صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
452. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن قوله صلى الله عليه وسلم لا نورث ما تركنا صدقة تفرد به الصديق رضي الله عنه وقد فعل-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "ہم وارث نہیں چھوڑتے، جو ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے" کو صرف صدیق رضی اللہ عنہ نے روایت کیا اور اس پر عمل کیا
حدیث نمبر: 6608
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: أَرْسَلَ إِِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ: إِِنَّهُ قَدْ حَضَرَ الْمَدِينَةَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ، وَإِِنَّا قَدْ أَمَرْنَا لَهُمْ بِرَضْخٍ، فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مُرْ بِذَلِكَ غَيْرِي، فَقَالَ: اقْبِضْ أَيُّهَا الْمَرْءُ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِِذْ جَاءَهُ مَوْلاهُ يَرْفَأُ، فَقَالَ: هَذَا عُثْمَانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: وَلا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةً أَمْ لا، يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُمَا، فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ، قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، هُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ، فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: أَنْشُدُكُمَا اللَّهَ الَّذِي بِإِِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"؟، قَالُوا: قَدْ قَالَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِِنِّي أُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْفَيْءِ، إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ، فَقَالَ: وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، فَكَانَتْ هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، وَاللَّهِ مَا حَازَهَا دُونَكُمْ وَلا اسْتَأْثَرَهَا عَلَيْكُمْ، لَقَدْ قَسَمَهَا بَيْنَكُمْ، وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مَا بَقِيَ مِنَ الْمَالِ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ سَنَةً، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: يَحْبِسُ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ، فَلَمَّا قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَوْلَى بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ، أَعْمَلُ فِيهَا مَا كَانَ يَعْمَلُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى عَلِيٍّ، وَالْعَبَّاسِ، قَالَ: وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنَّهُ كَانَ فِيهَا ظَالِمًا فَاجِرًا، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ مِنْ إِِمَارَتِي، فَعَمِلْتُ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَنْتُمَا تَزْعُمَانِ أَنِّي فِيهَا ظَالِمٌ فَاجِرٌ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي فِيهَا صَادِقٌ بَارٌّ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ جِئْتُمَانِي، جَاءَنِي هَذَا، يَعْنِي: الْعَبَّاسَ، يَبْتَغِي مِيرَاثَهُ مِنِ ابْنِ أَخِيهِ، وَجَاءَنِي هَذَا، يَعْنِي: عَلِيًّا، يَسْأَلُنِي مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ، فَقُلْتُ لَكُمَا: إِِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أَدْفَعَهُ إِِلَيْكُمَا، فَأَخَذْتُ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ لَتَعْمَلانِ فِيهَا بِمَا عَمِلَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَأَنَا مَا وُلِّيتُهَا، فَقُلْتُمَا: ادْفَعْهَا إِِلَيْنَا عَلَى ذَلِكَ، تُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ هَذَا، وَالَّذِي بِإِِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، لا أَقْضِي بَيْنَكُمَا فِيهَا بِقَضَاءٍ غَيْرِ هَذَا، إِِنْ كُنْتُمَا عَجَزْتُمَا عَنْهَا، فَادْفَعَاهَا إِِلَيَّ، قَالَ: فَغَلَبَ عَلِيٌّ عَلَيْهَا، فَكَانَتْ فِي يَدِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ثُمَّ بِيَدِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ثُمَّ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ حَسَنٍ، ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، قَالَ مَعْمَرٌ: ثُمَّ كَانَتْ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ.
سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے پیغام بھیجا کہ تمہاری قوم کے کچھ گھرانوں کے لوگ مدینہ منورہ آئے ہوئے ہیں، ہم نے ان کے لیے کچھ عطیات دینے کا حکم دیا ہے، تم وہ ان کے درمیان تقسیم کر دو۔ میں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ میری بجائے کسی اور کو یہ ہدایت کر دیجیے۔ انہوں نے فرمایا: اے آدمی! تم اسے اپنے قبضے میں لو۔ راوی کہتے ہیں: میں وہاں بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غلام یرفا آیا، اس نے کہا: سیدنا عثمان، سیدنا عبدالرحمن بن عوف، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم تشریف لائے ہیں، (راوی بیان کرتے ہیں) مجھے یاد نہیں ہے کہ اس نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تھا یا نہیں کیا تھا، وہ لوگ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ راوی کہتے ہیں: تھوڑی دیر بعد وہ غلام پھر آیا اور کہا: سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کو اندر آنے کی اجازت دے دو۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اندر آئے تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ میرے اور ان صاحب کے درمیان فیصلہ کر دیجیے۔ ان دونوں صاحبان کا اس وقت اس چیز کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا جو اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال میں سے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا تھا۔ حاضرین نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ ان دونوں صاحبان کے درمیان فیصلہ کر دیجیے اور ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے مطمئن کر دیجیے کیونکہ ان کا اختلاف طویل ہو چکا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کے جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہی کلمہ کہا تو ان دونوں نے یہی جواب دیا: جی ہاں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں کو اس مال فے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے بطور خاص اپنے نبی کو عطا کیا تھا، وہ اس نے اپنے نبی کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] ”اور وہ چیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کی ہے، اس کے بارے میں تم نے اپنے گھوڑے اور سواریاں نہیں دوڑائی ہیں۔“ تو یہ چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھی۔ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو چھوڑ کر اسے اپنے لیے نہیں رکھا اور نہ ہی اس کے بارے میں آپ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو آپ کے درمیان تقسیم کیا، اسے آپ کے درمیان پھیلایا یہاں تک کہ اس مال میں سے یہ تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی خوراک کا انتظام کرتے تھے۔ بعض اوقات معمر نامی راوی نے یہاں یہ لفظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کی سال بھر کی خوراک کو روک کر رکھتے تھے اور جو مال باقی بچ جاتا تھا اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں، میں اس بارے میں وہی کروں گا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے: آپ دونوں صاحبان یہ گمان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بارے میں ظلم کرنے والے اور گناہ کرنے والے تھے، حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے تھے، نیکی کرنے والے تھے، حق کے پیروکار تھے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے اس کا نگران بنایا گیا، یہ میری حکومت کے دو سال کے عرصے کی بات ہے، میں نے بھی اس کے بارے میں وہی کچھ کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں کرتے رہے۔ آپ دونوں صاحبان کا یہ گمان تھا کہ میں اس کے بارے میں ظلم کرنے والا اور گناہ کرنے والا ہوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ میں اس کے بارے میں سچا تھا، نیکوکار تھا، حق کی پیروی کرنے والا تھا، پھر آپ دونوں صاحبان میرے پاس آئے۔ یہ صاحب یعنی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ اپنے بھتیجے کی وراثت کے طلب گار تھے اور یہ صاحب یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور یہ اپنی بیوی کی وراثت کا مجھ سے مطالبہ کر رہے تھے، تو میں نے آپ دونوں سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہم لوگوں کی وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس کے بعد مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اسے آپ دونوں کے سپرد کر دوں، میں نے آپ دونوں سے اللہ کے نام کا عہد اور پختہ وعدہ لیا کہ آپ اس کے بارے میں وہی عمل کرتے رہیں گے جو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا اور خلیفہ بننے کے بعد میں نے کیا، تو آپ دونوں صاحبان نے یہ کہا کہ آپ اس شرط پر یہ ہمارے سپرد کر دیں۔ اب آپ اس کے بارے میں دوسرے فیصلے کے طلب گار ہیں؟ اس ذات کی قسم! جس کے حکم کے تحت آسمان اور زمین قائم ہیں، میں آپ دونوں کے درمیان اس کے بارے میں اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں دوں گا، اگر آپ دونوں اس کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو آپ یہ میرے سپرد کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس وہ زمینیں آ گئیں، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں رہیں، پھر امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا حسن بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں، پھر سیدنا زید بن حسن کے پاس رہیں۔ معمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6608]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2904، 3094، 4033، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1757، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1176، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6357، 6608، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2963، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1610، 1719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12848، وأحمد فى (مسنده) برقم: 79، 173» «رقم طبعة با وزير 6574»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (341): ق، وليس عند (م): «فكانت في يد على ... ». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
453. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن تركة المصطفى صلى الله عليه وسلم كان صدقة بعده ما فضل منها عن مئونة العمال ونفقة العيال-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترکہ ان کے بعد صدقہ تھی جو کارکنوں کی تنخواہ اور گھر والوں کے نفقہ سے بچ گئی
حدیث نمبر: 6609
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي بَعْدِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ عِيَالِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ورثاء میرے بعد دینار تقسیم نہیں کریں گے، اپنے گھر والوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6609]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2776، 3096، 6729، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1760، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3644، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2488، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6609، 6610، 6612، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12854، 12863، 13531، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7423» «رقم طبعة با وزير 6575»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2633): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
454. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم بعد نفقة عيالي أراد به بعد نفقة نسائي-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "میرے گھر والوں کے نفقہ کے بعد" سے مراد ان کی بیویوں کے نفقہ کے بعد ہے
حدیث نمبر: 6610
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے، اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں وہ صدقہ شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6610]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2776، 3096، 6729، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1760، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3644، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2488، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6609، 6610، 6612، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12854، 12863، 13531، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7423» «رقم طبعة با وزير 6576»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. تنبيه هام!! أحاط الناشر هذه العباره [الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا] بين معقوفين وقال: [سقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة»]. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
455. باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم - ذكر الإخبار عن نفي جواز الميراث لو جعله تركة المصطفى صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان - ذکر خبر کہ اگر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترکہ کو وراثت بنایا جاتا تو اس کی وراثت جائز نہ ہوتی
حدیث نمبر: 6611
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کی ازواج نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی اپنی وراثت کا مطالبہ کریں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں سے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی: ”ہم (انبیاء کرام) کی وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6611]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6727، 6730، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1758، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6611، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 4427، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2976، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12861، 12862، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25765» «رقم طبعة با وزير 6577»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2635). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
حدیث نمبر: 6612
أَخْبَرَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" وَاللَّهِ لا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا، مَا تَرَكْتُ مِنْ شَيْءٍ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي، وَمَئُونَةِ عَامِلِي، فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرے ورثاء دینار تقسیم نہیں کریں گے۔ اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے اہل کاروں کے معاوضے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں گا وہ صدقہ شمار ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6612]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2776، 3096، 6729، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1760، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3644، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2488، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6609، 6610، 6612، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2974، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12854، 12863، 13531، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7423» «رقم طبعة با وزير 6578»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله بحديث. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
456. باب وفاته صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان -
حدیث نمبر: 6613
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْتُ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَاكَرْبَاهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے کتنی تکلیف ہو رہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد تمہارے باپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6613]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6613، 6621، 6622، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1412، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1629، 1630، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6829، 7262، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12629» «رقم طبعة با وزير 6579»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (466)، «مختصر الشمائل» (201/ 334): خ، ويأتي برقم (6588) بأتم. تنبيه!! رقم (6588) = (6622) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
457. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر البيت الذي توفي فيه المصطفى صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر اس گھر کا جہاں مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی
حدیث نمبر: 6614
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَنْبَسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نِسَاؤُهُ: انْظُرْ حَيْثُ تُحِبُّ أَنْ تَكُونَ فِيهِ، نَحْنُ نَأْتِيكَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَكُلُّكُنَّ عَلَى ذَلِكَ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْتَقَلَ إِِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ، فَمَاتَ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی ازواج نے عرض کیا: آپ دیکھ لیں آپ جہاں رہنا چاہتے ہیں (وہاں منتقل ہو جائیں) ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو جایا کریں گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تو کیا تم سب لوگ اس بات پر متفق ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل ہو گئے اور وہیں آپ کا انتقال ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6614]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6580»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
458. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر اليوم الذي توفي فيه صلى الله عليه وسلم-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر اس دن کا جب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی
حدیث نمبر: 6615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ:" أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْتُ: يَوْمَ الاثْنَيْنِ، قَالَ: إِِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَمُوتَ فِيهِ، فَمَاتَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ عَشِيَّةً، وَدُفِنَ لَيْلا .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ میں نے جواب دیا: پیر کے دن، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ میرا انتقال بھی اسی دن ہو گا، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال پیر کی شام کو ہو گیا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6615]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1264، 1271، 1272، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 941، ومالك فى (الموطأ) برقم: 758، وابن الجارود فى "المنتقى"، 571، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3036، 3037، 6615، 6629، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4440،وأبو داود فى (سننه) برقم: 3151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 996، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1469، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6773، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24756» «رقم طبعة با وزير 6581»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (197/ 330): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
459. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم قبضه الله تعالى إلى جنته وهو بين نحر عائشة وسحرها-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کی طرف اٹھایا جب وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے اور گردن کے درمیان تھے
حدیث نمبر: 6616
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، وَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ، دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَمْضَغُ، فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ، ثُمَّ سَنَنْتُهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں میری باری کے مخصوص دن میں میرے سینے اور گردن کے درمیان (ٹیک لگائے ہوئے) ہوا اللہ تعالیٰ نے میرے لعابِ دہن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کو اکٹھا کر دیا تھا (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے) عبدالرحمن رضی اللہ عنہما گھر میں داخل ہوئے ان کے پاس مسواک تھی، جسے وہ چبا رہے تھے میں نے اس مسواک کو لیا، اسے چبایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانتوں پر پھیرا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6616]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6582»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
460. باب وفاته صلى الله عليه وسلم - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم استن من ذلك السواك الذي استنت عائشة به-
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال (وفات) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسواک سے استن کیا جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے استعمال کی تھی
حدیث نمبر: 6617
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِي بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَلَيْهِ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ، فَنَظَرَ إِِلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِِلَيْهِ حَاجَةً، فَأَخَذْتُهُ، فَمَضَغْتُهُ، وَقَضَمْتُهُ، وَطَيَّبْتُهُ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًَّا، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُ فَسَقَطَ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو اللَّهَ بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ جِبْرِيلُ أَوْ يَدْعُو بِهِ إِِذَا مَرِضَ، فَجَعَلَ يَقُولُ:" بَلِ الرَّفِيقُ الأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ" ثَلاثًا، وَفَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری باری کے مخصوص دن میں میرے سینے اور گردن کے درمیان ہوا۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے پاس ایک تازہ مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسواک کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، میں نے اسے لیا، اسے چبایا، اسے نرم کیا اور اسے اچھا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے عمدہ طریقے سے مسواک کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے لیکن گر گئے، میں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگنا شروع کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے وقت سیدنا جبرائیل علیہ السلام مانگتے تھے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود مانگتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا: «بَلِ الرَّفِيْقُ الْأَعْلٰی» ”بلکہ جنت میں رفیقِ اعلیٰ (کا میں طلب گار ہوں)۔“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سانس رک گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کے آخری دن میں میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کو جمع کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6617]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 198، 664، 665، 679، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 418، وابن الجارود فى "المنتقى"، 13، 359، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 123، 1621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2116، 2117، 2118، 2119، 2120، 2121، 2124، 6588، 6591، 6596، 6599، 6600، 6601، 6602، 6614، 6616، 6617، 6618، 6873، 6874، 7116، والترمذي فى (جامعه) برقم: 362، 3496، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1232، 1233، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1483، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2083» «رقم طبعة با وزير 6583»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج فقه السيرة» (470): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null