🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
501. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن الملوك يطلق عليهم اسم الخلفاء في الضرورة أيضا على ما ذكرناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ بادشاہوں کو ضرورت کے مطابق ہمارے بیان کردہ خلفاء کا نام بھی دیا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6658
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، وَسَيَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ مَا لا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ بَرِئَ، وَمَنْ أَمْسَكَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد ایسے خلفاء ہوں گے جو وہی عمل کریں گے جس کے بارے میں وہ علم رکھتے ہیں اور وہی کچھ کریں گے جس کا انہیں حکم دیا گیا، اور ان کے بعد کچھ اور ایسے خلفاء ہوں گے جو وہ عمل کریں گے جس کے بارے میں وہ علم نہیں رکھتے اور وہ کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا، چنانچہ جو شخص (ان کی برائی کا) انکار کرے گا وہ بری الذمہ ہو گا اور جو شخص (ان کے قریب جانے سے) خود کو روک کر رکھے گا وہ سلامت رہے گا، لیکن جو شخص راضی ہوا اور اس نے ان کی پیروی کی (اس کا معاملہ مختلف ہے)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6658]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6658، 6659، 6660، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16715، 16716، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5902» «رقم طبعة با وزير 6624»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3007). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6659
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَسَمِعَهُ عَنْ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت امام اوزاعی نے زہری سے سنی ہے، انہوں نے یہ روایت ابراہیم بن مرہ کے حوالے سے بھی زہری سے سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6659]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6658، 6659، 6660، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16715، 16716، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5902» «رقم طبعة با وزير 6624/*»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذه المتابعة لم يحكم عليها الشيخ الألباني. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
502. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المصرح بأن الأوزاعي سمع هذا الخبر عن الزهري على ما ذكرناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو واضح کرتی ہے کہ اوزاعی نے یہ خبر زہری سے سنی جیسا کہ ہم نے ذکر کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6660
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ بَعْدِي خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلَفَاءُ يَعْمَلُونَ بِمَا لا يَعْلَمُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ عَلَيْهِمْ فَقَدْ بَرِئَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عنقریب میرے بعد کچھ خلفاء ہوں گے جو اس کے مطابق عمل کریں گے جو وہ علم رکھتے ہیں اور وہ کام کریں گے جن کا انہیں حکم دیا گیا ہے، پھر ان کے بعد کچھ خلفاء آئیں گے جو وہ عمل کریں گے جس کا وہ علم نہیں رکھتے اور وہ کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا، تو جو ان کا انکار کرے وہ بری الذمہ ہو گا لیکن جو شخص راضی رہے اور پیروی کرے گا (اس کا معاملہ مختلف ہو گا)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6660]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6658، 6659، 6660، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16715، 16716، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 5902» «رقم طبعة با وزير 6625»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
503. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن الخلفاء لا يكونون بعد المصطفى صلى الله عليه وسلم إلا اثني عشر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء صرف بارہ ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6661
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ"، فَلَمَّا رَجَعَ إِِلَى مَنْزِلِهِ، أَتَتْهُ قُرَيْشٌ، قَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے، وہ سب قریش سے تعلق رکھتے ہوں گے۔“ (راوی کہتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے تو قریش آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: پھر کیا ہوگا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قتل عام ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6661]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7222، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6661، 6662، 6663، 6687، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6649، 8668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4279، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2223، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21137» «رقم طبعة با وزير 6626»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - دون قوله: فلما رجع ... - «الصحيحة» (376 و 1075). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
504. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم أراد بقوله يكون بعدي اثنا عشر خليفة أن الإسلام يكون عزيزا في أيامهم لا أنه أراد به نفي ما وراء هذا العدد من الخلفاء-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول "میرے بعد بارہ خلفاء ہوں گے" سے یہ مراد کیا کہ ان کے ایام میں اسلام عزت والا ہوگا، نہ کہ اس تعداد سے آگے خلفاء کی نفی کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6662
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَزَالُ الإِِسْلامُ عَزِيزًا إِِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، قَالَ: فَقَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا، قُلْتُ لأَبِي: مَا قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بارہ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی جو میں سمجھ نہیں سکا، میں نے اپنے والد سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ تو انہوں نے بتایا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے): ”ان سب خلفاء کا تعلق قریش سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6662]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7222، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6661، 6662، 6663، 6687، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6649، 8668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4279، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2223، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21137» «رقم طبعة با وزير 6627»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: م وخ مختصراً. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
505. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف عزة الإسلام التي ذكرناها في أيام الاثني عشر-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ ہمارے ذکر کردہ بارہ کے ایام میں اسلام کی عزت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6663
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا، يُنْصَرُونَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ عَلَيْهِ إِِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً"، قَالَ: ثُمَّ تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَصْمَتَنِيهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لأَبِي: مَا، قَالَ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ دین اس وقت تک غالب اور مضبوط رہے گا اور اس کے دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کی جاتی رہے گی، جب تک بارہ خلفاء رہیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی جو لوگوں کی وجہ سے میں سن نہیں سکا تو میں نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے بتایا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:) ”ان سب کا تعلق قریش سے ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6663]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7222، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1820، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6661، 6662، 6663، 6687، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6649، 8668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4279، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2223، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21137» «رقم طبعة با وزير 6628»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
506. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر شنع به بعض المعطلة وأهل البدع على أصحاب الحديث حيث حرموا توفيق الإصابة لمعناه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جس پر بعض معطلہ اور اہل بدعت نے اہل حدیث پر طعن کیا کہ وہ اس کے معنی کو صحیح سمجھنے میں توفیق سے محروم ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6664
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَدُورُ رَحَى الإِِسْلامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاثِينَ، فَإِِنْ هَلَكُوا، فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ، وَإِِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ شَنَّعَ بِهِ أَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَزَعَمُوا أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَشَوِيَّةٌ، يَرَوْنَ مَا يَدْفَعُهُ الْعِيَانُ وَالْحِسُّ وَيُصَحِّحُونَهُ، فَإِِنْ سُئِلُوا عَنْ وَصْفِ ذَلِكَ، قَالُوا: نُؤْمِنُ بِهِ وَلا نُفَسِّرُهُ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ مِمَّا رُمِينَا بِهِ فِي شَيْءٍ، بَلْ نَقُولُ: إِِنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَاطَبَ أُمَّتَهُ قَطُّ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْقَلْ عَنْهُ، وَلا فِي سُنَنِهِ شَيْءٌ لا يُعْلَمُ مَعْنَاهُ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّنَنَ إِِذَا صَحْتَ يَجِبُ أَنْ تُرْوَى وَيُؤْمَنَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ تُفَسَّرَ وَيُعْقَلَ مَعْنَاهَا، فَقَدْ قَدَحَ فِي الرِّسَالَةِ، اللَّهُمَّ إِِلا أَنْ تَكُونَ السُّنَنُ مِنَ الأَخْبَارِ الَّتِي فِيهَا صِفَاتُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا الَّتِي لا يَقَعُ فِيهَا التَّكْيِيفُ، بَلْ عَلَى النَّاسِ الإِِيمَانُ بِهَا، وَمَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ عِنْدَنَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِِنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ اسْمَ الشَّيْءِ بِالْكُلِّيَةِ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ وَتُطْلِقُ الْعَرَبُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ النِّهَايَةِ عَلَى بِدَايِتِهَا، وَاسْمَ الْبِدَايَةِ عَلَى نِهَايَتِهَا، أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ:" تَدُورُ رَحَى الإِِسْلامِ عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلاثِينَ": زَوَالَ الأَمْرِ عَنْ بَنِي هَاشِمٍ إِِلَى بَنِي أُمَيَّةَ، لأَنَّ الْحُكْمَيْنِ كَانَ فِي آخِرِ سَنَةِ سِتٍّ وَثَلاثِينَ، فَلَمَّا تَلَعْثَمَ الأَمْرُ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَشَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو أُمَيَّةَ، أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ، وَقَدْ ذَكَرْنَا اسْتِخْلافَهُمْ وَاحِدًا وَاحِدًا إِِلَى أَنْ مَاتَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ سَنَةَ إِِحْدَى وَمِائَةٍ، وَبَايَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَتُوُفِّيَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بِبَلْقَاءَ مِنْ أَرْضِ الشَّامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ شَعْبَانَ سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ، وَبَايَعَ النَّاسُ هِشَامَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخَاهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَوَلَّى هِشَامٌ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيَّ الْعِرَاقَ، وَعَزَلَ عُمَرَ بْنَ هُبَيْرَةَ فِي أَوَّلِ سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ، وَظَهَرَتِ الدُّعَاةُ بِخُرَاسَانَ لِبَنِي الْعَبَّاسِ، وَبَايَعُوا سُلَيْمَانَ بْنَ كَثِيرٍ الْخُزَاعِيَّ الدَّاعِيَ إِِلَى بَنِي هَاشِمٍ، فَخَرَجَ فِي سَنَةِ سِتٍّ وَمِائَةٍ إِِلَى مَكَّةَ وَبَايَعَهُ النَّاسُ لِبَنِي هَاشِمٍ، فَكَانَ ذَلِكَ تَلَعْثُمَ أُمُورِ بَنِي أُمَيَّةَ حَيْثُ شَارَكَهُمْ فِيهِ بَنُو هَاشِمٍ، فَأَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ نِهَايَةِ أَمْرِهِمْ عَلَى بِدَايَتِهِ، وَقَالَ: وَإِِنْ بَقُوا بَقِيَ لَهُمْ دِينُهُمْ سَبْعِينَ سَنَةً، يُرِيدُ عَلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اسلام کی چکی پینتیس سال تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھتیس سال تک گھومتی رہے گی۔ اگر وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے تو اس طریقے کے مطابق ہوں گے جس طریقے سے ہلاکت کا شکار ہوئے اور اگر وہ باقی رہ گئے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لیے باقی رہے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ روایت ہے جس کی وجہ سے اہل بدعت ہمارے ائمہ پر تنقید کرتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ محدثین حشویہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایسی چیز کو روایت کرتے ہیں جو غور و فکر اور محسوسات کے حوالے سے غلط ہوتی ہے اور محدثین اسے صحیح بھی قرار دے دیتے ہیں، پھر ان سے اگر اس چیز کی صفت کے بارے میں دریافت کیا جائے تو آگے سے کہہ دیتے ہیں: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ہم اس کی وضاحت نہیں کرتے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ایسے نہیں ہیں اور نہ ہی ویسے ہیں، جس طرح کا ہم پر الزام عائد کیا گیا ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو جن بھی امور کے بارے میں مخاطب کیا ہے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی سمجھ نہ آ سکے اور آپ کی سنتوں میں کوئی ایسی سنت نہیں ہے جس کے مفہوم کا علم نہ ہو سکے؛ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ جب سنت مستند طور پر منقول ہو تو یہ بات لازم ہے کہ اسے روایت کر دیا جائے اور اس پر ایمان رکھا جائے، باوجودیکہ اس کی وضاحت نہ کی جائے یا اس کے مفہوم کی سمجھ نہ آئے تو ایسا شخص رسالت پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اے اللہ! (تجھ ہی سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے) ویسے احادیث میں کچھ روایات وہ ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے جن کی کیفیت کو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن لوگوں پر ان صفات پر ایمان رکھنا لازم ہے۔ ہمارے نزدیک اس روایت کا مفہوم یہ ہے، جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کے کسی ایک جزء کے لیے اس مکمل چیز کا نام استعمال کر لیتے ہیں۔ اسی طرح عرب اپنے محاورے میں اختتام کا لفظ آغاز کے لیے استعمال کر لیتے ہیں اور آغاز کا لفظ اختتام کے لیے استعمال کر لیتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اسلام کی چکی پینتیس برس تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) چھتیس برس تک گھومتی رہے گی“، اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے کہ حکومت بنو ہاشم سے بنو امیہ کی طرف منتقل ہو جائے گی کیونکہ چھتیس ہجری کے آخر میں حکومت ان دونوں کی طرف چلی گئی تھی، تو جب بنو ہاشم کے لیے یہ معاملہ خراب ہوا اور حکومت کے بارے میں بنو امیہ ان کے حصہ دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کے اختتام کے لیے آغاز کا لفظ استعمال کیا۔ اسی طرح ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں کہ اس طرح ان میں سے ہر ایک خلیفہ بنا، یہاں تک کہ ایک سو ایک ہجری میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا انتقال ہو گیا تو لوگوں نے یزید بن عبدالملک کی بیعت کر لی۔ یزید بن عبدالملک کا انتقال شام کی سرزمین بلقاء کے مقام پر جمعہ کے دن ہوا جو پچیس شعبان ایک سو پانچ ہجری کی بات ہے، تو لوگوں نے ہشام بن عبدالملک کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو اس کا بھائی تھا، یہ اسی دن ہوا، پھر ہشام نے خالد بن عبداللہ قسری کو عراق کا امیر مقرر کیا۔ اس نے عمر بن ہبیرہ کو ایک سو چھ ہجری کے آغاز میں معزول کر دیا تو خراسان میں بنو عباس کے داعی نمودار ہوئے۔ انہوں نے سلیمان بن کثیر خزاعی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جو بنو ہاشم کی طرف دعوت دینے والا تھا۔ اس نے ایک سو چھ ہجری میں مکہ کی طرف خروج کیا تو لوگوں نے بنو ہاشم کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اس طرح بنو امیہ کی حکومت خرابی کا شکار ہو گئی اور بنو ہاشم پھر اس میں ان کے حصے دار بن گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حکومت کے اختتام کے لیے لفظ آغاز استعمال کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”اگر وہ باقی رہے تو ان کا دین ستر سال تک ان کے لیے باقی رہے گا۔“ اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ جس صورت حال پر وہ اس سے پہلے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6664]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6664، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4254، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3783، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 8858» «رقم طبعة با وزير 6629»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (976). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
507. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن أول نسائه لحوقا به بعده صلى الله عليه وسلم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ان کی بیویوں میں سے سب سے پہلے کون ان کے پاس پہنچے گی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6665
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرَعُكُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا" ، قَالَتْ: فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيُّهُنَّ أَطْوَلُ، قَالَتْ: فَكَانَ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لأَنَّهَا كَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میرے بعد مجھ سے، سب سے پہلے تم میں سے وہ خاتون آ کر ملے گی، جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ تمام ازواجِ مطہرات نے اپنے ہاتھوں کو ناپا کہ کس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا تھا، کیونکہ وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کرتی تھیں اور (اس کی آمدن کو) صدقہ کیا کرتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6665]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1420، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2452، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3314، 3315، 6665، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6857، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2540، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2333، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25538» «رقم طبعة با وزير 6630»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م، وتقدم (3303). تنبيه!! رقم (3303) = (3314) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
508. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن فتح الله جل وعلا على المسلمين عند كون الصحابة فيهم أو التابعين-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے صحابہ یا تابعین کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر فتح عطا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6666
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالٌ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَهُمْ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ میں شریک ہونے کے لیے آئیں گے، تو یہ دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں۔ تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہو گی، پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں۔ تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی، پھر ان لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو صحابہ کے شاگردوں کے ساتھ رہا ہو؟ تو ان لوگوں کو بھی فتح نصیب ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6666]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2897، 3594، 3649، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2532، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4768، 6666، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2854، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11198، والحميدي فى (مسنده) برقم: 760، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 974» «رقم طبعة با وزير 6631»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (4748). تنبيه!! رقم (4748) = (4768) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
509. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف موت أم حرام بنت ملحان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ ام حرام بنت ملحان کی موت کی وصف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6667
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ، ثُمَّ جَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ يَشُكُّ أَيُّهُمَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ، فَرَكِبَتْ أُمُّ حَرَامٍ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کرتی تھیں۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا گیا جو اللہ کی راہ میں غزوے کے لیے جائیں گے، وہ اس سمندر کی پشت پر یوں سوار ہوں گے جس طرح بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں غزوے کے لیے نکلیں گے۔“ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کلمات ارشاد فرمائے جو پہلے فرمائے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔“ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سمندری سفر پر روانہ ہوئیں، جب وہ سمندر سے واپس باہر تشریف لائیں اور اپنی سواری پر سوار ہوئیں تو اس سے نیچے گر گئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6667]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2788، 2799، 2877، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4608، 6667، 7189، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8765، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3171، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2490، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1645، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2465، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2776، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8759، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13724» «رقم طبعة با وزير 6632»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (4589). تنبيه!! رقم (4589) = (4608) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں