🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْغَائِطُ فَابْدَءُوا بِالْغَائِطِ
جب نماز کا وقت ہو جائے اور قضائے حاجت کا تقاضا ہو تو پہلے قضائے حاجت کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 958
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا محمد بن مُهاجِر، عن عُروة بن رُوَيْم، عن ابن الدَّيلَمي الذي كان يَسكُن بيتَ المَقدِس: أنه رَكِبَ في طلب عبد الله بن عمرو بن العاص بالمدينة، فسأَل عنه فقالوا: قد سارَ إلى مكةَ، فاتّبعه فوَجَدَه قد سار إلى الطائف، فاتّبعه فوَجَدَه في زَرْعِه الذي يُسمَّى الوَهْطَ، قال ابن الدَّيلَمي: فدخلتُ عليه فوجدتُه يمشي مُخاصِرًا رجلًا من قريش، والقرشيُّ يُزَنُّ بالخمر، فلمّا لَقِيتُه سلَّمتُ عليه وسلَّم عليَّ، فقال: ما غَدَا بك، ومن أين أقبَلْتَ، فأخبرته، ثم سألتُه: هل سمعتَ يا عبد الله بن عمرٍو رسولَ الله ﷺ ذَكَرَ شرابَ الخمر بشيءٍ؟ قال: نعم، فانتَزَعَ القرشيُّ يدَه، ثم ذهب، فقال: سمعتُ النبي ﷺ يقول:"لا يَشرَبُ الخمرَ رجلٌ من أمَّتي فتُقبَلَ له صلاةٌ أربعين صباحًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 945 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: "میری امت کا جو آدمی شراب پیتا ہے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 958]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا يَفْعَلُ
اللہ نے ہماری طرف محمد ﷺ کو بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، پس ہم وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن ابن شِهاب، عن عبد الله بن أبي بكر بن عبد الرحمن، عن أُميَّة بن عبد الله بن خالد، أنه قال لعبد الله بن عمر: إنا نَجِدُ صلاةَ الحَضَر وصلاةَ الخوف في القرآن، ولا نجدُ صلاةَ السَّفر في القرآن! فقال عبد الله: يا ابنَ أخي، إنَّ الله بَعَثَ إلينا محمدًا ﷺ ولا نَعلمُ شيئًا، فإنما نفعلُ كما رأَينا محمدًا يفعلُ (2) .
هذا حديث رواتُه مدنيُّون ثِقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 946 - رواته ثقات مدنيون
امیہ بن عبداللہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمیں قرآن میں مقیم کی نماز اور خوف کی نماز کا ذکر تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں ملتا (کہ اسے قصر کرنا ہے)؟ سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: اے بھتیجے! اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو بس وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
اس کے تمام راوی مدنی اور ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 959]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 960
أخبرني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا محمد (1) بن سعيد بن الأصبَهاني، حدثنا حفص بن غِيَاث عن حُمَيد بن قيس، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة قالت: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يصلِّي متربِّعًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 947 - على شرطهما
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار زانو (آلتی پالتی مار کر) بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 960]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلَاةَ ابْنَ سَبْعٍ
سات سال کی عمر میں بچوں کو نماز کی تعلیم دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 961
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، حدثنا حَرمَلة بن عبد العزيز بن الرَّبيع بن سَبْرة، عن عمِّه عبد الملك بن الرَّبيع، عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ:"عَلِّموا الصبيَّ الصلاةَ ابنَ سبعِ سنين، واضرِبُوه عليها ابنَ عَشْرٍ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 948 - على شرط مسلم
سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بچے کو سات سال کی عمر میں نماز سکھاؤ، اور جب وہ دس سال کا ہو جائے (اور نماز نہ پڑھے) تو اسے اس پر سزا دو۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 961]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ وَغَيْرِهِ
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: مجنون جس کی عقل زائل ہو، اور دیگر معذور افراد۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 962
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعبد الله بن محمد بن موسى قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى المِصْري، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني جَرِير بن حازم، عن سليمان بن مِهْران، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عباس قال: مَرَّ عليُّ بن أبي طالب بمجنونةِ بني فلان وقد زَنَتَ وأَمَرَ عمر بن الخطّاب برَجْمِها، فردَّها عليٌّ، وقال لعمر: يا أمير المؤمنين، أترجُمُ هذه؟ قال: نعم، قال: أوَما تَذكُرُ أنَّ رسول الله ﷺ قال:"رُفِعَ القلمُ عن ثلاث: عن المجنون المغلوب على عَقلِه، وعن النائم حتى يستيقظَ، وعن الصبيِّ حتى يَحتلِمَ"؟ قال: صَدَقتَ، فخَلَّى عنها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 949 - على شرطهما
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے بنو فلاں کی ایک مجنونہ (پاگل) عورت گزری جس نے بدکاری کی تھی، سیدنا عمر نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس کیا اور سیدنا عمر سے فرمایا: "اے امیر المؤمنین! کیا آپ اسے رجم کریں گے؟" انہوں نے کہا: "ہاں،" تو سیدنا علی نے فرمایا: "کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے یہاں تک کہ وہ تندرست ہو جائے، سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے؟" سیدنا عمر نے کہا: "آپ نے سچ فرمایا،" اور اسے چھوڑ دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 962]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ
رسولُ اللہ ﷺ چٹائی پر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبرِقان، حدثنا أبو أحمد الزُّبَيري، حدثنا يونس بن الحارث، عن أبي عَوْن محمد بن عُبيد الله الثَّقَفي، عن أبيه، عن المغيرة بن شُعْبة: أنَّ رسول الله ﷺ كان يصلِّي على الحَصِير والفَرْوة المدبوغة (1) .
هذا حديث على شرط [مسلم] (2) ولم يُخرجاه بذِكْر الفَرْوة، إنما خرَّجه مسلم من حديث أبي سعيد في الصلاة على الحَصِير.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 950 - على شرط مسلم
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور رنگی ہوئی کھال (فروا) پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے "فروا" کے ذکر کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام مسلم نے چٹائی پر نماز کی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 963]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِسَاطٍ
رسولُ اللہ ﷺ نے بساط پر نماز ادا فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 964
حدثنا عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا محمد بن سليمان بن الحارث الواسطي، حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا زَمْعة بن صالح، عن سَلَمة بن وَهْرام، عن عِكْرمة عن ابن عباس: أنه صلَّى على بِسَاط ثم قال: صلَّى رسول الله ﷺ على بِسَاط (3) .
هذا حديث صحيح، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعِكْرمة، واحتجَّ مسلم بزَمْعة، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قالین پر نماز پڑھی اور فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قالین پر نماز پڑھی ہے۔"
یہ حدیث صحیح ہے، شیخین نے اس کے راویوں سے احتجاج کیا ہے لیکن اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 964]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 965
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عِيَاض بن عبد الله القُرشي، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا صلَّى أحدُكم فليَلبَسْ نَعلَيهِ أو ليَجعَلْهما بين رِجلَيه، ولا يُؤْذي بهما غيرَه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 952 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے پہن کر پڑھے یا انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھ لے، ان کے ذریعے کسی دوسرے کو تکلیف نہ دے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 965]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن أبي سلمة بن سفيان، عن عبد الله بن السائب قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ عامَ الفتح فصلَّى الصبحَ فخَلَعَ نَعلَيهِ فوضعهما عن يسارِه (1) .
هذا حديث يُعرَف بمحمد بن عبَّاد بن جعفر، أخرجتُه شاهدًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 953 - أخرجته شاهدا
سیدنا عبداللہ بن السائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے، شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 966]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. لَا يَضَعُ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
نماز میں جوتے نہ دائیں جانب رکھے جائیں نہ بائیں، بلکہ دونوں پاؤں کے درمیان رکھے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 967
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أبو عامر الخَزَّاز [عن عبد الرحمن بن قيس] (2) عن يوسف بن ماهَكَ، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا صلَّى أحدُكم فلا يَضَعْ نَعلَيهِ عن يمينِه وعن يسارِه، إلَّا أن لا يكون عن يسارِه أحدٌ، وليَضَعْهما بين رِجلَيهِ" (3) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 954 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے اپنی دائیں یا بائیں جانب نہ رکھے، الا یہ کہ بائیں جانب کوئی دوسرا نمازی نہ ہو، ورنہ انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 967]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں