المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. الْهِرَّةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ
بلی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حدیث نمبر: 948
حدثنا أبو نُعَيم عبد الرحمن بن محمد (2) الغِفَارِي بمَرْو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا محمد بن بشَّار، حدثنا عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّنَاد، عن أبيه، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"الهِرَّةُ لا تَقطَعُ الصلاةَ، لأنها من مَتَاعِ البيت" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم لاستشهاده بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد مقرونًا بغيره من حديث ابن وهبٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 935 - قد استشهد مسلم بابن أبي الزناد
هذا حديث صحيح على شرط مسلم لاستشهاده بعبد الرحمن بن أبي الزِّناد مقرونًا بغيره من حديث ابن وهبٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 935 - قد استشهد مسلم بابن أبي الزناد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بلی نماز کو نہیں توڑتی کیونکہ وہ گھر کے ساز و سامان (گھر میں رہنے والوں) میں سے ہے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبد الرحمن بن ابی زناد سے استشہاد کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 948]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبد الرحمن بن ابی زناد سے استشہاد کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 948]
حدیث نمبر: 949
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - وهو ابن إبراهيم - حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن حمزة بن عبد الله بن الزُّبير، عن عبَّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول في بعض صلاته:"اللهمَّ حاسِبْني حِسابًا يسيرًا" فلما انصرف قلت: يا رسول الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال:"يُنظَرُ في كتابِه ويُتَجاوَزُ له عنه، إنه مَن نُوقِشَ الحسابَ يومئذٍ يا عائشةُ هَلَكَ، فكلُّ ما يصيب المؤمنَ يُكفِّرُ الله عنه، حتى الشَّوكةُ تَشُوكُه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 936 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 936 - على شرط مسلم
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کسی نماز میں یہ کہتے سنا: «اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» "(اے اللہ!) میرا حساب آسانی کے ساتھ فرمانا۔" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آسان حساب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ یہ کہ اس کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اس سے درگزر کر دیا جائے گا، کیونکہ اے عائشہ! جس کے حساب میں جرح و بحث کی گئی وہ اس دن ہلاک ہو گیا، پس مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے یہاں تک کہ اسے چبھنے والا کانٹا بھی۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 949]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 949]
80. سَبِّحْ وَاحْمَدْ وَكَبِّرِ اللَّهَ عَشْرًا عَشْرًا ثُمَّ سَلِ اللَّهَ مَا شِئْتَ
دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمد للہ، اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے جو چاہو مانگو۔
حدیث نمبر: 950
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا محمد بن مُقاتِل المروَزي، حدثنا ابن المبارَك، حدثنا عِكْرمة بن عمَّار، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طَلْحة، عن أنس بن مالك قال: جاءت أمُّ سُلَيم إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله، علِّمْني شيئًا أدعُو به في صلاتي، فقال:"سَبِّحي اللهَ عشرًا، واحمَدِي اللهَ عشرًا، وكبِّري اللهَ عشرًا، ثم سَلِي اللهَ ما شئتِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 937 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 937 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ ایسی چیز سکھا دیجیے جس کے ذریعے میں اپنی نماز میں دعا مانگوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دس بار سبحان اللہ کہو، دس بار الحمدللہ کہو اور دس بار اللہ اکبر کہو، پھر اللہ سے جو چاہو مانگو۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 950]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 950]
حدیث نمبر: 951
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثنا الأزرق بن قيس: أنه رأى أبا بَرْزةَ الأسلمي يصلِّي وعِنانُ دابَّته في يده، فلما ركع انفلَتَ العِنانُ من يده فانطَلَقَت الدابَّةُ، فَنَكَصَ أبو بَرْزَةَ على عَقِبه ولم يَلتفِتْ حتى لَحِقَ الدابةَ وأخذها، ثم مشى كما هو، ثم أَتى مكانَه الذي صلَّى فيه فقَضَى صلاتَه، فأتمَّها ثم سَلَّم، ثم قال: إني قد صَحِبتُ رسولَ الله ﷺ في غزوٍ كثيرٍ - حتى عدَّ غَزَواتٍ - فرأيت من رُخصتِه وتيسيره، فأخذتُ بذلك، فلو أني تركتُ دابَّتي حتى تَلحَقَ بالصحراء ثم انطلقتُ شيخًا كبيرًا أتخبَّط الظُّلمةَ، كان أشدَّ عليَّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 938 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 938 - على شرط البخاري
ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے جانور کی لگام ان کے ہاتھ میں تھی۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو لگام ہاتھ سے چھوٹ گئی اور جانور بھاگنے لگا، سیدنا ابوبرزہ پیچھے کی طرف ہٹے اور اپنی نظریں ہٹائے بغیر جانور کے پیچھے گئے یہاں تک کہ اسے پکڑ لیا، پھر وہ اسی طرح چل کر اپنی جگہ واپس آئے جہاں نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی نماز مکمل کی، پھر سلام پھیرا اور فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات میں شریک رہا ہوں اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے رخصت اور آسانی دیکھی ہے، اس لیے میں نے اسی پر عمل کیا؛ اگر میں جانور کو چھوڑ دیتا تو وہ صحرا کی طرف نکل جاتا اور میں بوڑھا آدمی اندھیرے میں بھٹکتا پھرتا تو یہ میرے لیے بہت زیادہ مشکل ہوتا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 951]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 951]
81. يُقْتَلُ الْأَسْوَدَانِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ
نماز کی حالت میں دو سیاہ جانوروں کو قتل کیا جا سکتا ہے: سانپ اور بچھو۔
حدیث نمبر: 952
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذَ قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن مَعمَر. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كَثير، عن ضَمضَم بن جَوْس، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ أَمَرَ بقتل الأسوَدَينِ في الصلاة: الحيَّةِ والعقربِ (2) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وضَمضَمُ بن جَوْس من ثِقات أهل اليَمَامة، سمع من جماعة من الصحابة وروى عنه يحيى بن أبي كثير، وقد وثَّقه أحمدُ بن حنبل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 939 - صحيح
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه، وضَمضَمُ بن جَوْس من ثِقات أهل اليَمَامة، سمع من جماعة من الصحابة وروى عنه يحيى بن أبي كثير، وقد وثَّقه أحمدُ بن حنبل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 939 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران دو سیاہ چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ ضمضم بن جوس یمامہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں جنہیں امام احمد بن حنبل نے بھی ثقہ قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 952]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا؛ ضمضم بن جوس یمامہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں جنہیں امام احمد بن حنبل نے بھی ثقہ قرار دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 952]
حدیث نمبر: 953
أخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر الدارَبردي بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا أبو عمَّار، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن ثَوْر بن زيد، عن عِكْرِمة، عن ابن عباس قال: كان رسول الله ﷺ يَلتفِتُ في صلاته يمينًا وشِمالًا، ولا يَلْوِي عنقَه خلفَ ظهره (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 940 - صحيح على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 940 - صحيح على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں اور بائیں (صرف آنکھوں سے) دیکھ لیا کرتے تھے لیکن اپنی گردن پیٹھ پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 953]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 953]
حدیث نمبر: 954
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن سفيان. وحدثني علي بن حَمْشاذ، حدثنا يزيد بن الهيثم، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجَعي، عن سفيان، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن طارق بن عبد الله المُحارِبي قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كنتَ في الصلاة فلا تَبزُقْ بين يديك ولا عن يمينِك، ولكن ابصُقْ تِلقاءَ شِمالِك إن كان فارغًا، أو تحتَ قدمِك"؛ وقال برِجْله كأنه يَخُطُّه بقدمِه (2) . هذا لفظ حديث أبي العباس.
هذا حديث صحيح على ما أصَّلتُه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 941 - صحيح
هذا حديث صحيح على ما أصَّلتُه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 941 - صحيح
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم نماز میں ہو تو اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکو، بلکہ اگر بائیں طرف جگہ خالی ہو تو ادھر تھوکو یا پھر اپنے بائیں قدم کے نیچے؛" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قدم سے زمین پر رگڑ کر دکھایا گویا کہ آپ اس تھوک کو مٹا رہے ہوں۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 954]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 954]
حدیث نمبر: 955
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيْع، حدثنا الجُرَيري. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا إسماعيل، حدثنا الجُريري، عن أبي العلاء بن الشِّخِّير، عن أبيه: أنه صَلَّى مع رسول الله ﷺ، فتَنخَّعَ فَدَلَكَها بنعلِه اليسرى (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه! وقد اتَّفقا على أبي العلاء، فإنه يزيدُ بن عبد الله بن الشِّخِّير، وقد أخرج مسلم عن عبد الله بن الشِّخير الصحابي، والحديث صحيح على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 942 - صحيح على شرطهما
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه! وقد اتَّفقا على أبي العلاء، فإنه يزيدُ بن عبد الله بن الشِّخِّير، وقد أخرج مسلم عن عبد الله بن الشِّخير الصحابي، والحديث صحيح على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 942 - صحيح على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دورانِ نماز) بلغم تھوکا اور اسے اپنے بائیں جوتے کے نیچے رگڑ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 955]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 955]
82. لَا يَجُوزُ التَّبَصُّقُ إِلَى جِهَةِ الْقِبْلَةِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ
قبلہ کی سمت یا دائیں جانب تھوکنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 956
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن المَدِيني، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن عَجْلان، عن عِيَاض بن عبد الله بن سعد، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ كان تُعجِبُه العَراجِينُ أن يُمسِكَها بيده، فدخل المسجد ذاتَ يومٍ وفي يده واحدٌ منها فرأَى نُخَاماتٍ في قِبْلة المسجد، فحَتَّهنَّ حتى ألقاهُنَّ، ثم أَقبَلَ على الناس مُغضَبًا فقال:"أيحبُّ أحدُكم أن يستقبلَه رجلٌ فيَبصُقَ في وجهه، إنَّ أحدَكم إذا قام إلى الصلاة فإنما يَستقبِلُ ربَّه، والمَلَكُ عن يمينِه، فلا يَبصُقْ بين يديه، ولا عن يمينِه، وليَبصُقْ تحت قدمِه اليسرى، أو عن يسارِه، وإن عَجِلَت به بادِرَةٌ فليَقُلْ هكذا في طرفِ ثوبه" ورَدَّ بعضَه على بعض (1) .
هذا حديث صحيح مفسَّر في هذا الباب على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 943 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح مفسَّر في هذا الباب على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 943 - على شرط مسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کی شاخیں ہاتھ میں تھامنا پسند تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے جبکہ آپ کے ہاتھ میں ایسی ہی ایک شاخ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ والی دیوار پر کچھ تھوک کے نشانات دیکھے تو انہیں کھرچ کر صاف کر دیا، پھر لوگوں کی طرف غصے کی حالت میں متوجہ ہو کر فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب ہوتا ہے، لہٰذا وہ اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں قدم کے نیچے یا بائیں جانب تھوکے، اور اگر تھوک کا غلبہ ہو جائے تو اپنے کپڑے کے پلو میں اس طرح کر لے۔" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو ایک دوسرے پر تہہ کر کے دکھایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 956]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 956]
83. إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْغَائِطُ فَابْدَءُوا بِالْغَائِطِ
جب نماز کا وقت ہو جائے اور قضائے حاجت کا تقاضا ہو تو پہلے قضائے حاجت کرو۔
حدیث نمبر: 957
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عبد الله بن الأرقَم: أنه كان يَؤُمُّ قومَه، فجاء وقد أُقِيمَت الصلاةُ، فقال: ليصلِّ أحدُكم، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إذا حَضَرتِ الصلاةُ وحَضَرَ الغائطُ، فابدَؤُوا بالغائط" (2) .
هذا حديث صحيح من جُمْلة ما قدَّمتُ ذكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 944 - صحيح
هذا حديث صحيح من جُمْلة ما قدَّمتُ ذكرَه من تفرُّد التابعي عن الصحابي (3) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 944 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنی قوم کی امامت کر رہے تھے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ کوئی دوسرا شخص امامت کرے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: "جب نماز کا وقت ہو جائے اور تم میں سے کسی کو رفع حاجت کی ضرورت ہو تو پہلے رفع حاجت کے لیے جاؤ۔"
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 957]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 957]