادَةَ ، وَحَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، قَالُوا: سَمِعْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا ، وَأَشَارَ بِأُصْبَعَيْهِ، قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ، يَقُولُ: كَفَضْلِ إِِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ"، أَرَادَ بِهِ أَنِّي بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ آخَرُ، لأَنِّي آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَعَلَى أُمَّتِي تَقُومُ السَّاعَةُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: قتادہ رحمہ اللہ نے یہ بات کہی ہے: یہ اس طرح ہے جیسے ایک کو دوسری پر فضیلت حاصل ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے“ اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہو کہ ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے“ جیسے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی ہوتی ہے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری امت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6640]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6504، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2951، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6640، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8605، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2214، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2801، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12429» «رقم طبعة با وزير 6606»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3220): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
484. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف الأصبعين اللذين أشار المصطفى صلى الله عليه وسلم بهما في هذا الخبر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ وہ دو انگلیاں جن کی طرف مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر میں اشارہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6641
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ"، وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6641]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6505، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6641، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4040، والبزار فى (مسنده) برقم: 9001» «رقم طبعة با وزير 6607»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - المصدر نفسه: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
485. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر ثان يصرح بعموم هذا الخطاب الذي ذكرناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر دوسری خبر جو اس خطاب کی عمومیت کو واضح کرتی ہے جو ہم نے ذکر کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الإِِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِِبْهَامَ وَالْوُسْطَى: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ ارشاد فرمایا: ”مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6642]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4936، 5301، 6503، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2950، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6642، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23259» «رقم طبعة با وزير 6608»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
486. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر نفي المصطفى صلى الله عليه وسلم كون النبوة بعده إلى قيام الساعة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد قیامت تک نبوت کے ہونے کی نفی کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6643
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِيٍّ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، غَيْرَ أَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6643]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3706، 4416، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2404، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6643، 6926، 6927، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4602، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2999، 3724، 3731، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 115، 121، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13522، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1481» «رقم طبعة با وزير 6609»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره، بل هو متواتر - «الإرواء» (8/ 127 / 2473)، وسيأتي من حديث سعد (6887). تنبيه!! رقم (6887) = (6926) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
487. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر العلة التي من أجلها قال صلى الله عليه وسلم هذا القول-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وجہ کہ جس کی بنا پر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6644
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا بَلَغَ ضَجْنَانَ، سَمِعَ بُغَامَ نَاقَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَعَرَفَهُ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنِي؟ قَالَ: خَيْرٌ، إِِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِبَرَاءَةَ، فَلَمَّا رَجَعْنَا انْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي؟ قَالَ: خَيْرٌ، أَنْتَ صَاحِبِي فِي الْغَارِ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُبَلِّغُ غَيْرِي، أَوْ رَجُلٌ مِنِّي" ، يَعْنِي عَلِيًّا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو (امیرالحج بنا کر) بھیجا، جب وہ ضجنان کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کی آواز کو سنا اور وہ اسے پہچان گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”میرا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ”بہتر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (کفار کے ساتھ کیے گئے ہر معاہدے) سے لاتعلقی (کے اعلان کے ہمراہ) بھیجا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) جب ہم لوگ واپس آئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے۔ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا کیا معاملہ ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہتر ہے، تم غار میں میرے ساتھی رہے ہو لیکن صورت حال یہ تھی کہ میرے علاوہ یا مجھ سے تعلق رکھنے والے (میرے کسی خاندانی عزیز) کے علاوہ اور کوئی شخص یہ اعلان نہیں کر سکتا تھا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6644]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 6610»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق على صحيح كشف الأستار» (2485). * [وَأَنْتَ مَعِي عَلَى الحَوْضِ] قال الشيخ: زيادة من «الدُّرِّ المنثور» (3/ 210)، وقد عزاه لابن حبَّان، وابن مردويه، وهي ثابتة في بعض روايات القصَّة، انظر تعليقي على «صحيح كشف الأستار» (2485). تنبيه!! ما بين المعقوفين زيادة من «طبعة باوزير» وليس موجود في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
488. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف قراءة علي رضي الله عنه سورة براءة على الناس-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ علی رضی اللہ عنہ نے سورہ براءت لوگوں پر پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6645
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُمْ حِينَ رَجَعُوا إِِلَى الْمَدِينَةِ مِنْ عُمْرَةِ الْجِعْرَانَةِ، بَعَثَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْحَجِّ، فَأَقْبَلْنَا مَعَهُ، حَتَّى إِِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ ثَوَّبَ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا اسْتَوَى لِلتَّكْبِيرِ، سَمِعَ الرَّغْوَةَ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَوَقَفَ عَنِ التَّكْبِيرِ، فَقَالَ: هَذِهِ رَغْوَةُ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدْعَاءِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُصَلِّيَ مَعَهُ، فَإِِذَا عَلِيٌّ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: أَمِيرٌ أَنْتَ أَمْ رَسُولٌ؟ قَالَ: لا، بَلْ رَسُولٌ، " أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةَ أَقْرَؤُهَا عَلَى النَّاسِ فِي مَوَاقِفِ الْحَجِّ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ حَتَّى إِِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ بِبَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ خَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِِذَا كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ يُعَلِّمُهُمْ مَنَاسِكَهُمْ حَتَّى إِِذَا فَرَغَ، قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةً حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَأَفَضْنَا، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو بَكْرٍ خَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ عَنْ إِِفَاضَتِهِمْ وَعَنْ نَحْرِهِمْ وَعَنْ مَنَاسِكِهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ فَقَرَأَ عَلَى النَّاسِ بَرَاءَةَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّفْرِ الأَوَّلِ، قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَدَّثَهُمْ كَيْفَ يَنْفِرُونَ وَكَيْفَ يَرْمُونَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ عَلِيٌّ، فَقَرَأَ بَرَاءَةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا، ہم لوگ ان کے ساتھ آ گئے، یہاں تک کہ جب ہم عرج کے مقام پر پہنچے تو صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی گئی، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی پشت کے پیچھے اونٹنی کی آواز سنی۔ وہ تکبیر کہنے سے رک گئے۔ انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی «الْجَدْعَاءُ» کی مخصوص آواز ہے، شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہوں، تو ہم آپ کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے، لیکن اس اونٹنی پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سوار تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ امیر کے طور پر آئے ہیں یا قاصد کے طور پر آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں بلکہ قاصد کے طور پر آیا ہوں، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بَرَاءَةٌ» (برأت) کے ہمراہ بھیجا ہے جسے میں حج کے موقع پر لوگوں کے سامنے پڑھ دوں گا۔ (راوی کہتے ہیں:) پھر ہم لوگ مکہ آ گئے، ترویہ سے ایک دن پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا (حج کے احکام بیان کیے)، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی اور اسے مکمل طور پر ختم کیا، پھر ہم لوگ ان کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب عرفہ کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں مناسکِ حج کی تعلیم دی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی یہاں تک کہ اسے مکمل طور پر ختم کیا، پھر جب قربانی کا دن آیا اور ہم لوگ واپس آئے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور انہیں واپس جانے کے بارے میں بتایا اور قربانی کے بارے میں اور دیگر مناسک کے بارے میں بتایا، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ «بَرَاءَةٌ» کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل ختم کیا۔ جب پہلی روانگی کا دن آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا، انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ کیسے روانہ ہوں گے اور کیسے رمی کریں گے، انہوں نے لوگوں کو مناسکِ حج کی تعلیم دی، جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے لوگوں کے سامنے سورۃ التوبہ کی تلاوت کی، یہاں تک کہ اسے مکمل تلاوت کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6645]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2974، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6645، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2993، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3970، 8409، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1956، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9532، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3590» «رقم طبعة با وزير 6611»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف الإسناد - «التعليق على ابن خزيمة» (2974). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
489. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار بأن أول حادثة في هذه الأمة من الحوادث قبض نبيها صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اس امت میں پہلی حادثہ اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6646
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الأَسْقَعِ ، يَقُولُ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَزْعُمُونَ أَنِّي مِنْ آخِرِكُمْ وَفَاةً، إِِنِّي مِنْ أَوَّلِكُمْ وَفَاةً، وَتَتْبَعُونِي أَفْنَادًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم لوگ یہ گمان کرتے ہو کہ تم میں سے سب سے آخر میں میری وفات ہو گی حالانکہ تم میں سب سے پہلے میری وفات ہو گی اور تم میرے بعد مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6646]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6646، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17252، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7488، 7490، والطبراني فى(الكبير) برقم: 166، 167، 168، والطبراني فى (الصغير) برقم: 90» «رقم طبعة با وزير 6612»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (851). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
490. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن ما وصفنا من أول الحوادث هو من أمارة إرادة الله جل وعلا الخير بهذه الأمة-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ پہلے حادثے سے اللہ جل وعلا کی اس امت کے لیے خیر کی ارادہ کی نشانی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6647
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ بْنِ إِِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ اللَّهَ إِِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ، قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا، وَإِِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ان لوگوں سے پہلے ان کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لیے پیش رو اور پہلے جانے والا بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں عذاب کا شکار کرتا ہے جبکہ ان کا نبی زندہ ہوتا ہے تو وہ اس نبی کی آنکھوں کو ان لوگوں کی ہلاکت کے ذریعے ٹھنڈا کرتا ہے جب وہ لوگ اس نبی کو جھوٹا قرار دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6647]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2288، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6647، 7215، والبزار فى (مسنده) برقم: 3177، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4306» «رقم طبعة با وزير 6613»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3059): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں