🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. التَّشْدِيدُ فِي تَرْكِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کی نماز چھوڑنے پر سخت وعید۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049
حدَّثَناه أبو بكر بنُ إسحاق، أخبرنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا أبو الجُماهِر، حدثنا سعيدُ بن بَشير، عن قتادة. وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيمُ بنُ أبي طالب، حدثنا أبو هشام محمد بن يزيد، حدثنا إسحاقُ بنُ يوسف، عن أيوب أبي (1) العلاء، عن قَتَادةَ، عن قُدامةَ بن وَبَرة قال: قال رسولُ الله ﷺ:"مَنْ فاتته الجمعةُ مِن غير عُذْرٍ، فليتصدَّقْ بدرهمٍ أو نصفِ درهم، أو صاعِ حِنْطةٍ أو نصفِ صاع" (2) . هذا لفظ حديث العنبري، ولم يزدنا الشيخ أبو بكر فيه على الإرسال.
قدامہ بن وبرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا جمعہ بغیر کسی عذر کے فوت ہو جائے، اسے چاہیے کہ وہ ایک درہم یا آدھا درہم، یا ایک صاع گندم یا آدھا صاع صدقہ کرے۔
یہ عنبری کی حدیث کے الفاظ ہیں، اور شیخ ابوبکر نے بھی اسے مرسل ہی ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لإرساله، وقد خالف أيوب أبا العلاء في إسناده همامُ بن يحيى، فقال: عن قدامة عن سمرة، كما في الطريق السابق، وقد رجَّح الإمام أحمد همامًا عن أيوب كما سيأتي بإثر هذا الحديث- أما متابعُه وهو سعيد عن بشير فقد اختُلف عليه، فرواه أبو الجماهر هنا عنه عن قتادة ...» [ترقيم الرساله 1049] [ترقيم الشركة 1041]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لإرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1049M
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا عبد الله بن أحمد ابن حنبل، قال: سمعتُ أبي وسُئل عن حديث همامٍ عن قتادة، وخلافِ أبي العلاء إياه فيه، فقال: همامٌ عندنا أحفظُ من أيوبَ أبي العلاء (1) .
ابوبکر بن بالویہ کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سنا، ان سے ہمام کی قتادہ سے روایت اور ان کے مقابلے میں ابوالعلاء کے اختلاف کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہمام ہمارے نزدیک ایوب ابوالعلاء سے زیادہ قوی حافظے والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1049M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1049M] [ترقيم الشركة 1041]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسُّ الطِّيبِ
جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو استعمال کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1050
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا ابن وهب، حدثنا سليمان بن بلال، عن عَمرو بن أبي عَمرٍو مولى المطَّلب، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلين من أهل العراق أتياه فسألاهُ عن الغُسل يومَ الجمعة: أواجبٌ هو؟ فقال لهما ابن عباس: من اغتَسَل فهو أحسن وأطهر، وسأُخبركما لماذا بدأ الغُسل، كان الناس في عهد رسول الله ﷺ مُحتاجين يَلبَسون الصُّوف ويَسقُون النخلَ على ظُهورِهم، وكان المسجد ضيّقًا مُقارِبَ السَّقف، فخرج رسولُ الله ﷺ يومَ الجمعة في يومٍ صائفٍ شديدِ الحرّ، ومنبرُه قصير، إنما هو ثلاثُ درجات، فخطب الناسَ، فعَرِق الناسُ في الصوف، فثارت أبدانُهم ريحَ العَرَق والصوفِ حتى كان (2) يؤذي بعضُهم بعضًا، حتى بلغت أرواحُهم رسولَ الله ﷺ وهو على المنبر، فقال:"أيها الناس، إذا كان هذا اليومُ فاغتَسِلوا وليَمسَّ أحدُكم أطيبَ ما يجدُ من طِيبِه أو دُهْنِه" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1038 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عراق کے دو باشندے ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ کیا جمعہ کا غسل واجب ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو غسل کر لے وہ زیادہ اچھا اور پاکیزہ ہے، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ غسل کی شروعات کیسے ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ ضرورت مند تھے، اونی لباس پہنتے تھے اور اپنی پیٹھ پر مشکیں لاد کر کھجور کے درختوں کو پانی پلاتے تھے، مسجد تنگ تھی اور اس کی چھت نیچی تھی، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موسمِ گرما کے ایک سخت گرم دن میں جمعہ کے لیے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چھوٹا تھا جو صرف تین سیڑھیوں پر مشتمل تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو لوگوں کو ان اونی کپڑوں میں پسینہ آ گیا اور ان کے جسموں سے پسینے اور اون کی بو اٹھنے لگی یہاں تک کہ اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہونے لگی، پھر وہ بو منبر پر موجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب یہ دن ہو تو غسل کیا کرو اور تم میں سے جس کو میسر ہو وہ اپنی بہترین خوشبو یا تیل لگایا کرے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، عمرو بن أبي عمرو مولى المطلب فيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح» [ترقيم الرساله 1050] [ترقيم الشركة 1042] [ترقيم العلميه 1038]

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. أَوَّلُ جُمُعَةٍ بَعْدَ جُمُعَةِ الْمَدِينَةِ بِجُوَاثَا؟ عَبْدِ الْقَيْسِ
مدینہ کی جمعہ کے بعد پہلی جمعہ جواثا میں عبد القیس نے قائم کی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1051
أخبرنا أبو عَمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطيّ، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا أبي، عن محمد بن إسحاق، قال: حدثني محمد بن أبي أُمامة بن سهل، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن كعب، قال: كنتُ قائدَ أبي حين ذهب بصرُه، إذا خرجتُ به إلى الجمعة فسمع الأذان صلَّى على أبي أَمامة أسعد بن زُرارة واستغفر له، فمكثتُ كثيرًا لا يسمع أذان الجمعة إلّا فعل ذلك، فقلت: يا أبَتِ، أرأيت استغفارك لأبي أمامة كلما سمعتَ الأذان للجمعة ما هو؟ قال: أيْ بنيَّ، كان أولَ من جمَّع بنا بالمدينة في هَزْمٍ من حَرَّةِ بني بَيَاضة يقال لها: نقيعُ الخَضِمات، قال: قلت: كم كنتم يومئذ؟ قال: أربعين رجلًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاهد الحديث الذي تفرَّد بإخراجه البخاريُّ (1) من حديث إبراهيم بن طَهْمان عن أبي جَمرة عن ابن عباس: أولُ جمعة في الإسلام بعد جمعةٍ بالمدينة جمعةٌ بجُواثَى (2) عبد القَيس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1039 - على شرط مسلم_x000D_ وَهُوَ شَاهِدُ الْحَدِيثِ الَّذِي تَفَرَّدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَوَّلُ جُمُعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ جُمُعَةٍ بِالْمَدِينَةِ جُمُعَةٌ بِجُوَاثَا عَبْدِ الْقَيْسِ»
سیدنا عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد (کعب بن مالک) کا قائد تھا جب ان کی بینائی چلی گئی تھی، جب میں انہیں جمعہ کی نماز کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا و استغفار کرتے، میں کافی عرصہ ان کے ساتھ رہا تو وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ایسا ہی کرتے، میں نے پوچھا: ابا جان! میں دیکھتا ہوں کہ جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ کے لیے استغفار کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مدینہ میں ہزم کے مقام پر جو حَرّہ بنی بیاضہ میں ہے اور جسے نقیع الخضمات کہا جاتا ہے، ہمیں جمعہ پڑھایا، میں نے پوچھا: اس دن آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے کہا: چالیس آدمی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اس حدیث کا شاہد ہے جسے اکیلے امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ اسلام میں مدینہ کے جمعہ کے بعد پہلا جمعہ عبدالقیس کی بستی جواثی میں ہوا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 1051] [ترقيم الشركة 1043] [ترقيم العلميه 1039]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. مَنْ غَسَلَ وَغَدَا وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
مَنْ غَسَلَ وَغَدَا وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1052
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا حُسين بن علي الجُعْفي، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد ابن جابر، عن أبي الأشعث الصَّنْعاني، عن أوس بن أوس قال: قال رسول الله ﷺ -وذكر يومَ الجُمُعة-:"من غَسَل واغتَسَل، وغدا وابتَكَر، ودَنا وأنصَتَ واستَمعَ، غُفِرَ له ما بينَه وبين الجمعة، وزيادةُ ثلاثةِ أيام، ومن مَسَّ الحصى فقد لَغَا" (3) . رواه يحيى بن الحارث الذِّماري وحسان بن عَطيَّة عن أبي الأشعث أما حديث يحيى بن الحارث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1040 - تفرد به عن الأشجعي إبراهيم بن أبي الليث وهو واه ولفظه منكر لكن تابعه عليه غيره_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس نے (سر) دھویا اور غسل کیا، اور اول وقت میں (مسجد کی طرف) گیا، اور (امام کے) قریب ہو کر خاموشی سے توجہ کے ساتھ سنا، تو اس کے اس جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اور جس نے (خطبہ کے دوران) کنکریوں کو چھوا اس نے لغو کام کیا۔ اسے یحییٰ بن حارث ذماری اور حسان بن عطیہ نے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے، جہاں تک یحییٰ بن حارث کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 1052] [ترقيم الشركة 1044] [ترقيم العلميه 1040]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. مَنْ غَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ صِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامِهَا
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی جائے اور خطبہ غور سے سنے، اس کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے بھی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053
فحدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا يزيد بن الهيثم القَطِيعي، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجَعيُّ عن سفيان، عن عبد الله بن عيسى، عن يحيى بن الحارث، عن أبي الأشعث الصنعانيّ، عن أوسِ بن أوس الثَّقفي، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن غَسَل واغتَسَل ثم غدا، وابتَكَر، فجلس من الإمام قريبًا فاستَمَع وأنصَتَ، كان له بكلِّ خُطْوةٍ أجرُ سنةٍ، صيامِها وقيامِها" (1) . وأما حديث حسان بن عطية:
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے (اپنا سر) دھویا اور غسل کیا، پھر اول وقت میں گیا، اور امام کے قریب بیٹھ کر خاموشی سے توجہ کے ساتھ سنا، تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل کا اجر ہے، اس (سال) کے روزوں کا بھی اور اس کے قیام کا بھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل إبراهيم بن أبي الليث -وهو إبراهيم بن نصر الترمذي- وهو أحسن حالًا في روايته عن الأشجعي من غيرها، وقد توبع هنا في حديث أوس بن أوس- الأشجعي: هو عبيد الله بن عبد الرحمن، وسفيان: هو الثوري، وأبو الأشعث الصنعاني: هو شراحيل بن آدَه-» [ترقيم الرساله 1053] [ترقيم الشركة 1045]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
أخبرناه الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا الأوزاعيُّ، حدثنا حسّان بن عَطيّة، حدثني أبو الأشعث الصَّنعاني، حدثني أوس بن أوس الثقفيّ، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"مَن غَسَل واغتَسَل يوم الجمعة، ثم بَكَّر وابتَكَر، فدنا واستَمَع ولم يَلْغُ، كان له بكل خُطْوة يخطوها عملُ سنةٍ، أجرُ صيامها وقيامها" (2) . قد صحَّ هذا الحديث بهذه الأسانيد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأظنه لحديثٍ واءٍ لا يُعلَّل مثلُ هذه الأسانيد بمثله، وهو حديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1042 - له علة مهدرة
سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن (اپنا سر) دھویا اور غسل کیا، پھر خوب اول وقت میں گیا، اور (امام کے) قریب ہو کر سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا، تو اس کے لیے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے عمل کا اجر، یعنی اس کے روزوں اور قیام کا ثواب ہوگا۔
یہ حدیث ان اسناد کے ساتھ شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ ایک ضعیف حدیث ہے، حالانکہ ان جیسی صحیح اسناد کی اس طرح کی روایت سے علت بیان نہیں کی جا سکتی، اور وہ حدیث یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، الحسن بن حليم: هو الحسن بن محمد بن حليم الحليمي، نُسب إلى جده، وأبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبدان لقبه، وعبد الله: هو ابن المبارك، والأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو-» [ترقيم الرساله 1054] [ترقيم الشركة 1046] [ترقيم العلميه 1042]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1055
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن كامل، حدثنا أحمد بن الوليد الفحَّام، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا ثَور بن يزيد، عن عثمان الشَّيبانيّ (1) ، أنه سمع أبا الأشعث الصَّنعانيَّ يحدِّث عن أوس بن أوس الثَّقفي، عن عبد الله بن عَمروٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن غَسَل يوم الجمعة واغتَسَل، ودنا من الإمام واقترب، واستَمَع وأنصَتَ، كان له بكلِّ خُطوةٍ يَخطُوها أجرُ صيام سنةٍ وقيامِها" (2) . هذا لا يعلِّل الأحاديث الثابتة الصحيحة من أوجُهٍ: أولها: أنَّ حسان بن عطيّة قد ذَكَرَ سماع أوس بن أوس من النبي ﷺ. وثانيها: أنَّ ثَوْر بن يزيد دون أولئك في الاحتجاج به. وثالثها: أنَّ عثمان الشَّيباني مجهول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1043 - عثمان مجهول
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن (سر) دھویا اور غسل کیا، اور امام کے قریب ہو کر توجہ سے خاموشی کے ساتھ سنا، تو اس کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا اجر ہوگا۔
یہ روایت کئی وجوہات کی بنا پر ثابت شدہ صحیح احادیث میں علت پیدا نہیں کرتی: پہلی یہ کہ حسان بن عطیہ نے صراحتاً سیدنا اوس بن اوس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع ذکر کیا ہے، دوسری یہ کہ ثور بن یزید احتجاج میں ان راویوں سے کم تر درجے کے ہیں، اور تیسری یہ کہ عثمان شیبانی مجہول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1055]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عثمان الشامي، وقد أخطأ عثمان هذا فزاد في الإسناد: عبد الله بن عمرو، مع أنَّ أوس بن أوس قد صرَّح بسماعه من النبي ﷺ كما في رواية حسان بن عطية السالفة قبل هذا-» [ترقيم الرساله 1055] [ترقيم الشركة 1047] [ترقيم العلميه 1043]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1056
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا موسى بن هارون وصالح بن محمد الرَّازي والحسين بن محمد بن زياد. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، قالوا: حدثنا سُرَيج بن يونس، حدثنا هارون بن مسلم العِجْلي، حدثنا أبانُ بن يزيد، عن يحيى بن أبي كَثِير، عن عبد الله بن أبي قَتادة، قال: دخل عليَّ أبي وأنا أغتسِلُ يوم الجمعة، فقال: غُسلٌ من جَنابةٍ أو للجمعة؟ قال: قلت: من جَنابة، قال: أعِدْ غُسلًا آخر؛ فإنِّي سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من اغتَسَلَ يوم الجمعةِ، كان في طهارةٍ إلى الجمعةِ الأخرى" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وهارون بن مسلم العِجْلي شيخٌ قديمٌ للبصريين يقال له: الحِنّائي، ثقةٌ قد روى عنه أحمد بن حنبل وعبيد الله بن عمر القَوارِيريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1044 - على شرطهما
عبداللہ بن ابی قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں جمعہ کے دن غسل کر رہا تھا، انہوں نے پوچھا: یہ غسلِ جنابت ہے یا جمعہ کے لیے؟ میں نے کہا: جنابت کا غسل ہے، تو انہوں نے فرمایا: دوبارہ غسل کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، وہ اگلے جمعہ تک طہارت کی حالت میں رہتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہارون بن مسلم عجلی بصریوں کے قدیم شیخ ہیں جنہیں حنائی کہا جاتا ہے اور وہ ثقہ ہیں، ان سے امام احمد بن حنبل اور عبید اللہ بن عمر قواریری نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1056]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله، هارون بن مسلم العجلي وثقه المصنف هنا، وروى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال أبو حاتم: لين، وقال الدارقطني في "العلل": كان ضعيفًا، وقال مرة كما في "سؤالات البرقاني": صويلح يعتبر به-» [ترقيم الرساله 1056] [ترقيم الشركة 1048] [ترقيم العلميه 1044]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1057
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عليُّ بن عبد العزيز، حدثنا حجّاج بن منهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن محمد ابن إبراهيم، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة وأبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن غَسَل يوم الجمعة واستاك ولَبِس أحسنَ ثيابه وتطيَّب بطيبٍ إِن وَجَدَه، ثم جاء ولم يتخطَّ الناسَ، فصلَّى ما شاء الله أن يصلي، فإذا خرج الإمامُ سكت، فذلك كفارةٌ إلى الجمعة الأخرى" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه أيضًا إسماعيل ابن عُليَّة عن محمد بن إسحاق، مثل رواية حماد بن سلمة، وقيَّده بأبي أُمامة بن سهل مقرونًا بأبي سلمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1045 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، مسواک کی، اپنے بہترین کپڑے پہنے اور اگر اسے میسر ہو تو خوشبو لگائی، پھر (مسجد میں) آیا اور لوگوں کی گردنیں نہیں پھلانگیں، پھر جتنی اللہ نے چاہی اتنی نماز پڑھی، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکلا تو خاموش رہا، تو یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے اسماعیل بن علیہ نے بھی محمد بن اسحاق سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح نقل کیا ہے، البتہ انہوں نے اسے ابوسلمہ کے ساتھ ابوامامہ بن سہل سے مقید کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،محمد بن إسحاق صرَّح بالتحديث عند أحمد» [ترقيم الرساله 1057] [ترقيم الشركة 1049] [ترقيم العلميه 1045]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں