🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. لَا يَضَعُ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
نماز میں جوتے نہ دائیں جانب رکھے جائیں نہ بائیں، بلکہ دونوں پاؤں کے درمیان رکھے جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 968
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أبي نَعَامة، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ صَلَّى فَخَلَعَ نَعلَيهِ فَخَلَعَ الناسُ نعالَهم، فلما انصرف قال:"لِمَ خلعتُم نعالَكم؟" قالوا: يا رسول الله، رأيناك خلعتَ فخَلَعْنا، قال:"إنَّ جبريل أتاني فأخبرني أنَّ بهما خَبَثًا، فإذا جاء أحدُكم المسجدَ، فليَقلِبْ نعلَيهِ فليَنظُرْ: فيهما خبثٌ، فإن وَجَدَ خَبَثًا فليَمسَحْهما بالأرض ثم ليُصلِّ فيهما" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 955 - على شرط مسلم
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور دورانِ نماز اپنے جوتے اتار دیے، لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو پوچھا: "تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے پاس جبرائیل آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی لگی ہوئی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو اپنے جوتے پلٹ کر دیکھ لے، اگر ان میں گندگی لگی ہو تو اسے زمین سے رگڑ کر صاف کر لے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 968]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 969
حدثنا محمد بن صالح، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن هلال بن ميمون الرَّمْلي، عن يعلى بن شدَّاد بن أوس، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"خالِفوا اليهودَ، فإنهم لا يُصلُّونَ في خِفافِهم ولا نِعالِهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 956 - صحيح
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہودیوں کی مخالفت کرو، کیونکہ وہ اپنے موزوں اور جوتوں میں نماز نہیں پڑھتے۔"
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 969]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَخْلَعْ نَعْلَيْهِ بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یا تو جوتے اتار کر اپنے پاؤں کے درمیان رکھ دے یا انہی کے ساتھ نماز پڑھ لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 970
حدثنا يوسف بن يعقوب السُّوسِي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عبد الوهاب بن نَجْدة الحَوْطي، حدثنا شعيب بن إسحاق وبَقيَّة قالا: حدثنا الأوزاعي، حدثني محمد بن الوليد، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"إذا صلَّى أحدُكم فليَخلَعْ نَعلَيه … (3) بين رجلَيه، وليُصَلِّ (4) فيهما" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 957 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھ لے، یا ان میں ہی نماز پڑھے۔" [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 970]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. الْحَدَثُ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں حدث (وضو ٹوٹ جانا) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 971
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا عبد الله بن علي الغزّال (1) ، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الفضل بن موسى، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إذا أحدَثَ أحدُكم وهو في الصلاة، فليَضَعْ يدَه على أنفِه ثم ليَنصرِفْ" (2) . تابعه عمر (3) بن علي المُقدَّمي عن هشام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 958 - ومنهم من وقفه هذا على شرطهما_x000D_ تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ وَلْيَنْصَرِفْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِأَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَوْقَفَهُ عَنْهُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کو نماز کے دوران وضو ٹوٹنے کی صورت پیش آئے تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے اور پھر وہاں سے ہٹ جائے۔" [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 971]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 972
حدَّثَناه علي بن عيسى الحِيري، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"إذا أحدَثَ أحدُكم وهو في الصلاة، فليَقُلْ بيدِه على وجهِه وليَنصرِفْ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ بعض أصحاب هشام بن عُرْوة أَوقَفَه عنه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کا نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو وہ اپنے ہاتھ سے چہرے پر اشارہ کرے (ناک پکڑ لے) اور وہاں سے چلا جائے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ ہشام بن عروہ کے بعض شاگردوں نے اسے موقوف کر دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 972]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. السَّهْوُ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں بھول چوک (سہو) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 973
أخبرنا أبو الحُسين أحمد بن عثمان البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر بن أبي أُوَيس، عن سليمان بن بلال، عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ، قال:"إذا صَلَّى أحدُكم فلا يَدْري كم صَلَّى، ثلاثًا أو أربعًا، فليَركَعْ ركعةً يُحسِنُ ركوعَها وسجودَها، ويَسجُدْ سجدتين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه الزيادة من ذِكْر الركعة (2) . وله شاهد لم يخرجاه، وهو قوله ﷺ:"إذا شَكَّ أحدُكم في النُّقصان فليُصلِّ حتى يشكَّ في الزِّيادة" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 959 - على شرطهما
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، تین یا چار، تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت مزید پڑھے جس کے رکوع و سجود کو وہ اچھی طرح ادا کرے اور پھر (سہو کے) دو سجدے کرے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے رکعت کے ذکر والے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ اس کا شاہد موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کو نماز میں کمی کا شک ہو تو وہ نماز پڑھتا رہے یہاں تک کہ اسے زیادتی کا شک ہونے لگے۔" [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 973]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 974
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن سَمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرِير بن حازم، حدثنا أبي قال: سمعت يحيى بن أيوب يُحدِّث عن يزيد بن أبي حَبِيب، عن سُوَيد بن قيس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صلَّيتُ مع رسول الله ﷺ: المغربَ، فسَهَا، فسلَّمَ في ركعتين ثم انصرفَ، فقال له رجل: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين! فأمرَ بلالًا فأقامَ الصلاةَ ثم أتمَّ تلك الركعةَ، فسألتُ الناس عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلَّا أن أَراه، فمرَّ بي رجل فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحةُ بن عُبيد الله (1) . اختصره الليثُ بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 960 - ورواه الليث عن يزيد مختصرا وهو على شرطهما
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہوا اور دو رکعتوں پر سلام پھیر کر تشریف لے گئے، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ سے سہو ہوا اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ایک رکعت پوری کی۔ لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ یاد دلانے والے شخص سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 974]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 975
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثنا الليث، عن يزيد بن أبي حَبيب، أنَّ سُوَيد بن قيس أخبره عن معاوية بن حُدَيج: أنَّ رسول الله ﷺ صلَّى يومًا فسلَّمَ وانصرفَ وقد بَقِيَ من الصلاة ركعةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، وهو من النوع الذي يَطلُبان للصحابي متابِعًا (3) في الرواية، على أنهما جميعًا قد خرَّجا مثلَ هذا.
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، سلام پھیرا اور چلے گئے جبکہ نماز میں ایک رکعت باقی تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین کی شرط پر ہے، یہ اس نوعیت کی حدیث ہے جس میں صحابی کے لیے متابع تلاش کیا جاتا ہے، اگرچہ انہوں نے اس طرح کی دیگر روایات پہلے ہی نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 975]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. سَجْدَتَا السَّهْوِ تُسَمَّى الْمُرْغِمَتَيْنِ
سجدۂ سہو کو دو ذلت دلانے والے سجدے کہا جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 976
حدثنا أبو بكر بن أبي نصر الدارَبردي، حدثنا أبو الموجِّه، حدثنا يوسف ابن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الله بن كَيْسان، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ سمَّى سجدَتَي السَّهْو المُرغِمتَين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ومحتَجٌّ بجميع رواته، وأبو مجاهد عبد الله بن كَيْسان من ثِقات المَرَاوِزة يُجمَع حديثه (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 962 - صحيح
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کے دونوں سجدوں کا نام «الْمُرْغِمَتَيْنِ» "شیطان کو ذلیل و خوار کرنے والے دو سجدے" رکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، ابو مجاہد عبد اللہ بن کیسان ثقہ مروزی راویوں میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 976]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 977
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، حدثني عِمرانُ بن موسى، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، أنه حدَّثه عن أبيه: أنه رأَى أبا رافع مولى النبيِّ ﷺ مَرَّ بالحسن ابن علي وهو يصلِّي قائمًا وقد غَرَزَ ضَفْرَه في قَفَاهُ، فحَلَّها أبو رافع، فالْتَفَتْ الحسنُ إليه مُغضَبًا، فقال أبو رافع: أَقبِلْ على صلاتك ولا تَغضَبْ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ذلك كِفْلُ الشيطانِ"؛ يعني مَقعَدَ الشيطان، يعني مَغرِزَ ضَفْره (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد احتَجَّا بجميع رواته غيرِ عمران، وقد قال علي ابن المَدِيني: عمرانُ بن موسى بن عمرو بن سعيد بن العاص القرشي أخو أيوب بن موسى، روى عنه ابن جُرَيج وابن عُلَيَّة على كُلٍّ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 963 - صحيح
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا گزر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہوا جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنے بالوں کی مینڈھیاں گدی پر باندھ رکھی تھیں، ابو رافع نے انہیں کھول دیا، حسن نے غصے سے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے فرمایا: اپنی نماز کی طرف متوجہ رہو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ "وہ شیطان کی بیٹھک ہے (یعنی شیطان وہاں بیٹھتا ہے)۔"
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے عمران کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عمران بن موسیٰ کی ثقاہت علی بن مدینی نے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 977]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں